Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 49)Part 2

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

اسکے رونے اور ایک اور نئے الزام پر واسم نے حیرت سے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

کس خیانت کی بات کر رہی ہو ؟؟؟؟؟

واسم نے سوالیہ دیکھا ۔۔۔۔۔

جیسے آپکے نکاح میں ہوتے مجھ پر ،، میرے وجود پر اور میری سانسوں پر صرف آپکا حق ہے ،،،،، ویسے ہی آپ ،،،، آپکے وجود اور آپکی محبت پر بھی صرف میرا حق ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔

لیکن آپ نے اس میں خیانت کی ہے میرے حصے کی محبت کسی اور پر لٹا کر ،،،،،، وہ اپنے وجود کو بلینکٹ سے مکمل کور کر کے اٹھ کر اسکے مقابل بیٹھتی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی ۔۔۔۔۔

اور یہ تم سے کس نے کہا ؟؟؟؟ اسکی بات پر ون سائڈڈ مسکراتے طنزیہ گویا ہوا ۔۔۔۔۔۔

اس نے ہی جس سے آپ محبت کرتے ہیں ،،،،، جس کیلئے مجھے شادی کی رات اکیلا چھوڑ کر چلے گئے تھے اور جس سے زبردستی شادی کرنا چاہتے ہیں ،،،،،، جس کے انکار پر آپ اسے اسکے گھر سے اٹھوا کر اپنے پی اے کے اپارٹمنٹ میں یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے ۔۔۔۔۔

وٹ ” اسکی باتیں سن کر وہ حیرت سے چلایا “

اس نے تم سے یہ سب کہا ،،،،،، اس کے ری ایکشن کو دیکھتے ابیہا حیرت سے اسکی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔

اس نے ناسمجھی سے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی بات پر واسم نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں ،،،،، اب ایک بات تو طے تھی ،،،،، یہ لڑکی اس کے ہاتھ سے نہیں بچتی ۔۔۔۔

اور اس سے زیادہ غصہ تو اسے ابیہا پر آ رہا تھا جو اسکی فضول باتوں پر یقین کر کے مرنے کیلئے اس طوفان میں باہر نکل گئی تھی ۔۔۔۔۔

اگر وہ وقت پر نا پہنچتا یہ سوچ ہی اس کیلئے سوہان روح تھی ۔۔۔۔۔

ویسے بہت افسوس کی بات ہے ،،،،، تمہیں اپنے شوہر سے زیادہ اس غیر لڑکی کی بات پر یقین ہے ؟؟؟؟؟ واسم نے ملامتی نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔۔۔

آپ نے اپنا یقین دلایا کب مجھے ؟؟؟؟؟

وہ بھی نم لہجے میں دوبدو بولی ۔۔۔۔۔

سیریسلی ابیہا میں نے کبھی تمہیں کوئی مان نہیں بخشا ۔۔۔۔۔

اسکی بات پر ابیہا کو یکدم کچھ دن پہلے بولے گئے واسم کے الفاظ یاد آئے تھے کہ اگر تمہیں میرے بارے میں کبھی بھی کچھ بھی پتا چلے تو اس پر یقین کرنے سے پہلے ایک بار مجھ سے پوچھ ضرور لینا ۔۔۔۔۔

اور وہ یہاں جذبات میں آکر غلطی کر گئی تھی ۔۔۔۔

اس نے شرمندہ نظریں اسکی طرف اٹھائی ،،،،، لیکن وہ لڑکی “

ابیہا “

جبکہ اسکی سوئی وہی اٹکی دیکھ کر دھاڑا ،،،،، اور وہ کانپ پر رہ گئی

سوری “

ابیہا نے شرمندگی سے نظریں جھکائیں ،،،،، اور ساتھ ہی اسے اب اپنے لفظوں کا احساس ہو رہا تھا کہ اس نے غصے میں آ کر واسم کو کیا کچھ کہہ دیا تھا ۔۔۔۔

واسم نے اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا ،،،،، خاموشی سے اٹھ کر جانے لگا جب ابیہا نے بےساختہ اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا ۔۔۔۔۔

واسم نے پلٹ کر غصے سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔

سوری بول تو رہی ہوں ،،،،، سردی سے سرخ ہوئی ناک کو رگڑتے نروٹھے پن سے بولی ۔۔۔۔۔

سوری کہہ دینے سے کیا ہوگا ،،،،، تمہارے بولے گئے الفاظ واپس آ جائیں گے ،،،،، اور آج جو تم حرکت کی سوچو اگر میں وقت پر نا آتا تو تمہارا کیا ہوتا

اسکا ہاتھ جھٹکتے غصے سے چیخا ۔۔۔۔۔

جسے سن کر ابیہا بغیر سوچے سمجھے آگے بڑھی تھی اور اسکی گردن میں بازو حائل کرتے اسکے دہکتے گھنی مونچھوں تلے سرخ و سفید لبوں پر اپنے کپکپاتے ہوئے لب رکھے ۔۔۔۔۔

کچھ وقت کیلئے کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی ،،،،،، صرف سنائی دے رہا تھا تو انکی تیز دھڑکنوں کا شور ۔۔۔۔۔

آگے سے ایسا نہیں ہوگا اس بار معاف کر دیں ۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد اس سے الگ ہوتی سرخ چہرے کے ساتھ بولی ۔۔۔۔۔۔

اور اگر میں نا کروں تو ؟؟؟؟

چہرہ سپاٹ جبکہ آنکھوں میں خاص چمک تھی ۔۔۔۔۔

ابیہا کو اپنی پوزیشن کا خیال ہوا ،،،،،، بلینکٹ جو اسکی جلدبازی میں اٹھنے کی وجہ سے اسکے وجود سے سرک گیا تھا شرمندہ ہوتے ہوئے دوبارہ لینا چاہا ۔۔۔۔۔

لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔

واسم شاہ اسے اپنے حصار میں قید کر چکا تھا ،،،،،، اس نے تھوڑا سا جھکتے ایک بےباک جسارت کی ،،،،،کہ ابیہا کیلئے سانس لینا مشکل ہو گیا ۔۔۔۔

میں نے پوچھا کہ اگر میں معاف نا کروں تو پھر “

اسے تکیے پر ڈالتے ہوئے خود اس پر جھکتا سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔۔۔

ابیہا نے جھکی نظریں اٹھائیں ۔۔۔۔

آپ کر چکے ہیں ،،،،، اسکی گردن میں بازو حائل کرتے مسکراتے چھوٹی سی ناک چڑھا کر بولی ۔۔۔۔۔

اسکی بات پر واسم کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔۔

اتنی آسانی سے کیسے ،،،، ابھی تو تمہارے بولے گئے لفظوں کی سزا باقی ہے ،،،،،

معنی خیز لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔۔

میں ہر سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوں ،،،،، لیکن پلیز مجھ سے کبھی دور مت جائیے گا ،،،،، کسی دوسرے کیلئے دھوکا مت دیجئے گا ،،،،، میں برداشت نہیں کر پاؤں گی ۔۔۔۔۔

بہت چھوٹی سی عمر میں میں نے اپنے ماں باپ کھوئیں ہیں ،،،،، اور کسی اپنے کو کھونے کی ہمت نہیں ہے میرے اندر ،،،،، اور کبھی کسی دوسرے کے پیچھے آپ نے مجھے چھوڑنے یا پھر دھوکا دینے کے بارے میں سوچا بھی تو یاد رکھیے گا میں اپنی جان لے لوں گی اور ساتھ میں آپکی بھی ۔۔۔۔۔

وہ آنکھوں میں آنسو لیے ایک ایک بات ٹھہر ٹھہر کر بولی ۔۔۔۔۔

میں نے چھوڑیں ہیں سارے راستے

بس آیا ہوں تیرے پاس رے

میری آنکھوں میں تیرا نام ہے پہچان لے

واسم شاہ لبوں سے کچھ نہیں بولا صرف مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ،،،،، پھر دھیرے سے جھکتے باری باری اسکی نم آنکھوں کو چھوا ۔۔۔۔

میرے لیے سب کچھ تیرے بعد ہے

سو باتوں کی اک بات ہے

میں نا جاؤں گا کبھی تجھے چھوڑ کے یہ جان لے

اسے ابیہا کی خود کیلئے پازیزیونیس پسند آئی تھی ،،،،، جاناں تمہیں پتا ہے کہ جان کیسے لی جاتی ہے ۔۔۔۔۔

اسکے بالوں کو سنوارتے ہوئے اسکی آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں گاڑتے ہوئے بولا ۔۔

بہت ہی پرسوز اور گھمبیر لہجہ “

جو ابیہا کہ سر کے اوپر سے گزر گیا ۔۔۔۔

اس نے ناسمجھی دیکھا ۔۔۔۔

واسم کے چہرے پر گہری معنی خیز مسکراہٹ آئی ،،،،، ابھی پتا چل جائے گا ،،،، اس نے گھمبیرتا سے کہتے کمرے میں جل رہا وہ واحد چھوٹا سا بلب بھی بجھایا تھا ۔۔۔۔۔

جس کے بعد کمرے میں گہرا اندھیرہ چھا گیا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اسکے دونوں ہاتھوں کو تھامتے تھوڑا اور قریب ہوا ،،،،، جس پر وہ اسکے ارادے اور باتوں کا مطلب سمجھتی سرخ ہوتے کسمسائی ۔۔۔۔۔

اس نے اپنا نچلہ لب دانتوں تلے دبا کر واسم کی آنکھوں میں دیکھتے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

جس کا بنا اثر لیے وہ مسکراتے ہوئے جھکا تھا ،،،،، اور اسکے نرم ہونٹوں کو اپنی شدت بھری گرفت میں لیا ۔۔۔۔۔

ابیہا نے اپنی آنکھیں بند کر کے اسکے ہاتھوں پر اپنی گرفت مظبوط کی ۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد اسکی سانسوں کو آزادی دیتے اسکی سرخ سنہری آنکھوں میں دیکھتے دلکشی سے مسکرایا ۔۔۔۔

ابیہا نے شرما کر اسکی گردن میں اپنا چہرہ چھپایا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ قہقہہ لگاتا اپنی تمام تر شدتوں سے اس پر جھکا ،،،،، اور اسکے پور پور پر اپنے لمس سے چاہتوں کے پھول کھلانے لگا ۔۔۔۔۔

ابیہا کو سچ میں اپنے وجود سے جان نکلتی محسوس ہوئی ،،،،، جبکہ سرخ سنہری آنکھوں سے آنسو موتیوں کی صورت ٹوٹ کر بکھرے ۔۔۔۔۔

جسے واسم نے اپنے ہونٹوں سے چنا ۔۔۔۔۔

وہ آہستہ سے اسکے وجود میں سمٹ گئی ،،،،، اسکا پور پور اپنے لمس سے مہکاتے واسم شاہ نے اسکے شکوے اور شکایتوں کو کہیں خود میں ہی جذب کر لیا تھا ۔۔۔۔۔

واسم “

اور اس سے پہلے وہ دوبارہ اس پر جھکتا ابیہا نے اسے روکتے گھبرا کر پکارا ۔۔۔۔

اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔

آپکا سچ میں اس لڑکی سے کوئی رشتہ نہیں ہے نا ،،،،، واسم نے اسکی بات پر غصے سے گھورا ۔۔۔۔۔

آپ ایک بار اپنے منہ سے کہہ دیں کہ میرا اس سے کوئی رشتہ نہیں تو میرے دل میں جو آخری پھانس ہے وہ بھی نکل جائے گی ۔۔۔۔

اسکے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھامتے نم لہجے میں بولی ۔۔۔۔

جس پر واسم نے گہرا سانس لیا تھا ۔۔۔۔۔

وہ لڑکی فراڈ ہے ،،،،، جسے مجھے ٹریپ کرنے کیلئے میرے کسی دشمن یا کومپٹیٹر نے میرے آفس میں بھیجا ہے ،،،،، میں بس اسی کا پتا لگانے کی کوشش کر رہا ہوں ۔۔۔۔

اس کے علاوہ میرا اس سے کوئی رشتہ نہیں ،،،،، اس بار نرمی سے گویا ہوا ۔۔۔۔

اسکی بات پر ابیہا کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے جسے نرمی سے چھوتے وہ دوبارہ اس پر جھکنے لگا ۔۔۔۔۔

سم “

جب ابیہا نے دوبارہ اسے روکا ،،،،، واسم نے اس بار ناگواری سے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

لیکن پھر سب کچھ جانتے بھوجتے اسے اپنے ساتھ کیوں رکھا ہوا ہے ،،،،،، آپکو اسے پولیس کے حوالے کر دینا چاہیے تھا ،،،،، ایسے تو وہ آپکو کوئی بڑا نقصان بھی پہنچا سکتی ہے ۔۔۔۔۔

اسکے چہرے پر ناگواری دیکھتے ڈرتے ہوئے فکرمندی سے بولی ۔۔۔۔۔

ابیہا مجھے پتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں ،،،،، یہ میرا معاملہ ہے میں اسے اپنے طریقے سے ہینڈل کر لوں گا ۔۔۔۔۔

تمہیں اس میں مجھے سجیشن دینے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔

فلحال تمہاری جو زمہ داری ہے تم اس پر فوکس کرو ۔۔۔۔۔

نہایت ہی سرد اور سپاٹ لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔۔۔

لیکن ؟؟؟؟

ابیہا نے کچھ کہنا چاہا جب وہ اسکی بولتی بند کرتا باقی کے الفاظ اسکے حلق میں ہی روک گیا ۔۔۔۔۔

آواز نہیں آنی چاہیے مجھے دوبارہ ورنہ بہت برے طریقے سے پیش آوں گا ،،،،،

اسکے بار بار مخدالت کرنے پر وہ اپنے اصلی روپ میں واپس آتے شدید ناگواری سے بولا تھا ۔۔۔۔۔

اور ساتھ ہی اسے مکمل قید کرتے اس پر تمام تر شدتوں سے جھکا ۔۔۔۔۔۔

اسکے دو ٹوک انداز کو دیکھتے ابیہا کی ہمت نہیں ہوئی تھی کہ دوبارہ اسے روک سکے ،،،،،، جبکہ اسکے بےرحمانہ سلوک پر آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے ۔۔۔۔۔

پہلے تو وہ خاموش رہی لیکن جب بات بالکل برداشت سے باہر ہوئی تو پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہو گئی ۔۔۔۔۔

واسم نے اسکے ری ایکشن پر مسکراہٹ ضبط کرتے نرمی سے اسکی پیٹھ سہلائی تھی ۔۔۔۔۔

جب وہ غصے سے اسکا ہاتھ جھٹکتی اپنا رخ موڑ گئی ۔۔۔۔۔

کس نے بولا تھا مجھے غصہ دلانے کو ۔۔۔۔۔ اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیتا شرارت سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔

مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ،،،،، اور میرے خیال سے میں اپنی ذمہ داری بھی پوری کر چکی ہوں تو مہربانی فرما کر اب میری جان چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔

اسکے حصار کو توڑتے روندھے ہوئے لہجے میں جتایا ۔۔۔۔۔

ابھی کہاں میری جان ،،،،، ابھی تو بہت کچھ باقی ہے ،،،،،، ابھی تو یہ رات باقی ہے ابھی تو یہ سانس باقی ہے ۔۔۔۔۔

اسکے کان میں گھمبیر سرگوشی کرتے رخ پلٹا ۔۔۔۔۔

ابیہا نے نم پلکیں اٹھا کر اسے غصے سے گھورا ،،،،،،

بہت ظالم ہیں ۔۔۔۔۔

اسکا شکوہ سنتے واسم شاہ نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔۔۔

اب میں خود کو تو نہیں بدل سکتا جیسا ہوں تمہیں ویسے ہی قبول کرنا پڑے گا ،،،،، اسکے گرد دوبارہ حصار تنگ کرتے لاپرواہی سے بولا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسے خود پر پھر سے جھکتے دیکھ کر ابیہا نے مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کی تھیں ۔۔۔۔۔

کیونکہ ابیہا کیلئے اسے روک پانا تقریبا اب نامکمن تھا ،،،،،، اسکا روح کو پگھلا دینے والا انداز ،،،،، اسکے نرم گرم ہونٹوں کی شریر شرارتیں ،،،،،، داڑھی مونچھوں کا کسمساتا لمس ،،،،، وہ دھیرے دھیرے اسے اپنی شخصیت کے طلسم میں دوبارہ قید کرتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

اور وہ پور پور اسکے لمس سے بھیگتی اسکی چاہت پر نا چاہتے ہوئے بھی اسکا ساتھ دینے پر مجبور تھی ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *