Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 56)Part 2

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

کیا ہوا زر ایسے کیوں بیٹھی ہو جہاں ؟؟؟؟؟

زرمینے جو باہر لان میں جھولے میں بیٹھی خاموش نظروں سے سامنے لگے ہوئے گلاب کے پھولوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔

زارون اسکے قریب آ کر بیٹھتے ہوئے نرمی سے بولا ۔۔۔۔

جس کے وہاں بیٹھتے ہی فورا وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔

اور اس سے پہلے کہ وہ اندر جاتی زارون نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا ۔۔۔۔۔

زارون میرا ہاتھ چھوڑیں پلیز ۔۔۔۔۔

التجایا بولی ۔۔۔۔

اسکی آواز سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کسی بھی وقت رو دے گی ۔۔۔۔

آخر ہوا کیا ہے مجھے بتاؤ تو سہی ؟؟؟؟ میں پچھلے کئی دنوں سے نوٹ کر رہا ہوں ۔۔۔۔

تم مجھے اگنور کر رہی ہو ۔۔۔۔میں جہاں بھی آتا ہوں وہاں سے اٹھ کر چلی جاتی ہو ۔۔۔۔ آخر مسئلہ کیا تمہارے ساتھ ؟؟؟؟؟

آپ ۔۔۔” یک لفظی جواب ۔۔۔۔”

میں ” میں سمجھا نہیں ۔۔۔۔

اور کبھی سمجھ بھی نہیں سکتے ۔۔۔۔” آپکو پتا ہے کہ میں کتنی عزیت میں ہوں ۔۔۔۔

اس دن جو کچھ بھی ہمارے درمیان ہوا ۔۔۔۔

اس کا کسی کو پتا چل گیا تو ؟؟؟؟؟

اندر سے گھٹ رہی ہوں ۔۔۔۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں نے اپنے ماں باپ کو دھوکا دیا ہو ۔۔۔۔

انہیں کتنا یقین تھا مجھ پر ،،،، لیکن وقتی جذبات کی رو میں بہک کر میں نے انکا مان توڑ دیا ۔۔۔۔۔

نفرت ہو رہی ہے مجھے اپنے وجود سے ،،،، گھن آ رہی ،،،،،،

“Shut up …. just shut up”

خبردار ” تم نے اپنے منہ سے اب ایک اور لفظ بھی نکالا تو ،،،، تمہیں پتا بھی ہے کہ تم کیا بکواس کر رہی ہو ۔۔۔۔۔ میری محبت کو گالی دے رہی ہو تم ۔۔۔۔

جس پر میں منہ تو****ڑ دوں گا تمہارا

اسکی بات درمیان میں کاٹتے ہزیانی انداز میں چیختے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔

جس پر وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ رونا شروع ہو گئی ۔۔۔۔

زارون نے اپنے مٹھیاں بھینچ کر غصے کو کنٹرول کرتے ایک نظر اسکی طرف جو رو رو کر خود کی جان تو ہلکان کر ہی رہی تھی ۔۔۔۔

ساتھ اسکے دل کو بھی سولی پر لٹکا رہی تھی ۔۔۔۔

گہرا سانس کھینچ کر آگے بڑھا اور نرمی سے اسکے گرد اپنی محبت کا حصار کھینچا ۔۔۔۔۔

ہے رونا بند کرو ۔۔۔۔ ” کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔” ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا ۔۔۔۔

میں مانتا ہوں ،،،،، شادی سے پہلے یہ سب معیوب لگتا ہے ۔۔۔۔۔لیکن میں تمہیں کبھی بدنام نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔

تم میری محبت ہو میری عزت ۔۔۔۔” مجھے میری زندگی سے بھی بڑھ کر عزیز ہو ۔۔۔۔

اسکا سرخ نم چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر محبت سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔

لیکن اگر کسی کو پتا چل گیا تو ؟؟؟؟ روتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

کسی کو کچھ پتا نہیں چلے گا ۔۔۔۔ میں بہت جلد بابا اور دادا سائیں سے بات کر کے رخصتی کروا لوں گا ۔۔۔۔

تم رونا بند کرو ۔۔۔۔مجھے تکلیف ہوتی ہے ۔۔۔۔

تجھے محتاط کرتا ہوں میں تیری جان لے لوں گا

اگر ان اپنی جھیل آنکھوں کو پرنم کیا توں نے

اسکی نم آنکھوں کو نرمی سے باری باری چھوتے گھمبیرتا سے بولا ۔۔۔۔

جس پر یکدم زرمینے کو اپنی روح میں سکون اترتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔ ایسا لگا جیسے اتنے دن سے جو دل پر بھوج تھا وہ ہٹ گیا ہو ۔۔۔۔

وہ اسکے گرد نازک ہاتھوں کی گرفت مظبوط کرتی اسکی گردن میں چہرہ چھپا کر نرمی سے مسکرائی ۔۔۔۔

زارون نے اسکے سر پر لب رکھتے اسکی پیٹھ سہلائی تھی جبکہ سوچوں کے دھاگے آنے والے وقت کا لائحہ عمل تیار کرنے میں مصروف تھے ۔۔۔۔

جس سے وہ جلد گھر والوں کو رخصتی کیلئے راضی کر لیتا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔

ضارب حیدر شاہ کے ساتھ ہی انکے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔۔

جہاں اماں سائیں کے ساتھ نجمہ اور عظمی بیگم بیٹھی ہوئی تھی جبکہ ابرش نے اپنا سر اماں سائیں کی گود میں رکھا ہوا تھا ۔۔۔۔

اور اسکی آنکھیں بھی بند تھیں ۔۔۔۔

جسے دیکھتے اس نے بلند آواز میں سلام کیا تھا ۔۔۔۔

یعنی کہ اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہا ۔۔۔۔۔

سب نے اسے دیکھتے خوش اسلوبی سے جواب دیا سوائے عظمی بیگم کے جنہوں نے جواب تو دیا تھا لیکن پہلے جیسی پرجوشی نہیں تھی انکی آواز میں ۔۔۔۔

جبکہ ابرش نے تو سن کر بھی ان سنا کر دیا تھا ۔۔۔۔۔

ہاں اسکی آواز پر اس نے اماں سائیں کی گود سے سر ضرور اٹھا لیا تھا ۔۔۔۔۔

ضارب نے نرم نگاہوں سے اسے دشمن جان کی طرف دیکھا جو چند ہی دنوں میں مکمل مرجھا گئی تھی ۔۔۔۔

اسکے معصوم چہرے پر پہلی جیسی شادابی غائب تھی ۔۔۔۔سفید رنگت میں زردیاں گھلی ہوئی تھیں ۔۔۔جبکہ خوبصورت آنکھوں کے نیچے سیاہ ہلکے واضح تھے ۔۔۔۔۔

اسکی حالت کو دیکھتے ضارب کو اپنی لاپرواہی پر افسوس ہوا تھا ۔۔۔۔

جبکہ ابرش نے تو اس پر نظر ڈالنا تک گوارہ نہیں کیا تھا ۔۔۔۔

میں آتی ہوں اماں سائیں ۔۔۔۔”

چپ چاپ اٹھ کر اسکے قریب سے ایسے گزر گئی جیسے اسے جانتی ہی نا ہو ۔۔۔۔

ضارب نے اسکی پشت کو مسکراتی نظروں سے دیکھا ،،،،، اور ناراضگی دکھانے کی ادا پر مسکراتے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔

پھر آگے بڑھ کر اماں سائیں سے پیار لیا ۔۔۔۔

جنہوں نے محبت سے اسکی پیشانی چومتے صدا خوش رہنے کی دعا دی ۔۔۔۔

جبکہ ابرش کے پیچھے عظمی بیگم بھی بنا کوئی بات کیے وہاں سے نکلنے لگی ،،،، جب ضارب نے انہیں مخاطب کیا تھا۔۔۔۔

آپ ہم سے ناراض ہیں بڑی ماں ۔۔۔”

جس پر نا چاہتے ہوئے بھی انہیں رکنا پڑا تھا ۔۔۔۔

نہیں تو میں کیوں ناراض ہونے لگی آپ سے ،،،،، زبردستی مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔۔جبکہ یہ تو انکا خدا ہی جانتا تھا کہ ابرش یہ حالت دیکھ کر انہیں کتنا افسوس ہوا تھا انہیں ضارب سے اس سلوک ہرگز توقع نہیں تھی ۔۔۔۔

پچھلے دنوں میں انہوں نے ابرش کو کتنی مشکل سے سنبھالا تھا یہ تو بس وہی جانتی تھیں ۔۔۔۔

لیکن آپکے رویے سے تو لگ رہا ہے کہ آپ ناراض ہیں ۔۔۔۔۔

عظمی بیگم نے نظریں اٹھا کر اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔

تو کیا نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔ آپ میری بیٹی کی حالت دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔ کیسے مرجھا گئی ہیں وہ ۔۔۔۔۔

نا کچھ ٹھیک سے کھاتی ہیں نا پیتی ہیں ۔۔۔نا پہلے کی طرح ہنستی مسکراتی ہیں ۔۔۔۔

ہر وقت ایک جامد خاموشی اختیار کیے رکھتی ہیں ۔۔۔۔

ہم نے اپنی بیٹی اس لیے تو نہیں دی تھی آپکو کہ آپ انکا یہ حال کر دیں ۔۔۔۔

انکے چہرے سے زندگی کے سارے رنگ ہی نچوڑ لیں ۔۔۔۔

انکا زرد چہرہ دیکھ کر ہر پل میرا کلیجہ کٹتا ہے ۔۔۔۔

بے اختیار ہوتے آخر وہ رو پڑی تھیں ۔۔۔۔۔ جس پر وہ آگے بڑھ کر انہیں اپنے سینے سے لگا گیا ۔۔۔۔۔

ہمیں معاف کر دیں ۔۔۔۔ ہم یہ سب نہیں چاہتے تھے ۔۔۔۔ ہمیں نہیں پتا تھا کہ وہ اپنی ایسی حالت کر لیں گی ۔۔۔۔۔

آپ جانتے ہیں ضارب وہ بہت چھوٹی ہیں ۔۔۔۔ بہت معصوم ہیں ۔۔۔۔جنہیں ہم نے بہت لاڈ پیار سے پالا ہے ۔۔۔۔۔کبھی انکی کوئی خواہش رد نہیں کی ۔۔۔۔۔

انہیں کسی نازک آبگینے کی طرح سنبھال کر رکھا ،،،،، انکا دل بہت نازک اور معصوم ہے ۔۔۔۔جس میں انہوں نے آپکو بہت محبت سے بسایا تھا ۔۔۔۔۔

اور آپ نے انکا وہ معصوم دل ہی توڑ دیا ۔۔۔۔۔

میں نے دیکھا ہے انہیں راتوں میں رو کر آپکو پکارتے ہوئے ۔۔۔۔اور ایک آپ ہیں جنہوں نے پلٹ کر انکی خبر تک نہیں لی کہ وہ کس حال میں ہیں ۔۔۔۔

کتنی بیمار رہی ہیں وہ ۔۔۔۔

مجھے کم از کم آپ سے اس رویے اور لاپرواہی کی توقع ہرگز نہیں تھی ۔۔۔۔

اسکی بات کے جواب میں پر شکوہ لہجے میں گویا ہوئیں ۔۔۔۔

ضارب نے بہت نرمی سے انکے بہتے ہوئے آنسو صاف کیے تھے ۔۔۔۔

آپ ٹینشن نا لیں ہم بہت جلد انہیں ٹھیک کر لیں ۔۔۔۔ بہت جلد وہ پہلے کی طرح ہنسنے مسکرانے لگے گی ۔۔۔۔

یہ ہمارا وعدہ ہے آپ سے ۔۔۔۔آپ بس ہم پر یقین کریں ہم وعدہ کرتے ہیں دوبارہ آپکو شکایت کا موقع نہیں دے گے ۔۔۔۔

کریں گی نا ہم پر یقین ۔۔۔۔

جس پر انہوں نے مسکرا کر سر ہلایا تھا اور اسکی پیشانی پر محبت سے بوسہ دیا ۔۔۔۔۔

مجھے آپ پر پورا یقین ہے ۔۔۔۔۔

ضارب کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔۔۔

چلیں آ جائیں میں کھانا لگوا رہی ہوں ۔۔۔۔

بابا سائیں نے مجھے بتایا تھا کہ آج آپ آئیں گے اس لیے میں نے آپکی فیورٹ ڈشز بنائی ہیں ۔۔۔۔۔

اب کہ نرمی سے مسکراتے ہوئے بولی جس پر اس نے سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔

ضارب دھیرے سے دروازہ کھولتے ابرش کے کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔۔

جہاں وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے قریب کھڑی باہر نجانے کیا دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

ضارب بھاری قدم لیتا بالکل اسکی پشت پر آ کر کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔اور نظریں اسکی نظروں کے تعاقب میں دوڑائی جہاں لان میں مالی بابا پودوں کی کٹائی کر رہے تھے ۔۔۔۔۔

پھر ایک نظر اسکی طرف دیکھا جو اسے محسوس کر لینے کے باوجود بھی بت بنے کھڑی تھی ۔۔۔۔

کیسی ہیں ؟؟؟؟؟

اسکے تھوڑا اور قریب ہوتے نرمی سے سوال کیا ۔۔۔۔۔

جس کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔۔۔

باربی “

جواب ندارد ۔۔۔۔

ہم آپ سے بات کر رہے ہیں ۔۔۔۔

کندھے پر ہاتھ رکھتے نرمی سے اسکا رخ بدلہ ۔۔۔۔۔

جسے ابرش نے ایک ہاتھ سے جھٹکا اور بنا اسے بات کا جواب دیئے وہاں سے جانے لگی ۔۔۔۔

ضارب نے اسکا بازو پکڑ کر ایک جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچا ۔۔۔۔جس سے وہ اسکے کشادہ سینے سے ٹکرائی ۔۔۔۔۔

ابرش نے اپنی نیلی گہرے سمندر جیسی آنکھیں اٹھائی ۔۔۔۔

جو گہرے سبز کانچ سے جا کر ملیں ۔۔۔۔

ضارب نے دھیرے سے اسکی نازک گال کو سہلایا ۔۔۔۔ ناراض ہیں ہم سے ؟؟؟؟

آنکھوں میں دیکھتے سوال کیا ۔۔۔۔

ابرش کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی البتہ لبوں کو سختی سے بھینچ رکھا تھا ۔۔۔۔

اپنے سائیں سے بات نہیں کریں گی ۔۔۔۔ کوئی شکوہ کوئی شکایت نہیں ۔۔۔۔۔ ہمارے فیصلے کے پیچھے کی وجہ نہیں جاننا چاہیں گی ۔۔۔۔

اسکے معصوم نقوش کو نگاہوں میں سماتے دھیرے دھیرے بول رہا تھا ۔۔۔۔

نہیں “

مختصر جواب آیا ۔۔۔۔۔

ضارب مسکرایا ۔۔۔۔ چلو اس نے اپنی خاموشی تو توڑی ۔۔۔۔

ہم پر یقین ہے ۔۔۔۔۔

بات بڑھائی ۔۔۔۔

نہیں “

پھر مختصر جواب ۔۔۔۔

جس پر اس نے سر ہلایا ۔۔۔۔

ناراض ہیں ؟؟؟

ایک اور سوال ۔۔۔۔

نہیں “

ایک بار پھر مختصر جواب ۔۔۔۔

اچھا تو پھر بات کیوں نہیں کر رہی ہیں ہم سے۔۔۔۔۔ کیونکہ آپ نے بات کرنے کیلئے کچھ چھوڑا ہی نہیں ۔۔۔۔

مطلب ؟؟؟

مطلب ابرش کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ آئی ،،،، جسے ضارب نے گہری نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔۔۔

اسے حالات کی سنگینی کا اندازہ ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ابرش کو منانا اتنا بھی آسان نہیں تھا جتنا وہ سوچ کر آیا تھا ۔۔۔۔

مطلب یہ کہ ضارب شاہ میرا آپ سے ایسا کوئی رشتہ نہیں کہ میں آپ سے ناراض ہو سکوں ۔۔۔۔آپ سے کوئی شکوہ یا شکایت کر سکوں ۔۔۔۔

ہمارے درمیان جو رشتہ تھا وہ اسی وقت ختم ہو گیا تھا ۔۔۔۔جب آپ نے مجھے اپنے گھر سے چلے جانے کا بولا تھا ۔۔۔۔۔

اب باقی جو بچا ہے صرف کاغذی ہے جسے میں بہت جلد ختم کر دوں گی ۔۔۔۔

اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سپاٹ لہجے میں گویا ہوئی ۔۔۔۔۔

جس سے ضارب کے چہرے کے زاویے بدلے تھے ۔۔۔۔کشادہ پیشانی پر بل پڑے ۔۔۔۔اس نے سپاٹ نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

اسکی آنکھوں میں اترتی لالی پر ایک استہزائیہ نظر ڈال کر پلٹنے لگی ۔۔۔۔

جب ضارب نے اسکا ایک ہاتھ پکڑ کر پشت سے لگاتے اپنے قریب کیا ۔۔۔۔ اور آپکو ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہم یہ ہونے دیں گے ؟؟؟؟

آپ شاید بھول رہی ہیں ہم کون ہیں اور کیا کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔

بھینچا ہوا لہجہ ۔۔۔۔

نہیں میں کچھ نہیں بھولی بہت اچھے سے جانتی ہوں کہ آپ کون ہیں اور کیا کر سکتے ہیں ۔۔۔۔

ایک نمبر کے جھوٹے اور منافق انسان ہیں آپ ۔۔۔۔

جو اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور ہے ۔۔۔۔

میرے لالا بالکل ٹھیک کہتے ہیں آپکے بارے میں ۔۔۔۔۔سیاست دان میٹھی چھری کی طرح ہوتے ہیں ،،،،، باہر لوگوں کے سامنے بہت انصاف اور دین کے بات کریں گے لیکن گھر اپنی عورتوں کے ساتھ بالکل ویسا ہی سلوک کرتے ہیں ۔۔۔۔بلکہ اس سے بھی بدتر ۔۔۔۔

زیادہ سے زیادہ کیا کریں گے جان سے مار دیں گے مار دیں ۔۔۔۔ کیوں اب میں آپ سے کسی قیمت پر نہیں ڈرنے والی ۔۔۔۔

طلاق تو میں آپ سے لے کر ،،،،،،

ضارب نے یکدم جھکتے باقی کے الفاظ اسکے حلق میں روکے ۔۔۔۔

اور اسکا عمل بہت جارہانہ اور تکلیف دہ تھا جس سے ابرش کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔۔۔

ایک ہاتھ تو اس نے پہلے ہی ابرش کی پشت پر باندھ رکھا تھا مزاحمت کیلئے اٹھتے دوسرے ہاتھ کو بھی مروڑ کر پشت سے لگایا ۔۔۔۔

ابرش کو اسکے ہاتھوں کی انگلیاں اپنی نازک جلد میں کھبتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔۔

جبکہ ہونٹوں پر جو تکلیف ہو رہی تھی وہ الگ ۔۔۔۔

کیونکہ ضارب نے غصے میں آ کر تقریبا اسکے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے چبا ڈالا تھا ۔۔۔۔

ابرش کو اپنے حلق میں نمکین ذائقہ گھلتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔

بہتے آنسوؤں میں روانی آئی ۔۔۔۔

اسکی سانسیں رکنے لگی ۔۔۔۔۔

اسکے وجود کے جھٹکے پر اسے ایک جھٹکے سے الگ ہوا ۔۔۔۔

ابرش تکلیف سے تڑپ اٹھی ۔۔۔۔

یہ سزا ہے ان لفظوں کی جو ابھی آپ نے ہم سے کہے ۔۔۔۔اور آئندہ اگر آپکے ہونٹوں پر طلاق کا لفظ آیا تو آپکی یہ چلتی ہوئی سانسیں اپنے ہاتھوں سے روک دیں گے ۔۔۔۔

اسکے زخمی ہونٹ کو بےدردی سے رگڑتے اسکی گردن کو اپنی گرفت میں لیتے ہوئے درشتگی سے گویا ہوا ۔۔۔۔

اور اسے ہماری دھمکی مت سمجھیے گا ۔۔۔۔ایک اور بار یہ لفظ آپکے ہونٹوں سے ادا ہوا تو آپ ہمیں اس پر عمل پیرا ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھے گی ۔۔۔۔۔

اور کیا کہا تھا ہم میٹھی چھری ہیں منافق ہیں ۔۔۔۔جو گھر میں کچھ اور باہر کچھ اور تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔ہم ہیں ایسے ۔۔۔۔لیکن یہ بات بھی اپنے دماغ میں اچھے سے بٹھا لیں ۔۔۔۔

کہ اب آپ نے اپنی پوری زندگی اسی منافق انسان کے ساتھ گزارنی ہے ۔۔۔۔” ہم سے آپکو رہائی صرف اور صرف ہماری سانسیں رکنے کے بعد ہی ملے گی ۔۔۔۔

ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر کر بولتا اسے کانپنے پر مجبور کر گیا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔

ابرش نے آنکھوں میں نفرت بھر کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔

جس سے ضارب کو اپنے ہونے والے نقصان کا اندازہ ہوا ۔۔۔۔اس کا دل یکدم گھبرایا ۔۔۔۔۔

لیکن اس نے چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیا ۔۔۔۔

پھر اسے ایک ہاتھ میں اسکا بازو پکڑ کر تقریبا گھسیٹتے ہوئے قدم باہر کی طرف بڑھائے ۔۔۔۔

گھر میں موجود سب لوگ اس وقت ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے تھے ۔۔۔۔یہ دوپہر کے کھانے کا وقت تھا ۔۔۔۔

سب کے آ جانے کے بعد ہی کھانا شروع کیا جانا تھا ۔۔۔۔لیکن ضارب کی موجودگی کی وجہ سے ابرش نے باہر آنے سے صاف انکار کر دیا تھا ۔۔۔۔۔

جس پر ضارب خود اٹھ کر اسے منانے کیلئے اس کے کمرے میں گیا ۔۔۔۔

لیکن آگے سے جو کچھ ابرش نے اس سے کہاں تھا اس نے ضارب کے اندر سوئے ہوئے حیوان کو جگایا تھا ۔۔۔۔۔

اور اس نے اپنا غصہ اسکے نازک ہونٹوں پر اتارا تھا ۔۔۔

باہر سب لوگ ان دونوں کا ہی انتظار کر رہے تھے جب وہ اسے گھسیٹتے ہوئے وہاں لایا ۔۔۔۔۔

کھانے کی ٹیبل پر فلحال دادا سائیں کے ساتھ اماں سائیں ،،، نجمہ اور عظمی بیگم اور زرمینے بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔

زارون ضروری کام کا کہتے کچھ دیر پہلے ہی گھر سے نکلا تھا ۔۔۔۔

جبکہ ارمغان شاہ آفس میں تھے اور موسی شاہ زمینوں پر ۔۔۔۔

دادا سائیں ہم ابرش کو لے کر شہر واپس جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔ ہماری بہت ضروری میٹنگ ہیں اس لیے آج رات نہیں رک سکتے ۔۔۔۔

ان شااللہ جب نیکسٹ ٹائم آئے گے تو ضرور رکے گے ۔۔۔۔

سپاٹ لہجے میں وہ سیدھا حیدر شاہ سے مخاطب ہوا تھا ۔۔۔۔

جس پر انہوں نے سر ہلایا ۔۔۔۔

لیکن آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔

ابرش اسکی پکڑ سے اپنا بازو آزاد کروانے کی کوشش کرتی چیخی ۔۔۔۔

جسکا اس نے کوئی اثر نہیں لیا اور سب کو الوداع کہتے ۔۔۔۔ باہر کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔۔۔

عظمی بیگم نے ابرش کی حالت دیکھتے کچھ کہنا چاہا لیکن اماں سائیں نے انہیں اشارے سے منع کر دیا ۔۔۔۔

کیونکہ ابرش کیلئے فلحال یہی بہتر تھا کہ ضارب اسے اپنے ساتھ لے کر جائے ۔۔۔۔

آپ میرے ساتھ ایسے زور زبردستی نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ جب میں آپکے ساتھ رہنا ہی چاہتی تو کیوں آپ کے ساتھ جاؤں ۔۔۔۔

لیکن ضارب ایسے تھا جیسے اس نے اپنے کان بند کر لیے ہو ۔۔۔۔۔

میں اپنے واسم لالا کو بتاؤں گی ۔۔۔۔کہ آپ میرے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں ۔۔۔۔

اس پر اپنی باتوں کا اثر نا ہوتے دیکھ معصوم دھمکی لگائی ۔۔۔

جس سے ضارب کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔۔۔۔۔

اور وہ رکا ۔۔۔۔

سب لوگ پریشان نظروں سے انکی طرف ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔

اور آپکو کیا لگتا ہے ہم آپکے واسم لالا سے ڈرتے ہیں ۔۔۔۔

استہزائیہ بولا ۔۔۔۔

نہیں آپ کیوں ڈریں گے ۔۔۔۔جنہیں نا رشتوں کا خیال نا انکے احترام کا آپ تو بس اپنی طاقت کے نشے میں اپنوں پر ہاتھ اٹھانا جانتے ہیں ۔۔۔۔

وہ دوبدو طنزیہ بولی ۔۔۔۔

جبکہ اسکی زبان کی گوہر افشانیوں پر سب حیران تھے ۔۔۔۔۔

بہت اچھے سے سمجھ چکی ہیں ہمیں ۔۔۔۔

افسوس سے بولا ۔۔۔۔

میں کہہ رہی ہوں میرا ہاتھ چھوڑیں میں آپکے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ۔۔۔۔

جبکہ اسکا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ اسے اپنے کندھے پر اٹھا چکا تھا ۔۔۔۔

اور چپ چاپ باہر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔

حیدر شاہ اور اماں سائیں ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور لبوں پر شرارتی مسکراہٹ دیکھتے ہوئے شرما کر نظریں چرا گئیں ۔۔۔۔

جبکہ باقی سب بھی ضارب کے اس عمل پر حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔

وہ اسے یونہی کندھے پر ڈالے ہوئے باہر گاڑی کے قریب آیا تھا ۔۔۔۔۔

اور اس سے پہلے وہ اسے گاڑی میں ڈالتا ارمغان شاہ کی گاڑی حویلی میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

جسے دیکھتے اس نے ابرش کو زمین پر اتارا ۔۔۔۔

اور وہ بنا وقت ضائع کیے اپنے بابا سائیں کی طرف بھاگی ۔۔۔۔۔

جو ضارب کو یہاں دیکھتے گاڑی پارک کر کے انکی طرف ہی بڑھ رہے تھے ۔۔۔۔

ڈیڈ میں انکے ساتھ نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔

انکے ہاتھ کو دونوں ہاتھوں سے تھامتے انکی پشت پر چھپتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

جو معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔۔

السلام وعلیکم تایا سائیں “

ضارب نے آگے بڑھ کر سلام کیا ۔۔۔۔۔

وعلیکم السلام کیسے ہیں ۔۔۔۔۔اسے سینے سے لگاتے محبت سے بولیں ۔۔۔۔

جی الحمدللہ ہم بالکل ٹھیک ۔۔۔۔۔آپ سنائیں ۔۔۔۔

جبکہ اپنے باپ کو ضارب سے اتنی محبت سے ملتے دیکھ کر ابرش نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

اور اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ اندر کی طرف بھاگتی ۔۔۔

ضارب نے اسکے ارادے سمجھ کر اسکے ہاتھ کو سختی سے تھاما ۔۔۔۔

تایا سائیں ہم ابرش کو اپنے ساتھ لیجانے آئے تھے ۔۔۔۔۔اگر آپ اجازت دیں تو۔۔۔

واسم بھی ابیہا کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں ۔۔۔۔۔

مصلحتا بتا دیا تاکہ وہ کوئی جواز نا اٹھائیں اسے روکنے کا ۔۔۔۔

بیٹا جیسی آپکی مرضی ۔۔۔۔

لیکن میں انکے ساتھ نہیں جانا چاہتی یہ بات آپ لوگ کیوں نہیں سمجھ رہے ۔۔۔۔

ارمغان شاہ کی بات پر غصے سے چیختے ہوئے بولی تھی ۔۔۔۔

ابرش “

جبکہ اسکی بدتمیزی پر وہ دھاڑا تھا ۔۔۔۔

جس پر وہ سہمی اور ساتھ ہی اسے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔

اور اس سے پہلے وہ بیہوش ہو کر گرتی ضارب نے اسکے گرد اپنا حصار کھینچا تھا۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *