Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 86)Part 2

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

اس بلڈنگ سے نکل کر احسن حیات اپنے گھر کیلئے نکلے تھے ۔۔۔۔جب راستے میں گزرتے ہوئے انکی نظر ایک طرف زمین پر زخمی پڑی روباب پر پڑی اور اسکے اردگرد کھڑے موسی شاہ کے بندوں پر ۔۔۔۔

اور جس انداز میں وہ روباب کی طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔انہیں معاملہ سمجھنے میں ایک لمحہ نہیں لگا۔۔۔۔

انہوں نے لمحوں کی دیری کیے بنا ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا بولا ۔۔۔۔

اور گاڑی سے نکل کر اپنے پرسنل گارڈز جو ہمہ وقت ان کے ساتھ رہتے تھے ۔۔۔

انہیں لے کر اس جگہ کی طرف دوڑے ۔۔۔۔اور اس سے پہلے وہ غنڈے روباب کو مزید کوئی نقصان پہنچاتے ۔۔۔۔

انہوں نے وہاں پہنچتے انہیں اپنی گنز کے نشانے پر لیا ۔۔۔

خبردار اگر کسی نے ہوشیاری کرنے کی کوشش اسی وقت گولیوں سے بھون دیا جائے گا ۔۔۔۔

ایک سینئر گارڈ نے دھمکی لگائی ۔۔۔

جس پر وہ ڈر کر کچھ پیچھے ہوئے ۔۔۔۔یکدم ایک افراتفری کا ماحول بن گیا ۔۔۔۔کچھ نے تو بھاگنے کی کوشش بھی کیونکہ انکے پاس فلحال کوئی خاص ہتھیار نہیں تھے ۔۔۔

سوائے ایک آدھ چاقو اور پستول کے جن سے وہ قطع بھی ان گارڈز کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔

لیکن انہوں نے انکی ٹانگ کا نشانہ لیتے انکی کوشش ناکام بنائی ۔۔۔

روباب “

احسن حیات نے انہیں اگنور کرتے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر انکا چہرہ تھپتھپایا ۔۔۔۔

جو مکمل اپنے ہوش و حواس کھوئے بےسدھ پڑی تھیں ۔۔۔۔جس پر ایک لمحے کیلئے انکا دل گھبرایا ۔۔۔لیکن پھر انہوں نے انکی نبض اور سانسیں چیک کی ۔۔۔۔جو انہیں ان کے وجود میں زندگی کا پتا دے گئی تھیں ۔۔۔۔

احسن حیات کی نظر اسکے پیٹ پر پڑی ،،،،، جہاں سے خون تیز رفتاری سے بہہ رہا تھا ۔۔۔۔

انہوں نے فورا اپنا کوٹ اتار کر اس پر باندھا اور اسے گود میں اٹھائے گاڑی کی طرف بھاگے ۔۔۔۔

لیکن جانے سے پہلے وہ اپنے بندوں کو اشارہ کر گئے تھے کہ انہوں نے کیا کرنا تھا ۔۔۔۔۔جسے سمجھتے وہ ان غنڈوں پر ٹوٹ پڑے تھے ۔۔۔۔

ہسپتال پہنچتے انہیں ایمرجنسی روم میں لیجایا گیا تھا ۔۔۔۔انکے پیٹ پر ایسے تیز دھار اور خطرناک ہتھیار سے وار کیا گیا جس نے انکے اندر کے عضاء کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔۔۔۔اوپر سے خون بھی ضرورت سے زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے ڈاکٹرز نے صاف اپنے ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے ۔۔۔۔

انکا اب بچ پانا کوئی معجزہ ہی ہو سکتا تھا ۔۔۔۔

بارہ گھنٹوں کے طویل انتظار اور ڈاکٹرز کی انتہا کوششوں کے بعد انکی زندگی تو بچ گئی ،،،، لیکن انہیں ہوش نہیں آیا جس کی وجہ سے وہ کومہ میں چلی گئیں تھیں ۔۔۔

ڈاکٹرز نے بتایا تھا ۔۔۔کہ انکے دماغ کے پچھلے حصے میں کوئی نوکیلی چیز چبھی تھی ۔۔۔۔اور اسکے ساتھ ساتھ انہیں کسی بات کا بہت گہرا صدمہ بھی لگا تھا ۔۔۔جسے انکی باڈی قبول نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔۔

ڈاکٹر یہ ہوش میں کب تک آ جائیں گی ؟؟؟؟

احسن حیات نے انکی باتیں سنتے سوال کیا ۔۔۔۔

دیکھیں سر جیسا کہ ہم آپکو بتا چکے ہیں کہ وہ کومہ میں چلی گئیں ہیں تو ایسا پیشنٹ کب ہوش میں آئے اسکے بارے میں ایگزیٹ بتا پانا بہت مشکل ہے ۔۔۔

ہو سکتا ہے ۔۔۔۔وہ چند دنوں میں ہوش میں آ جائیں ۔۔۔یا پھر چند مہنیوں بعد اور یہ بھی ہو سکتا ہے یہ انتظار سالوں پر محیط ہو ۔۔۔۔

ڈاکٹر نے انہیں کافی تفصیل سے روباب کی کنڈیشن کے بارے میں بتایا تھا ۔۔۔

جس پر وہ محض سر ہلا کر رہ گئے ۔۔۔۔

پہلے تو انکے دل میں خیال آیا کہ وہ شاہ فیملی کو روباب کے بارے میں اطلاع دے دیں ۔۔۔۔

لیکن پھر انہیں اپنا معصوم بھائی یاد آیا ۔۔۔جس کی جدائی میں وہ آج تک تڑپ رہے تھے ۔۔۔۔اور وہ شاہ خاندان کو بھی ایسے ہی تڑپانا چاہتے تھے ۔۔۔

ان سب میں انہیں صرف ایک ہستی کے بارے میں سوچ کر برا لگ رہا تھا ۔۔۔۔اور وہ ہستی تھی انکا یونیورسٹی کا سب سے اچھا دوست ارمغان شاہ ،،،، جن کے بارے میں انہیں حال ہی میں پتا چلا تھا کہ وہ بھی اسی فیملی کا حصہ ہیں ۔۔۔۔

لیکن اپنے بھائی کی محبت پر انہوں ارمغان کی دوستی کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔۔۔

اور روباب کی تھوڑی کنڈیشن بہتر ہوتے ہی وہ انہیں لے کر بیرون ملک شفٹ ہو گئے تھے ۔۔۔۔

جبکہ یہاں موسی کے پلان کے مطابق جو انہیں اسکے بندوں سے پتا چلا تھا ایک لاوارث لاش پر روباب کی نشانیاں ڈال کر جنگل میں پھنکوا دیا تھا ۔۔۔۔اور جیسا کہ شاہ خاندان نے اپنے چھوٹے بہو بیٹے کا پورسموٹم نہیں ہونے دیا تھا انہیں پکا یقین تھا ،،،، اس بار بھی وہ لوگ یہی کرتے ۔۔۔

اس لیے وہ عورت روباب نہیں یہ سچائی کھلنے کا انہیں کوئی ڈر نہیں تھا ۔۔۔۔

لیکن زندگی کے گزرتے سالوں میں ۔۔۔۔جب جب وہ روباب کو بےسدھ پڑے دیکھتے انہیں انکا ضمیر کچوکے لگاتا تھا ۔۔۔۔

لیکن جب تک انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔۔۔۔

اس حادثے کو اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی وہ ابھی تک ہوش میں نہیں آئی تھی ۔۔۔جبکہ انکے ساتھ احسن حیات کی زندگی بھی وہی کہیں اس ایک موڈ پر ہی اٹک کر رہ گئی تھی ۔۔۔۔

یہاں تک پچاس سال سے زیادہ عمر ہونے کے باوجود انہوں نے شادی نہیں کی ۔۔۔۔

لیکن جب یہ پرایا دیس بھی انکے زخموں پر مرہم نا رکھ سکا تو وہ اپنے وطن واپس لوٹ آئے ۔۔۔

یہاں معجزاتی طور پر روباب کی حالت آہستہ آہستہ سدھار آنے لگا تھا ۔۔۔۔

اور ایسے ایک دن جب وہ ایک بزنس میٹنگ کے سلسلے میں ایک ریسٹورنٹ میں موجود تھے ۔۔۔حادثاتی طور ابیہا سے ٹکرا گئے ۔۔۔۔

جسے دیکھتے انہیں ایسا لگا ۔۔۔جیسے انکا ماضی دوبارہ انکے سامنے آ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔

جس پر انہوں اپنے تئیں رومان سے بول کر اسکی تمام انفارمیشن نکلوائی تھی ۔۔۔۔

اور انکا شک بالکل ٹھیک نکلا تھا ۔۔۔۔

یہ لڑکی یمان شاہ اور حجاب کی بیٹی تھی ۔۔۔۔اور ان سب کے دوران انہیں موسی شاہ کے بارے میں اور بھی بہت کچھ پتا چلا تھا ۔۔۔کہ وہ اسکا سگا ماموں ہے ۔۔۔

جسے جان کر وہ حیرت سے دھنگ رہ گئے تھے ۔۔۔ کہ کوئی شخص اپنی سگی بہنوں کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے ۔۔۔۔کیونکہ انہوں نے احسن حیات کو اپنے بارے صرف اتنا بتایا تھا کہ وہ حیدر شاہ سے اپنے ماں باپ کے قتل کا بدلہ لینا چاہتا ہے ۔۔۔اسی لیے انکا ساتھ دے رہا ہے ۔۔۔

اور اس سے بھی بڑھ کر ان کیلئے حیرت کی بات یہ تھی ،،،، کہ وہ رومان شاہ کا سگا باپ تھا ۔۔۔۔

شاہ فیملی کی ساری انفارمیشن نکالنے کے دوران ہی رومان نے موسی شاہ کی فوٹو دیکھتے اسے پہچانا تھا ۔۔۔۔

جس نے نا صرف اسکی ماں کی زندگی برباد کی تھی ۔۔۔۔بلکہ ایسے وقت میں انہیں بےسہارا کر دیا تھا جب انہیں انکی سب سے زیادہ ضرورت تھی ۔۔۔۔

اس نے بچپن میں جب سے ہوش سنبھالا تھا ۔۔۔۔اپنی ماں ہمیشہ تن تنہا روتے ہی پایا ۔۔۔۔وہ شخص جو کہنے تو اسکا باپ تھا ۔۔۔۔لیکن کبھی اس نے اسے باپ والی شفقت سے نہیں نوازا تھا ۔۔۔۔

مہینے میں کوئی ایک دو بار ہی وہ انہیں ملنے آتا تھا ،،،، یا یہ کہہ لیں کہ اسکی ماں پر اپنی وحشت اتارنے آتا تھا ۔۔۔۔کیونکہ ہر بار اسکے آنے پر اپنی ماں کے کمرے سے ان دونوں کی لڑنے کی آوازیں آتی تھی ۔۔۔

اور اسکے بعد اپنی ماں کے رونے کی ۔۔۔۔جنہیں سن کر وہ ہمیشہ سہم جاتا تھا ۔۔۔

اور ایک دن ایسے ہی جھگڑے کے دوران اس نے اسکی ماں کو طلاق دے دی تھی ۔۔۔۔

جسکے بعد دوبارہ کبھی اس نے انکے گھر کی طرف رجوع نہیں کیا تھا ۔۔۔۔جس پر وہ بہت خوش تھا ۔۔۔۔کیونکہ اسکے آنے پر جو گھر میں لڑائی جھگڑے ہوتے تھے وہ بند ہو گئے تھے ۔۔۔۔

لیکن جلد ہی اسکی وہ خوشی بھی ختم ہو گئی تھی ۔۔۔۔جب گھر میں کھانے کا سمان ختم ہوتے ہی فاقوں کی نوبت آ گئی ۔۔۔۔

اوپر سے اسکی ماں بہت بیمار رہنے لگی تھی ۔۔۔۔اور سرکاری ہسپتال سے ٹیسٹ کروانے پر پتا چلا تھا کہ وہ ایک بار پھر امید سے تھی ۔۔۔۔

اور اسکے ساتھ ہی کینسر جیسا جان لیوا مرض بھی انہیں لگ چکا تھا ۔۔۔۔جسکی وہ بالکل آخری سٹیج پر تھی ۔۔۔۔

اب اس میں تو اتنی ہمت نہیں تھی ،،،،، وہ کوئی جوب وغیرہ کر کے اسے ایک وقت کی روٹی بھی کھلا سکتی ۔۔۔۔اوپر اسکا پیچھے خاندان میں بھی کوئی نہیں تھا سوائے ایک والد کے جو بہت پہلے ہی وفات پا چکے تھے ۔۔۔۔

کھانے کی کمی اور علاج نا کروانے کی وجہ سے حالت دن با دن بگڑتی ہی جا رہی تھی ۔۔۔۔

ایسے ہی ایک دن جب انکی ہمت جواب دے گئی تو وہ بیہوش ہو کر زمین پر گری ۔۔۔۔۔

رومان جو اس وقت صرف آٹھ نو سال کا بچہ تھا ،،،، اپنی ماں کو اس حالت میں دیکھ کر کافی گھبرا گیا ۔۔۔۔

وہ دوڑ کر جا کے اپنے پڑوس میں رہنے والی آنٹی کو بلا لایا ،،،، جس کے ساتھ اسکی ماں اچھی دوستی تھی ۔۔۔

اور ان دنوں اکثر ہی دو وقت کی روٹی وہی انہیں دے کر جاتی تھیں ۔۔۔۔

وہ بمشکل اسکی ماں کو سنبھالتے ہسپتال لے کر گئی ۔۔۔۔

جہاں ڈاکٹرز نے انکی حالت کافی خراب بتائی تھی ۔۔۔۔اور انہیں ہسپتال میں ہی رکھنے کا مشورہ دیا ۔۔۔

لیکن انکے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ ہسپتال کا خرچہ افورڈ کر سکتے اس لیے عالیہ کی تھوڑی طبیعت سنبھلتے ہی وہ لوگ گھر واپس آ گئے ۔۔۔۔

لیکن ان سب کے بعد رومان نے یہ فیصلہ ضرور کر لیا تھا کہ وہ اپنی ماں کیلئے پیسے کما کر اسکا علاج ضرور کروائے گا۔۔۔۔

لیکن اتنے چھوٹے بچے کو نوکری کون دیتا ۔۔۔وہ روز گھر سے نکلتا ،،،، اور آس پاس کی گلیوں اور سڑکوں پر گھوم پھر کر واپس آ جاتا ۔۔۔۔

ایک دن ایسے ہی شام کے وقت جب وہ سڑک پر بےدھیانی سے چل رہا تھا ،،،، تو ایک گاڑی سے ٹکرا گیا ۔۔۔۔

جبکہ ایک بچے اپنی گاڑی سے ٹکراتے دیکھ گاڑی کے مالک نے اپنے ڈرائیور کو خوب کھری کھوٹی سنائی اور خود باہر نکل کر اسکی حالت کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔۔

جسے زیادہ چوٹیں تو نہیں آئی تھیں ۔۔۔۔لیکن پیشانی سڑک پر لگنے کی وجہ سے خون بہہ رہا تھا ۔۔۔۔

جسکی مرہم پٹی کروانے کیلئے وہ اسے اپنے ساتھ لیجانا چاہتا تھا ۔۔۔

لیکن اس نے صاف انکار کر دیا تھا ۔۔۔۔

بیٹا آپ کو ڈاکٹر کی ضرورت ہے دیکھیں کیسے خون بہہ رہا ہے ۔۔۔۔چلیں میں آپکو ہسپتال لے کر چلتا ہوں ۔۔۔۔۔

اسکے زخمی چہرے کو دیکھنے کے بعد وہ شخص بہت پرشفیق لہجے میں گویا ہوا تھا ۔۔۔۔

انکل مجھ سے زیادہ میری ماں کو ڈاکٹر کی ضرورت ہے ،،،، کیونکہ اسکے منہ سے تو روز خون آتا ہے ۔۔۔۔

اگر آپ مجھ پر مہربانی کرنا چاہتے ہیں تو میری جگہ میری ماں کا علاج کروا دیں ۔۔۔۔۔

میں دھیرے دھیرے کام کر کے آپکے سارے پیسے چکا دوں گا ۔۔۔۔

ساتھ اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔۔۔۔

جبکہ وہ شخص ایک بچے کی اس چھوٹی سی عمر میں بھی اتنی سمجھداری اور اپنی ماں کیلئے اس قدر محبت کو دیکھتے اس سے کافی متاثر ہوا تھا ۔۔۔۔

اسکی مدد کرنے کا فیصلہ لیتے مسکرایا ۔۔۔۔

اور وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ احسن حیات تھے ۔۔۔۔رومان کی اپنی ماں کیلئے محبت دیکھتے انہیں اپنا محسن یاد آیا تھا وہ بھی تو اس سے ایسی ہی محبت کرتے تھے ۔۔۔۔

وہ اپنے بھائی کو تو نہیں بچا پائے لیکن اسکی ماں کو بچانے کا خود سے وعدہ ضرور کیا ۔۔۔۔

احسن حیات نے عالیہ کو شہر کے سب بڑے ہسپتال میں داخل کروایا تاکہ اسکا اچھے سے اچھا علاج ہو سکے ۔۔۔۔

لیکن اسکی بیماری اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ ڈاکٹرز کی لاکھ کوششوں کے باوجود بھی وہ اسے نہیں بچا سکے ۔۔۔۔

اور ایک دن وہ ایک کمزور سی بیٹی کو جنم دیتے ہمیشہ کیلئے اپنی آنکھیں موند گئی ۔۔۔۔۔

اس دن رومان شاہ بہت رویا تھا ،،،،، جس کو سنبھالتے ہوئے احسن حیات نے اس ننھی سی جان کو اسکی گود میں ڈالتے ہوئے یہ کہاں تھا کہ تمہیں اس کیلئے مظبوط بننا ہوگا ۔۔۔۔

یہ اب تمہاری ذمہ داری ہے ۔۔۔۔جو تمہاری ماں جاتے وقت تمہیں سونپ کر گئی ہے ۔۔۔تمہیں اسکا خیال رکھنا ہوگا ۔۔۔۔

لیکن اس سے پہلے تمہیں اپنے یہ آنسو پونچھنے ہونگے ۔۔۔۔کیونکہ یہ بہادر نہیں بلکہ کمزور لوگوں کی نشانی ہوتے ہیں ۔۔۔۔

بس اسی وقت اس نے اپنے بہتے ہوئے آنسو صاف کیے تھے اور وعدہ کیا تھا کہ وہ آئندہ کبھی نہیں روئے گا ۔۔۔۔اور اپنی بہن کا اپنی جان سے بھی زیادہ خیال رکھے گا ۔۔۔۔

جسکے بعد احسن حیات نے اسے بوڈنگ میں ڈال دیا تھا جبکہ زرتاشے کیلئے ایک کیئر ٹیکر ہائر کر دی تھی ۔۔۔۔جو اسکا مکمل خیال رکھتی تھی ۔۔۔۔

یہاں تک یہ ملک چھوڑنے کے باوجود بھی وہ ان لوگوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے ۔۔۔۔رومان نے اپنی پڑھائی مکمل کر کے آرمی جوائن کر لی تھی ۔۔۔۔

جبکہ زرمینے ہاسٹل میں رہتے ہوئے اپنی پڑھائی مکمل کر رہی تھی ۔۔۔۔لیکن ان دونوں بہن بھائی میں اتنی دوریاں ہونے کے باوجود بھی بہت محبت اور انڈر سٹینڈنگ تھی ۔۔۔۔

کیونکہ رومان نے دور ہوتے ہوئے بھی تاشے کو ہمیشہ یہی احساس دلایا تھا کہ وہ اسکے بہت قریب ہے ۔۔۔۔ہمیشہ اسکی ہر چیز کا خیال رکھا تھا اور تاشے ویسے بھی نیچر وائز بہت چلبلی اور سادہ نیچر کی لڑکی تھی ۔۔۔۔

اس نے کبھی بلا ضرورت فرمائشیں کر کے اپنے بھائی کو تنگ نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔

رومان کی اپنی فیلڈ میں ایمانداری اور اسکی بہادری کو دیکھتے اسے سپیشل آفیسرز میں شامل کر لیا گیا تھا ۔۔۔۔۔

جس کے چلتے اسے بھی زارون شاہ کے ساتھ پنجاب میں ڈرگ مافیا کی چین توڑنے اور اسکی جڑوں کو ختم کرنے کیلئے ۔۔۔۔مشن پر بھیجا گیا تھا ۔۔۔۔جس میں اسے ایک سولین کی طرح رہنا تھا ۔۔۔۔

تو پھر وہ اتنے اچھے موقع کو اپنے ہاتھ سے کیسے جانے دیتا ۔۔۔وہ زرتاشے کو ہاسٹل سے اپنے ساتھ لاہور اپنے گھر میں لے آیا تھا اور کراچی سے مائگریشن کروا کر یہاں کی یونیورسٹی میں داخل کروا دیا ۔۔۔جہاں اسکی ملاقات زرمینے ابرش اور ابیہا سے ہوئی تھی ۔۔۔۔

رومان کی ماں نے مرنے سے پہلے احسن حیات کو اپنے پاسٹ کے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا ۔۔۔۔۔لیکن وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے موسی شاہ وہ شخص ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔

انکی سچائی جاننے اور ابیہا کو دیکھنے کے بعد انہوں نے رومان کے ساتھ مل کر پلان تیار کیا ۔۔۔۔جس کے چلتے انہوں نے ابیہا کو حاصل کرنے کے بہانے دوبارہ ان سے اپنے روابط جوڑے ۔۔۔۔

اور ان سب کے دوران ہی انہیں پتا چلا تھا کہ پنجاب میں ڈرگ مافیا کا سرغنہ کوئی اور نہیں بلکہ موسی شاہ تھے ۔۔۔۔

اور احسن حیات کے کہنے پر ہی رومان شاہ نے ضارب اور زارون سے ملتے تمام سچائی انہیں بتائی تھی ۔۔۔۔لیکن وہ اس شخص کا ہی بیٹا ہے ۔۔۔۔یہ سچ چھپا گیا تھا ۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°

اس نے آہستہ آہستہ دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔۔

جسکے ساتھ ہی اسے اپنے کندھے سے ہلکی ٹیسیں اٹھتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔جس سے ایک سسکاری سی اسکے ہونٹوں سے برآمد ہوئی تھی ۔۔۔۔

ضارب شاہ جو اسی کمرے میں موجود اسکے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔

اسکی آواز سنتے فورا اٹھ کر اسکے قریب آیا تھا ۔۔۔۔

گڑیا “آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟؟

نرمی سے اسکے بال سہلاتے ہوئے سوال کیا ۔۔۔۔

کندھے میں درد ہو رہا ہے تھوڑا سا ۔۔۔۔۔نم آنکھوں کے ساتھ بتایا ۔۔۔۔

ضارب فورا پریشان ہوا ۔۔۔۔

آپ ٹھہریں میں ابھی ڈاکٹر بلاتا ہوں ۔۔۔۔

جب اس نے ضارب کا ہاتھ تھامتے اسے روکا ۔۔۔۔ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے ،،،،، آپ میرے پاس بیٹھ جائیں میں ٹھیک ہو جاؤں گی ۔۔۔۔

لیکن گڑیا ” آپکو ڈاکٹر کی ضرورت ہے ۔۔۔۔پلیز نہیں ڈاکٹر انجیکشن لگائے گا ۔۔۔۔

اب کہ اصل وجہ بتائی ۔۔۔۔

جس پر نفی میں سر ہلاتے وہ مسکرایا ۔۔۔۔

اس نے دھیرے سے جھکتے ہوئے اسکی پیشانی کے ساتھ نم آنکھوں کو چوما ۔۔۔۔

جس پر وہ سکون محسوس کرتی مسکرائی ۔۔۔۔

ضارب اسکا ہاتھ تھامتے جس پر ڈرپ لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔پاس ہی رکھی چیئر پر براجمان ہو گیا ۔۔۔۔

لالا باقی سب کہاں ہیں ؟؟؟؟؟ اور ماموں جان کا بنا ؟؟؟؟

کچھ یاد آنے پر سوال کیا ۔۔۔۔

جبکہ موسی شاہ کا ذکر آتے ہی ضارب کی رگیں ایک بار پھر تن گئیں تھیں ۔۔۔لیکن اسکے معصوم چہرے کو دیکھتے اس نے گہرا سانس کھینچتے خود کو پرسکون کیا ۔۔۔۔

پہلی بات تو گڑیا وہ ہمارے ماموں نہیں ہیں اس لیے انہیں اتنی عزت دینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔اور وہ اس وقت وہی ہیں جہاں انہیں بہت پہلے ہونا چاہیے تھا ۔۔۔یعنی کے جیل میں ۔۔۔۔

اور باقی سب گھر واپس چلے گئے کیونکہ یہاں زیادہ لوگوں کو رکنے کی اجازت نہیں تھی ۔۔۔۔اور ان شاءاللہ صبح تک آپکو بھی چھٹی مل جائے گی ۔۔۔۔

اسکے گال کو سہلاتے ہوئے قدرے نرمی سے گویا ہوا ۔۔۔۔

جس پر بادقت مسکراتے ہوئے اس نے سر ہلایا ۔۔۔۔کیونکہ ضارب کی بات سننے کے بعد تو اسکے اندر یکدم ہی سناٹے پھیل گئے تھے ۔۔۔۔

تو یہ اوقات ہے بیا تمہاری واسم شاہ کی نظر میں ،،،،، اس وقت جب تمہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی کتنی آسانی سے وہ تمہیں چھوڑ کر گھر واپس چلا گیا ۔۔۔۔

پہلے کونسا کبھی اس نے تمہاری فکر کی ہے ،،،،،، تمہارا وجود صرف اور صرف اس کیلئے ایک ضرورت کے سامان سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔۔۔جسے وقت با وقت اپنے سکون اور نفس کی تسکین کیلئے وہ استعمال کرتا تھا ۔۔۔۔

وہ نرم بھی پڑتا تھا تو صرف اپنی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے ۔۔۔۔ورنہ اگر اسکی زندگی میں سچ مچ تمہاری کوئی اہمیت ہوتی تو اتنی آسانی سے کبھی بھی موسی شاہ کو نا بولتا کہ تمہیں گولی مار دے ۔۔۔۔

زہریلی سوچوں نے ابیہا کے دماغ کا احاطہ کیا ۔۔۔۔

جنہوں نے اسے واسم شاہ سے مزید بدگمان کرتے منتفر کر دیا ۔۔۔۔اور اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اب کبھی واسم شاہ سے بات نہیں کرے گی۔۔۔۔بلکہ حویلی جانے کے بجائے ضارب کے ساتھ لاہور شاہ مینشن چلی جائے گی ۔۔۔۔

اپنی کم مائگی کو یاد کرتے ایک آنسو اسکی آنکھ سے لڑھک کر اسکے بالوں میں جذب ہو گیا ۔۔۔۔

جسے دیکھتے ضارب شاہ تڑپ اٹھا ۔۔۔۔کیا ہوا گڑیا زیادہ درد ہو رہا ہے ؟؟؟؟؟

جس پر وہ کچھ ہوش میں آئی ۔۔۔۔نہیں لالا بس ماما بابا کی یاد آ رہی تھی ۔۔۔۔۔

دھیرے سے مسکراتے نم لہجے میں بولی ۔۔۔۔

ہم ایک بات بتائیں گڑیا ؟؟؟؟؟

اسکی بات پر وہ دل و جان ہمہ تن گوش ہوئی ۔۔۔۔

بچپن سے لے کر آج تک کوئی ایسا لمحہ نہیں گزرا جب ہمیں ماما بابا کی یاد نا آئی ہو ۔۔۔۔۔بلکہ کبھی کبھی اسکی شدت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ دل کرتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہمیشہ کیلئے ان کے پاس چلیں جائیں ۔۔۔۔

اللہ نا کرے لالا کیسی باتیں کر رہیں ہیں ۔۔۔۔

ابیہا کی آنکھوں میں فورا آنسو اتر آئے اور وہ تڑپ کر اسے ٹوک گئی ۔۔۔جس پر وہ دھیرے سے مسکرایا ۔۔۔۔

اور یہ مسکراہٹ بہت ہی درد سے بھرپور اور جان لیوا تھی ۔۔۔۔جسے ابیہا نے شدت سے محسوس کیا ۔۔۔۔۔

لیکن پھر آپکا یہ معصوم سا چہرہ ہمارے سامنے آ جاتا ہے ۔۔۔۔جسے وہ بہت مان اور محبت کے ساتھ ہمیں سونپ کر گئے تھے کہ ہمیں اسکا خیال رکھنا ہے ۔۔۔۔

ہم جانتے ہیں بیا ہم ماما بابا کی کمی کبھی پوری نہیں کر سکتے لیکن کوشش ہمیشہ یہی کی ہے کہ آپکو خوش رکھ سکیں ۔۔۔۔

لیکن ان سب کے باوجود جب آپکی آنکھوں میں آنسو دیکھتے ہیں تو ہمیں لگتا کہ ہم ماما بابا سے کیا وعدہ ٹھیک سے نبھا نہیں پائے ۔۔۔۔اور پھر دل کرتا ہے اس دنیا کے ساتھ ساتھ خود کو بھی آگ لگا لیں ۔۔۔۔

لالا “

ابیہا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے ۔۔۔۔

ہمارے رہتے ہوئے ہماری زندگی میں ہماری بہن کی آنکھوں میں آنسو آئیں تو کیا فائدہ اس زندگی کا ۔۔۔۔

اسکے بہتے ہوئے آنسوؤں کو اپنے پوروں سے چنتے ایک جذب کے عالم میں بولا ۔۔۔۔

لالا پلیز ایسے باتیں نا کریں ۔۔۔۔آپ نے میرا بہت خیال رکھا بہت محبت دی ہے ۔۔۔۔اگر ماما بابا زندہ ہوتے تو شاید وہ بھی اتنی محبت نا دے سکتے ۔۔۔۔

میں وعدہ کرتی ہوں آج کے بعد کبھی نہیں رووں گی ،،،، لیکن آپ بھی وعدہ کریں دوبارہ ایسی باتیں اپنے منہ سے نہیں نکالیں گے ۔۔۔۔

ورنہ آپکی یہ بہن جیتے جی مر جائے گی ۔۔۔۔۔

جس پر ضارب نے نفی میں سر ہلاتے اسکے نازک وجود کو اپنے سینے سے لگایا ،،،،، جس سے اسکے جلتے ہوئے دل کو کچھ سکون ملا تھا ۔۔۔۔

وعدہ “

ابیہا نے اس سے الگ ہو کر اپنا ہاتھ بڑھایا ۔۔۔۔

جسے نرمی سے تھامتے ضارب نے محبت سے چوما تھا ۔۔۔۔

وعدہ “

جس پر بہت خوبصورت مسکراہٹ نے ابیہا کے چہرے کا احاطہ کیا تھا ۔۔۔۔

چلیں اب آرام کریں ۔۔۔۔

اسکے بالوں میں نرمی سے انگلیاں سہلاتے دھیمے لہجے میں بولا ۔۔۔۔

ابیہا نے سکون محسوس کرتے دھیرے سے آنکھیں بند کی اور جلد ہی گہری نیند میں چلی گئی تھیں ۔۔۔۔

جبکہ اسے سکون سے سوتے دیکھ اسکی پیشانی کو محبت سے چومتے ہوئے ،،،،اپنے بجتے ہوئے فون دیکھتے اٹھا کر بنا آواز کیے کمرے سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *