Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 78)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 78)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
ہاسپٹل کے کوریڈور میں اپنے ضبط کو آزماتے ہوئے وہ اس وقت سر جھکائے کھڑا تھا ۔۔۔۔
اس کیلئے بہت مشکل ہو رہا تھا ،،،، اس انسان کو اپنے سامنے برداشت کرنا جو اسکے خاندان کی بربادی میں برابر کا شریک تھا ۔۔۔۔
لیکن مجبوری کے تحت اپنے لب سییے ہوئے نظریں ایمرجنسی روم کے دروازے پر ٹکا رکھی تھیں ۔۔۔۔
جس کے اندر اس کی زندگی ،،،، اسکی محبت اور اسکے وجود میں سانس لیتا اسکا خون انکے پیار کی نشانی موجود تھے ۔۔۔۔
کیونکہ اپنے اوپر کنٹرول کھوتے ایک غلطی وہ پہلے ہی کر چکا تھا ،،،، اب دوسری کی گنجائش نہیں بچتی تھی ورنہ دشمن الرٹ ہو جاتا ۔۔۔۔
زارون کے دھکا دینے پر زرمینے جا کر بیڈ کی پائنتی سے ٹکرائی تھی ،،،، جسکی نکڑ سیدھا اسکے پیٹ پر لگتے اسکی تکلیف کا باعث بنی ۔۔۔۔
ہاسپٹل میں اس وقت نجمہ بیگم کے ساتھ موسی شاہ بھی موجود تھے ۔۔۔۔جو اپنی بیٹی کی تکلیف پر تلملاتے ہوئے اسے ہی کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
کتنی کوشش کی تھی انہوں نے اس انسان سے اپنی بیٹی کی جان چھڑوانے کی خاطر ،،،، پر پتا نہیں یہ ہر بار کیسے بچ جاتا تھا ۔۔۔۔
جبکہ انکے برعکس نجمہ بیگم ہاتھوں میں تسبیح لیے وظائف پڑھتی ،،،، زرمینے کے ساتھ ساتھ ابیہا کی سلامتی کی بھی دعا کر رہی تھیں ۔۔۔۔
کیونکہ شروعات سے ہی انہوں نے کبھی ان بچوں میں فرق نہیں کیا تھا ۔۔۔۔جتنا پیار وہ زرمینے سے کرتی تھیں ،،،، اتنا ہی ابرش ابیہا اور باقی گھر کے سارے بچوں سے ۔۔۔۔
اس لیے اس وقت بھی انکی جان زرمینے سے زیادہ ابیہا میں اٹکی ہوئی تھی ۔۔۔۔کیونکہ زر کے پاس تو یہاں سب موجود تھے ،،،، وہ بن ماں باپ کی بچی ناجانے کس حالت میں اور کہاں موجود تھی ۔۔۔۔
وہ تینوں اپنی اپنی سوچوں میں غرق آنے والے وقت کے تانے بانے بن رہے تھے ۔۔۔جب ڈاکٹر ایمرجنسی روم سے باہر آئی تھی ۔۔۔۔
جسے دیکھتے موسی شاہ فورا آگے بڑھے تھے ۔۔۔۔ڈاکٹر کیسی ہے میری بیٹی ؟؟؟؟
انکے لہجے میں کیا کچھ نہیں تھا زرمینے کیلئے ،،،، پیار ،، محبت ،، فکر ،، جسے محسوس کرتے زارون نے نفرت سے سر جھٹکا ۔۔۔
جی آپکی بیٹی بالکل ٹھیک ہے لیکن ،،،،” وہ ایک پل کیلئے رکی ۔۔۔
لیکن کیا ڈاکٹر ؟؟؟ ڈاکٹر کے بات کرنے کے دوران رکنے پر زارون کا دل بری طرح دھڑکا تھا ،،، اس نے شدت سے اپنے اندیشے غلط ہونے کی رب سے دعا کی تھی ۔۔۔
ایم سوری ” ہم انکے بچے کو نہیں بچا پائے ۔۔۔۔ ڈاکٹر ہم مل سکتے ہیں ان سے ۔۔۔۔
نہیں ابھی تو نہیں وہ فلحال دواوں کے زیر اثر بیہوش ہیں ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ہم انہیں دوسرے روم میں شفٹ کر دیں گے ۔۔۔
پھر آپ لوگ مل لیجئے گا ۔۔۔
جس پر انہوں نے سر ہلایا تھا ۔۔۔
پروفشنل انداز میں کہتے ہوئے ڈاکٹر وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔
لیکن ساتھ میں زارون شاہ کی خوشیوں کی آخری وجہ بھی لے گئی تھی جیسے ،،،، اس نے کرب سے آنکھیں بند کر کے دوبارہ کھولیں ۔۔۔اور خالی خالی نگاہوں سے اپنے ہاتھوں کو دیکھا ۔۔۔۔
نجمہ بیگم نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ،،،، زارون نے اپنی لہو رنگ ہوئی نظریں اٹھائی ،،،،، جس پر انہوں نے اسکا درد محسوس کرتے ہوئے اسے ایک ماں کی طرح اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔
چھوٹی ماں میرا بچہ ” بےنام سی سرگوشی اسکے لبوں سے ادا ہوئی ۔۔۔۔
بس میری جان اللہ تعالٰی کو شاید یہی منظور تھا ۔۔۔۔اسکی تڑپ اور اپنی بیٹی کا درد محسوس کرتے آنسو تو انکی آنکھوں سے بھی متواتر بہہ رہے تھے ۔۔۔
لیکن پھر بھی اسے حوصلہ دیتے پیٹ تھپتھپائی تھی ۔۔۔۔
یہ سب انکے ہی اختیارات میں ہیں وہ جب چاہیں جسے چاہیں اپنی رحمت سے نواز دیں ۔۔۔۔انکے فیصلوں میں ہمیشہ کوئی نا کوئی مصلحت چھپی ہوتی ہے ۔۔۔۔
آج انہوں نے آپ سے یہ خوشی لی ہے تو اسکے پیچھے بھی کوئی نا کوئی وجہ ہوگی ۔۔۔۔
بس آپ انکی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا ۔۔۔۔
اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے پیار سے سمجھا رہی تھی ۔۔۔۔
جس پر اس نے سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
سنبھالیں خود کو ،،،، صبر سے کام لیں ،،،،
اور بیشک اللہ تعالٰی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں ۔۔۔
اگر آپ ہی ایسے ٹوٹ جائیں گے تو زر کا سہارا کون بنے گا ۔۔۔۔
ایک ماں کیلئے اپنی اولاد کو کھونا بالکل بھی آسان نہیں ہوتا میرے بچے ۔۔۔۔اسکا کلیجہ کئی ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے ۔۔۔۔
آخری بات کرتے انکی شفاف آنکھوں سے کئی آنسو ٹوٹ کر بکھرے ۔۔۔۔
دراصل اس وقت انہیں اپنا وقت یاد آ گیا تھا ،،،، جب زرمینے کے بعد اللہ تعالٰی نے انہیں ایک بار پھر اپنی نعمت سے نوازا تھا ۔۔۔۔
اور بالکل زر کی ہی طرح انہوں نے وہ خوشی کھو دی تھی ۔۔۔۔اور اسکے بعد وہ دوبارہ کبھی ماں نہیں بن پائی ۔۔۔۔
انہیں پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھ زارون نے انکے آنسو صاف کرتے ہوئے انہیں اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف انکے میلو ڈرامے کو ( موسی شاہ کے بقول ) دیکھتے انہوں نے نحوست سے سر جھٹکا تھا ۔۔۔۔
انہیں تو کوئی غم نہیں تھا ،،، اس حادثے کا بلکہ الٹا وہ تو خوش ہو رہے تھے ۔۔۔کہ چلو اس مصیبت سے بھی جان چھوٹی ۔۔۔۔
کیونکہ مستقبل کو لے کر جو کچھ وہ سوچ کر بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔یہ بچہ ان سب میں فضول کی رکاوٹ ہی بنتا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°
حیدر شاہ کی اچانک طبیعت خرابی کو وجہ بتاتے ارمغان شاہ نے سب مہمانوں سے معذرت کرتے ہوئے زر زارون کا ولیمہ فلحال پاسپون کر دیا تھا ۔۔۔
ایک طرف یہ لوگ یہاں ابیہا کی گمشدگی اور ساتھ میں واسم کا کچھ اتا پتا نا ہونے کی وجہ سے پریشان تھے ۔۔۔۔
وہی زرمینے کی طرف سے ملنے والی خبر نے انہیں مزید توڑا تھا ۔۔۔۔
صبح کے تقریبا دس بجے کے قریب ضارب شاہ نے حویلی میں قدم رکھے تھے ۔۔۔۔
کیونکہ انہیں جو صورتحال پیش آئی تھی ،،،، اور موسی شاہ کے بارے میں ملنے والی خبر میں کس حد تک سچائی تھی ۔۔۔۔ان سب کا پتا کروانے میں بہت وقت لگ گیا تھا ۔۔۔۔
لیکن اپنے سگے رشتوں کا ایسا گھناونا روپ دیکھ زارون شاہ کے ساتھ ضارب شاہ بھی اندر سے ایک بار پھر ٹوٹ گیا ۔۔۔۔
لیکن مکمل سچائی انہیں ابھی بھی پتا نہیں چل سکی تھی ۔۔۔۔صرف اس حد تک کہ روباب کو شاہ حویلی سے اٹھا کر کڈنیپرز تک انہوں نے ہی پہنچایا تھا ۔۔۔۔
اور مان حجاب کے قتل میں بھی ملوث تھے لیکن کس حد یہ ابھی معلوم نہیں ہو سکا ۔۔۔۔
اور اس کے علاوہ انکے ملک دشمن عناصر کے ساتھ بھی تعلقات تھے ۔۔۔۔
کل رات عین رخصتی کے وقت زارون شاہ کو جو کال آئی تھی ۔۔۔۔وہ اسی کی ایک کڑی تھی ۔۔۔۔
آخر کار ضارب شاہ اور اسکی برسوں کی محنت رنگ لائی تھی ۔۔۔۔وہ جو اپنے خاندان کے دشمن کو ڈھونڈنے میں لگے تھے ۔۔۔جس نے انکے ہنستے بستے گھرانے کو اجاڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔
اسکا سرا ہاتھ آ گیا تھا ۔۔۔۔روباب کو کڈنیپ کرنے والے گروہ کے سربراہ کا پتا چل گیا تھا ۔۔۔۔
اور وہ بنا وقت ضائع کیے اپنی ماں کے مجرم تک پہنچنے کیلئے اپنی خوشیوں کو درمیان میں ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
جس کے پیچھے ضارب شاہ نے حفاظت کیلئے گارڈز بھیجے تھے ۔۔۔
تقریبا آدھے راستے میں پہنچتے ہی نامعلوم افراد نے اسکی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ سٹارٹ کر دی تھی ۔۔۔۔
جس پر لاکھ احتیاط اور مقابلے کے باوجود بھی دو گولیاں اسکے وجود میں پیوست ہو گئی تھیں ۔۔۔۔
گارڈز نے اسے بروقت مخصوص ٹھکانے پر پہنچاتے فورا طبی امداد فراہم کی تھی ۔۔۔۔
اور کچھ زارون شاہ کی قسمت بھی اچھی تھی کہ کمر میں لگنے والی گولی اسکے بالکل ایک سائڈ صرف چھو کر گزری تھی ۔۔۔جس سے کافی حد تک اسکی بچت ہو گئی ۔۔۔۔
اور ساتھ میں انہوں نے ضارب کو فون کر کے اس حملے کے بارے میں آگاہ کیا تھا ۔۔۔۔
باقی کے معاملات اس نے ہی آ کر سنبھالے تھے ۔۔۔۔
جبکہ اسکی طبیعت سنبھلتے ہی ضارب نے اسے گھر بھیجنا چاہا ،،،، لیکن وہ ضد پر اڑ گیا تھا کہ جب تک وہ جس کام کیلئے آیا تھا ،،،،وہ مکمل نہیں کرتا گھر نہیں جائے گا ۔۔۔
ضارب کے غصے کا بھی اس پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔
اس لیے مجبوری میں جو معلومات اسے اپنے آدمیوں سے ملی تھیں اسے بتانی پڑی ۔۔۔۔
جسے سن کر پہلے تو اس نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا ،،،، آخر اس حقیقت پر یقین کر پانا اتنا آسان بھی تو نہیں تھا ۔۔۔جبکہ انکے ساتھ دوسرا آدمی جو شامل تھا ،،،، جس کے کہنے پر یہ سب ہوا تھا اسکی کھوج ابھی جاری تھی ۔۔۔۔
موسی شاہ کی حقیقت جاننے کے بعد اسکی آنکھوں میں اترتا قہر ضارب سے پوشیدہ نہیں تھا ۔۔۔۔اسے یکدم ہی زر کی ٹینشن ہوئی تھی۔۔۔۔
بھلے جو کچھ بھی تھا ان سب میں اسکا کوئی قصور نہیں تھا ۔۔۔۔جس کے بارے میں ضارب نے اسے سمجھانا بھی چاہا لیکن وہ اسکی بات سنی ان سنی کر کے چلا آیا تھا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°
ضارب کو اندر آتے دیکھ لاؤنج میں پریشان حال بیٹھی ابرش دوڑ کر اسکے سینے کا حصہ بنی اور زار و قطار رونا شروع ہو گئی ۔۔۔۔
جبکہ وہ جو پہلے ہی اس ساری صورتحال سے پریشان تھا ،،،، اس کے ایسے رونے سے اسکی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔
باربی ” کیا ہوا ؟؟ ایسے کیوں رو رہی ہیں ؟؟؟
اسے خود سے الگ کرتے ہوئے بہت نرمی سے بولا تھا ۔۔۔۔
سائیں “
ہچکیوں کے درمیان ابرش کے لبوں سے صرف یہ ایک ہی لفظ نکلا تھا ۔۔۔۔
حکم سائیں کی جان ،،،، کیوں ایسے رو کر خود پر ظلم کرتے ہوئے اپنے سائیں کو تکلیف دے رہی ہیں ۔۔۔۔
آپکو پتا ہے نا ہم آپکی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کر سکتے ۔۔۔۔
اسکے بہتے ہوئے آنسو ہونٹوں سے چنتے بہت محبت سے گویا ہوا تھا ۔۔۔۔
ضارب کے یوں کھلے عام محبت کے مظاہروں پر وہ کچھ جھجھکی تھی ۔۔۔
اور ساتھ ہی ایک چور نظر آس پاس دوڑائی ،،،، لیکن شکر تھا فلحال لاؤنج میں کوئی موجود نہیں تھا ۔۔۔
سائیں وہ “
وہ اسے ابیہا کے بارے میں بتانا چاہتی تھی لیکن وہ اسکے لبوں پر انگلی رکھتے اسے مزید بولنے سے روکتا ،،،، گود میں اٹھا کر اوپر کمرے کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔
سائیں میری بات تو سن لیں ۔۔۔۔ابرش فلحال ہم بہت تھک گئے ہیں ۔۔۔۔کچھ دیر سکون چاہتے پلیز ۔۔۔۔
اسکے گلابی ہونٹوں کو نرمی سے چھوتے درخواست کی ۔۔۔۔
سائیں ابیہا نہیں مل رہی کل رات سے ۔۔۔” اس کی بات پر ضارب کے سیڑھیوں پر چڑتے قدم تھمے تھے ۔۔۔۔
اس نے ناسمجھی سے دیکھا ۔۔۔۔
کیا مطلب نہیں مل رہی ؟؟؟؟ اسے آرام سے نیچے اتارتے سوال کیا ۔۔۔۔
پتا نہیں شاید انہیں کسی نے کڈنیپ کر لیا ہے ۔۔۔۔واسم لالا رات سے ہی انہیں ڈھونڈنے نکلے ہیں ۔۔۔۔انکا بھی کچھ پتا نہیں چل رہا ۔۔۔۔وہ فون نہیں اٹھا رہے ۔۔۔بابا سائیں انہیں ہی دیکھنے گئے ہیں ۔۔۔۔اور ۔۔۔
نم لہجے کے ساتھ بولتی وہ رکی تھی ۔۔۔
اور ؟؟؟
ضارب جو ابیہا کے بارے میں سن کر پریشان ہو گیا تھا ،،،، ابرش کے بات کرتے کرتے اچانک رک جانے پر سوالیہ دیکھنے لگا ۔۔۔۔
اور پتا نہیں لیکن کیسے رات زرمینے کی طبیعت خراب ہو گئی ۔۔۔زارون لالا اسے ہاسپٹل لے کر گئے تھے ۔۔۔۔ چھوٹی ماں اور ماموں جان بھی انکے ساتھ ہی ہیں اور ابھی کچھ دیر پہلے انکا فون آیا کہ زرمینے ٹھیک ہے ،،،، لیکن ۔۔۔۔
بات کرتے کرتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہو گئی ۔۔۔۔
لیکن کیا ؟؟؟؟
لیکن اسکا بچہ نہیں بچا ،،،، ہچکیوں کے درمیان کہتی اسکے سینے سے لگی تھی ۔۔۔۔
ضارب نے کرب سے آنکھیں بند کر کے کھولیں ،،،، اور پھر ابرش کو روتے دیکھ اسکے گرد اپنا حصار بنایا ۔۔۔۔
میرے دونوں بھائی اس وقت بہت تکلیف میں ہیں ۔۔۔۔ابیہا کی گمشدگی کا پتا چلتے لالا کی بہت بری حالت ہو گئی تھی اور انہوں نے غصے میں آ کر سیکیورٹی اہلکار کو بہت بری طرح مارا ،،،، وہ بھی اس وقت ہاسپٹل میں داخل ہے ۔۔۔۔
اسکے سینے سے لگے لگے ہی اسے ساری بات بتائی تھی ۔۔۔۔
پلیز سائیں بیا کو واپس لے آئیں ،،،، رات سے صبح ہو گئی پتا نہیں وہ کس حال میں ہونگی ۔۔۔۔
بھیگے نینوں کے ساتھ اسے امید بھری نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔
ضارب نے مسکراتے ان نینوں پر پیار کیا ۔۔۔آپکو ہم پر یقین ہے نا ؟؟؟؟ نرمی سے سوال کیا ۔۔۔
جس پر ضارب مسکرایا ۔۔۔۔
تو پھر اس بات پر بھی یقین رکھے کے ہم ابیہا کو کچھ نہیں ہونے دیں گے ۔۔۔۔بہت جلد وہ سہی سلامت ہم سب کے درمیان موجود ہونگی ۔۔۔۔
آپ بس دعا کریں ۔۔۔اور ٹینشن بالکل نہیں لینی ۔۔۔پتا ہے نا یہ ہمارے بےبی کیلئے بالکل بھی ٹھیک نہیں ۔۔۔۔ہممم
جس پر اس نے نم آنکھوں کے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔۔
آپ گھر میں سب کا دھیان رکھیں ،،،، ہمارا آپ سے وعدہ ہے ،،،،ہم بہت جلد سب ٹھیک کر دیں گے ۔۔۔۔
پیار سے سمجھاتے ہوئے انہی قدموں واپسی کیلئے نکلا تھا ۔۔۔۔
سائیں آپ فریش تو ہو لیتے ۔۔۔۔اسے انہی کپڑوں میں واپس جاتے دیکھ ابرش نے روکنا چاہا ۔۔۔۔
نہیں ابھی ان سب کا وقت نہیں ہے ۔۔۔ہمارے پاس ہمیں جلد از جلد ابیہا کا پتا لگانا ہے ۔۔۔۔اور شاید ہمیں پتا ہے کہ وہ کس کے پاس ہوگی ۔۔۔۔
پہلی بات اسے کہتے جبکہ آخری زیر لب بڑبڑاتے ہوئے وہ تیز قدموں سے باہر کی جانب بڑھا ۔۔۔۔
جبکہ پیچھے ابرش نے اسکی حفاظت کیلئے آیت الکرسی پڑھ کر پھونکی اور ساتھ اسکے کامیاب لوٹ آنے کی دعا کی تھی ۔۔۔۔
