Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 36)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 36)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس کشادہ پیشانی پر اپنے سنہری بال سٹائل سے سیٹ کیے واسم شاہ نے ہاسپٹل کے اندر قدم رکھے تھے ۔۔۔۔۔
جس کا پتا اس کا پی اے فون پر بتا چکا تھا ۔۔۔۔۔
آتے ہوئے راستے میں وہ مال سے کپڑے چینج کر آیا تھا کیونکہ اسکے پی اے نے جو خبر اسے فون پر سنائی تھی ۔۔۔۔
اسکے شادی والے کپڑے اس کیلئے بالکل بھی سوٹیبل نہیں تھے ۔۔۔۔
اس نے ریسیپشن پر آ کر وہاں بیٹھی لڑکی سے شبنم بیگم کے وارڈ کے بارے پوچھا تھا ۔۔۔۔۔
جس نے پہلے تو اتنے ہنڈسم بندے کو منہ کھول کر سر سے لے کر پاؤں تک دیکھا تھا ۔۔۔۔
جس پر اس نے ناگواری سے بل اپنی پیشانی پر سجاتے اسکی آنکھوں کے سامنے چھٹکی بجائی ۔۔۔۔۔
جس سے وہ خجل ہوتی فورا اپنی نگاہیں جھکا کر ابھی چیک کر کے اسے بتاتی جب پیچھے سے اس کے پی اے نے اسے مخاطب کیا تھا ۔۔۔۔
سر اس طرف آئیں ۔۔۔۔
جس پر وہ سر ہلاتا اسکے پیچھے بڑھ گیا ۔۔۔۔
اس نے جیسے ہی کوریڈور میں اپنا پہلا قدم رکھا آئی سی یو کے باہر بیٹھی معروف جو پھوٹ پھوٹ کر رونے میں مصروف تھی ۔۔۔۔
اسے آتا دیکھ بھاگ کر اسکے کشادہ سینے کا حصہ بنی اور تڑپ تڑپ کر رونے لگی ۔۔۔۔۔
جبکہ راستے سے آتے جاتے لوگ انہیں اس طرح گلے لگے اور لڑکی کو روتے دیکھ کر کچھ ترس اور تشویش بھری نظروں سے رک رک کر دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔
جس کا احساس واسم شاہ کو بھی ہو گیا تھا اس لیے اس نے معروف کو خود سے الگ کرنا چاہا لیکن وہ اسکے ارادوں کو سمجھتی اسکی پشت پر اپنی پکڑ کچھ مظبوط کر گئی ۔۔۔۔۔
سر ،،،،، سر ،،،، میری ماما ،،،،، وہ اب اس دنیا ،،،،، میں نہیں رہی ،،،،، میرا تو انکے سوا ،،،،، کوئی ہے بھی نہیں ،،،، میں کہاں جاؤں گی ۔۔۔۔۔
وہ اسکے سینے سے چہرہ نکال روتے ہوئے اٹک اٹک کر بولتی ایک بار تڑپ کر روتے اسکے سینے سے لگ گئی تھی ۔۔۔۔
جس کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا اسے اور نا ہی تسلی کہ دو بول کہے بس خاموشی سے اسے رونے دیا تھا ۔۔۔۔
شاید وہ اسکے اندر کا تمام غبار نکل جانے دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔
اے توبہ توبہ ” کیا زمانہ آگیا ہے ابھی اس کی ماں کو مرے ایک گھنٹہ بھی نہیں ہوا یہ غیر مردوں کے گلے کا ہار بنی کھڑی ہے ۔۔۔۔
ضرور اسکی انہی کرتوتوں کا صدمہ لیا ہے شبنم نے جو اتنی جلدی اس دنیا سے رخصت ہو گئی ۔۔۔۔
ورنہ میں کل شام میں ہی تو اس سے مل کر گئی تھی ،،،،، اچھی بھلی بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔
معروف کو واسم کے گلے لگے دیکھ محلے سے آئی عورت نے اونچی آواز میں کہتے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا ۔۔۔۔
جس سے جو لوگ معروف کو ہمدردی کی نظر سے دیکھ رہے تھے اب نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھنے لگے تھے ۔۔۔۔
جبکہ اس عورت کی اگلی بات سنتے ہوئے واسم کی کشادہ پیشانی پر بل پڑے تھے اور وہ دھاڑ اٹھا تھا ۔۔۔۔۔
پتا نہیں اور کتنوں کے ساتھ اسکا یارانہ چل رہا ،،،،، شٹ اپ جسٹ شپ اپ ،،،،،
خبردار اگر ایک اور لفظ اپنی اس گندی زبان سے نکالا تو ورنہ ،،،،، وہ اپنی بلو آئز اس عورت کے چہرے پر ٹکاتے وارننگ دینے والے انداز میں بولا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اسکی دھاڑ کو سنتے معروف اس سے الگ ہو کر تھر تھر کانپتی روتے ہوئے زمین پر گر گئی تھی ۔۔۔۔۔
اور پھوٹ پھوٹ کر روتی نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔۔
ورنہ ورنہ کیا کرلو گے میاں ہاں ،،،،، آخر میں پوچھتی ہوں تمہارا رشتہ کیا ہے اس سے جو بھرے بازار میں اسے اپنے گلے کا ہار بنائے کھڑے ہو ہاں ،،،،،
وہ عورت اسکی دھاڑ کو سنتے چپ ہونے یا ڈرنے کی بجائے اپنے دونوں بازو اوپر چڑھاتی پہلے سے زیادہ چیختی ہوئی بولی تھی ۔۔۔۔
میرا ان سے جو بھی رشتہ ہے وہ مجھے کم از کم آپ جیسی عورت کو بتانے کی ضرورت نہیں جو کسی کے مشکل وقت میں اسکا ساتھ دینے کی بجائے اس پر جھوٹی تہمتیں لگانا شروع کر دیں ۔۔۔۔
اس لیے اپنے کام سے کام رکھیں ۔۔۔۔
اس عورت کی بات کے جواب میں درشتگی سے کہتا اپنے پی اے کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔
جو باقی کے تمام کاروائیاں مکمل کرتا ڈیڈ باڈی کو گھر لیجانے کے انتظامات بھی مکمل کر آیا تھا ۔۔۔۔۔
جسے وہ سر ہلا سنتا معروف کو زمین سے اٹھا کر اپنے ساتھ لیتا باہر کی طرف بڑھا تھا جہاں ایمبولینس میں اسکی ماں کی لاش کو ٹرانسفر کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ پیچھے سے وہ عورت ان دونوں کو کوستی ہوئی ،،،،، خود بھی باہر کی طرف بڑھی تھی ،،،،، اور ساتھ ساتھ ذہن میں انہیں محلے میں بدنام کرنے کا مکمل منصوبہ بھی بنا چکی تھی ۔۔۔۔۔
کیونکہ واسم شاہ نے جیسے سب کے سامنے اسکی بیعزتی کی تھی اتنی آسانی سے تو وہ اسے معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب اپنے کمرے میں داخل ہوا تو پھولوں کی خوبصورت مہک کے ساتھ وہاں موجود ایک نازک اور مومی وجود نے اسکی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی تھی ۔۔۔۔۔
اس کے جہازی سائز گلاب اور موتیوں کے پھولوں سے سجے بیڈ پر وہ گلابی بھاری لہنگے میں براجمان خود بھی کوئی نازک سا گلاب لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
جو اب بھی گھونگھٹ کی آڑ میں اپنا چہرہ چھپائے بیڈ کراون کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی شاید اسکا انتظار کرتی کرتی سو گئی تھی ۔۔۔۔
جسے محسوس کر کے ضارب نے ایک گہرا سانس کھینچا تھا پھر اسے بنا ڈسٹرب کیے واشروم کی طرف بڑھ گیا تاکہ فریش ہو کے اپنی تھکاوٹ اتار سکے ۔۔۔۔۔
جبکہ کمرے میں اسکی موجودگی کو محسوس کرتے ابرش جو ابھی کچی نیند میں تھی اس کی آنکھ کھل چکی تھی ۔۔۔۔
اور وہ سیدھا ہو کر بیٹھتے اس کی واپسی کا انتظار کرنے لگی ،،،،،، حالانکہ آنے والے لمحات کا سوچتے اسکا نازک سا دل بری طرح دھڑک رہا تھا ،،،،،، اور کچھ اسکی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ اپنی طرف سے کوئی کوتاہی برت کر ضارب شاہ کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
اس لیے اپنے ڈر کو دل میں ہی دباتی ،،،،، اپنی بڑھتی ہوئی دھڑکنوں کا شور سنتی ،،،،، آس پاس کمرے میں ایک طائرانہ نگاہ دوڑا کر اپنے ڈر کو کم کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔
بیشک ضارب شاہ کا یہ کمرہ بہت خوبصورت تھا ،،،،،، بلیک اور گرے کمبینیشن کے رنگوں سے سجا یہ کمرہ حویلی کے باقی سبھی کمروں سے تین سے چار گنا بڑا تھا ۔۔۔۔۔
جسکے بالکل وسط میں ایک جہازی سائز بیڈ رکھا تھا ،،،،،، اور اسکے بالکل سامنے فل سائز کی ایل سی ڈی لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
ایک طرف ڈریسنگ روم تھا جسے مرر وال لگا کر اس کمرے سے الگ کیا گیا تھا لیکن شیشے کے آر پار کا منظر اتنا واضح تھا کہ وہ کہیں سے بھی اس سے الگ معلوم نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔۔
حتی کہ واشروم کا دروازہ بھی مرر کا تھا لیکن یہاں فرق صرف اتنا تھا کہ اسکے اندر کھڑا انسان تو باہر ہوتی کاروائی کو مکمل طور پر دیکھ سکتا تھا لیکن باہر سے یہ ایک آئینے کا کام انجام دیتا تھا ۔۔۔۔۔
بیڈ کے بالکل سرہانے ضارب شاہ کی ایک لارج سائز فوٹو لگی تھی جس میں وہ اپنا فیورٹ مشغلہ بہت خوبصورتی کے ساتھ انجام دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
جس نے اس تصویر کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر دیا تھا ۔۔۔۔۔
اور بیڈ کے بالکل اوپر خوبصورت روشنیاں بکھیرتا قیمتی فانوس ضارب شاہ کے اعلی ذوق و شوق کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔۔۔۔۔
ایک طرف اسی کمرے سے منسلک سٹڈی روم تھا جبکہ بائیں طرف بالکنی کا دروازہ تھا جس کے آگے فلحال پردے گرے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
اس کمرے کی بلیک رنگ کی دیواریں جنہیں آج مکمل طور پر کلیوں سے سجاتے وائٹ کر دیا تھا ،،،،،، اور ان سے نکلتی مہسور کن خوشبو کمرے کے ماحول کو مزید فزوں خیز بنا رہی تھی ۔۔۔۔۔
شاہ حویلی کی تیسری منزل پر بنا یہ خوبصورت پورشن مکمل طور پر ضارب شاہ کی ملکیت تھا ،،،،، جسے صرف اس کے حویلی میں آنے پر کھولا جاتا تھا ۔۔۔۔۔
اس کی صاف ستھرائی کا سارا ذمہ خان خود سنبھالتا تھا کیونکہ حویلی کے باقی ملازمین کو جہاں آنے کی اجازت بالکل نہیں تھی ۔۔۔۔۔
ابیہا بھی صرف ضارب شاہ کی موجودگی میں ہی ادھر کا رخ کرتی تھی ،،،،، اس کے علاوہ باقی گھر کے افراد سے وہ نیچے خود ہی مل لیتا تھا ۔۔۔۔۔
ابرش کی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا جب وہ اپنے مکمل ہوش و حواس میں اس جگہ پر موجود تھی ،،،،، بچپن کا تو اسے اپنا کچھ خاص طریقے سے یاد نہیں لیکن جب سے اسکے سامنے ضارب شاہ کی حقیقت کھلی تھی اس نے بھول کر بھی کبھی اس طرف اپنے قدم نہیں اٹھائے تھے ۔۔۔۔۔
اور آج زندگی نے کیسا کھیل کھیلا تھا کہ جس انسان کے وہ سائے بھی ڈرتی تھی آج پور پور سجی اسکی سیج سجائے دل و جان سے اسکا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
اسکی آنکھیں چہرے پر گھونگھٹ ہونے کے باوجود بھی جھکی تھیں جبکہ ہونٹوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ کا راج تھا ۔۔۔۔۔
جب وہ فریش فریش سا ایزی کپڑوں میں ٹاول سے بال رگڑتا ہوا باہر آیا تھا ،،،،، اور اسے جاگتے اور اپنا انتظار کرتے دیکھ نرمی سے مسکرایا ۔۔۔۔
پھر ٹاول کو نفاست سے ایک جگہ پر رکھتا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کر بالوں کو برش سے سیٹ کرتے ہوئے اس سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔۔
ابرش میرے خیال سے رات بہت ہوگئی ہے اور اتنے بھاری کپڑوں میں یقینا آپ بھی تھک گئی ہو گئی ،،،، سو فریش ہو کر کپڑے چینج کر لیں ،،،،،، وہ شیشے سے نظر آتے اسکے عکس کو دیکھتے نرمی سے بولا تھا ۔۔۔۔
جس پر ابرش نے حیرت سے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا تھا کیونکہ اس وقت وہ اس سے یہ اسپکٹ نہیں کر رہی تھی ،،،،،، لیکن پھر آئینے میں نظر آتے اسکے وجیہہ چہرے کو دیکھتے سر ہلا کر اٹھ گئی ۔۔۔۔
جس پر وہ مسکراتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل سے اپنی لائٹر اور سگریٹ کا پیکٹ اٹھا کر بالکنی کا دروازہ کھول ٹیرس کی طرف بڑھ گیا تاکہ کھلی فضاء میں اپنا مشغلہ انجام دے سکے ۔۔۔۔۔
اور کچھ وہ ابرش کو پرائیویسی بھی فراہم کرنا چاہتا تھا جس سے وہ ایزی رہ کر کپڑے وغیرہ چینج کر لیتی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کافی دیر اپنے دل کو سگریٹ کے دھوئیں سے جلانے اور واسم کے آج کے دن کیے جانے عجیب و غریب رویے کے بارے سوچنے کے بعد جب وہ بالکنی کا دروازہ دھکیلتا دوبارہ کمرے میں داخل ہوا تھا تو ابرش اسے اسی حلیے میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے پریشان سی کھڑی نظر آئی ۔۔۔۔۔
جسے دیکھتے وہ کافی حیران ہوا تھا ۔۔۔۔۔
لیکن پھر سر جھٹکتا نپے تلے قدم لیتا بالکل اسکے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا تھا جس سے وہ کافی شرمندہ ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
ابھی تک اس نے صرف اپنے ہاتھوں سے سونے اور ڈائمنڈز کی چوریاں نکالی تھی یا پھر گلے سے بس ایک ہار باقی سب کچھ ویسے ہی پہنا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
کیونکہ اسکی دائیں بازو کی کہنی میں بہت زیادہ پین ہو رہا جس کی وجہ سے وہ اوپر اٹھ کر ہی نہیں دے رہی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے دوپٹے سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔۔۔
جس میں ڈھیر ساری پنز لگی ہوئی تھی اور نا ہی نیچے سے کسی کو اپنی مدد کیلئے بلا سکتی تھی ۔۔۔۔۔اور نا ہی ضارب سے کچھ کہہ سکتی تھی اس لیے شش و پنج کا شکار آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے انگلیاں چٹخا رہی تھی ۔۔۔۔
اور ساتھ ساتھ رونے کا مشغلہ بھی جاری تھا ۔۔۔۔۔
کیا ہوا باربی آپ ایسے کیوں رو رہی ہیں ؟؟؟؟؟ آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟؟؟؟؟ جبکہ اسکو یوں روتے ہوئے دیکھ کر ضارب بہت احتیاط سے اسکا رخ اپنی طرف پلٹتے نرمی اور پیار سے گویا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
اور ساتھ ساتھ بہت محبت سے اسکے بہتے آنسو اپنے پوروں سے صاف کیے تھے ۔۔۔۔۔
وہ ،،،،، وہ میرے ،،،،، دائیں بازو میں بہت پین ،،،،، ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ،،،،، مجھ سے یہ دوپٹہ نہیں اتر رہا ۔۔۔۔۔
اس کے پیار سے پوچھنے پر وہ روتی ہوئی اٹکتی معصومیت سے بولی جس پر ضارب زیر لب نرمی سے مسکرایا تھا ۔۔۔۔
تو اس میں رونے والی کونسی بات ہے آپ ہم سے بول دیتی ہم آپکی ہیلپ کر دیتے ،،،،، پاگل لڑکی
چلیں بیٹھے ہم ہیلپ کر دیتے ہیں اور آپکے بازو میں پین ہے آپ نے ہمیں بتایا نہیں اتنی دیر سے اتنا ہیوی جوڑا پہن کر بیٹھی ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔
وہ اسے نرمی وہاں رکھی چیئر پر بیٹھاتا ڈانٹتا ہوا بولا اور ساتھ ہی نرمی سے اسکے دوپٹے میں لگی پنز کو نکالنے لگا ،،،،، اسکے آخری پن نکالتے ہی دوپٹہ اسکے ریشمی بالوں سے پھسلتا زمین بوس ہو گیا ،،،،، جس کی وجہ سے ابرش کا رعنائیاں بکھیرتا خوبصورت وجود بنا کسی حجاب کے بالکل اسکے سامنے تھا ۔۔۔۔
جس سے ضارب کی ایک ہارٹ بیٹ مس ہوئی اور بمشکل اس کے حسن سے نظریں چراتا اس کے کانوں میں آویزوں کو نکالنے لگا ،،،،،، اور پھر کان سرخ ہوئی لوں دھیرے سے سہلاتا نرمی سے اس پر اپنا دہکتا لمس چھوڑ گیا ۔۔۔۔
جس پر ابرش جی جان لرزی تھی ۔۔۔۔۔جبکہ اس کے ری ایکشن پر ضارب نے اپنا لب دبایا تھا ۔۔۔۔۔اسکے کانوں کو آویزے نکالنے کے بعد اسکے گلے سے باقی رانی ہار نکالتے وہاں بھی اپنا عمل دوہرایا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر ابرش کسمساتے ہوئے سختی سے اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی ،،،،، اور پھر اسکا رخ اپنی طرف پلٹتے ہوئے نظریں اسکی ستواں ناک میں پہنی نت پر ٹکائی تھیں ۔۔۔۔۔
جس کے ساتھ لٹکتے دو خوبصورت موتی اسکے خوبصورت گلاب کی پتیوں جیسے پنک لپ اسٹک سے سجے ہونٹوں کو شریر پن سے چھو رہے تھے ۔۔۔۔۔
جسے دیکھتے ضارب کو اپنے اندر جذبات کا طوفان اٹھتا محسوس ہوا جس کی رو میں بہہ کر وہ ان موتیوں کو اپنے ہونٹوں سے چھو گیا ۔۔۔۔۔
جس پر تڑپ کر ابرش نے اس سے دوری بنانی چاہی لیکن وہ اسکے گرد اپنا حصار تنگ کرتا اسکی کوشش کو ناکام بنا گیا ۔۔۔۔۔
آخر اپنی مرضی سے خود اس سے دور ہوتا دھیرے سے اسکی نازک ناک کو اس نتھلی کی قید سے آزاد کراتا اسے لبوں چھوتا پیچھے ہٹا ۔۔۔۔۔
اور اسکے جوڑے میں مقید بالوں کو دیکھتے ان میں لگی پنز کو نکال گیا جس سے وہ لہرا کر ابرش کی کمر پر گرتے اسے مکمل طور پر چھپا گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
جن میں جھک کر گہرا سانس کھینچتے اس نے گھمبیر سرگوشی کی تھی ۔۔۔۔۔
اب کپڑے خود چینج کریں گی یا پھر اس میں بھی ہمارے ہیلپ چاہیے ،،،،،، ابرش جو اسکی شریر حرکتوں کو محسوس کرتے اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی ۔۔۔۔۔
اسکی سرگوشی پر انہیں پھٹ سے کھولتی اپنی پہلے سے بڑی بڑی اوشن بلیو آئز کو اور بڑی کرتی حیرانی سے اسکی طرف دیکھتے لگی ۔۔۔۔۔
جبکہ چہرہ مکمل طور پر خون چھلکانے لگا تھا ۔۔۔۔
اور ایسی حالت میں وہ اتنی پیاری لگی ضارب کو وہ آگے بڑھ کر اسکی آنکھوں کو باری باری نرمی سے چھوتے اسکے ہونٹوں کو بھی پیار سے چوم گیا ۔۔۔۔۔
جس پر وہ خجل سی ہوتی اسکے آزادی بخشنے پر سرخ چہرے کے ساتھ ڈریسنگ روم سے کپڑے لیتی واشروم کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔
جس پر وہ نفی میں سر ہلاتا اس کے زخموں پر لگانے کیلئے وارڈ روب سے کوئی آئٹمنٹ ڈھونڈنے لگا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے کپڑے تبدیل کر کے آنے تک وہ کمرے کی مین لائٹ کو بجھا کر کمرے میں مکمل طور پر اندھیرہ پھیلا چکا تھا ،،،،، بس بیڈ کی ایک طرف موجود سائڈ ٹیبل پر ایک چھوٹا سا لیمپ روشن تھا ،،،،، جس کی روشنی بالکل نا ہونے کے برابر تھی ۔۔۔۔۔
جبکہ اتنے اندھیرے کو دیکھتے ہوئے ابرش بےساختہ ہی گھبرا کر اسے پکار گئی تھی ۔۔۔۔۔
ہم ادھر ہی باربی آپکو ڈرنے کی ضرورت نہیں ،،،،، ابرش کو یہ سرگوشی اور ضارب کی خوشبو بہت قریب سے محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
جس پر وہ پلٹ کر اسے دیکھتی اس سے پہلے ہی وہ اسے اپنے حصار میں گود میں اٹھا چکا تھا ۔۔۔۔۔ جس پر ابرش نے ڈرتے بمشکل خود کو چیخنے سے روکا تھا ۔۔۔۔۔
لیکن ضارب نے اسکی بات کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا تھا وہ اسے یونہی گود میں اٹھائے نرمی سے بیڈ پر اتارتا اسکی طرف کا بھی سائڈ لیمپ روشن کرتا نیم اندھیرے میں اس کے زخموں کا معائنہ کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔
اسکے بازو کو کہنی سے فولڈ کرتے ہوئے وہاں آئے زخم کو لب بھینچ کر دیکھتا کریم لگانے کے بعد نرمی سے ہونٹوں سے چھو گیا ۔۔۔۔۔
جس پر سکون محسوس کرتے ابرش نے اپنی آنکھیں بند کی تھی ۔۔۔۔۔
پھر ایسے ہی گردن پر آئی خراشوں پر مرہم لگاتا وہاں اپنے نرم لمس سے سلگاتے ہوئے اسکا رخ پلٹ گیا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر ابرش حیران تو ہوئی لیکن کچھ کہاں نہیں اس نے بہت آرام سے کمر سے اسکی زیپ کو کھولتے ہوئے اسے نیچے کی کھسکایا تھا جس پر ابرش کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے ،،،،، اور اس نے تڑپ کر پلٹنا چاہا جب ضارب نے ڈپٹتے ایسا کرنے سے روکا تھا ۔۔۔۔۔
جس سے وہ شرم سے دوہری ہوتی تکیے میں اپنا سرخ ہوا چہرہ چھپا گئی ۔۔۔۔۔
اسکی کمر پر آئی چوٹ کا اچھے سے معائنہ کرنے کے بعد وہاں مرہم لگاتے ضارب نے اسے ہونٹوں سے چھوا تھا ۔۔۔۔۔
لگتا ہے ہماری چھوٹی سی بیوی کو پنک رنگ سے کچھ زیادہ ہی محبت ہے جو ہر چیز پنک کلر ،،،،، اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتا ابرش نے بےساختہ پلٹتے ہوئے اسکے ہونٹوں پر اپنا نازک ہاتھ تھا ۔۔۔۔۔۔
جسے نرمی سے چھوتے ہوئے ضارب نے قہقہہ لگایا ،،،،،، اور پھر اسکے سرخ ہوئے چہرے کو دیکھتا اسکی گردن میں جھکتے ہوئے وہاں نرمی سے اپنے چاہت کے پھول بکھیرنے لگا ۔۔۔۔۔
جس پر ابرش بھی اپنی آنکھیں بند کرتی اس نرم لمس کو محسوس کرنے لگی تھی ،،،،،،، جب ضارب شاہ نے اسکے کندھے سے شرٹ کو کھسکاتے ہوئے وہاں اپنے بھیگے لب رکھے تھے ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی بڑھتی جسارتوں کو محسوس کرتے اس نے مزاحمت کرنی چاہی لیکن وہ نرمی اس کے ہاتھ کو تھامتے ہوئے بیڈ کراون سے لگاتا اسے مکمل طور پر بےبس کر گیا ۔۔۔۔۔۔
ابرش کو اپنی جان کو تو تب نکلتی محسوس ہوئی جب اسکے حصار میں تڑپتے پھڑپھڑاتے ہوئے نازک دل کے مقام پر ضارب شاہ نے اپنے دہکتے ہوئے لب بہت حق اور جرات سے رکھے تھے ۔۔۔۔۔۔
سائیں “
جس پر وہ تڑپ کر اسے پکار گئی ،،،،،،
حکم جان سائیں ،،،،،، اتنا کہتے اس نے ایک بار پھر اسے اپنے لمس سے سلگایا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر وہ اپنی مزاحمت تیز کرتی اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی ،،،،،، لیکن وہ اگر اپنے ہوش میں ہوتا تو اس کی روک ٹوک یا پھر مزاحمت کا نوٹس لیتا ،،،،، وہ تو اسکے وجود کی نرماہٹوں میں کھویا ہوا اسکے پور پور کو اپنے لمس سے سلگاتا نیچے کی بڑھا ،،،،، اور اسکی نازک پتلی سی کمر پر لب رکھتا اسکی سانسیں سینے میں ہی کہیں روک گیا ۔۔۔۔۔۔
جس پر اس نے ضارب کے کندھوں کو چھوڑتے ہوئے بیڈ شیٹ کو اپنی مٹھیوں میں جھکڑا تھا ،،،،،، جبکہ اسکی آدھ کھلی ہوئی آنکھیں نیم اندھیرے میں نظر آتے اوپر لٹکے ہوئے فانوس پر ٹکی تھیں ۔۔۔۔۔
جس میں سے پتا نہیں لیکن کیسے اب موتیے کی چھوٹی چھوٹی پتیاں ان دونوں پر پھولوں کی بارش کی طرح برسنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔
جب وہ اس کے پور پور سے سیراب ہوتا اسکی گردن کی طرف دوبارہ آتے اسے نرمی سے چھوتا اسے نئے امتحان میں ڈال گیا ۔۔۔۔۔
اور پھر اسے بےحس و حرکت پڑے دیکھ کر اس نیم اندھیرے میں غور سے اسکے سرخ تپے ہوئے چہرے کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
اور پھر اسکی گھنیری پلکوں میں اٹکے موتی کی صورت ٹہریں آنسو کو اپنے ہونٹوں سے چن گیا ۔۔۔۔۔
جس پر ابرش نے اپنی نم سرخ رنگ گہری سمندر جیسی آنکھوں کو کھولتے ان میں شکوہ بھر اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔
جس پر وہ دلکشی سے مسکرایا تھا ۔۔۔۔۔
شکر ہے آپ ہوش میں ہیں ورنہ جیسے بےحس و حرکت پڑی ہوئی تھیں ہمیں لگا ہماری جان نے اپنے ہوش گنوا دیئے ۔۔۔۔۔۔
وہ اسکے تپتے چہرے پھونک مار کر اسکی گال کو نرمی سے سہلاتے ہوئے قہقہہ لگاتا بولا ۔۔۔۔۔
جس پر ابرش نے اس کے سینے پر اپنے نازک ہاتھوں کے مکے برسائے تھے ۔۔۔۔۔
بہت برے ہیں آپ ،،،،،
ہمم ” وہ تو ہیں اس میں کوئی شک نہیں ۔۔۔۔۔
اسکے سرخ چہرے کی طرف دیکھتے نرمی سے گویا ہوا ۔۔۔۔۔۔
لیکن پتا نہیں کیوں آج ابرش کو اسکے منہ سے یہ الفاظ بالکل اچھے نہیں لگے تھے ۔۔۔۔۔۔
نہیں میرے کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا ،،،،، اسے لگا شاید ضارب کو اسکا ایسا بولنا پسند نہیں آیا اس لیے صفائی دینے لگی جسے اس نے درمیان میں کاٹا تھا ۔۔۔۔۔
آپکا جو بھی مطلب تھا لیکن حقیقت یہی ہے باربی کے ہم بالکل بھی اچھے نہیں ہیں جس کا اندازہ آپکو بھی بہت جلد ہو جائے گا ۔۔۔۔۔
وہ اپنی نظریں اسکے پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں پر ٹکاتے ذومعنی انداز میں بولتا اسے بنا کوئی بھی بات سمجھنے کا موقع دیئے ان پر جھکتا اسے اپنے لمس سے مہکانے لگا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر ابرش بھی اسکی گردن میں بازو حائل کرتی اپنے ذہن میں آتے ہر برے خیال کو جھٹکتی ہوئی خود بھی اسکا ساتھ دینے لگی ۔۔۔۔۔۔
جسے اسے کچھ دیر محسوس کرنے کے بعد وہ اسے فضاء میں بلند کرتے کروٹ بدلتا ہوا اسے اپنے سینے پر منتقل کرتے ہوئے اسکی ڈھلکتی ہوئی شرٹ کو واپس سہی کرتے اسکی کھلی زیپ بند کرتا نرمی سے اسکی کمر کو اپنی کھردری انگلیوں سے سہلاتے ہوئے اسے ریلکس کرنے کی کوشش کرنے لگا ،،،،،،
اور پھر یونہی لیٹے لیٹے دونوں پر کنفرٹ درست کرتا ابرش کے ساتھ خود بھی سکون سے آنکھیں موند گیا ۔۔۔۔۔۔
وہ علیحدہ بات کے اسکی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی ،،،،،، لیکن ابرش اسکی گرفت میں سکون محسوس کرتی جلد ہی گہری نیند میں چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔
جسے محسوس کرتے وہ اسے نرمی سے بیڈ پر منتقل کرتا خود اٹھ کر ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد خود دوبارہ لائٹر اور سگریٹ اٹھاتا اس کمرے کے خاص حصے کی طرف بڑھ گیا ،،،،،، جہاں مرر کی ایک دیوار پر ہاتھ رکھتے ہی وہ دو حصوں میں تقسیم ہوتی ایک راستہ بنا گئی ۔۔۔۔۔
اور ضارب کے اندر داخل ہوتے ہی دوبارہ ایسے ساتھ جڑ گئی جیسے کبھی الگ ہوئی ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ٹھیک فجر کے ٹائم اسکی آنکھ کھلی تھی ،،،،،، اور واسم شاہ کے کمرے کو کچھ دیر انجان نظروں سے دیکھنے کے بعد وہ حیران ہوتی یکدم اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔
جس سے اسے تکلیف بھی ہوئی کیونکہ وہ ایسے ہی بنا کوئی کنفرٹ لیے ایسے ہی واسم کا انتظار کرتے سو گئی تھی ۔۔۔۔۔
لیکن اس نے نہیں آنا تھا وہ نہیں آیا ،،،،،، جس کا ابیہا کو دکھ تو بہت ہوا لیکن پھر نماز کا ٹائم نکل جانے کی وجہ سے سر جھٹکتی ہوئی اٹھی اور فریش ہونے واشروم کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔
اس بھاری لہنگے سے جان چھڑاتے ہوئے سادہ کپڑوں میں وضو بناتی آ کر نماز کیلئے کھڑی ہوئی جسے ادا کرنے کے بعد اسے اپنے رگ و جان میں سکون اترتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
اور وہ اپنی ساری شکایتیں اپنے رب کے حضور رکھتی ہلکی پھلکی ہوتی قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگی ۔۔۔۔۔
جس کے بعد ایک نظر گھڑی کی طرف دیکھتے جس میں صبح کے ساڑھے چھ بج رہے تھے ،،،،،، تلاوت سے فارغ ہو کر قرآن پاک کو چوم اپنی آنکھوں سے لگاتی واپس اسے اپنی جگہ پر رکھتی ۔۔۔۔۔
آئینے کے سامنے آئی تھی تاکہ اپنے الجھے ہوئے بالوں سلجھا سکے ۔۔۔۔۔
ابھی اس نے دوپٹہ سر سے اتار کر برش کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا جب اسکا فون بلنک ہوا جس میں ایک ویڈیو کا میسج تھا ۔۔۔۔۔
پہلے تو اس نے ان نون نمبر دیکھتے اسے اگنور کرنا چاہا ۔۔۔۔
لیکن پھر کچھ سوچ کر وہ ویڈیو اوپن کی تھی اور ابھی اس نے پلے کا بٹن کا دبایا تھا جب اسی وقت دروازہ کھول کر واسم شاہ کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔۔
جسے ایک نظر دیکھنے کے بعد اس نے دوبارہ موبائل میں چلتی ویڈیو کی طرف دیکھا تھا ،،،،،، جس میں اسکی اور معروف ہاسپٹل والی ویڈیو چل رہی تھی جس میں وہ اسکے سینے سے لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
جسے ایک نظر دیکھنے کے بعد ابیہا نے حیران نظروں سے اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھا تھا جس پر واضح تھکن کے آثار تھے ۔۔۔۔۔
ایک آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹ کر بے مول ہوتا اسکی گالوں پر بہہ نکلا ساتھ ہی موبائل ہاتھوں سے چھوٹ کر زمین پر گرا تھا ۔۔۔۔۔۔
اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے لبوں پر رکھتے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔
اور پھر روتی ہوئی ڈریسنگ روم میں جا کر بند ہو گئی جبکہ واسم نے اسکے ری ایکشن کو دیکھتے ایک نظر موبائل پر چلتی ویڈیو پر ڈالی تھی ۔۔۔۔۔
جسے ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ گہرا سانس کھینچتا نفی میں سر ہلاتا ڈریسنگ روم کے بند دروازے کو پرسوچ نظروں سے دیکھنے کے بعد خود فریش ہونے واشروم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
جبکہ پیچھے ابیہا کے فون پر چلتی ویڈیو مکمل ہوتی خود ہی بند ہو گئی ۔۔۔۔۔
