Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 97)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 97)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
دیکھیں رومان تاشے ہمارے لیے بالکل ابیہا کی طرح ہیں ۔۔اور ہم کبھی بھی انکے کیلئے کوئی غلط انتخاب نہیں کرینگے ۔۔
پھر بھی آپ انکے بھائی ہیں ظاہر سی بات ہے ہم سے زیادہ ان کیلئے کیا اچھا ہے کیا برا آپ بہتر سمجھتے ہیں اس لیے آخری فیصلہ تو آپ ہی لینگے ۔۔
وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن شہیر خان ؟؟؟ وہ کچھ تذبذب کا شکار تھا ۔۔
انکی فکر آپ نا کریں ۔۔۔آپ جیسے چاہیں گے ہم انکی گارنٹی لینے کیلئے تیار ہیں ۔۔۔وہ نا صرف ہمیں اپنے بھائیوں کی طرح عزیز ہیں ۔۔۔بلکہ یہی سمجھ لیں وہ ضارب شاہ کی پرچھائی ہیں ۔۔۔ہمارا عکس ۔۔۔
ایک پل کیلئے ہم خود پر تو شک کر سکتے ہیں لیکن ان پر نہیں ۔۔۔
شہیر کے نام پر رومان کو شک و شبہات کا شکار ہوتے دیکھ وہ ایک مان سے بولا تھا ۔۔۔
جس پر کمرے میں موجود ان دونوں کے علاوہ حیدر شاہ اور ارمغان شاہ نے بھی مسکراتے ہوئے سر ہلایا تھا ۔۔
رومان بیٹے ضارب بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔۔۔
شہیر خان ہمیں بالکل اپنے بچوں کی طرح عزیز ہیں ۔۔۔اس گھر میں انکی حیثیت ایک فرد کے جیسی ہے نا کہ ملازم کی۔۔۔
اس لیے یہ خیال بھی اپنے دل سے نکال دیجئے گا کہ ہم تاشے بٹیا کو ایک ملازم کے پلے باندھنا چاہتے ہیں ۔۔۔
شہیر خان کے والد جدی پشتی زمین دار اور رئیس ہیں ۔۔۔
ضارب شاہ کی حفاظت کیلئے معمور ہونا انکی کوئی مجبوری نہیں ،،، بلکہ ہمارا سید گھرانا ہونے کی وجہ سے وہ ہمیں اپنا پیر و مرشد مانتے ہیں ۔۔۔
یہی سمجھ لیں ایک عقیدت کا رشتہ ہے جو پیڑی در پیڑی چلا آ رہا ہے ۔۔۔
رسانیت سے بولتے حیدر شاہ نے اسکے دل و دماغ میں آئے تمام خدشات دور کرنے چاہے ۔۔۔
جس پر نظریں اٹھا کر رومان نے انکے بوڑھے مگر خوبصورت وجیہہ چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔
جو اسکی حیرت کو بھانپتے نرمی سے مسکرائے تھے ۔۔۔
یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن پھر بھی میں کوئی بھی فیصلہ تاشے کی مرضی کے بغیر نہیں لے سکتا ۔۔۔
پہلے میں اس سے بات کر لوں بعد میں ہی کوئی حتمی جواب دے سکوں گا ۔۔۔
ان سب کے پیار اور اسرار کو دیکھتے ہوئے وہ اس بار نرمی سے مسکرا کر گویا ہوا تھا ۔۔۔
جی ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ پہلے ان سے پوچھ لیں ۔۔۔ہم انتظار کر لیں گے ۔۔۔
ضارب صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھتا نرمی سے گویا ہوا تھا ۔۔۔جبکہ گھنی مونچھوں کے نیچے عنابی لبوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ رقصاں تھی ۔۔۔
جسے دیکھتے حیدر شاہ سمیت ارمغان شاہ بھی مطمئن ہوتے مسکرائے تھے ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°
جس دن موسی شاہ اور زرتاشے کے درمیان اصل رشتے کی نوعیت کے بارے میں ضارب نے خان کو بتایا تھا ۔۔۔اسکی بات پر خان کا بری طرح حیرت سے چونکنا اور پھر یکدم ہی بہانہ بنا کر وہاں سے اٹھ جانا ۔۔۔
ضارب نے اچھے طریقے سے نوٹ کیا تھا ۔۔۔لیکن قبل از وقت کچھ بھی ایسا ویسا سوچنا مناسب نہیں سمجھا ۔۔۔
اس کے علاوہ بھی تاشے اور رومان کے حویلی آنے کے بعد ۔۔۔شہیر خان کا حویلی کے اندر جانے سے کترانا ۔۔۔
تاشے کا شہیر خان کی طرف جھکاو اور شہیر خان کا بچاؤ اسکی زیرک نگاہوں سے چھپا ہوا نہیں تھا ۔۔۔
جو اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا تھا ۔۔۔
لیکن یہ کہیں اسکی غلط فہمی نا ہو ۔۔۔اس لیے کچھ بھی بولنے سے پرہیز ہی کیا تھا ۔۔۔
اسکے شک پر مہر اس رات لگی جب ایمرجنسی میں ایک میٹنگ کیلئے اسے رات و رات ہی شہر کیلئے نکلنا پڑا تھا ۔۔۔
اور خود تیار ہونے کے ساتھ فون پر خان کو گاڑی تیار کروانے اور دوسری کچھ اہم چیزوں کیلئے ہدایت دے رہا تھا ۔۔۔
اور پھر یکدم سے تاشے کا خان کو پکارنا صرف شہیر خان کو ہی نہیں بلکہ ضارب شاہ کو بھی چونکنے پر مجبور کر گیا تھا ۔۔۔
کیونکہ اسکے لہجے میں جس قدر اپنائیت اور محبت جھلک رہی تھی وہ اسکے اندر کے جذبات کی مکمل عکاسی کر رہے تھے ۔۔۔
اور آخری کیل شہیر خان کے خود کلامی میں کیے گئے اظہار نے ٹھوکی تھی ۔۔۔
جسے سن کر شہیر خان کیلئے اسکے اعتماد اور مان میں مزید اضافہ ہوا تھا ۔۔۔ اور اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان دونوں کی محبت کو نکاح جیسے پاکیزہ رشتے میں ضرور باندھے گا ۔۔۔
کیونکہ اسے اتنا تو یقین تھا کہ شہیر خان خود سے کبھی بھی کسی کے بھی سامنے اپنی محبت کا اظہار نہیں کرے گا ۔۔۔
اس لیے شہیر کی محبت کو ایک تحفے کے طور اسکی جھولی میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔
اس لیے رومان کے حویلی واپس آتے ہی ضارب شاہ نے پہلی فرصت میں حیدر شاہ اور ارمغان شاہ کو اعتماد میں لیتے اس سے ان دونوں کے رشتے کی بات کی تھی ۔۔۔
اور اسکی طرف سے مثبت جواب ملنے پر مطمئن ہوتا نرمی سے مسکرایا تھا ۔۔۔کیونکہ تاشے کی رضامندی سے تو وہ پہلے سے ہی واقف تھا بات تو صرف رومان کی تھی ۔۔۔
جسے اس رشتے کیلئے قائل کرنے میں وہ کافی حد تک کامیاب ٹھہرا تھا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°
سم آپ مجھ سے ناراض ہیں ؟؟؟
بیا جو رات کھانے کے بعد واسم کیلئے اسکی کافی لے کر آئی تھی ۔۔۔اسے چپ چاپ خاموشی سے آفس کا کام کرتے دیکھ کر ٹرے ٹیبل پر رکھتے نرمی سے پوچھنے لگی ۔۔۔
کیونکہ وہ نوٹ کر رہی تھی ۔۔۔
پچھلے ایک دو دنوں سے واسم اسے خود سے مخاطب کرنا بالکل چھوڑ چکا تھا ۔۔۔
اب نا اسے کھانے پینے کیلئے کوئی ہدایت دیتا تھا اور نا ہی ڈاکٹر نے جو وٹامنز اور ٹیبلٹس دی تھیں ۔۔وہ روٹین سے لے رہی ہے یا نہیں ۔۔۔چیک کرتا تھا ۔۔۔
بس جامد خاموشی کا خول چڑھائے اپنے کام سے کام رکھتے ہوئے وہ خود سے مخاطب کرتی ۔۔۔تو ہاں ہوں میں جواب دے دیتا ورنہ اب تو اسکی طرف پیار تو دور دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا تھا ۔۔۔
ابیہا کے سوال پر لیپ ٹاپ پر تیزی سے چلتے واسم کے ہاتھ کچھ پل کیلئے تھمے ۔۔۔لیکن پھر بنا جواب دیئے دوبارہ اپنا کام کرنے لگا ۔۔
جبکہ مسلسل خود کو اگنور کیے جانے پر ابیہا کو اب غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔
اس نے آگے بڑھ ایک جھٹکے سے لیپ ٹاپ بند کیا تھا ۔۔۔جس پر واسم نے غصے سے اسکی طرف دیکھا البتہ لبوں سے کچھ کہنے سے گریز ہی کیا تھا ۔۔۔
آپ بات کیوں نہیں کر رہے مجھ سے ؟؟؟
جبکہ اسکے بنا کچھ کہے خاموش رہنے پر اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہوتے وہ ایک بار پھر پیار سے بولی ۔۔۔
ابیہا مجھے کام ہے ؟؟؟
سرد و سپاٹ لہجے میں دو حرفی جواب آیا تھا ۔۔۔
آپکا کام کیا مجھ سے زیادہ ضروری ہے ؟؟؟ اسکے سرد رویے پر ابیہا کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔۔۔جسے بمشکل ہی پلکوں کو جھپکتے اس نے بہنے سے روکا ۔۔۔
البتہ واسم نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تھا ۔۔۔اور اسکا ہاتھ ہٹاتے ہوئے دوبارہ لیپ ٹاپ آن کیا ۔۔۔
جسے ابیہا نے واسم کے ساتھ ایسے گھورا جیسے وہ کوئی بےجان چیز نہیں بلکہ اسکی سوتن ہو ۔۔۔پھر دوبارہ جھٹکے سے بند کرتے ہوئے اس سے پہلے واسم غصے سے اسے کچھ کہتا اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکی گود میں بیٹھتے اسکے گھنی مونچھوں کے تلے سرخ و سفید لبوں پر جھکی تھی ۔۔۔
اور اسے نرمی سے چھوتے ہوئے اپنی تئیں منانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
جسے چاہ کر بھی وہ جھٹک نہیں سکا ۔۔۔البتہ اسے کوئی رسپانس بھی نہیں دیا کہ جس سے اسکی حوصلہ افزائی ہو ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ خود ہی نرمی سے پیچھے ہوتی اسکی پیشانی سے پیشانی ٹکا کر اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔۔۔
جن میں سرخ ڈورے تیر رہے تھے ۔۔۔جو غصے کے تھے یا تھکاوٹ کے وہ کچھ خاص اندازہ نہیں لگا پائی ۔۔۔
مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے کیا ؟؟؟ جو آپ مجھ سے بات نہیں کر رہے ۔۔۔میری کوئی بات بری لگی ہے کیا ؟؟؟
اگر ایسا ہے تو بتائیں میں معافی مانگنے کیلئے تیار ہوں ۔۔۔
لیکن یوں خاموشی اختیار کر کے سزا نا دیں ۔۔۔
مجھے اب آپ کے پیار کی عادت ہو گئی ہے ۔۔۔جب تک آپ مجھے اپنے سینے لگا کر نہیں سوتے مجھے نیند نہیں آتی ۔۔۔
جب تک آپ کے منہ سے محبت بھرے بول یا ڈانٹ نا سن لوں اس سلگتے تڑپتے دل کو چین نہیں آتا ۔۔۔
آپکی فکر آپکا غصہ مجھ پر اپنا حق جتانا ،،، آپکا لمس جس کے لیے پچھلے دو دنوں سے میری روح تڑپ رہی ہے ۔۔۔
پلیز سم میرے ساتھ ایسا نا کریں ۔۔۔
میری کوئی بات بری لگی ہے تو مجھے ڈانٹ لیں ،،، لیکن یوں خاموشی اور بےتعلقی اختیار کر کے نا تڑپائیں ۔۔۔
مجھ سے بات کریں سم ۔۔ورنہ کہیں ایسا نا ہو آپکی یہ بےرخی برداشت کرتے کرتے میری سانسیں بند ہو جائیں ۔۔۔
بات کرتے کرتے ابیہا کی آنکھوں سے گرم سیال بہنا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔جو واسم شاہ کے چہرے پر گرتے اسے بھیگانے کا کام کر رہا تھا ۔۔۔جسے محسوس کرنے کے باوجود بھی واسم کے تاثرات میں کوئی فرق نہیں آیا تھا ۔۔۔
وہ اب بھی اسے خاموش نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اور اس سے پہلے وہ اسکے رونے سے ایریٹیٹ ہوتے خاموش کروانے کیلئے لب کھولتا ۔۔۔
اسکا فون رنگ ہوا ۔۔
جس پر ایز یوزول اسکے پی اے کا نمبر بلنک کر رہا تھا ۔۔۔
جسے ایک نظر دیکھنے کے بعد اس نے اپنی گود میں بیٹھی ابیہا کو اٹھاتے ہوئے نرمی سے بیڈ پر ڈالا تھا ۔۔۔
مجھے بہت ضروری کال اٹینڈ کرنی ہے ۔۔۔تم سو جاو ۔۔۔
سپاٹ لہجے میں بولتے ہوئے کال اٹینڈ کرتا سٹڈی روم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
جبکہ دوسری طرف ابیہا جو اسے خود کو یوں گود میں اٹھانے پر یہ سمجھ رہی تھی ۔۔۔واسم مان گیا ہے ۔۔۔لبوں پر مسکراہٹ سجائے پیار بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اسکے یوں سپاٹ سے انداز میں بولنے اور چھوڑ کر جانے پر آنکھوں میں آنسو بھر کر اسکی چوڑی پشت کو دیکھنے لگی ۔۔۔
جو پتا نہیں کیوں اس سے روٹھ گیا تھا ،،، کہ جس کی بےرخی اس سے چاہ کر بھی برداشت نہیں ہو پا رہی تھی ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°
شہیر خان ہمیں پارٹی آفس چھوڑنے کے بعد آپ خود تاشے کو یونی سے پک کرتے حویلی چھوڑ کر آیئے گا ۔۔۔
جس پر چونک کر خان نے اپنا رخ موڑتے ضارب کی طرف دیکھا ۔۔۔
جو لبوں میں سگریٹ دبائے اسکے گہرے کش لیتا اپنے فون پر کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھا ۔۔۔
یہ لوگ اس وقت ایک اہم میٹنگ اٹینڈ کرنے کے بعد آئی پی پی پارٹی کے اجلاس میں جا رہے تھے ۔۔۔جو اپنی پارٹی کی کارکردگی کو دیکھتے اور چند ضروری ملکی امور کو ڈسکس کرنے کیلئے اس پارٹی کے صدر چوہدری وجاہت حسین نے پارٹی آفس میں طلب کیا تھا ۔۔۔
جس میں پارٹی کے باقی ممبران کے ساتھ ضارب شاہ کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی ۔۔۔
لیکن سائیں میں آپکو یوں اکیلے چھوڑ کر کیسے جا سکتا ہوں ۔۔۔
جلد بازی میں ہڑبڑاتے خان نے بہت ہی بچگانہ بات کی تھی ۔۔۔ضارب نے نظریں اٹھا کر اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔
کیوں شہیر خان ہم کوئی چھوٹے بچے ہیں جو خود سے اپنا خیال نہیں رکھ سکتے ۔۔۔
جس پر وہ کچھ شرمندہ ہوا تھا ۔۔۔
نہیں سائیں میرا مطلب تھا کہ آپکو میری ضرورت پڑ سکتی ہے ۔۔۔ویسے بھی تاشے بی بی کو تو انکا ڈرائیور پک اینڈ ڈراپ دیتا ہے نا۔۔۔
اس بار کچھ ٹھہریں ہوئے لہجے میں سنبھل کر گویا ہوا تھا ۔۔۔
جی تاشے کو انکے ڈرائیور علیم بابا پک اینڈ ڈراپ دیتے ہیں لیکن آج انکی کچھ طبیعت خراب تھی ۔۔۔اس لیے ہم نے انہیں چھٹی دے دی ۔۔۔
اور آپ جانتے ہیں گھر کی عورتوں کے معاملے میں ہم کسی بھی نئے بندے پر زیادہ اعتبار نہیں کرتے ۔۔۔
اس لیے آپکو بولا ۔۔۔
اور رہی ہماری ضرورت کی بات تو وہ جب پڑے گی تو تب ہم خود ہی دیکھ لیں گے ۔۔۔
اسے تفصیلی جواب دینے کے بعد وہ دوبارہ موبائل میں مصروف ہو گیا تھا ۔۔۔
جس کے بعد خان کی ہمت نہیں ہوئی تھی اس سے دوبارہ کوئی سوال کرے ۔۔۔
ویسے ہم نے سوچا ہے ۔۔۔بہت جلد ہم تاشے کا نکاح کروا کر اسے بھی رخصت کر دیں ۔۔۔جس کیلئے ہم نے لڑکا بھی پسند کر لیا ہے ۔۔۔
تاکہ رومان بھی اپنے فرض سے جلد سبکدوش ہو سکے ۔۔۔
راستہ یونہی خاموشی سے کٹ رہا تھا ۔۔۔جب ایک بار پھر گاڑی میں ضارب شاہ کی گھمبیر آواز گونجی تھی ۔۔۔
جس نے شہیر خان کی سانسوں کو تھمنے پر مجبور کر دیا تھا ،،، اسے ایسا لگا جیسے کسی نے پگلا ہوا سیسہ اسکے کانوں میں انڈیل دیا ہو ،،، جبکہ دل کے درد کو ضبط کرنے کے چکر میں آنکھوں میں لہو اتر آیا تھا ۔۔۔
ضارب شاہ نے موبائل سے نظریں ہٹا کر سامنے لگے شیشے میں نظر آتے اسکے عکس کو دیکھتے اس کے تاثرات جانچے تھے ۔۔۔
پھر اسکے دھواں دھواں ہوئے چہرے کو دیکھ لب دانتوں تلے دبا کر ابھر آنے والی مسکراہٹ کو روکا ۔۔۔
خان ہم آپ سے بات کر رہے ہیں ۔۔۔لہجے کو سنجیدہ بناتے اسکی پشت کو دیکھتے ذرا رعب سے بولا ۔۔۔
جس سے وہ ہڑبڑا کر ہوش میں آیا تھا ۔۔۔
جی ،،،، جی سائیں ،،،، اسکا مطلب آپ نے ہماری بات نہیں سنی ۔۔۔ضارب نے رعب جھاڑتے مصنوعی گھوری سے نوازا ۔۔۔
ہاں ،،، نہیں ،،، ہاں
میرا مطلب بہت اچھا سوچا ہے ۔۔۔
ضارب کو غصے میں آتے دیکھ وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوتا عاجزی سے بولا ۔۔۔
ہمم !!
دھیان کدھر ہے آپکا ؟؟؟
کہیں نہیں سائیں ادھر ہی ہے ۔۔۔اب وہ خود کو کافی حد تک سنبھال چکا تھا ۔۔۔اس لیے لہجے کو نارمل کرتے بولا ۔۔۔
ہونا بھی چاہیے ۔۔۔ورنہ آپ ہمیں جانتے ہیں ۔۔۔
سپاٹ لہجے میں کہتے دوبارہ نظریں سیل فون پر جمائی ۔۔۔
جی بہتر ۔۔۔
عاجزی سے کہتے نظریں باہر کے نظاروں پر ٹکائیں ۔۔۔جبکہ اسکی پشت کو دیکھتے ہوئے وہ گہرائی سے مسکرایا تھا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°
ارمغان شاہ نے تقریبا ساری کبڈ کے ساتھ پورا کمرہ چھان مارا تھا ۔۔۔لیکن انہیں اپنی مطلوبہ فائل مل کر ہی نہیں دے رہی تھی ۔۔۔
روباب جو بیڈ پر بیٹھیں کب سے انہیں پھیلاوا پھیلاتے ہوئے دیکھ رہیں تھیں اکتا کر بول اٹھیں تھیں ۔۔۔
غنی کیا ڈھونڈ رہیں ہیں ۔۔۔مجھے بتائیں ،،،، ہو سکتا ہے میں کچھ آپکی ہیلپ کر دوں ۔۔۔
میری ایک فائل تھی بلو کلر کی ۔۔۔وہ نہیں مل رہی ۔۔۔واسم نے چند دن پہلے مجھے دی تھی نظرثانی کیلئے ۔۔۔
اور آج جس کمپنی کی وہ فائل ہے دوپہر میں واسم کی انکے ساتھ میٹنگ ہے ۔۔۔
انکا فون آیا تھا ۔۔۔کسی کے ہاتھ اسے آفس پہنچائے ۔۔۔لیکن اب فائل نہیں مل رہی ۔۔۔
حالانکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔۔۔وہ میں نے پڑھنے کے بعد سٹڈی ٹیبل پر ہی رکھی تھی ۔۔۔باقی فائلز کے ساتھ ۔۔۔
اور اب وہاں کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔
وہ فائل کے اتنا ڈھونڈنے کے باوجود نا ملنے پر جھنجلاہٹ کا شکار ہوتے روباب سے بھی غصے سے ہی بولے تھے ۔۔۔
میں نے تو نہیں دیکھی حالانکہ کمرے کی صفائی تو میں اپنی نگرانی میں ہی کرواتی ہوں اب ۔۔۔ہو سکتا ہے عظمی کو پتا ہو ۔۔۔کیونکہ مجھ سے پہلے آپکی چیزیں وہ دیکھتیں تھیں ۔۔۔
بہت سالوں بعد انہوں نے ارمغان کے غصے کو فیس کیا تھا ۔۔۔اس لیے پہلے چند لمحوں کیلئے وہ بھی سہم گئیں تھیں ۔۔۔لیکن پھر خود کو سنبھالتے ہوئے نرمی سے گویا ہوئیں ۔۔۔
راحیلہ ،،، راحیلہ ۔۔۔
روباب کی بات سننے کے بعد انہوں نے فورا ملازمہ کو آواز دی تھی ۔۔۔جو ہمہ وقت روباب کے ساتھ رہتی تھی ۔۔۔
جبکہ انکی غصے بھری آواز کو سنتے اپنے ڈوپٹے کو سنبھالتے راحیلہ فورا جن کی طرح حاضر ہوئی تھی ۔۔۔
جی سائیں ۔۔۔”
اپنی چھوٹی مالکن کو بلا کر لے آئیں فورا ۔۔۔
جی سائیں ۔۔۔
وہ فورا انکے حکم کی تکمیل کرنے کیلئے بھاگی تھی ۔۔۔
اور چند لمحوں بعد عظمی راحیلہ کے ساتھ ان دونوں کے روبرو کھڑیں تھیں ۔۔۔
میری ایک فائل تھی ۔۔۔بلو کلر کی جو میں نے اپنے سٹڈی ٹیبل پر رکھی تھیں دیکھی ہے آپ نے ؟؟؟؟
عظمی بیگم کے سوالیہ دیکھنے پر وہ سپاٹ لہجے میں گویا ہوئے تھے ۔۔۔
بلو کلر ،،،، جس پر وائٹ کلر کی چٹ لگی ہوئی تھی ۔۔۔
عظمی نے یاد کرتے ان سے تصدیق چاہی ۔۔۔
جی ۔۔۔”
وہ عجلت میں بولے تھے ۔۔۔
وہ فائل تو سائیں میں نے کمرے کی صفائی کرتے ہوئے آپ کے ٹیبل سے اٹھا کر بیڈ کے سائڈ ڈرا میں رکھی تھی ۔۔۔
اور ساتھ ہی آگے بڑھ کر وہ فائل نکال کر لاتے انکے ہاتھ میں تھمائی تھی ۔۔۔
ارمغان شاہ نے فائل کھول کر دیکھتے ایک نظر انکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔
اور پھر بند کر کے دوبارہ ان سے مخاطب ہوئے تھے ۔۔۔
آپکو میری چیزیں آگے پیچھے کرنے سے پہلے کم از کم مجھ سے پوچھنا تو چاہیے تھا ۔۔۔یا پھر بتا ہی دیتیں ۔۔۔
کم از کم مجھے اسے ڈھونڈنے میں اتنا خوار تو نا ہونا پڑتا ۔۔۔
وہ ،،، سائیں ،،، مجھے یاد نہیں رہا ۔۔۔انکے غصے سے بولنے پر آنکھوں میں اترتے آنسوؤں کو پیتے ہوئے نم لہجے میں گویا ہوئی تھیں ۔۔۔
جس پر انہیں اپنے لہجے کا احساس ہوا تھا ۔۔۔
لیکن اس سے پہلے وہ انہیں اپنے رویے کیلئے معذرت کرتے وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھتے تیز قدموں سے وہاں سے نکلتی چلی گئیں ۔۔۔
ارمغان شاہ نے انکی پشت کو دیکھتے اپنے رویے پر افسوس کرتے ۔۔۔روباب کی طرف دیکھا ۔۔۔جنکی آنکھوں سے خود آنسو بہنے کو بےتاب تھے ۔۔۔
روباب ۔۔۔”
وہ انہیں گلے لگانے کیلئے آگے بڑھے تھے ۔۔۔جب وہ انہیں ہاتھ کے اشارے سے روکتے ہوئے افسوس بھری نظروں سے دیکھتیں ۔۔۔کمرے سے نکلتی چلی گئیں ۔۔۔
جبکہ وہ پیچھے گہرا سانس کھینچ کر ہاتھ میں پکڑی فائل کو بیڈ پر پھینکتے ہوئے ۔۔۔ان دونوں کے رویے کے بارے میں سوچنے لگے ۔۔۔
جنہوں نے پچھلے کچھ دنوں سے بالکل ان سے بول چال بند کر رکھی تھی ۔۔۔اور آج اگر انہوں نے انہیں خود سے مخاطب کیا تو اپنے غصے کے چلتے وہ انہیں ایک بار پھر خفا کر بیٹھے تھے ۔۔۔۔
