Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 80)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 80)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
ماضی
محسن حیات کی ڈیتھ کے بعد ۔۔۔احسن حیات اندر سے بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے تھے ۔۔۔۔
وہ بزنس جو انہوں نے بہت محنت سے کھڑا کیا تھا ۔۔۔۔اس پر بالکل توجہ دینی بند کر دی تھی ۔۔۔۔
بلکہ ایک سال تک تو انہوں نے گھر سے باہر نکلنا تک ترک کر دیا ۔۔۔۔آخر وہ کس کیلئے کماتے ۔۔۔وہ جو انکی زندگی تھا ۔۔۔۔جس کے روشن مستقبل کیلئے ۔۔۔انہوں نے بچپن میں ہی خود کو محنت کی کڑی بھٹی میں جھونک دیا تھا ۔۔۔۔
وہ تو منوں مٹی تلے جا سویا تھا ۔۔۔۔
اور ان سب کیلئے وہ صرف اور صرف حیدر شاہ کو قصوروار سمجھتے تھے ۔۔۔۔
اور ایسے حالات میں جب وہ بالکل دنیا سے کٹ گئے تھے ۔۔۔انکے پرانے ملازمین اور دوستوں نے انکا بہت ساتھ نبھایا تھا ۔۔۔۔
آہستہ آہستہ ہی سہی لیکن وہ زندگی کی طرف لوٹ آئے ۔۔۔۔
لیکن پہلے جو ایک نرمی انکے لہجے کا خاصہ ہوا کرتی تھی ۔۔۔اب مفقود تھی ۔۔۔۔
انکا رویہ اپنے سٹاف کے ساتھ بہت زیادہ روڈ اور سخت ہو گیا تھا ۔۔۔۔جس سے نئے آنے والے ورکرز کو انکے ساتھ کام کرنے سے بہت ڈر لگتا تھا ۔۔۔۔لیکن جو انکے پرانے ملازم تھے انکے لہجے کی تلخی کے پیچھے چھپی اصل وجہ سے اچھی طرح واقف تھے ۔۔۔۔
اس لیے انکی ڈانٹ سن لینے کے باوجود مسکرا دیتے تھے ۔۔۔۔
وقت کے پنے کچھ اور سرکے تھے ۔۔۔۔اس حادثے کو گزرے ہوئے تقریبا دس سال ہونے والے تھے ۔۔۔۔لیکن محسن حیات کی موت کا غم انکے اندر آج بھی پہلے دن کی طرح تازہ تھا ۔۔۔۔
لیکن بظاہر وہ خود کو سمیٹ کر ایک خول میں بند کر کے جینا سیکھ گئے تھے ۔۔۔۔
تبھی ایک دن بزنس پارٹی میں انہوں نے حیدر شاہ کے ساتھ ہنستے ہوئے یمان شاہ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
اور وہ جو درد اپنے اندر سالوں سے دبائے بیٹھے تھے ۔۔۔وہ آنکھوں سے ظاہر ہونے لگا ۔۔۔
حیدر شاہ کے چہرے پر مسکراہٹ کو دیکھتے ۔۔۔۔انکے اندر جلتی بدلے کی آگ میں مزید اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔
نہیں چھوڑوں گا حیدر شاہ تمہیں ۔۔۔۔مجھ سے میری ساری خوشیاں چھین کر تم پرسکون زندگی نہیں جی سکتے ۔۔۔۔
تم سے تمہاری سانسیں چھین لوں گا ۔۔۔۔ہاں تبھی تبھی میری جلتی ہوئی روح کو سکون ملے گا ۔۔۔۔
ہاتھ میں کولڈ ڈرنک کا گلاس پکڑے ،،،،، وہ خود سے مخاطب تھے ۔۔۔۔جبکہ آنکھوں میں حیدر شاہ کیلئے اس قدر نفرت تھی ۔۔۔۔کہ دیکھنے والے کی روح کانپ جائے ۔۔۔۔
اور حیدر شاہ کو قہقہہ لگاتے دیکھ ہاتھ میں گلاس پر خود با خود ہی پکڑ مظبوط ہو گئی ۔۔۔۔جس سے وہ ایک چھناکے کے ساتھ ٹوٹا ۔۔۔۔
جس کا انہیں بالکل کوئی احساس نہیں تھا ۔۔۔۔کیونکہ انکے اندر کے تمام احساسات تو محسن حیات کی موت کے ساتھ ہی ختم ہو گئے تھے ۔۔۔۔
انکے پاس کھڑے انکے بزنس پارٹنر نے حیرت سے انکے ہاتھ سے بہتے ہوئے خون کو دیکھا ۔۔۔
احسن ۔۔”
اپنی جیب سے رومال نکالتے انکے ہاتھ پر باندھنا چاہا ۔۔۔لیکن وہ سرد مہری سے ہاتھ جھٹکتے وہاں سے نکلتے چلے گئے ۔۔۔۔
پیچھے اس نے متفکر نظروں سے انکی پشت کو دیکھا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°
تمہیں ایک تصویر بھیج رہا ہوں ۔۔۔۔مجھے اس آدمی کی مکمل انفارمیشن چاہیے ۔۔۔۔
صبح کس وقت گھر سے نکلتا ہے ۔۔۔۔کہاں کہاں جاتا ہے ۔۔۔۔کب واپس آتا ہے ۔۔۔۔
اسکی ڈیلی روٹین کیا ہے۔۔۔۔
اگلے چوبیس گھنٹوں میں رپورٹ میرے آفس کے ٹیبل پر موجود ہونی چاہیے ۔۔۔۔
گوٹ اٹ ۔۔”
دوسری طرف کا جواب سننے کے بعد انہوں نے موبائل ٹیبل پر رکھا ۔۔۔اور کافی کا مگ اٹھا کر ۔۔۔۔بلیک کافی کا کڑوا گھونگھٹ حلق سے اتارا ۔۔۔۔
لیکن اسکی کڑواہٹ اتنی زیادہ نہیں جتنی کہ انکے اندر موجود تھی ۔۔۔۔
حیدر شاہ ۔۔۔” تمہارے زندگی کے دن کم رہ گئے ہیں ۔۔۔۔جتنی خوشیاں منانا چاہتے ہو منا لو ۔۔۔۔اس کے بعد تمہیں ایسی موت دوں گا ۔۔۔۔کہ موت بھی خوف کھائے گی ۔۔۔۔
موبائل میں موجود حیدر شاہ کی تصویر کو دیکھتے زہرخند لہجے میں گویا ہوئے تھے ۔۔۔۔
جب انکے بالکل پچھلی سائڈ ٹیبل پر بیٹھے ہوئے ۔۔۔۔موسی شاہ حیدر شاہ کے نام پر کچھ چونکے تھے ۔۔۔۔اور پلٹ کر اس آدمی کی طرف دیکھنے لگے ۔۔۔لیکن اسکی پشت ہونے کی وجہ سے دیکھ نہیں پائے ۔۔۔۔
ہو سکتا ہے کسی اور حیدر شاہ کے بارے میں بات کر رہا ہو ۔۔۔
انہیں بےساختہ ہی خیال آیا ۔۔۔۔لیکن ہو سکتا ہے وہ تایا سائیں ۔۔۔انکی آنکھوں میں شیطانی چمک آئی ۔۔۔
اور جتنی نفرت اسکے لہجے میں گھلی ہوئی تھی ۔۔۔۔اس نے انہیں مجبور کر دیا تھا ایک بار اٹھ کر اسے دیکھنے پر ۔۔۔۔
اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو انتظار کا کہتے اٹھ کر انکے سامنے ٹیبل پر آئے تھے ۔۔۔۔
السلام وعلیکم “
لہجے میں شائستگی سموئے سلام کیا ۔۔۔۔
جسکا جواب دینا احسن حیات نے ضروری نہیں سمجھا تھا ۔۔۔۔انہوں نے سوالیہ انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
جس پر انہیں شرمندگی تو ہوئی ۔۔۔لیکن انکے ہاتھ میں پکڑے موبائل پر حیدر شاہ کی تصویر دیکھتے ہوے وہ زائل ہو گئی تھی۔۔۔
کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں ۔۔۔ایکچلی آپ سے کچھ بات کرنی تھی ۔۔۔۔
سوری لیکن میرے پاس وقت نہیں ہے ۔۔۔
سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے اٹھ کر جانے لگے ۔۔۔۔جب پیچھے سے انہوں نے احسن حیات کو مخاطب کیا ۔۔۔۔
سوچ لیں ۔۔۔میں آپکو حیدر شاہ کے بارے میں وہ ساری انفارمیشن دے سکتا ہوں ۔۔۔۔جو آپکا انفارمر بھی نہیں دے سکتا ۔۔۔
حیدر شاہ کے نام پر احسن حیات نے پلٹ کر انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔جو ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ سجائے ۔۔۔۔انکی طرف ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
مجھے ضرورت نہیں کیونکہ احسن حیات اپنے راستے خود بنانا جانتا ہے ۔۔۔۔اور پھر پلٹنے لگے ۔۔۔۔
بہت اچھی بات ہے ہر انسان کو ایسا ہی ہونا چاہیے ۔۔۔۔لیکن انسان کا اوور کونفیڈینس ہمیشہ اسے مات کی طرف لے کر جاتا ہے ۔۔۔۔اور اگر کوئی مخلص دل سے آپکی مدد کرنا چاہتا ہو ۔۔۔تو میرے خیال میں ایک بار ٹھنڈے دماغ سے سوچ لینے میں کوئی حرج نہیں ۔۔۔۔
کیونکہ ایسی آفرز روز روز نہیں ملتیں ۔۔۔۔
انکی بات پر چند پل ٹھہر کر انہوں نے موسی شاہ کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
لیکن تم میری مدد کیوں کرنا چاہتے ہو ؟؟؟؟ ان کے تھوڑا قریب آ کر سوال کیا ۔۔۔۔
میں آپکی مدد کیوں کرنا چاہتا ہوں اس کے پیچھے کیا مقصد ہے یہ سب چھوڑیں آپکا کام تو ہو رہا ہے نا ۔۔۔آپ بس آم کھائیں گٹلیوں کی فکر کرنا چھوڑ دیں ۔۔۔۔
یہ رہا میرا کارڈ کل اسی ٹائم مجھ اس پتے پر ملیں ۔۔۔آپکا کام ہو جائے گا ۔۔۔
ایک کارڈ انکی طرف بڑھاتے ہوئے بولے ۔۔۔۔جسے احسن حیات نے نا چاہتے ہوئے بھی تھام لیا تھا ۔۔۔۔
جس کے بعد وہ انہیں سلام کہتے واپس اپنی ٹیبل کی طرف چلے گئے ۔۔۔۔
جبکہ احسن حیات نے انکی پشت کو دیکھتے ایک نظر اس کارڈ پر ڈالی ۔۔۔۔اور انکے نام کے آگے شاہ لکھا دیکھ کر چونکے ۔۔۔۔
مطلب یہ کوئی خاندانی دشمنی کا معاملہ تھا ۔۔۔۔جو وہ انسان انکے ذریعے پورا کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔انکے ہونٹوں پر خود با خود طنزیہ مسکراہٹ آ گئی تھی ۔۔۔۔
جس کے بعد وہ کارڈ اپنے کوٹ کی جیب میں رکھتے وہاں سے نکلتے چلے گئے ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°
اس نے ہمت کر کے بمشکل اپنی بھاری ہوتی پلکوں کو کھولا ۔۔۔۔جب اسے اپنا چہرہ کسی سخت چیز کے اوپر پڑا معلوم ہوا ۔۔۔۔
نیم غنودگی سے ہوش کی دنیا میں قدم رکھتے اسے چند پل لگے تھے ۔۔۔۔اور یہ سخت چیز اس کیلئے انجان بالکل نہیں تھی ۔۔۔۔بلکہ وہ تو سالوں سے اس پر سر رکھ کر سونے کی عادی تھی ۔۔۔
لیکن آج اس میں دوڑتی زندگی کی رمق اسے بہت ہلکی محسوس ہوئی ۔۔۔۔جس پر گھبراتے ہوئے اس نے ایک جھٹکے سے اپنا سر اٹھایا ۔۔۔۔
جس کے ساتھ ہی اسے اپنے پہلو میں درد کی ایک شدید لہر دوڑتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔
جسے لب بھینچ کر برداشت کرتے ۔۔۔۔اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں اپنے محبوب شوہر کا چہرہ تھاما ۔۔۔۔
مان ۔۔”
مان اٹھیں پلیز ۔۔۔۔”
خون میں لت پت اسکے وجود کو دیکھتے وہ تڑپ کر روتے ہوئے اسے پکارنے لگی ۔۔۔۔۔
وہ جو اسکی ایک ہلکی سی پکار پر سو بار جی کہاں کرتا تھا آج منتوں اور ترلوں پر بھی نہیں اٹھ رہا تھا ۔۔۔۔
اسکے وجود سے بہتا لہو سیٹ سے ہوتے نیچے حجاب کے پیروں میں گر رہا تھا ۔۔۔۔
جس پر اسے اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔مان کے جواب نا دینے پر حجاب نے جھک کر اسکے دل کے مقام پر سر رکھا ۔۔۔۔جہاں ابھی ہلکی ہلکی ہی سہی ۔۔۔لیکن زندگی کی رمق باقی تھی ۔۔۔۔
جس سے ایک امید کی کرن حجاب کے دل میں روشن ہوئی تھی ۔۔۔۔
اور ایک نظر اسکے بیہوش وجود کو دیکھنے کے بعد گاڑی کا دروازہ کھولتے باہر نکلی ۔۔۔۔تاکہ کسی راہ گیر سے مدد لے کر مان کو ہاسپٹل لے جا سکے ۔۔۔۔
اسکے بازو سے بہتا لہو اور اس سے اٹھتی ٹیسیں ۔۔۔اسکے برداشت سے باہر تھیں ۔۔۔۔
لیکن آج کسی بھی قیمت پر اسے ہار نہیں ماننی تھی ۔۔۔۔اس لیے وہ اپنے درد کو اگنور کیے اپنی گاڑی سے نکل کر پیچھے گارڈز کی گاڑی کی طرف آئی ۔۔۔۔
لیکن وہاں بھی منظر انکی گاڑی سے کچھ مختلف نہیں تھا ۔۔۔۔گارڈز کی لاشوں اور ان سے بہتے ہوئے خون کو دیکھتے اس نے بےساختہ اپنے لبوں پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔۔
اور پھر سڑک کے بالکل بیچ میں کھڑے ہو کر اس نے دونوں اطراف نظر دوڑائی ۔۔۔۔
جہاں رات کے اس پہر گھنور اندھیرے میں اسے روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی تھی ۔۔۔۔
ہر طرف بس ایک وحشت کا ماحول تھا ۔۔۔۔حبس زدہ فضاء میں سانس لیتے اسے اپنا دم بھی کہیں گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔
اس نے دل میں بےساختہ ہی اللہ کو پکارا ۔۔۔۔
تبھی دور کہیں اسے ایک روشنی دکھائی دی تھی ۔۔۔۔جو دھیرے دھیرے اسکی طرف ہی بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔
جسے دیکھ اسے ایسا لگا کہ جیسے بجھتے ہوئے چراغوں میں کسی نے دوبارہ زندگی بھر دی ہو ۔۔۔۔وہ اپنا بھاری کامدار لباس سنبھال کر فورا اس طرف بڑھی اور ہاتھ ہاتھ ہلا ہلا کر گاڑی روکنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔
گاڑی میں بیٹھے ڈرائیور نے اس سے چند قدم کے فاصلے پر آکر گاڑی کو روکا ۔۔۔۔
جبکہ اسے رکتے دیکھ حجاب کی خوشی دیکھنے لائق تھی ۔۔۔۔خاص طور پر اس سے نکلتے انسان کو دیکھ کر وہ بھاگ کر اس کے سینے کا حصہ بنی ۔۔۔۔
لالا “
اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا ۔۔۔۔
کیا ہوا گڑیا تم اس حال میں ۔۔۔اسے خود سے الگ کرتے نرمی سے بولے تھے ۔۔۔۔
لالا دیکھیں نا میرے مان کو کیا ہو گیا ۔۔۔پلیز انہیں ہاسپٹل لے کر چلیں ۔۔۔۔ورنہ انہیں کچھ ہو جائے گا ۔۔۔۔
وہ موسی شاہ کے ہاتھ کو تھامتی ہوئی ۔۔۔۔اپنی گاڑی کی طرف کھینچ کر لیجانے لگی ۔۔۔۔
موسی شاہ نے حجاب کو ایک سائڈ کرتے خود آگے بڑھ کر مان کی نبض اور سانسیں چیک کی ۔۔۔۔جن میں ابھی کہیں کہیں ہی سہی لیکن زندگی باقی تھی ۔۔۔۔
اور پیچھے مڑ کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔جو آنکھوں میں آنسو لیے اسکی طرف ہی امید بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
ہاں ابھی زندہ ہے ۔۔۔۔لیکن اب نہیں رہے گا ۔۔۔۔
وہ جو انکی پہلی بات سن کر خوش ہوئی تھی انکی آخری بات پر حیرت سے انکی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔
لالا “
جس پر انہوں کمینگی سے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔۔
اچھا ہوا نا میں اس بیوقوف اپنے بھائی کے دیوانے کے آسرے پر نہیں رہا بلکہ خود چیک کرنے آ گیا ورنہ میرا بنا بنایا پلین خراب ہو جاتا ۔۔۔۔
نفی میں سر ہلاتے منہ میں بڑبڑایا ۔۔۔۔
اور اپنی جیب سے ریوالور نکال کر بنا اسے سمجھنے کا موقع دیئے ۔۔۔۔مان کے دل کا نشانہ لیا ۔۔۔۔
فضاء میں ایک بار پھر گولی کی آواز گونجی ۔۔۔۔اور ساتھ مان کے زخمی وجود نے ایک جھٹکا لیا اور شاید آخری سانس بھی ۔۔۔۔
اسکے لبوں سے خون الٹی کی ماند باہر نکلا تھا اور وہ سیٹ سے تھوڑا اوپر اٹھ کر دوبارہ واپس گرا ۔۔۔۔
مان “
جسے دیکھتے حجاب کے لبوں سے دلخراش چیخ برآمد ہوئی تھی ۔۔۔۔
اور وہ موسی شاہ کو دھکا دیتے ہوئے ۔۔۔۔ آگے ہو کر اسکا چہرہ تھپتھپانے لگی ۔۔۔۔نہیں مان پلیز آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے ۔۔۔۔میں کیسے جیو گی آپ کے بنا ؟؟؟؟؟
پلیز اپنی حجاب کیلئے واپس آ جائیں ۔۔۔۔میں مر جاؤں گی آپکے بنا مان ۔۔۔۔
لیکن دوسری طرف اسکی ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھنے والا ۔۔۔ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گیا تھا ۔۔۔۔
مان ۔۔۔”
اسکی مسلسل خاموشی پر حجاب نے تقریبا اسے جھنجھوڑ ڈالا تھا ۔۔۔۔
کوشش بیکار ہے گڑیا اب وہ نہیں اٹھے گا ۔۔۔۔اپنے لہجے میں چاشنی ڈبوئے منصوعی پیار سے بولے ۔۔۔۔
جس پر حجاب نے پلٹ کر نفرت بھری نظروں سے انہیں دیکھا ۔۔۔۔
کیوں کیا آپ نے ایسا ۔۔۔۔آپ تو میرے بھائی ہیں نا ۔۔۔پھر کیوں اپنی بہن کی زندگی برباد کی ؟؟؟؟ بھائی تو بہنوں کے محافظ ہوتے ہیں ؟؟؟؟ انکی خوشیوں کے محافظ ہوتے ہیں ۔۔۔اور آپ نے اپنے ہاتھوں سے مجھے اجھاڑ دیا ۔۔۔ آخر کیا بگاڑا تھا مان نے آپکا ؟؟؟؟
آخر کیوں لالا ؟؟؟؟ لالا کیوں ؟؟؟؟
انکا گریبان پکڑتے ہوئے وہ ہزیانی انداز میں چیخی تھی ۔۔۔۔
جس پر انہوں نے ایک نظر اسکے معصوم چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔اور دھیما سا مسکرائے ۔۔۔۔
بہت اہم سوال میں نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔۔لیکن وہ کیا ہے نا ۔۔۔۔میرے پاس فلحال وقت نہیں ہے ۔۔۔۔ورنہ میں اپنی معصوم گڑیا کو اسکا جواب ضرور دیتا ۔۔۔۔بس اتنا جان لو آج جو سب کچھ ہو رہا ہے ۔۔۔۔تم لوگوں کے بڑوں کے کیے کا بھگتان ہے جو تمہیں بھرنا پڑ رہا ہے ۔۔۔
جس پر حجاب نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
تم اپنے چھوٹے سے دماغ پر زیادہ زور نا دو ۔۔۔۔کیونکہ یہ ساری باتیں ابھی تمہاری سمجھ میں نہیں آئیں گی ۔۔۔۔
میں جانتا ہوں میری پیاری بہن اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی تھی ۔۔۔۔کرتی تھی نا ؟؟؟؟
بات کرتے کرتے اچانک سے سوال کیا تھا ۔۔۔۔
حجاب کے پلے تو انکی کوئی بات نہیں پڑ رہی تھی ۔۔۔۔لیکن جہاں انہوں نے شوہر سے محبت کرتی تھی کا لفظ استعمال کیا ۔۔۔وہی اسکا دل مٹھی میں جکڑا گیا تھا ۔۔۔۔
میں محبت کرتی تھی ہی نہیں بلکہ کرتی ہوں ۔۔۔اور ہمیشہ کرتی رہوں گی ۔۔۔۔
اب کے رونے باوجود بھی مظبوط لہجے میں بولی ۔۔۔۔
دیکھیے گا اپنے مان کے ایک ایک خون کے قطرے کا حساب لوں گی آپ سے ۔۔۔
ہائے میں تو ڈر گیا ۔۔۔۔
حجاب کی دھمکی پر وہ مصنوعی ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے دونوں ہاتھ کھڑے کرتے گئے ۔۔۔۔
جس پر اس نے نفرت سے اپنا سر جھٹکا ۔۔۔۔
اور پھر دوبارہ مان کی طرف بڑھنے لگی جب انکی بات پر اسکے قدم تھمے تھے ۔۔۔۔
لیکن حساب لینے کیلئے تمہارا اس دنیا میں ہونا بھی تو ضروری ہے نا گڑیا ۔۔۔۔اور موسی شاہ اتنا بیوقوف نہیں جو اپنے پیچھے کوئی ثبوت چھوڑے ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ حجاب کو انکی بات سمجھ آتی انہوں نے پستول اس پر تانتے ٹریگر دبایا تھا ۔۔۔۔
جس سے نکلنے والی گولی سیدھا اسکے سینے پر لگی ۔۔۔۔اسکے وجود سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا ۔۔۔۔
حجاب کی بڑی بڑی آنکھیں کھل کر مزید بڑی ہو گئیں ۔۔۔سانس کہیں سینے میں اٹک گیا ۔۔۔جب انہوں نے دوسری گولی چلائی ۔۔۔۔جو اس کے وجود میں پیوست ہوتی اسکے رہے سہے اوسان بھی خطا کر گئی ۔۔۔
لالا ۔۔”
حجاب کے منہ سے بےنام سی سرگوشی نکلی اور پھر وہ بےدم ہوتی لہرا کر زمین پر گرنے لگی ۔۔۔
جب موسی شاہ نے ۔۔۔آگے بڑھ کر اسے تھامتے ہوئے نیچے گرنے سے بچایا ،،،، حجاب نے انکے گریبان کو تھاما ،،،، میری ،،،، بات یاد رکھیے گا ،،،، ایک دن آپکے سارے گناہوں کا احتساب ہوگا ،،،، میں بہن ہونے ،،، کے ناطے آپکو اپنا خون معاف کرتی ،،،، لیکن میرے مان کی تکلیف کا اسکے خون کی ایک ایک بوند کا حساب ،،،، آپ سے میرا اللہ لے گا ،،،، اور جس دن اسکی بےآواز لاٹھی ،،،، آپ پر برسے گی ،،،، آپکو اپنے بچاؤ کرنے کا بھی موقع نہیں ملے گا ،،،، اکھڑتی سانسوں کے درمیان اٹکتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔۔
جسے سن کر وہ مصنوعی ڈرنے اور دکھی ہونے کی ایکٹنگ کرنے لگے ۔۔۔۔لیکن پھر یکدم فضاء میں انکا جاندار قہقہہ گونجا ۔۔۔۔
حجاب نے تاسف بھری نظروں سے انکی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور پھر چہرہ موڑ کر ایک نظر گاڑی میں بےسدھ پڑے مان کو دیکھا ،،،، اتنی تکلیف کے باوجود بھی اسکے لب مسکرائے تھے اور ساتھ ہی اسکے وجود نے آخری ہچکی بھری تھی ۔۔۔۔
اسکے وجود کے ساتھ چلتی ہوئی دھڑکنیں بھی ساکت ہو گئی تھیں ۔۔۔۔جسکا یقین کر لینے کے بعد موسی شاہ نے بنا وقت ضائع کیے اسے اندر گاڑی میں ڈالا اور پھر دروازہ بند کرتے گہرا سانس فضاء کے سپرد کرتے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔
سگے رشتوں کا ایسا گھناونا روپ جس نے اس معصوم سی حجاب کی روح تک کو چھلنی کر دیا تھا ۔۔۔۔۔
کہ وہ اعتبار ٹوٹنے کا درد اسکے وجود سے سانسیں ختم ہونے کے باوجود بھی اسکی ادھ کھلی آنکھوں سے آنسو جاری رہنے کا سبب بن گیا تھا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°
احسن حیات سے ملاقات کرتے موسی شاہ نے حیدر شاہ سے انکی نفرت کا سبب جاننا چاہا ۔۔۔۔
جس پر انہوں نے مختصر لفظوں میں محسن کی ڈیتھ کے بارے میں بتایا ۔۔۔۔
اگر آپ برا نا مانو تو ایک مشورہ دوں ؟؟؟؟
انکی بات مکمل ہونے پر موسی شاہ ان سے مخاطب ہوئے ۔۔۔۔
جس پر انہوں نے انکی طرف سوالیہ دیکھا تھا ۔۔۔۔آپ حیدر شاہ کو اپنے بھائی کی موت کا زمہ دار سمجھتے ہیں ۔۔۔
اس لیے اپنے بھائی کے موت کے بدلے انہیں مار کر انتقام لینا چاہتے ہیں ۔۔۔۔رائٹ ؟؟؟؟؟
جس پر انہوں نے سر ہلایا ۔۔۔۔
لیکن آپکا کیا ۔۔۔۔آپ جو اپنے بھائی کے درد میں دن رات سلگتے ہیں اس عزیت کا کیا ؟؟؟؟؟
مطلب ؟؟؟؟
انہوں نے ناسمجھی سے دیکھا ۔۔۔۔
مطلب کہ بدلہ لینے کا مزہ تو تب ہے نا جب وہ بھی آپکی طرح اپنوں کیلئے تڑپے ۔۔۔دن رات انکی جدائی کی عزیت سہے ۔۔۔۔تب تو بات بنے ۔۔۔۔
ورنہ ایسے تو وہ ایک ہی بار میں تمام تکلیفوں سے چھٹکارا پا جائیں گے ۔۔۔۔
اپنی بات کہہ کر انہوں نے احسن حیات کی طرف دیکھا جو انکی بات پر کنفیوژن کا شکار ہو گئے تھے ۔۔۔۔
تو پھر ؟؟؟؟ اب مجھے کیا کرنا چاہیے ؟؟؟؟؟
انکی بات پر گہرا مسکرائے ۔۔۔۔آپکو بھی حیدر شاہ کو مارنے کی بجائے انکی کمزوری پر وار کرنا چاہیے ۔۔۔۔
مطلب انکے بیٹے ۔۔۔۔
جی بالکل سہی سمجھیں حیات صاحب ۔۔۔۔
لیکن کیا یہ سہی رہے گا ۔۔۔۔بالکل سہی رہے گا ۔۔۔۔زرا انہیں بھی تو پتا چلے کہ اپنوں کو کھونے کا غم کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔
میرے پاس ایک پلین ہے ؟؟؟؟
جس پر وہ انکی طرف متوجہ ہوئے تھے ۔
لیکن۔۔۔۔۔
لیکن ویکن کچھ نہیں ۔۔۔۔آپ کچھ غلط نہیں کر رہے ۔۔۔۔اپنے معصوم بھائی کے بارے میں سوچیں ۔۔۔۔جو صرف انکی سنگدلی کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے آپ سے دور ہو گیا تھا ۔۔۔۔
بہت صفائی سے انکا ہمدرد بنتے ۔۔۔۔انہیں اپنے باتوں کے جال میں پھنسایا تھا ۔۔۔۔
جس پر ان کی آنکھوں میں قہر اترا اور وہ تمام صحیح غلط کی پہچان بھولائے ہامی بھر گئے تھے ۔۔۔۔
اور قسمت نے بہت جلد انکے پلین کو عملی جامہ پہنانے کا انہیں موقع دے دیا ۔۔۔۔وہ دونوں جو انکی طرف سے ایک غلطی کے خواہش مند تھے مان کی دیر رات واپسی کے فیصلے نے انکی خواہش پوری کر دی تھی ۔۔۔۔
بظاہر تو یہ سب احسن حیات کے اشارے پر انجام دیئے جانے والا فعل تھا ۔۔۔۔لیکن اس قتل اور بدلے کے پیچھے تو کوئی اور ہی کہانی چھپی ہوئی تھی ۔۔۔۔
جس پر سے پردہ قسمت بہت جلد اٹھانے والی تھی ۔۔۔۔
