Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 42)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 42)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
ماضی
یونی کے پہلے دن سے لے کر اب تک حجاب کو خود پر کسی کی نظریں محسوس ہوتی تھیں ۔۔۔۔۔
لیکن آس پاس دیکھنے پر وہاں کوئی موجود نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔۔
جو اسکے ڈر میں مزید اضافہ کرتا ۔۔۔۔۔
جسکا ذکر اس نے روباب سے بھی کیا تھا ،،،،، لیکن وہ آس پاس کسی متوجہ نا دیکھ کر یہی کہتی کہ تمہارا وہم ہے اور کچھ نہیں ۔۔۔۔۔
جس پر وہ صرف سر ہلا کر رہ جاتی ۔۔۔۔۔
دوسری طرف محسن حیات جو پہلی نظر میں ہی محبت کا شکار ہوا تھا اسکی نظریں ہر وقت اسکے معصوم چہرے کا طواف کرتی رہتی تھیں ۔۔۔۔۔
لیکن جب وہ اسکی نظروں کی تپش محسوس کر کے آس پاس دیکھتی تو وہ اپنی نظریں جھکا کر اور طرف متوجہ ہوتے خود کو مصروف ظاہر کرتا ۔۔۔۔۔
اسے حجاب کی معصومیت اسکا ڈرنا چھوٹی چھوٹی بات پر پزل ہوتے گھبرانا بہت پیارا لگتا تھا ۔۔۔۔۔
اور جب وہ روباب کی کسی بات پر مسکراتی تھی تو اسکے دائیں گال میں ظاہر ہوتے بھنور میں اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا ۔۔۔۔۔
وہ اس بات کا اظہار اپنے دل میں ہزاروں بار کر چکا تھا کہ اسے حجاب ابراہیم شاہ سے محبت نہیں بلکہ عشق ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
جس کا اظہار وہ اس سے نکاح پاک بندھن میں بندھنے کے بعد ہی کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔۔۔۔
جس کو پایا تکمیل تک پہنچانے کیلئے وہ بہت جلد اپنے گھر والوں سے بات کرنے والا تھا ۔۔۔۔۔
اور اسکے گھر میں تھا کون سوائے ایک بار بڑے بھائی کے جسکی کل کائنات وہ خود ہی تھا ۔۔۔۔۔
اسے پورا یقین تھا اسکا بھائی اسکی یہ خواہش ضرور پوری کرتا ۔۔۔۔۔
لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ قسمت نے بہت پہلے ہی اسے کسی اور کے مقدر میں لکھ دیا تھا ،،،،،، جسے بدلنا اب اسکے ہاتھ میں بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھئی آجکل تو کوئی ہمیں لفٹ ہی نہیں کرا رہا ،،،،،، بڑے بھائی کی تو کوئی وقت ہی نہیں رہ گئی ۔۔۔۔۔
وہ اپنی سوچوں میں گم مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا ،،،،، جب پیچھے سے احسن حیات نے اسے مخاطب کیا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر وہ خجل سا ہوتا آنکھیں بند کر کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر گہرا سانس کھینچ کر مسکراتے ہوئے پلٹا تھا ۔۔۔۔۔
اور پھر اتنے دنوں بعد گھر واپس آئے سامنے کھڑے اپنے بڑے بھائی کو دیکھ کر خوش ہوتا آگے بڑھ کر اسکے سینے سے لگا ۔۔۔۔۔
سوری بھیو میں نے آپکو دیکھا نہیں ۔۔۔۔۔
ہاں بھئی اب تم ہمیں کیوں دیکھو گے ،،،،،، جسکی نظروں اور سوچوں میں اب کوئی اور بس گیا ہے ۔۔۔۔۔
جس پر محسن نے حیران نظروں سے اسکی طرف دیکھا ،،،،، لیکن پھر انکے چہرے سجی معنی خیز مسکراہٹ کو دیکھتے ہوئے وہ بھی نفی میں سر ہلاتا دلکشی سے مسکرایا ۔۔۔۔۔
بھلا وہ کیسے بھول گیا کہ اسکا بھائی اسکی کسی بات سے انجان نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔۔
تو ہمارے شہزادے کو پیار ہو گیا ہے ؟؟؟؟؟
وہ ایک بار پھر شرارت سے گویا ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
جس پر وہ خجل سا ہوتا دوبارہ انکے کشادہ سینے کا حصہ بنا ۔۔۔۔۔
جس کے بدلے انہوں نے محبت سے اسکی پیٹھ تھپتھپائی تھی ۔۔۔۔۔
تو پھر اظہار کیا ہمارے شیر نے ؟؟؟؟؟
اسے لے کر لاؤنج میں رکھے صوفے پر براجمان ہوتے مسکرا کر بولے ۔۔۔۔
نہیں بھیو وہ بہت معصوم ہے ،،،،، چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہت جلدی ڈر جاتی اور خاندانی بھی ہے ۔۔۔۔۔
مجھے ایسے بنا کسی رشتے کے اظہار کرنا مجھے مناسب نہیں لگا ۔۔۔۔۔
تو اس میں کونسی بڑی بات ہے بہت جلد ہم ان گھر جا کر رشتہ جوڑ لیں گے ۔۔۔۔۔
آپ سچ کہہ رہے ہیں ؟؟؟؟
انکی بات پر خوش ہوتا فورا بولا ۔۔۔۔
لیکن پھر اپنی جلد بازی کا احساس ہوتے اور انہیں اپنی طرف دیکھتے دیکھ کر سر جھکا گیا ۔۔۔۔۔
جس پر انہوں نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔۔۔
بالکل میری جان بھلا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ نے کسی چیز کی خواہش کی ہو اور آپکے بھائی نے وہ پوری نا کی ہو ۔۔۔۔۔
جس پر اس نے مسکراتے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔
ہم بہت جلد انکے گھر اپنے لاڈلے کا رشتہ لے کر جائیں گے ۔۔۔۔۔۔
لیکن ابھی تو آپ کی شادی بھی نہیں ہوئی ،،،،، میں آپ سے پہلے شادی کیسے کر سکتا ہوں ؟؟؟؟؟
میری جان میرے لیے آپ سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔۔ اور رہی میری شادی کی بات تو وہ کر لیں گے اس میں کونسی بڑی بات ہے ۔۔۔۔۔
جس پر وہ بھی مسکرا کر سر ہلا گیا ۔۔۔۔۔۔
اچھا آپ نے اس بار بہت دن لگا دیئے واپس آنے میں ،،،،،، جس کے بعد وہ دونوں بھائی آنے والے وقت سے انجان مسکراتے ہوئے دوسری باتوں میں مصروف ہو گئے ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حال
سر میں کوشش کر تو رہی ہوں ،،،،،، آپکو سمجھنا ہوگا میں نکاح کو لے کر واسم شاہ پر کسی بھی قسم کا دباؤ نہیں ڈال سکتی ۔۔۔۔
اور ویسے بھی میری ماں کو مر*ے ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں ،،،،، کچھ دن تو یہ رونے دھونے کا ڈرامہ کنٹینیو کرنا ہی ہوگا ۔۔۔۔۔
وہ بہت شاطر انسان ہے اگر اس کو مجھ پر کسی بھی قسم کا شک ہو گیا تو ہمارا سارا بنا بنایا پلین خراب ہو جائے گا ۔۔۔۔۔
معروف اپنے کیبن میں بیٹھی ہوئی دھیمے لہجے میں اپنے باس کو سمجھا رہی تھی جو اسے جلد از جلد واسم سے نکاح کرنے کا بول رہا تھا ۔۔۔۔۔
میں وہ سب کچھ نہیں جانتا ،،،،،، مجھے ہر حال میں نتیجہ چاہیے ،،،،، میں پہلے ہی تمہیں ضرورت سے زیادہ وقت دے چکا ہوں ۔۔۔۔۔
اگر اگلے ایک ہفتے میں تم نے یہ کام مکمل نہیں کیا تھا ،،،،، تو تمہارے لیے یہ بالکل بھی اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔
اسکی دھمکی سن کر ایک پل کیلئے معروف جیسی لڑکی بھی جی جان سے لرزی تھی ۔۔۔۔۔
کیونکہ اسکی سفا*کیت سے تو وہ اچھے سے واقف تھی ۔۔۔۔۔
بہت سے دل د*ہلا دینے والے نظارے اپنی آنکھوں سے جو دیکھ رکھے تھے ۔۔۔۔۔
جی ،،،،،،، سر میں ،،،،، کوشش کرتی ہوں ۔۔۔۔۔
بمشکل سہمے ہوئے لہجے میں اٹکتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
جس پر سامنے والے نے بنا کچھ کہے ہی فون بند کر دیا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ معروف اسکی دھمکی کی وجہ سے اس سردی میں بھی اپنی پیشانی پر آئی پسینے کی بوندوں کو صاف کرتی گہرا سانس کھینچ کر رہ گئی ۔۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف اپنے روم میں بیٹھا واسم شاہ کیمرے کی آنکھ سے اسکی حالت کو دیکھتے اور اسکی باتیں سنتے ہوئے معنی خیزی سے مسکرایا تھا ۔۔۔۔۔
پھر کریڈل سے فون اٹھاتے اپنے پی اے کو ملا کر اسے اندر بھیجنے کا بولا تھا ۔۔۔۔۔
جسکے کچھ دیر بعد ہی وہ دروازہ ناک کرتی اندر داخل ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
آپ نے مجھے بلایا سر “
ہاں بیٹھو “
اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے خود سامنے ٹیبل پر رکھا ہوا ایک خوبصورت جیولری کا باکس اٹھاتے ہوئے خود اٹھ کر اسکے قریب آیا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر معروف نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔
کچھ دن بعد ہمارا نکاح ہے تو میں نے سوچا اپنی ہونے والی خوبصورت سی بیوی کو کوئی پیارا سا گفٹ دیدوں ۔۔۔۔۔
اپنے ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ سجاتے بہت پیار سے گویا ہوا ،،،،،، جس پر معروف نے شرمانے کی ایکٹنگ کرتے نظریں جھکائی تھیں ۔۔۔۔۔
دیکھو گی نہیں میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں ؟؟؟؟؟
اسکی جھکے سر کو دیکھتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بظاہر مسکرا کر بولا ۔۔۔۔۔
جس پر اس نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا تھا ،،،،، پھر اسکے ہاتھ سے وہ جیولری باکس تھامتے ہوئے کھولا ۔۔۔۔۔
جس میں بہت ہی نازک اور خوبصورت ڈائمنڈ کا پینڈٹ تھا ۔۔۔۔
جسے دیکھتے اسکی آنکھیں چمکی تھیں ۔۔۔۔۔
تھینک یو سر بہت پیارا ہے ۔۔۔۔۔
پھر مسکرا کر اسکا شکریہ ادا کرتی بولی ۔۔۔۔۔
ارے اس میں شکریہ کی کیا بات ہے ،،،،،، میری ہر چیز پر تمہارا حق ہے ۔۔۔۔۔
مسکراتے ہوئے لگاوٹ سے بولا ،،،،، جس پر اس نے سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔
جس کے وہ جیولری باکس بند کرنے لگی ،،،،، جب وہ اسے روکتے دوبارہ مخاطب ہوا ۔۔۔۔۔
مجھے پہن کر نہیں دکھاو گی ۔۔۔۔۔
لیکن سر ابھی “
ہاں بالکل ابھی اور اسی وقت ۔۔۔۔۔
جس پر نا چاہتے ہوئے بھی معروف نے وہ پینڈٹ نکال کر اپنے گلے کی زینت بنایا ،،،،، جو اسکی سفید صراحی دار گردن میں بہت جچ رہا تھا ۔۔۔۔۔
یہ میرا پہلا تحفہ ہے تمہارے لیے میرے پیار کی نشانی ،،،،،، جو میں چاہتا ہوں تم کبھی خود سے جدا نا کرو ۔۔۔۔۔
وہ اسکے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھتے دلفریبی سے بولا تھا ،،،،،، جس پر وہ شرما کر اپنا سر ہلا گئی تھی ۔۔۔۔۔
جسے دیکھتے واسم کے چہرے کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلتی ہوئی گاڑی میں ابرش کی سوں سوں ابھی تک جاری تھی ،،،،،، انہیں حویلی سے نکلے ہوئے کافی دیر ہو گئی تھی اور اب تو وہ تقریبا شہر کی حدود میں داخل ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔
حویلی سے روانہ ہوتے گھر والوں سے ملتے ہوئے آج ابرش شادی والے دن سے بھی زیادہ روئی تھی ،،،،،، کیونکہ اسے لگ رہا تھا کہ اسکی اصل رخصتی آج ہوئی ہے ۔۔۔۔۔
جس پر عظمی بیگم نے بمشکل سمجھا بجھا کر چپ کروایا تھا ،،،،، البتہ ضارب شاہ نے کوئی خاص رسپانس نہیں دیا تھا ۔۔۔۔۔
اور اب بھی اسکے قریب بالکل بےنیاز ہو کر بیٹھا گاڑی کے باہر نظاروں کو دیکھ رہا تھا جس سے اس سے ضروری کوئی کام ہی نا ہو زندگی میں ۔۔۔۔۔
اور اسکی یہی بےرخی ابرش کو اور زیادہ رونے پر مجبور کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ اپنے روٹھے ہوئے پیا کو وہ کیسے منائے ،،،،، اور نا ہی اس نے پہلے یہ کام کبھی انجام دیا تھا ۔۔۔۔۔
کیونکہ کبھی کوئی اس سے ناراض ہی نہیں ہوا تھا الٹا وہ سب سے ہوتی تھی ۔۔۔۔۔
لیکن اب وقت بدل چکا تھا ،،،،، وہ بار بار اپنی بھیگی ہوئی پلکیں اٹھا کر اسکی طرف دیکھتی ،،،،، لیکن اسکی پوزیشن میں کوئی فرق نا آئے دیکھ کر دوبارہ جھکا لیتی ۔۔۔۔۔
سا ،،،،،، سائیں “
لیکن آخر کب تک ایسا چلتا اس لیے اپنی اندر کی ساری ہمت جمع کرتے اس نے ضارب کو مخاطب کر لیا تھا ۔۔۔۔۔
جس پر ضارب نے چہرہ موڑتے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔۔۔
پلیز ،،، مجھے معاف “
اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتی گاڑی کو ایک زور دار جھٹکا لگا تھا اور وہ اپنی جگہ سے پھسلتی ہوئی ضارب سے ٹکرائی تھی ۔۔۔۔۔
جس پر اس نے اسے ایک ہاتھ سے تھاما تھا ۔۔۔۔۔
اور غور سے اپنے بہت قریب اسکے روئے روئے چہرے کو دیکھنے لگا ،،،،، جس میں سرخیاں سی گھلی ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔
لیکن پھر اپنی ناراضگی یاد کرتے اسے پیچھے کرنے لگا ،،،،، جب ابرش نے اسکے ارادے کو سمجھتے ہوئے اسکے کشادہ سینے میں اپنا چہرہ چھپایا تھا ۔۔۔۔۔
سوری “
اور ساتھ ہی اسکے گرد اپنی پکڑ مظبوط کی ،،،،،، جسے وہ چاہ بھی جھٹک نہیں سکا ،،،،، جبکہ اسکی اس حرکت پر اسکی گھنی مونچھوں تلے عنابی لبوں پر ہلکی سی سہی لیکن خوبصورت مسکراہٹ نے اپنی چھب دکھلائی تھی ۔۔۔۔۔
