Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 93)
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 93)
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
واسم کے بولے گئے الفاظ سن کر ابیہا نے حیرت سے سر اٹھا کر اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
لیکن نیلے نینوں میں نظر آتے جذبات نے اسے دوبارہ نظریں جھکانے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔
جبکہ اسے خود سے شرماتے دیکھ واسم کے ہونٹوں پر دھیمی مسکراہٹ آئی ۔۔۔
کیا ہوا ؟؟؟؟
اس نے تھوڑا سا جھکتے اسکے کان کے قریب گھمبیر سرگوشی کی ۔۔۔۔ساتھ ہی کان کی لوں پر اپنے دہکتے ہونٹ رب کیے ۔۔۔۔
جس سے ابیہا کے نازک وجود نے ایک جھرجھری سی لی ۔۔۔
کچھ ،،،، کچھ ،،،، بھی تو نہیں ۔۔۔۔
اٹک اٹک کر بولی ۔۔۔۔
سچ میں کیا ؟؟؟؟
واسم نے جھک کر اسکے سرخ رخساروں کو چھوا ۔۔۔۔
ج ،،،،، جی ۔۔۔۔
اسکے بھیگے نرم ہونٹوں کے ساتھ داڑھی مونچھوں کے چبھتے کسمساتے لمس پر بمشکل ہی بول پائی ۔۔۔۔
جبکہ اسکی بولتی بند ہوتے دیکھ ۔۔۔وہ نرمی سے مسکرایا ۔۔۔۔
پھر ہاتھ بڑھا کر اسکے بھیگے وجود کو نرمی سے ڈوپٹے کی قید سے آزاد کروایا ۔۔۔۔
واسم ۔۔۔۔
ابیہا نے تڑپ کر اسکے ہاتھوں کو تھاما ۔۔۔۔
واسم نے نظریں اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔۔بس پھر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی ۔۔۔ابیہا کے ہاتھ خود با خود پیچھے ہو گئے ۔۔۔۔
کمر پر بندھی ڈوریوں کو کھولتے کندھے سے شرٹ سرکاتے وہاں جھکتے نرمی سے لبوں سے چھوا ۔۔۔۔
ابیہا نے اپنا توازن برقرار رکھنے کیلئے اسکے کندھوں کو تھاما ۔۔۔۔اور دھڑکتے دل سے آنکھیں بند کر گئی ۔۔۔
واسم نے چند پل اسے محسوس کرنے کے بعد اسکا رخ بدلہ اور اسکی پشت سینے سے لگاتے ہوئے کمر پر پکڑ مظبوط کی اور پیچھے گردن میں جھک کر شدتیں نچھاور کرنے لگا ۔۔۔۔
آج واسم کے لمس میں ہلکی شدت کے ساتھ الگ سی نرمی کا تاثر تھا ۔۔۔۔وہ اسے بہت نرمی اور احتیاط کے ساتھ چھو رہا تھا ۔۔۔۔
جیسے کوئی کانچ کی گڑیا ۔۔۔۔
جسے محسوس کر کے اسکے لب خود با خود مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔۔۔
واسم نے دونوں ہاتھ اسکے کندھوں پر رکھتے ہوئے ۔۔۔۔
شرٹ نیچے کی طرف سرکائی ۔۔۔۔
جو اسکے بازوؤں سے پھسلتی اسکے ریشمی بدن سے سرکتی چلی گئی ۔۔۔۔ابیہا نے شرم سے سرخ پڑتے اپنی آنکھیں سختی سے بند کی ۔۔۔۔
واسم نے اسکا رخ اپنی طرف کیا ۔۔۔۔
پھر اسکی بند آنکھوں کو دیکھتے مسکرا کر ہونٹوں سے چھوتا ۔۔۔۔اسکے گرد ٹاول لپیٹ کر گود میں اٹھاتے قدم باہر کی طرف بڑھائے ۔۔۔۔
ابیہا نے بازو اسکے گلے میں باندھتے ۔۔۔۔سرخ چہرہ اسکی گردن میں چھپایا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°
واشروم سے نکل کر واسم سیدھا ڈریسنگ روم میں آیا تھا ۔۔۔۔اور اسے ایک طرف کھڑا کرتے ہوئے وارڈ روب سے ایک شاپنگ بیگ نکالا ۔۔۔۔
اور پھر پلٹ کر اسکی طرف دیکھا جو اب تک نظریں جھکائے کھڑی تھی ۔۔۔۔
دونوں کے درمیان کا فاصلہ سمیٹ کر وہ اسکے قریب آ کر کھڑا ہوا ۔۔۔۔
ابھی واسم نے اسکی طرف اپنا ایک ہاتھ بڑھایا ہی تھا جب وہ پھدک کر پیچھے ہوئی ۔۔۔۔
یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟؟؟؟
ٹاول کو سختی سے تھامتے ہوئے وہ جھجھکتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
کیا کر رہا ہوں میں ؟؟؟؟
وہ ایک بار پھر اسکے قریب ہوتا معنی خیز لہجے میں گویا ۔۔۔۔۔ابیہا نے نظر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
جو لو دیتی نگاہوں سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔البتہ چہرے سے سنجیدگی چھلک رہی تھی ۔۔۔۔
یہ آپ مجھے دے دیں ۔۔۔۔میں خود چینج کر لیتی ہوں ۔۔۔۔
اسکے ہاتھ میں بیگ کو دیکھتے ہوئے وہ نرمی سے بولی ،،،، جبکہ اسکی بےباک نگاہوں کو دیکھتے نظریں ایک بار پھر جھکا لی تھیں ۔۔۔۔
نہیں آج میں تمہیں خود تیار کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔
ایک ہاتھ سے اسے نرمی سے تھامتے اپنے قریب کرتا محبت سے بولا ۔۔۔۔
لیکن ۔۔۔۔”
شش “ اب آواز نا آئے ۔۔۔۔
اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش کرواتے ہوئے ۔۔۔۔وہ سرگوشی میں بولتا نرمی سے اپنے قریب کر گیا ۔۔۔۔
ابیہا کیلئے تو شرم سے نظریں اٹھانا مشکل ہو گیا ۔۔۔جبکہ چہرہ الگ خون چھلکانے لگا تھا ۔۔۔۔
اسکے نازک وجود کی دلکشی ،،،، کپکپاہٹ ،،،،، شرم و حیا ،،،،، تیز دھڑکتی دھڑکنوں کا رقص جسکی دھمک واسم کو اپنے کانوں تک سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔
واسم کیلئے خود کو کنٹرول کرنا کسی امتحان سے کم نہیں تھا لیکن وہ ضبط کا دامن تھامتے اپنی کاروائی مکمل کرتا ۔۔۔آرام سے پیچھے ہو گیا ۔۔۔۔
اور ایک بھرپور نظر ابیہا کے نازک سراپے پر ڈالی ،،،،، جو رائل بلو کلر کے اس فینسی ڈریس میں چاندی کی طرح دھمک رہی تھی ۔۔۔۔
نیٹ کی خوبصورت گھٹنوں سے نیچے تک آتی اوپن شرٹ جسکا درمیانی کٹ اوپر پیٹی کے ساتھ شروع ہو کر اینڈ تک جاتا تھا اور ساتھ نیچے گھیراؤ دار پلازو ،،،، جسکے گلے اور دامن پر وائٹ ڈائمنڈ کا خوبصورت کام کیا گیا تھا۔۔۔۔
جس نے اس ڈریس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کیا تھا ۔۔۔۔یہ ڈریس خوبصورت ہونے کے ساتھ ہلکا سا بولڈ بھی تھا ،،،، جس میں ابیہا کا نازک پیٹ درمیان میں لگے کٹ کی وجہ سے واضح ہو رہا تھا ۔۔۔۔واسم شاہ نے ابیہا کیلئے سپیشلی خود آڈر کر کے یہ اپنی پسند سے منگوایا تھا ۔۔۔۔
اور اسکی توقع کے عین مطابق ابیہا اس میں قیامت ڈھا رہی تھی ۔۔۔۔کہ چند پل کیلئے واسم شاہ خود بھی مہبوت رہ گیا ۔۔۔۔
پھر نفی میں سر ہلاتے مسکرا کر اسکا ہاتھ تھام کر باہر لاتے بیڈ پر بیٹھایا ۔۔۔
بس دو منٹ میں ابھی چینج کر کے آیا ۔۔۔۔
اور پھر جلدی سے ڈریسنگ روم میں دوبارہ بند ہو گیا ۔۔۔۔
ابیہا نے مسکرا کر اسکی چوڑی پشت کو دیکھا ۔۔۔۔پھر اٹھ کر خود آئینے کے سامنے آئی ۔۔۔۔
آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھتے ابیہا نے واسم شاہ کی پسند کو سراہا ۔۔۔۔
اور پھر اسکے آج کے رویے کو سوچتے شرم سے سرخ پڑتی دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا گئی ۔۔۔۔
تبھی رائل بلو کلر تھری پیس سوٹ میں وہ نک سک سا تیار باہر آیا ۔۔۔۔اور اسے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر شرماتے دیکھ دھیرے سے مسکرایا ۔۔۔۔
واسم چند قدموں سے دونوں کے درمیان کا فاصلہ سمیٹتے ہوئے ۔۔۔اسکے قریب آتے پشت سے اسے اپنے حصار میں لیا ۔۔۔۔
جس پر وہ کچھ ہوش میں آئی تھی ۔۔۔۔
نظریں اٹھائیں مسز ۔۔۔۔اسکی کان کی لوں کو لبوں سے چھوتے دھیمی سرگوشی کی ۔۔۔
ابیہا نے اپنی بھاری ہوتی پلکیں اٹھائی ۔۔۔اور سامنے آئینے میں دیکھا ۔۔۔۔جہاں ان دونوں کا عکس ایک ساتھ بہت مکمل اور خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔۔
جسے دیکھ کر ابیہا کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔لیکن ساتھ میں اسکی قربت کو محسوس کر کے شرم سے سرخ بھی ہوئی ۔۔۔۔مسز
For me,
You are a precious pearl of life
I can’t express my feelings…..
اس شرم و حیا کے پیکر کو دیکھتے گھمبیرتا سے بولتا اچانک رک گیا ۔۔۔۔شاید اپنے احساسات بیان کرنے کیلئے اسے الفاظ نہیں مل رہے تھے ۔۔۔
جبکہ اسکے لفظوں کو محسوس کرتے ابیہا نے حیرت سے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا ،،،، جو تھوڑا شش و پنج کا شکار نظر آ رہا تھا ۔۔۔
لیکن ابیہا کیلئے تو اس کے بولے گئے یہ دو جملے بھی ایسے تھے جیسے ان لفظوں میں اسے پوری کائنات مل گئی ہو ۔۔۔۔
ابیہا ۔۔۔۔”
اسے خود کو تکتے دیکھ واسم نے کچھ کہنا چاہا ۔۔۔۔
جب ابیہا نے ساری باتوں کو پس و پشت ڈالتے ہوئے دونوں بازو اسکی گردن میں باندھے اور تھوڑا اوپر ہو کر گھنی مونچھوں کے نیچے اسکے سرخ و سفید لبوں کے ساتھ اپنے نرم لب جوڑ دیئے ۔۔۔۔
اور محبت کے ساتھ ایک طویل بوسہ دیتے پیچھے ہو کر پیشانی اسکی کشادہ پیشانی پر ٹکائی ۔۔۔۔
Don’t worry ,,
I can understand ….
You have no need to express anything…..
Because we are soulmates ….
بہت محبت کے ساتھ کہتے ہوئے اسکی دونوں آنکھوں کو چوما اور پھر اپنے لب اسکی ٹھوڑی پر ٹکائے ۔۔۔
جس سے ایک سرشاری سی واسم شاہ کو اپنی رگ و جان میں دوڑتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔
ساتھ اسکے بےباک لمس پر پتا نہیں کیوں اسکا چہرہ ہلکا سا سرخ بھی ہو گیا تھا ۔۔۔۔
شاید اس لیے کہ ابیہا نے اپنی محبت کا ایسا والہانہ عملی اظہار پہلی بار کیا تھا ۔۔۔۔
سم آپ بلش کر رہے ہیں ؟؟؟؟
تھوڑی دیر بعد اس سے الگ ہو کر واسم کے سرخ چہرے کو دیکھتے ہوئے ابیہا نے قہقہہ لگایا تھا ۔۔۔۔
جس پر واسم نے فورا خود کو کمپوز کرتے اسے گھوری سے نوازا ۔۔۔۔
جسکا کم از کم فلحال ابیہا پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔
اووووو “ یو آر سو کیوٹ ۔۔۔ میں بتا نہیں سکتی مجھے اس وقت آپ پر کتنا پیار آیا رہا ہے ۔۔۔۔
اسکے دونوں گالوں کو کھینچتے مسکرا کر بولی ۔۔۔
جس پر واسم نے گہری نگاہوں سے اسکے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔پھر یکدم کمر سے تھامتے ہوئے اپنے قریب کر گیا ۔۔۔۔
جس سے ابیہا کی ہنسی کو فورا بریک لگا ۔۔۔۔
پیار تو مجھے بھی بہت آ رہا تم پر ،،،، لیکن اگر اس وقت میں نے اسکا عملی اظہار شروع کر دیا تو مجھے ڈر ہے کہیں تم وقت سے پہلے اپنے ہوش نا کھو دو ۔۔۔
ابیہا کے ناک کے ساتھ اپنی تیکھی ناک رب کرتے ہوئے معنی خیز نظروں سے دیکھا ۔۔۔جبکہ دونوں کے چہرے اس وقت اتنے قریب تھے کہ بولتے وقت واسم کے لب ابیہا کے لبوں سے مس ہو رہے تھے ۔۔۔۔
جس سے ایک بےچینی سی اسکے وجود میں سرائیت کرتے اسکی ساری شوخی اور شرارتوں کو اپنے ساتھ بہا لے گئی ۔۔۔۔
جبکہ اسکے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھتے اس بار قہقہہ لگانے کی باری واسم کی تھی ۔۔۔۔
ابیہا نے مہبوت ہو کر اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھا اور دل میں ماشاءاللہ بولتے بظاہر مصنوعی غصے کا اظہار کرتے ہوئے گھوری سے نوازا ۔۔۔
واسم نے بہت محبت سے اسکی سرخ ناک کو چومتے ہوئے ۔۔۔ہاتھ پکڑ کر آئینے کے سامنے ٹیبل پر بٹھایا ۔۔۔۔
اور بھیگے بال کھول کر ڈارائیر سے سکھاتے سلجھا کر انہیں ایسے ہی کھلا چھوڑ دیا ۔۔۔۔
اور پھر ٹیبل سے بلو کلر کی کانچ کی چوڑیاں اٹھا کر اسکے نازک ہاتھوں میں پہنانے لگا ۔۔۔۔
جبکہ ان سب کے دوران ابیہا محبت پاش نظروں سے اسکے وجیہہ چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا مسز ؟؟؟؟
وہ نگاہیں اسکی بھری بھری کلائیوں پر ٹکائے لب دبا کر شرارت سے گویا ہوا ۔۔۔
ابیہا نے سٹپٹاتے ہوئے فورا نظروں کا زاویہ بدلہ ۔۔۔۔
واسم نے ڈریسنگ کے ڈرار سے ایک جیولری باکس نکالا ۔۔۔
جس میں ایک بہت پیارا وائٹ ڈائمنڈ کا خوبصورت سیٹ تھا ۔۔۔۔جو اس بلو ڈریس کے ساتھ میچنگ کر کے اس نے ہی منگوایا تھا ۔۔۔
سم ہم کہاں جا رہے ہیں ؟؟؟؟
اسے جیولری نکالتے دیکھ سوال کیا ۔۔۔۔
سرپرائز ہے تمہارے لیے ۔۔۔۔اسکے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھتے مسکرا کر بولا ۔۔۔۔پھر ایک نظر دوبارہ اس سیٹ کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور ساتھ ڈریسنگ پر پڑی میک اپ کی چیزوں کی طرف ۔۔۔۔
میری بیوی کو ان سب چیزوں کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔ ویسے بھی مجھے ملاوٹ نہیں پسند ،،،، اور یہ تم پھر کبھی پہن لینا ۔۔۔۔کیونکہ بعد میں یہ میرے کام میں رکاوٹ ہی بنے گا ۔۔۔۔
تعریفی انداز میں اسکی طرف دیکھتے ہوئے اینڈ میں زومعنی اندازمیں کہتا ۔۔۔ سیٹ واپس ڈرار میں رکھتے چادر اسکے گرد اوڑھاتے ہوئے ہاتھ تھام کر باہر کی جانب بڑھا ۔۔۔۔
جبکہ ابیہا اسکے ساتھ چلتے ایسے تھی جیسے مٹی کا بت ۔۔۔۔کیونکہ اسکے سارے الفاظ واسم شاہ کے بےباک جملوں نے چھین لیے تھے ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°
سم کہاں لے کر جا رہے ہیں ؟؟؟؟؟
واسم ابیہا کو بازوؤں میں اٹھائے گاؤں کے کچے پکے راستے سے گزر کر اب پتھریلے راستے پر چل رہا تھا ۔۔۔
جسکے دونوں اطراف اونچے اونچے درخت تھے ۔۔۔رات کے اندھیرے میں ہر طرف یہاں سناٹا چھایا ہوا تھا ۔۔۔۔
ایسے میں فضاء میں گونجتی واسم کی بھاری قدموں کی آواز عجیب سا ارتعاش پیدا کر رہی تھی ۔۔۔
کہ ابیہا کا معصوم سا دل سینے میں سہم سہم جا رہا تھا ۔۔۔۔
سم مجھے کچھ بتائیں گے ۔۔۔۔
واسم کو اپنی بات کا نوٹس نا لیتے دیکھ اب کہ وہ چیخی تھی ۔۔۔
جس پر واسم نے ایک پل کیلئے رک کر اسے گھورا ۔۔۔۔کیوں گلا پھاڑ رہی ہو ۔۔۔۔
آپ مجھے بتا کیوں نہیں رہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔۔اور ہر دو منٹ بعد آپ مجھے گود میں کیوں اٹھا لیتے ہیں ۔۔۔۔میں کوئی چھوٹی بچی ہوں کیا ؟؟؟؟
اسکی بات پر واسم کے لب خوبصورتی سے مسکرائے تھے ۔۔۔۔
تمہیں کوئی شک ہے ۔۔۔۔میرے سامنے تو بچی ہی لگتی ہو ۔۔۔ لٹل بےبی گرل ۔۔۔
واسم نے ایک بار پھر اسکی ہائٹ کو نشانہ بنایا تھا ۔۔۔۔جس پر ابیہا نے اسے گھورا ۔۔۔
نیچے اتارے مجھے فورا ۔۔۔۔مجھے کہیں نہیں جانا آپ کے ساتھ ۔۔۔ناراضگی سے کہتے ہوئے نیچے اترنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف واسم جو اب چڑھائی چڑھ رہا تھا ۔۔۔ اسکا پاوں تھوڑا ڈس بیلنس ہوا تھا ۔۔۔۔لیکن وہ خود کو سنبھال گیا ۔۔۔
ابیہا ۔۔۔”
وہ غصے سے چیخا ۔۔۔
ابیہا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔۔۔۔جبکہ اسکے غصے کو دیکھتے کچھ سہمی ۔۔۔۔
سوری ۔۔۔”
فورا معذرت کی ۔۔۔لیکن اس بار اس نے کوئی جواب دینا ضروری نا سمجھا ۔۔۔اور چپ چاپ اوپر کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔
واسم کے جواب نا دینے پر ابیہا کا دل دکھا ۔۔۔جس پر بمشکل ہی اس نے پلکوں کو جھپکتے ہوئے خود کو رونے سے روکا ۔۔۔
جب اسکی نظر پیچھے راستے پر پڑی ۔۔۔
جسے دیکھتے وہ چند پل کیلئے سب بھولتی اس خوبصورت نظارے میں کھو گئی ۔۔۔
جہاں اونچے نیچے راستے میں موجود درختوں کے درمیان سبززار پر ہزاروں جگنوؤں رات کے اندھیرے میں اپنے نور سے روشنی پھیلا رہے تھے ۔۔۔
جنہیں دیکھ کر چند پل کیلئے ایسا گمان ہوتا تھا ۔۔۔۔کہ جیسے ستارے آسمان سے اتر کر زمین پر آ گئے ہو ۔۔۔
وہ لوگ اپنے ہی گاؤں میں موجود ایک پہاڑی پر موجود تھے جو کہ شاہ حویلی سے بس چند کلو میٹر کی دوری پر ہی واقع تھی ۔۔۔
پہاڑی کی چوٹی پر پہنچتے واسم نے دھیرے سے اسے نیچے اتارا تھا ۔۔۔۔
جہاں ایک طرف خوبصورت سا کیمپ بنا ہوا تھا ۔۔۔۔جسکے چاروں اطراف وائٹ پردوں کے ساتھ فیری لائٹس لگی ہوئی تھیں ۔۔۔
جبکہ اسکے بالکل سامنے ہی ایک چھوٹا سا ٹیبل رکھا تھا ۔۔۔۔جس پر گلاب کی پتیوں کے ساتھ چاروں اطراف میں دیے جل رہے تھے اور انکے درمیان میں ایک خوبصورت ریڈ ویلوٹ کا کیک پڑا تھا ۔۔۔۔
اور اسکے علاوہ پہاڑی کی چاروں طرف حفاظت کیلئے لگی ہوئی گرل کو بھی دیوں کے ساتھ فیری لائٹس سے سجایا گیا تھا ۔۔۔
جسے دیکھ کر ابیہا خوش ہونے کے ساتھ تھوڑا حیران بھی ہوئی تھی ۔۔۔۔اس نے پلٹ کر واسم کی طرف دیکھا ۔۔۔جب وہ اسکا ہاتھ تھام کر اس ٹیبل کی طرف بڑھا ۔۔۔۔
اور قریب پہنچ کر خود ایک قدم پیچھے ہو گیا ۔۔۔۔
ابیہا نے کیک پر لکھے ہوئے لفظوں کو پڑھا اور پھر حیران نظروں سے پلٹ کر واسم کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
سم یہ ۔۔۔۔
جبکہ حیرت اور خوشی کی زیادتی سے لفظ اسکے منہ سے نکلنے سے انکاری تھے ۔۔۔۔واسم نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔۔
ابیہا نے پلٹ کر دوبارہ لفظوں کو پڑھا ۔۔۔۔جنہیں اس ریڈ ویلوٹ کیک پر وائٹ کریم کے ساتھ بہت خوبصورتی سے لکھا گیا تھا ۔۔۔
Parents to be …..
Sim Bia ….
کونگریچولیشنز ۔۔۔۔
اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لے کر محبت سے سر پر بوسہ دیا ۔۔۔
خوشی کی زیادتی سے ابیہا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے ۔۔۔۔اس نے پلٹ کر اپنا چہرہ واسم کے سینے میں چھپایا اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا ۔۔۔
جس پر وہ پریشان ہوا ۔۔۔۔
ہےےےے۔۔۔۔۔
جاناں کیا ہوا ؟؟؟؟ اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے فکرمندی سے گویا ہوا ۔۔۔۔
جس پر اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔
پھر رو کیوں رہی ہو ؟؟؟؟
پتا نہیں ۔۔۔بس رونا آ رہا ہے ۔۔۔۔
اپنی فطرت کے برعکس آج انتہائی معصومیت سے بولی ۔۔۔
پاگل ۔۔۔
واسم نے نفی میں سر ہلاتے دوبارہ اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔
مجھے مبارکباد نہیں دو گی۔۔۔۔
چند لمحوں بعد جب وہ کچھ نارمل ہوئی تو واسم نے تھوڑا اسکے کان کے قریب جھکتے نرم سرگوشی کی ۔۔۔۔
جس پر ابیہا نے اپنا چہرہ اٹھایا ۔۔۔۔
مطلب ؟؟؟؟
وہ کیا سننا چاہتا تھا جانتے بھوجتے اپنی ابھر آنےوالی مسکراہٹ کو روک کر سوالیہ دیکھا ۔۔۔۔
مطلب کہ اکیلی تم ہی ماں نہیں بننے جا رہی ۔۔۔میں بھی باپ بننے جا رہا ہوں تمہارا فرض ہے کہ مجھے مبارکباد دو بلکہ اسکے ساتھ ساتھ تمہیں میرا شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے ۔۔۔۔
شکریہ وہ کس لیے ۔۔۔۔واسم کی بات پر ابیہا نے ناسمجھی سے سوال کیا ۔۔۔
وہ اس لیے مسز کے تمہیں اس مقام تک پہنچانے میں ۔۔۔۔ساری محنت تو میری ہی لگی ہے ۔۔۔
اسکے کان کی لوں کو دانتوں سے دباتے جان لیوا سرگوشی کی ۔۔۔
جس پر ابیہا پل میں گلال ہوئی ۔۔۔
جبکہ اسکے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھتے واسم کو بےساختہ ہی اس پر پیار آیا تھا ۔۔۔جس کے چلتے اس نے ابیہا کے سرخ گالوں کو باری باری نرمی چھوا ۔۔۔۔
سم “
اسکے کوٹ کو اپنی مٹھیوں میں دبوچتے وہ گہرا سانس لیتے اسے پکار گئی ۔۔۔۔
جب اسکی مشکل آسان کرتے واسم نے اپنے جذبات پر بندھ باندھا اور اسکا رخ پلٹ کر پشت اپنے سینے سے لگاتے ٹیبل پر رکھی چھری اسکے ہاتھ میں پکڑائی ۔۔۔
جسکا اشارہ سمجھ کر ابیہا نے کیک کٹ کرتے ہوئے ایک چھوٹا سا پیس اٹھایا اور واسم کے ہونٹوں سے لگایا ۔۔۔۔
جس پر اس نے نفی میں سر ہلاتے ۔۔۔۔اسکا ہاتھ تھام کر ابیہا کے لبوں کے قریب کرتے کھانے کا اشارہ کیا ۔۔۔
جس نے چھوٹی سی بائٹ لے کر وہ کیک کا ٹکڑا اسکی طرف بڑھایا ۔۔۔
واسم نے ایک نظر کیک کی طرف جبکہ دوسری نظر ابیہا کے ہونٹوں کی طرف دیکھا جس پر کریم لگی ہوئی تھی ۔۔۔
اور دھیرے سے اسکے ہونٹوں پر جھک آیا ۔۔۔
یہ زیادہ میٹھا تھا ۔۔۔۔نرمی سے اسکے نچلے ہونٹ کو اپنے لبوں میں لیتےسہلاتے ہوئے بےباکی سے گویا ہوا ۔۔۔۔
ابیہا نے شرم سے سرخ پڑتے اپنی نظریں جھکائی ۔۔۔۔
کیسا لگا میرا سرپرائز ؟؟؟؟؟
اس کی بڑھتی ہوئی دھڑکنوں کا خیال کرتے نرمی سے سوال کیا ۔۔۔۔
بہت بہت بہت اچھا ۔۔۔۔
لیکن ایک بات ہے سم ۔۔۔۔
اور وہ کیا ؟؟؟؟
ابیہا کی بات پر واسم نے سوالیہ دیکھا ۔۔۔۔
مجھے اس سے کہیں زیادہ خوشی تب ہوتی اگر ہم یہ سیلیبریشن اپنی فیملی کے ساتھ کرتے ۔۔۔
میں بھی سب کے درمیان اپنی خوشی منانا چاہتا تھا لیکن پھر زر لوگوں کی وجہ سے نہیں کیا ۔۔۔
سم “
وہ جو بہت دھیان سے اسکی بات سن رہی تھی ۔۔۔۔اس کے باہر سیلیبریٹ کرنے کی پیچھے کی وجہ جان کر افسوس سے دیکھنے لگی ۔۔۔
آپ ایسا کیسے کر سکتے ؟؟؟؟ مجھے حیرت ہو رہی ہے آپکی سوچ پر ۔۔۔ آخر کس بات کی سزا دے رہیں ہیں آپ زرمینے کو ۔۔۔جو کچھ بھی ہوا یا ماموں جان نے کیا اس میں اسکی کتنی غلطی تھی ۔۔۔
میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی آپ ایسی سوچ کے مالک ہونگے ۔۔۔کسی بےقصور کو یوں ذلیل کریں گے ۔۔۔۔ بچپن سے وہ ہم سب کے ساتھ رہی ہے ۔۔۔۔ اور یہ مت بھولیں وہ موسی شاہ کی بیٹی ہی نہیں زارون شاہ کی بیوی بھی ہے جو آپکا سگا بھائی ہے ۔۔۔کم از کم اس رشتے کا ہی کچھ لحاظ کر لیتے ۔۔۔ اس مشکل وقت میں جب اسے ہمارے سپورٹ کی ضرورت کتنی آسانی سے آپ نے نظریں پھیر لی ۔۔۔
نہایت افسوس سے کہتے ابیہا نے اسے شرمندہ کرنا چاہا ۔۔۔۔
ہو گیا تمہارا ۔۔۔یا کچھ اور سنانا بھی باقی ہے ۔۔۔ ابیہا کے خاموش ہوتے ہی وہ سرد لہجے میں بولا ۔۔۔
دنیا میں رحم دل صرف دو ہی تو لوگ موجود ہیں ۔۔۔۔ ایک تم اور دوسرا تمہارا بھائی ۔۔۔جو دوسروں کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں باقی سب تو بےحس ہیں نا ۔۔۔
جن میں سر فہرست سب سے اوپر واسم شاہ کا نام آتا ہے ۔۔۔
اسے اپنے حصار سے آزاد کرتے ہوئے ۔۔طنزیہ لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔
سم میرے کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔میں تو بس یہ کہنا چاہ رہی تھی ۔۔۔ آپ زر کے ساتھ اپنا رویہ ۔۔۔۔
تم نے ایک بار بھی جاننے کی کوشش کی میں نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔اسکے پیچھے وجہ کیا تھی ۔۔۔
اسکی بات پوری ہونے سے پہلے وہ غصے سے چیخا ۔۔۔
جس پر ابیہا سہم کر اس سے دور ہوئی ۔۔۔
ابھی چند دن پہلے اس نے اپنا بچہ کھویا ہے ۔۔۔اوپر سے اسکے باپ کی حقیقت ۔۔۔ایسے حالات میں اگر میں اپنی خوشیاں مناتا ۔۔۔تب اسکے دل میں بات نا آتی ۔۔۔۔اسے اپنی کم مائگی کا احساس ہوتا ۔۔۔اسکا دل نا دکھے اسی وجہ سے میں تمہیں یہاں لے کر آیا ۔۔۔
لیکن اب مجھے لگ رہا ہے جیسے میں نے بہت بڑی غلطی کر دی ۔۔۔
غصے سے کہتے ہوئے وہ اپنا رخ پلٹ چکا تھا ۔۔۔۔جبکہ ابیہا زر کے بچہ کھو دینے والی بات جان کر ابھی تک ششدر نظروں سے اسکی پشت کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
ساتھ ہی اسکی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی صورت ٹوٹ کر بہنے شروع ہو گئے تھے ۔۔۔
وہ اندازہ لگا سکتی تھی کہ اس وقت وہ کس تکلیف میں ہو سکتی تھی ۔۔۔اسے واسم اپنی جگہ بالکل ٹھیک لگا ۔۔۔۔
تبھی بھاگ کر وہ اسکی پشت کا حصہ بنی تھی ۔۔۔
ایم سوری ۔۔۔مجھے نہیں پتا تھا ۔۔۔
اس دن آپ نے زر کے ساتھ جیسا بیہیو کیا تھا ۔۔۔۔مجھے اچھا نہیں لگا ۔۔۔۔مجھے لگا آپ ماموں جان کی وجہ سے اسے اپنی خوشیوں میں شامل نہیں کرنا چاہتے ۔۔۔۔بس اسی لیے بولا ۔۔۔
پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔۔۔۔
اسکی چوڑی پشت پر پیشانی ٹکا کر نم لہجے میں گویا ہوئی ۔۔۔۔
جس پر وہ کچھ نرم پڑا تھا ۔۔۔۔
اس دن بس وقتی غصہ تھا میرا ،،،، ورنہ میں اتنا بھی کوئی ظالم نہیں جو کسی بےقصور کو بلاوجہ سزا دوں ۔۔۔۔
اسکے رونے پر وہ پلٹ کر دوبارہ اپنے حصار میں لیتا سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔۔۔
نہیں میرے سم تو بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔بہت نرم دل اور سب کا خیال کرنے والے ۔۔۔بس میں ہی آپکو سمجھ نا سکی ۔۔۔
اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بہت محبت سے گویا ہوئی ۔۔۔۔
مکھن لگا رہی ہو ؟؟؟؟
واسم نے اسکے گرد اپنی پکڑ مظبوط کرتے آبرو اچکائی ۔۔۔۔
جس پر اس نے لب دانتوں تلے دبا کر ابھرنے والی مسکراہٹ کو روکتے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔
واسم نے اسکے ہونٹوں میں چھپی مسکراہٹ کو دیکھتے اسے گھورا ۔۔۔۔
سم مجھے ایک بات بتائیں ۔۔۔۔جب آپکو زرمینے کی اتنی فکر ہے تو کیا ہو جاتا اگر آپ دو بول اسے تسلی کے بھی بول دیتے ۔۔۔اور آج تاشے لوگوں کے سامنے بھی آپکا بیہیور بہت روڈ تھا ۔۔۔
پہلی بات مجھے ایویں فضول میں دکھاوا کرنا نہیں آتا ۔۔۔سیکنڈ میری وائف کو میرے بغیر کوئی چھوئے مجھے یہ بالکل برداشت نہیں ۔۔۔۔
سم “
اسکے دوٹوک انداز پر ابیہا نے غصے سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔لیکن پھر نفی میں سر ہلاتے مسکرائی ۔۔۔
کیا چیز ہیں آپ ؟؟؟
بس ایسا ہی ہوں میں ۔۔۔۔
دوسری طرف لاپرواہی عروج پر تھی ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°
واسم اسے لے کیمپ کے اندر آیا تھا ۔۔۔۔جو تقریبا کافی بڑا تھا ۔۔۔اور اسکے درمیان میں چھوٹا مگر خوبصورت بیڈ رکھا گیا تھا ۔۔۔۔
جس پر سفید چادر بچھی ہوئی تھی ۔۔۔۔اور اسے مکمل گلاب کی پتیوں سے سجایا گیا تھا ۔۔۔۔
جسے دیکھ کر ابیہا کی نازک ہتھیلیاں پسینے سے بھیگی ۔۔۔۔اور وہ جو واسم کے آگے آگے چل رہی تھی یہ سب دیکھتے بدحواسی میں اسکا پاوں ڈس بیلنس ہوا ۔۔۔
اور اس سے پہلے وہ زمین پر گرتی واسم نے فورا اسے حصار میں لیا ۔۔۔۔
تم دیکھکر نہیں چل سکتی ابھی گر جاتی تو ؟؟؟؟ اسکی لاپرواہی پر وہ انتہائی غصے سے بولا ۔۔۔۔
ابیہا نے چونک کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔پہلے تو وہ ایسا بیہیو نہیں کرتا تھا ۔۔۔لیکن آج تو چھوٹی چھوٹی بات پر اسے پازیسو ہوتے دیکھ اسکا ننھا سا دل سہم رہا تھا ۔۔۔۔
کیا ہوا گیا سم میں نے جان بھوج تو نہیں کیا ۔۔۔۔اس کے ضرورت سے زیادہ ری ایکٹ کرنے پر وہ شکایتی نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔
واسم کو اپنے لہجے کا احساس ہوا ۔۔۔۔
اس نے اپنی سرخ آنکھیں بند کر کے دوبارہ کھولیں ۔۔۔۔اور ساتھ ہی گہرا سانس لے کر خود کو پرسکون کرتے اسکا ہاتھ تھام کر بہت نرمی سے اسے بیڈ پر بٹھایا ۔۔۔۔
اور خود گھٹنوں کے بل اسکے قدموں میں بیٹھا ۔۔۔
واسم ۔۔۔”
ابیہا فورا جھجھک کر اٹھتی اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔
بیٹھ جائیں مسز ۔۔۔۔
مسکرا کر اسکا ہاتھ تھامتے اسے دوبارہ بیٹھایا اور اپنا سر اسکی گود میں رکھتے بولنا شروع کیا ۔۔۔۔
تمہیں پتا ہے ابیہا ۔۔۔۔”
جب چاچو اور آنی کی ڈیتھ ہوئی تھی ۔۔۔۔ تب میں بہت چھوٹا تھا لیکن اس وقت ضارب کی جو حالت تھی ۔۔۔۔ اسے دیکھ کر میں بہت ڈر گیا تھا ،،،، اور وہ ڈر اس قدر حاوی تھا میرے دماغ پر کہ مجھے رات کو نیند تک نہیں آ رہی تھی۔۔۔
اور میں اپنے کمرے میں سونے کی بجائے ماما کے روم میں چلا گیا ۔۔۔اور ان سے وعدہ لیا کہ وہ مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جائے گی ۔۔۔۔جیسے چاچو آنی تم دونوں کو چھوڑ کر گئے ہیں ۔۔۔۔
اور انہوں نے بہت محبت کے ساتھ مجھ سے وعدہ کیا تھا ۔۔۔۔ اور میں پرسکون ہوتے وہی انکے پاس سو گیا ،،،،، یہ سوچ کر کہ میں انکے قریب رہوں گا تو وہ مجھے چھوڑ نہیں جائیں گی ۔۔۔۔بچہ تھا نا اس لیے سوچ بھی ویسی ہی نادان تھی ۔۔۔۔ابیہا کو لگا جیسے وہ مسکرایا ۔۔۔۔لیکن وہ دیکھ نہیں پائی کیونکہ واسم نے اپنا چہرہ اسکی گود میں چھپایا ہوا تھا ،،،،، لیکن پتا ہے اس کے بعد کیا ہوا ۔۔۔۔
بات کرتے کرتے اس نے اپنا چہرہ اٹھایا ۔۔۔جس پر اسکے اندر کا کرب واضح اپنی جھلک دکھا رہا تھا ۔۔۔۔
جب میری آنکھ کھلی تو ماما کہیں نہیں تھیں ۔۔۔۔ واسم کی آنکھیں چھلکی ،،،، ابیہا نے اسکا چہرہ تھام کر آنسو صاف کرتے نفی میں سر ہلایا ،،،،، تم سوچ بھی نہیں سکتی میں نے وہ وقت کیسے گزارا ۔۔۔یہاں تک کے گھر والوں سے بات تک کرنا بند کر دی تھی ۔۔۔۔
کیونکہ انہوں نے میری ماما کی جگہ کسی اور عورت کو دے دی تھی ۔۔۔۔
واسم کے لہجے میں درد ہی درد ہلکورے لے رہا تھا ۔۔۔۔جسے محسوس کر کے ابیہا کے خود کے آنسوؤں پر بھی قابو نا رہا ۔۔۔۔
اور اس کے بعد تم میری زندگی میں آئی ۔۔۔۔اپنے اندر کا درد ،،، اپنی تکلیف تم پر غصے کی صورت میں نکالتا تھا ۔۔۔تاکہ تمہیں خود سے دور رکھ سکوں ۔۔۔لیکن پتا نہیں تم میں کونسی کشش تھی ۔۔۔جو مجھے تمہاری طرف کھینچتی تھی ۔۔۔
شاید اس وجہ سے کہ تم شکل و صورت کے ساتھ انداز و اطوار میں بھی بالکل ماما جیسی تھی ۔۔۔۔اس لیے چاہ کر بھی میں تم پر سختی نہیں کر پایا اور تمہارے قریب ہوتا چلا گیا ۔۔۔
اور اس دن تمہارے اچانک غائب ہو جانے پر مجھے لگا میں نے تمہیں بھی ماما کی طرح ہمیشہ کیلئے کھو دیا ۔۔۔
مجھے لگا جیسے میرے جینے کی آخری وجہ بھی ختم ہو گئی ۔۔۔۔
اس وقت میری کیا کیفیت تھی میں کبھی بھی لفظوں میں بیان نہیں کر پاوں گا ۔۔۔
بات کرتے ہوئے واسم نے اپنی آنکھیں ابیہا کے سنہری کانچ پر ٹکا رکھی تھیں ،،،،، جس سے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے ۔۔۔۔
جبکہ اس دوران وہ دونوں اتنے قریب کے بولتے ہوئے واسم کے لب ابیہا کے پیٹ سے مس ہو رہے تھے ۔۔۔۔
لیکن اس بار میرے رب نے مجھے خالی ہاتھ نہیں لٹایا ،،،، بلکہ تمہارے ساتھ ساتھ برسوں پہلے مانگی گئیں میری دعاؤں کو قبولیت کا شرف بخشتے ہوئے میری ماما کو بھی میرے پاس واپس بھیج دیا اور اسکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت مجھ پر وسیع کرتے مجھے اولاد جیسی نعمت سے بھی نوازا ۔۔۔
تھوڑا اور قریب ہوتے اسکے پیٹ کو محبت سے چوما ۔۔۔۔جیسے اپنی اولاد کو محسوس کرنا چاہتا ہو ۔۔۔۔
ابیہا نے اسکے دہکتے لمس کو محسوس کرتے ہوئے جھرجھری سی لی ۔۔۔۔
جس کیلئے میں جتنا اپنے رب کا شکر ادا کروں اتنا ہی کم ہے ۔۔۔۔ لیکن اس خوشی کے ساتھ ایک ڈر ہے جو میرے دل میں کنڈلی مار کر بیٹھا ہے ۔۔۔۔کہ کہیں وہ مجھے اس خوشی سے نواز کر دوبارہ واپس نا لے لے ۔۔۔۔جیسے زر اور زارون کے ساتھ ہوا ۔۔۔
اب کہ پریشان ہوتے دوبارہ اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔
بس اسی وجہ سے تمہارا خیال رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔۔۔۔جانتا ہوں کبھی کبھی اوور ری ایکٹ کر جاتا ہوں ۔۔۔۔
بٹ کیا کروں ۔۔۔میری نیچر ہی ایسی ہے ۔۔۔۔اسکا میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔کیونکہ ،،،،،
کیونکہ آپ بس ایسے ہی ہیں ۔۔۔اور مجھے آپکے ساتھ ایسے ہی گزارا کرنا پڑے گا ۔۔۔۔
ابیہا اسکا جملہ اچکتے مسکرا کر نروٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔۔
جس پر واسم نے قہقہہ لگایا ۔۔۔۔
اور اسکے سر کے پیچھے ہاتھ رکھتے ہوئے خود پر جھکا کر اسکے لبوں کو پیار سے چوما ۔۔۔۔
ابیہا پل میں گلنار ہوئی ۔۔۔
واسم جیسے اس خوبصورت منظر میں کھو گیا ۔۔۔۔
سم “
جبکہ اسے یوں خود کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے دیکھ ابیہا نے جیسے اسے ہوش میں لانا چاہا ۔۔۔
واسم نے نظریں اسکے چہرے سے ہٹا کر اسکے نازک وجود پر ٹکائی ۔۔۔اور اسکی اوڑھی ہوئی چادر کو اتار کر ایک سائڈ پر رکھتے ہوئے اٹھ کر اسکے قریب ہوا ۔۔۔۔
جس سے گھبرا کر ابیہا یوں بیٹھے بیٹھے ہی پیچھے بیڈ پر لیٹ گئی ۔۔۔۔
واسم نے اسکے دونوں اطراف بازو ٹکاتے ہوئے ۔۔۔۔اسکی جھکی پلکوں کو دیکھا ۔۔۔۔اور پھر جھک کر بہت نرمی سے چھوتے ہوئے ۔۔۔اپنے دہکتے لب اسکے سرخ رخسار پر رکھے ۔۔۔۔
جس پر ابیہا نے گہرا سانس لیتے اسکے پہنے ہوئے کوٹ کو جکڑا ۔۔۔۔جبکہ ایک بار پھر اسے اپنی سانسیں بند ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔۔
جسے واسم نے بھی محسوس کر لیا ۔۔۔ بیا سانس لو ۔۔۔اسکا چہرہ نرمی سے تھپتھپاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
ابیہا نے گہرا سانس کھینچا ،،،، لیکن کامیاب نا ہوتے دیکھ نم آنکھوں سے اسکی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔
جب کوئی راستہ نظر نا آتے دیکھ واسم اس پر جھکا اور اپنی سانسوں سے اسکی اکھڑتی سانسیں سنوارنے لگا ۔۔۔۔
چند پل یونہی عمل کرنے کے بعد جب اسے لگا کہ ابیہا اب سانس لے رہی ہے تو دھیرے سے پیچھے ہوتے ۔۔۔۔اسکے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔جو اب گہرے سانس لیتی آنکھیں بند کر کے پڑی ہوئی تھی ۔۔۔
اگر تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو ہم گھر چلتے ہیں ۔۔۔ اتنا کہتے وہ پیچھے ہونے لگا ۔۔۔۔
جب ابیہا نے اپنے بازو اسکی گردن میں باندھتے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔
سرخ چہرے کے ساتھ بہت دھیمے لہجے میں بولی ۔۔۔۔واسم کے چہرے پر حسین مسکراہٹ بکھری ۔۔۔
سوچ لو ۔۔۔۔ میرے قریب آنے پر ہر دو منٹ بعد تمہاری سانسیں بند ہو رہی ہیں ۔۔۔ایسے میں میرے لمس کی شدتوں کو کیسے برداشت کرو گی ؟؟؟؟
اسکے بےباک سوال پر ابیہا کا چہرہ خون چھلکانے لگا ۔۔۔۔لیکن پھر خود کو کمپوز کرتے اپنی سرخ نظریں اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔
جس میں اسکی قربت کی خماری کے ساتھ شرارت بھی ناچ رہی تھی ۔۔۔۔
چلیں میری تو حالت ہی ایسی ہے لیکن آپکا اپنے بارے میں کیا خیال ہے ۔۔۔جو میری ایک کس پر لڑکیوں کی طرح شرما رہے تھے ۔۔۔۔
ابیہا نے بھی اسکی دھکتی رگ پر ہاتھ رکھا ۔۔۔جس پر واسم پہلے تو سٹپٹایا لیکن بعد میں کچھ سوچ کر معنی خیزی سے مسکرایا ۔۔۔
ابھی میں تمہیں بتاتا ہوں شرمانا کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔
اپنا کوٹ اتار کر ایک طرف پھینکتے ہوئے یکدم جھکا تھا ۔۔۔اور ایک شدت بھری جسارت اسکی دھڑکنوں کے مقام پر انجام دیتے اسکی دھڑکنوں کو اپنے قبضے میں کیا ۔۔۔۔ جس سے ابیہا کی چلتی ہوئی سانسیں ایک بار پھر رکیں۔۔۔
جبکہ اسکی حرکت پر وہ سر سے لے کر پاؤں کے ناخن تک سرخ پڑ گئی تھی ۔۔۔۔
سم “
ابیہا کو جب اپنی برداشت کی حد ختم ہوتی محسوس ہوئی تو نم لہجے میں التجایا پکار گئی۔۔۔
کیا ہوا ؟؟؟ بس اتنی ہی ہمت تھی ؟؟؟؟
اسکی پھولتی سانسوں اور نم آنکھوں پر چوٹ کرتے وہ استہزائیہ بولا ۔۔۔۔
ابیہا نے آنکھوں میں شکوہ بھر کر اس کی طرف دیکھا ۔۔۔
جسے واسم نے محبت سے باری باری چومتے ،،،، نرمی سے اسکی سانسوں پر قبضہ جمایا ۔۔۔۔
اور بہت چاہت اور توجہ سے اسے محسوس کرتے ۔۔۔۔اپنی شخصیت کا طلسم جگانے لگا۔۔۔۔
جبکہ اسکے نرم لمس پر مدہوش ہوتے ۔۔۔۔ابیہا نے اپنی آنکھیں نرمی سے بند کرتے اسکی پشت کو دونوں ہاتھوں سے تھاما ۔۔۔۔
جب وہ اسکے نچلے لب کو نرمی سے چھوتے ہوئے گردن اور پھر اسکی دھڑکنوں کو نرمی سے محسوس کرتے نازک سراپے کے حسین خدوخال کو نرمی سے چھوتے ہوئے پیٹ کی طرف آیا ۔۔۔۔
اور اسکی شرٹ کو ایک طرف کھسکاتے نرمی سے وہاں بوسے دینے لگا ۔۔۔۔اسکے نرم مدہوش کرتے اور کچھ کچھ کسمساتے لمس پر وہ بن آب کی مچھلی کی طرح تڑپنے لگی ۔۔۔۔
واسم ۔۔۔۔”
ابیہا نے تڑپ کر اسے پیچھے ہٹانا چاہا ۔۔۔لیکن وہ اسکے نرم وجود کے لمس میں کھویا اسکی روک ٹوک کو نظر انداز کرتے ہوئے ۔۔۔۔بہت جلد اسکے اور اپنے درمیان پردوں کو گراتا ان دونوں کی جان ایک کر گیا ۔۔۔۔
لیکن ایک بات تھی جو ابیہا نے اسکے لمس میں مدہوش ہونے سے پہلے شدت سے محسوس کی ۔۔۔۔ اور وہ تھی واسم شاہ کی نرمی اور احتیاط جس انداز سے آج وہ اسے چھو رہا تھا ۔۔۔۔
ابیہا کو اپنی قسمت پر رشک کرنے پر مجبور کر گیا ۔۔۔۔
