Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Sang Yaara (Episode 61)Part 2

Tere Sang Yaara by Wafa Shah

وقت نے اپنے پنے کچھ اور پلٹے تھے ۔۔۔۔۔”

شاہ حویلی کے بچے اب بڑے ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔اپنے جان سے عزیز رشتوں کو کھو کر جینا آسان تو نہیں تھا ۔۔۔۔”

لیکن پھر بھی انہوں نے ہمت کی تھی ۔۔۔۔۔

ضارب اور واسم شاہ بچپن کی چوکھٹ کو چھوڑ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکے تھے ۔۔۔۔۔اور جہاں ضارب شاہ کی شخصیت میں نکھار آتے اسکے لہجے اور برتاؤ میں ٹھہراؤ آیا تھا ۔۔۔۔۔

وہی واسم شاہ پہلے زیادہ غصیلہ اور خودسر ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن ایک چیز تھی جو ان دونوں کی شخصیت متواتر پائی جاتی تھی ۔۔۔۔وہ تھی ایک خاص قسم کی خاموشی ۔۔۔۔۔”

واسم شاہ میٹرک کلیئر ہوتے ہی ہائی

سٹڈیز کیلئے ملک سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔جبکہ ضارب شاہ نے یہی کہ ایک بڑے کالج میں ایڈمیشن لے لیا تھا ۔۔۔۔۔

البتہ زارون شاہ اس وقت ایٹ سٹینڈرڈ میں تھا ۔۔۔۔۔

عظمی بیگم نے اپنی دن رات کی محنت اور محبت سے شاہ حویلی والوں کے دل میں اپنی خاص جگہ بنا لی تھی ۔۔۔۔

ضارب ابیہا اور زرمینے کی بڑی ماں جبکہ زارون ابرش کی اپنی ماما میں جان بستی تھی۔۔۔۔۔

ایسا نہیں تھا کہ زارون روباب کو بھول گیا تھا ۔۔۔۔ ہر لمحہ ہر گھڑی اسے یاد کرتا تھا لیکن اب اسے صبر آ گیا تھا اور وہ عظمی بیگم کو ارمغان شاہ کی بیوی اور اپنی ماں کے طور پر قبول کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ ابرش نے ہوش سنبھالتے ہوئے اسے ہی اپنی ماں کی جگہ دیکھا تھا تو انہیں ہی اپنی سگی ماما سمجھتی تھی ۔۔۔۔۔

اور گھر کے بڑوں نے بھی اسکی غلط فہمی کو کبھی دور نہیں کیا تھا بلکہ بڑے بچوں کو بھی اچھے سے سمجھا دیا تھا ۔۔۔۔۔ابیہا ابرش اور زرمینے کو روباب کے بارے میں کچھ نا بتایا جائے ۔۔۔۔

سب کچھ سہی تھا اپنی جگہ لیکن اگر کچھ نہیں سدھرا تھا تو وہ تھا ارمغان شاہ اور واسم شاہ کا عظمی بیگم کے ساتھ رویہ ۔۔۔۔۔

واسم تو فلحال گھر سے دور تھا البتہ ارمغان شاہ نے انکے قریب ایک کمرے میں رہتے ہوئے بھی کبھی انہیں جاننے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔۔۔

وہ دونوں ایک ساتھ چل تو رہے تھے ۔۔۔۔۔لیکن ندی کے دو کناروں کی طرح جنکا ملن کبھی نہیں ہو سکتا تھا ۔۔۔۔۔

شادی کی شروعاتی دنوں میں عظمی بیگم نے انکے قریب ہونے کی کوشش کی تھی لیکن انکے سرد رویے کو دیکھتے اور بار بار دھتکارے جانے کی وجہ سے اپنی عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے انہوں نے بھی خاموشی اختیار کر لی ۔۔۔۔۔

اور خود کو بچوں میں اس طرح الجھا لیا کہ انہیں شوہر کے پیار کی کمی کبھی محسوس نا ہو ۔۔۔۔۔

لیکن تھیں وہ بھی عورت کسی نازک آبگینے کی طرح خوبصورت اور نازک جن کا دل بھی ارمغان شاہ کی توجہ کیلئے ترستا تھا لیکن انہوں نے کبھی انکا خیال نہیں کیا ۔۔۔۔

زیادہ تر تو وہ آفس میں ہی مصروف رہتے تھے ۔۔۔۔اور غلطی سے کبھی گھر میں دکھ جاتے تو اپنے کمرے سے منسلک سٹڈی میں بند ہو جاتے ۔۔۔۔

یہاں انہوں نے روباب کی ایک ایک چیز اور یادوں کو سنبھال کر رکھا تھا ۔۔۔۔

جبکہ آہستہ آہستہ عظمی بیگم کو بھی صبر آ گیا تھا ۔۔۔۔۔وہ خود سے انہیں مخاطب کرنا چھوڑ چکی تھیں ۔۔۔۔۔

گھر والوں کے سامنے بظاہر وہ ایک مکمل کپل دکھائی دیتے تھے ۔۔۔۔۔لیکن اصل حقیقت میں انکا رشتہ صرف کاغذی حد تک محدود تھا جنہیں دونوں ہی مجبوری میں نبھا رہے تھے ۔۔۔۔۔

ارمغان شاہ اپنے بچوں جبکہ عظمی اپنے ماں باپ کی خاطر ۔۔۔۔۔

کیونکہ وہ اس عمر میں کم از کم اپنی طرف سے کوئی تنگی نہیں دینا چاہتی تھیں ۔۔۔۔۔

دوسری طرف اتنے ماہ و سال گزر جانے کے باوجود بھی مان حجاب اور روباب کے قاتلوں کا کچھ پتا نہیں چلا تھا ۔۔۔۔۔

بلکہ ڈی ایس پی رحمان جو اس کیس کی جانچ پڑتال کر رہے تھے ۔۔۔۔ انکی ایک ایکسیڈنٹ میں موت واقع ہو چکی تھی ۔۔۔۔

جس کے بعد انکے اہل خانہ کہاں گئے تھے آج تک کسی کو پتا نا چل سکا تھا ۔۔۔۔۔

اس کیس کا کوئی سرا ہاتھ نا آتے دیکھ حیدر شاہ نے بھی اپنا معاملہ اللہ تعالٰی کے سپرد کرتے کیس بند کروا دیا تھا ۔۔۔۔

اور “بیشک وہ بہترین کارساز اور انصاف کرنے والا تھا “

لیکن انکی آزمائشیں ابھی ختم نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔ابھی تو دشمن کا ایک ایسا کاری وار باقی تھا جس نے انکی روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دینا تھا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی ایک معمول کا ہی دن تھا ۔۔۔۔۔

جب کالج کی واپسی پر ہمیشہ کی طرح ضارب نے زارون کے سکول کے آگے گاڑی روکی تھی ۔۔۔۔۔

اسکے پیچھے ہی گارڈز کی گاڑی رکی تھی ۔۔۔۔۔

اور کچھ ہی دیر بعد وہ مسکراتا ہوا سکول سے باہر نکلا تھا ۔۔۔۔۔

اس نے مسکرا کر دور سے ہی ہاتھ ہلایا تھا اور پھر تیز قدموں سے اسکی طرف بڑھنے لگا تھا ۔۔۔۔۔

جب اچانک درمیان میں ایک وین آ کر رکی تھی ۔۔۔۔۔

اس میں سے نکلتے مسلح افراد جنکے چہرے کالے نقابوں سے ڈھکے ہوئے تھے جبکہ ہاتھوں میں ہتھیار پکڑ کر رکھے تھے اسے کھینچ کر وین میں ڈالنے لگے ۔۔۔۔۔۔

جس پر زارون نے مزاحمت کی تو انہوں نے کھینچ کر ایک تھپڑ اسکے منہ پر جڑا ۔۔۔۔۔

جس سے وہ زمین پر گرا ۔۔۔۔جبکہ اسکا سر سڑک سے ٹکرایا ۔۔۔۔

ایک غنڈے نے اسے بازو سے پکڑتے ہوئے اٹھا کر گاڑی میں پھینکا ۔۔۔۔۔

جبکہ یہ سارا معاملہ دیکھتے ہوئے ضارب بھی اپنی گاڑی سے نکلتا ہوا انکی طرف بھاگا ۔۔۔۔اور ساتھ اسکے گارڈز بھی ۔۔۔۔۔

اور باقی نقاب پوشوں کے گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ہی وہ انہیں گھیر چکے تھے ۔۔۔۔۔

بدلے میں ان نقاب پوشوں نے بھی ان پر گنز تان لی ۔۔۔۔

جبکہ وہاں موجود لوگ خاموشی سے یہ سارا تماشا ہوتے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔لیکن ان ہاتھوں میں ہتھیاروں کو دیکھتے کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی ۔۔۔۔

کہ وہ آگے بڑھ کر اس بچے کو ان غنڈوں سے چھڑوا دے ۔۔۔۔۔سب کو اپنی زندگی پیاری تھی ۔۔۔۔۔

چھوڑو ہمارے بھائی کو ۔۔۔۔۔ اس غنڈے کو سائڈ کرتے ہوئے ضارب نے وین کے اندر سے زارون کو باہر کھینچنا چاہا جب اندر بیٹھے انکے لیڈر نے اسکے سر پر پستول رکھ دی ۔۔۔۔۔

ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو ابھی اسکی کھوپڑی اڑا دوں گا ۔۔۔۔۔

وہ دھاڑتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔۔۔

نہیں پلیز ہم کچھ نہیں کر رہے لیکن آپ انہیں کچھ مت کیجئے گا ۔۔۔۔

اسکی دھمکی پر ضارب کا دل زوروں سے دھڑکنیں لگا ۔۔۔۔اس نے پیچھے ہوتے التجا کی تھی ۔۔۔۔۔

آخر تھا تو وہ بھی بچہ ہی آخر سولہ سترہ سال عمر ہی کتنی ہوتی ہے ۔۔۔۔

اور ایسی صورتحال بھی پہلی بار دیکھی تھی ۔۔۔۔اس لیے جلدی ہی گھبرا گیا تھا ۔۔۔۔

بول اپنے بندوں کو ہتھیار یہی پھینک کر واپس اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھیں ۔۔۔۔

لیکن ۔۔۔۔”

بول رہا ہے یا اسے میں ٹھوک دوں ۔۔۔۔

زارون کی گردن پر پکڑ مظبوط کرتے ہوئے سر پر رکھی گن پر دباؤ دیتے ہوئے چیخ کر بولا ۔۔۔۔۔

نہیں پلیز ۔۔۔۔ہم بول رہے ہیں ۔۔۔۔۔”

جائیں آپ لوگ ۔۔۔۔پیچھے مڑ کر اشارہ کیا ۔۔۔۔۔

لیکن سائیں ۔۔۔۔۔

ہم کیا کہہ رہے ہیں آپ سمجھ نہیں آ رہا جیسے یہ بول رہے ہیں ویسا ہی کریں ۔۔۔۔۔

ان گارڈز میں جو ایک سینئر تھا اس نے سمجھانا چاہا لیکن ضارب نے درمیان دھاڑتے ہوئے جانے کا بولا ۔۔۔۔۔

مجبورا سب نے اپنے اپنے ہتھیار وہی زمین پر پھینکے اور گاڑیوں کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔۔

دیکھیں اب وہ لوگ چلیں گئے ہیں ۔۔۔۔۔آپ ہمارے بھائی کو چھوڑ دیں ۔۔۔۔بدلے میں آپکو جو کچھ بھی چاہیے ہم آپکو دینے کیلئے تیار ہیں ۔۔۔۔۔

لیکن پلیز ان کو چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔

اسکی بات پر اس نقاب پوش کے چہرے پر عجیب سے مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔

اور اس نے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا ۔۔۔۔جنہوں نے اپنی گنز سے ضارب کو چاروں طرف گھیر لیا ۔۔۔۔

اور اس نے اپنی دوسری طرف کا دروازہ کھولتے ہوئے اسکی گاڑیوں کے ٹائر کا نشانہ لیا ۔۔۔۔۔

جس سے وہ لوگ اگر انکا پیچھا کرنا بھی چاہیں تو کامیاب نا ہو سکیں ۔۔۔۔

جبکہ ان سب کے دوران زارون سر میں اٹھتی تکلیف کی وجہ سے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر چکا تھا ۔۔۔۔

ابے چپ کرتا ہے یا میں تجھے ہمیشہ کیلئے چپ کروا دوں ۔۔۔۔۔

زارون کے منہ پر تھپڑ مارتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔۔۔جس سے ضارب اپنی جان کی پرواہ کیے بنا آگے بڑھا تھا ۔۔۔۔۔

جب اسکے ساتھیوں نے اسے بھی قابو کرتے گاڑی میں ڈالا اور تیز رفتاری سے وہاں سے نکلتے چلے گئے ۔۔۔۔۔

ضارب نے بہت ہاتھ پیر چلانے چاہیں ۔۔۔۔لیکن وہ اکیلا ان ہٹے کٹے غنڈوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ زارون کو وہ لوگ پہلے ہی بیہوش کر چکے تھے ۔۔۔۔اور اسے بھی قابو میں نا آتے دیکھ کر ۔۔۔۔ایک غنڈے نے اسکے سر کے پچھلے حصے میں پستول کا بٹ مارا ۔۔۔۔

جسے وہ برداشت نہیں کر پایا تھا اور بیہوش ہو کر ایک طرف لڑھک گیا ۔۔۔۔

جس پر ان غنڈوں نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔

ان دونوں کے اغواء ہونے کی خبر حویلی والوں پر قیامت بن کر گری تھی ۔۔۔۔

اور وہ حیدر شاہ جو اپنے بھائی اور جوان بیٹے بہووں کی لاشیں دیکھ کر بھی ہمت نہیں ہارے تھے ۔۔۔۔۔

اپنے پوتوں کی اغواء کی خبر سن کر ڈھے گئے ۔۔۔۔۔

انہیں میجر ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور وہ ہسپتال پہنچ گئے تھے ۔۔۔۔۔۔

سچ کہتے ہیں اصل سے زیادہ سود پیارا ہوتا ہے ۔۔۔۔یہاں بھی کچھ یہی حساب تھا ۔۔۔۔۔۔

جبکہ یہ وقت ارمغان شاہ کیلئے بہت کٹھن تھا جسکا ایک ایک لمحہ ان کیلئے قیامت خیز تھا ۔۔۔۔۔

ایک طرف انکے والد جو پورے گھر کی ہمت تھے وہ ہاسپٹل کے بستر پر پڑے تھے جبکہ دوسری طرف انکے بھائی کی نشانی اسکا وارث جو انکی زمہ داری تھا اسکا خیال نہیں رکھ سکے تھے ۔۔۔۔۔

اور ساتھ میں اپنے چھوٹے جگر کے ٹکڑے کا بھی ۔۔۔۔۔

شاید ایک پل کیلئے وہ زارون کی گمشدگی پر پھر بھی صبر کر سکتے تھے ۔۔۔۔لیکن ضارب شاہ کی نہیں جس کی صورت میں انہیں اپنا چھوٹا بھائی اپنا مان نظر آتا تھا ۔۔۔۔۔

اور اس مشکل وقت میں موسی شاہ نے ایک بھائی بن کر انکا ساتھ دیا تھا ۔۔۔۔۔

تھانے میں ان دونوں کے اغواء کی رپورٹ درج ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔

لیکن چوبیس گھنٹے سے اوپر کا وقت گزرنے کے باوجود کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا تھا ۔۔۔۔۔

پولیس انہیں اب تک ڈھونڈنے میں ناکام ٹھہری تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ دوسری طرف گھر کی عورتوں کا الگ برا حال تھا ۔۔۔۔۔جو اپنے رب کے آگے مسلسل گڑگڑاتے ہوئے ان سب کی خیریت کی دعائیں مانگ رہی تھیں ۔۔۔۔۔

جو کہ کچھ حد تک رنگ لائی تھیں اور حیدر شاہ واپس زندگی کی طرف لوٹ آئے تھے ۔۔۔۔انہیں ہوش آ چکا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن ضارب زارون کا ابھی تک کچھ پتا نہیں چلا تھا ۔۔۔۔۔

جنکا ہوش میں آنے کے بعد وہ مسلسل پوچھ رہے تھے ۔۔۔۔

لیکن ارمغان شاہ کے پاس انہیں جواب دینے کیلئے کچھ نہیں تھا سوائے جھوٹی تسلیوں کے ۔۔۔۔۔

وہ بس اپنے رب سے انکی خیریت کی دعا ہی مانگتے سکتے تھے ۔۔۔۔۔ باقی وہ انہیں ڈھونڈنے کی اپنی مکمل کوشش کر چکے تھے ۔۔۔۔۔

جسکا خاطر خواہ کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔

ایک اندھیرے کمرے میں ضارب کو لکڑی کی کرسی پر رسیوں سے باندھا گیا تھا ۔۔۔۔۔

جسکا سر بیہوشی کی وجہ سے ایک طرف کو ڈھلکا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکے قدموں کے قریب ہی کچھ فاصلے پر زمین پر زارون بیہوش پڑا تھا ۔۔۔۔جسکے ہاتھ پاؤں بھی رسیوں کو بندھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔

جب دو نقاب پوش اس کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے ۔۔۔۔۔”

اور انکے ساتھ ہی بالکل پیچھے اس ساری گیم کا ماسٹر مائنڈ داخل ہوا ۔۔۔۔۔

اور حیدر شاہ کے وارثوں کی ایسی حالت کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر نفی میں سر ہلانے لگا ۔۔۔۔۔

جسکے بندوں نے آگے بڑھ کر اسے کرسی پیش کی تھی ۔۔۔۔۔

جس پر وہ مسکراتے ہوئے براجمان ہوا ۔۔۔۔۔

ہوش میں لاو اسے ۔۔۔۔۔” ضارب کی طرف اشارہ کیا گیا تھا ۔۔۔۔۔

جسکی فورا تکمیل ہوئی ۔۔۔۔اور ایک بندے نے پانی سے بھری بالٹی اسکے سر پر انڈیلی ۔۔۔۔۔

جس پر ہڑبڑا کر اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔۔۔

جسکے کھلتے ہی اس کے سر کے پچھلے حصے میں شدید درد کی ٹیسیں اٹھی تھیں ۔۔۔۔۔

اور وہ اپنی آنکھیں دوبارہ بند کرتا اسے برداشت کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔۔

ہننہہ “حیدر شاہ” نام کو کھینچ کر استہزائیہ لہجے میں ادا کیا گیا ۔۔۔۔۔۔

جس پر ضارب نے سر میں اٹھتے درد کو نظرانداز کرتے اپنے سامنے بیٹھے شخص کے چہرہ دیکھنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔۔

لیکن کامیاب نا ہو سکا کیونکہ ایک تو کمرے میں اس قدر اندھیرہ چھایا ہوا تھا کہ ایک ہاتھ کو دوسرا ہاتھ سجھائی نا دے ۔۔۔۔

دوسرا اسکے بندوں میں سے ایک کے ہاتھ میں ٹارچ تھی جو اس اندھیرے میں کمرے میں روشنی کا واحد سہارا تھی ۔۔۔۔۔

اور اسکا رخ بھی اسکے اور زارون کی طرف تھا ۔۔۔۔۔جس سے وہ تو ان دونوں کو دیکھ سکتے تھے لیکن یہ لوگ نہیں ۔۔۔۔۔

بڑا مان تھا اسے کہ اسکے ہوتے ہوئے کوئی اسکے خاندان کو ایک چھوٹی سی تکلیف بھی نہیں دے سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔

لیکن ہوا کیا ۔۔۔۔۔

اندھیرے میں اس وجود کا خطرناک قہقہہ گونجا ۔۔۔۔۔

پہلے اسکے چھوٹے بیٹے اور بہو کو مارا ۔۔۔۔۔ اور وہ کچھ نہیں کر سکا سوائے تڑپنے اور پھڑپھڑانے کے ۔۔۔۔۔۔

جبکہ اپنے ماں باپ کے ذکر پر ضارب نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں ۔۔۔۔

اور وہ ہلنے لگا لیکن اسے اس قدر سختی سے باندھا گیا تھا ہاتھ آزاد ہونے کی بجائے زخمی ہو گئے ۔۔۔۔

جسے دیکھ کر وہ وجود مسکرایا تھا۔۔۔۔

پھر اسکی بڑی بہو کو اسکے ہی گھر سے اسکی ناک کے نیچے سے اٹھوا لیا ۔۔۔۔۔پہلے اس سے اسکی عزت چھینی ۔۔۔۔

ضارب نے ضبط کی انتہا پر پہنچ کر اپنی آنکھیں بند کی اور اپنے رب سے دعا کرنے لگا کے اس سے اسکی قوت سماعت چھین لیں ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے وہ اسکے اندر کے حالات اچھے سے سمجھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اسکے چہرے پر مکرو مسکراہٹ ابھری ۔۔۔۔۔

ایک بار نہیں بلکہ کئی بار اور ایک انسان نے نہیں بلکہ میرے پورے بندے اسکی نشیلی جوانی سے مستفید ہوئے ۔۔۔۔۔

ضارب کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر بہنے لگے ۔۔۔۔۔جبکہ اپنی چیخوں کو دبانے کیلئے اس نے اپنے ہونٹوں کو اتنی سختی سے دبایا کہ اسے اپنے حلق میں نمکین ذائقہ گھلتا ہوا محسوس ہونے لگا ۔۔۔۔

اسکے لہجے سے صاف پتا چل رہا تھا ۔۔۔۔۔کہ وہ یہ ساری باتیں اسے ذہنی عزیت پہنچانے کیلئے کر رہا ہے ۔۔۔۔۔

لیکن فلحال ضارب کا معصوم ذہن دشمن کی ان سب چالوں کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔۔۔

ویسے میرا ارادہ تو اسکے بعد اسے واپس تم لوگوں کے پاس بھیجنے کا تھا ۔۔۔۔

تاکہ اپنی عزت کی بربادی کو دیکھتے ہوئے وہ بڈھا قبر میں اتر جائے ۔۔۔۔۔

لیکن شاید وہ یہ ذلت اور برداشت نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔۔

اس لیے اس نے خود ہی اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لے لی ۔۔۔۔۔۔ اور مجبوری میں مجھے اسکی لاش کو جنگل میں پھکوانا پڑا ۔۔۔۔۔

وہ افسوس کرتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔جیسے اسے بات پسند نہیں آئی تھی ۔۔۔۔۔۔

جبکہ یہ سب سنتے ضارب کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا ۔۔۔۔۔

خیر اسکے بعد بھی میں نے تم لوگوں کو کافی نقصان پہنچانے کی کوشش کی لیکن حیدر شاہ ہمیشہ مظبوط چٹان کی طرح آگے کھڑا ہو کر تمہاری حفاظت کرتا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن آج برسوں بعد ایک بار پھر قسمت نے میرا ساتھ دیا ۔۔۔۔۔۔

بلکہ اگلی پچھلی ساری کسریں نکال دی ۔۔۔۔۔جسکا اندازہ تم اس بات سے لگا سکتے ہو ۔۔۔۔۔کہ اپنے بندوں کے ہاتھوں اٹھوانے تو میں نے صرف حیدر شاہ کے چھوٹے پوتے کو بھیجا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن تم جس میں حیدر شاہ کی اصل جان بستی ہے انکے ہتھے چڑھ گیا ۔۔۔۔۔

یہ تو وہی بائی ون گیٹ ون فری والا حساب ہوا ۔۔۔۔۔

اور تمہاری بیوقوفی نے تمہارے دادا سائیں کو بستر مرگ تک پہنچا دیا ۔۔۔۔

اس نے ایک بار پھر مکروہ قہقہہ لگایا ۔۔۔۔۔

کیا ہوا ہمارے دادا سائیں کو ۔۔۔۔۔۔

ضارب نے حیدر شاہ کے بارے سنتے تڑپ کر پہلی بار لب کھولے ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی تڑپ کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔۔وہ دوبارہ ہنسا ۔۔۔۔۔

تمہاری گمشدگی کی خبر سنتے ہی بڑی بڑی باتیں کرنے والے حیدر شاہ کے دل نے دھڑکنا بند کر دیا ۔۔۔۔۔

وہ کمینگی سے ہنستے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔

نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔

اسکی بات سن کر ضارب نے بےساختہ نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *