Tere Sang Yaara by Wafa Shah NovelR50537 Tere Sang Yaara (Episode 30)Part 2
Rate this Novel
Tere Sang Yaara (Episode 30)Part 2
Tere Sang Yaara by Wafa Shah
جبکہ دوسری طرف ابیہا اسکے بات کرتے ہوئے یوں اچانک کال کاٹنے پر حیرت سے بند فون کو دیکھنے لگی تھی ۔۔۔۔
اسکے کانوں میں ابھی بھی واسم کے آخری الفاظ گونج رہے تھے ۔۔۔۔
رکیے مس حسن مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے ،،،،، اسے چھوڑ کر واسم کا کسی اور پکارنا خاص طور پر ایک لڑکی کو اسے بالکل اچھا نہیں لگا تھا ۔۔۔۔
اسے واسم کے ساتھ ساتھ اب اس لڑکی پر بھی غصہ آنے لگا جو اچانک ان دونوں کے درمیان آ گئی تھی ۔۔۔۔۔
میری بلا سے جس سے مرضی بات کرے مجھے اس سے کیا ،،،،، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ،،،،، ایک چھوڑ کر بھلے دس سے کرے بات وہ نیلا ڈریگن ،،،،،
وہ جلتے دل کے ساتھ منہ میں ہی بڑبڑائی تھی ۔۔۔۔۔
لیکن اپنے اس دل کا کیا کرتی جس میں عجیب بےقراری اور بےچینی سی پیدا ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔
جس کے چلتے وہ بار بار بند فون کو دیکھتی پریشانی میں اپنے لب کاٹنے لگی تھی ۔۔۔۔۔
ایسا کرتی ہوں فون کر لیتی ہوں اسے ،،،،، یہ سوچتے ابھی اس نے فون اٹھایا ہی تھا ،،،،، جب کچھ سوچتے دوبارہ واپس رکھ دیا ۔۔۔۔۔
نہیں کیا سوچے گا وہ میرے بارے کہ مری جا رہی ہوں اس سے بات کرنے کیلئے ۔۔۔۔۔
اس نے سر جھٹکتے ہوئے اپنی سوچ کی نفی تھی ۔۔۔۔
بیا ایسا بھی تو ہو سکتا ہے اس نے آفس میں کام کے متعلق کوئی بات کرنی ہو ۔۔۔۔۔
ضروری تو نہیں اس نے کچھ پرسنل بات کرنے کیلئے روکا ہو اسے ،،،،، ہاں یہی وجہ ہو سکتی ہے ورنہ وہ تو کسی سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا دوسرا افیئر کیا چلائے گا ۔۔۔۔۔
وہ اپنی سوچ پر مطمئن ہوتی مسکرائی تھی ،،،،، کیونکہ واسم سے لاکھ اختلافات ہونے کے باوجود اسے اس پر اتنا یقین تو تھا کہ وہ کبھی اسے دھوکہ نہیں دے سکتا ۔۔۔۔۔
میں بہت زیادہ اوور سوچ رہی ہوں ایسا کچھ نہیں ہو سکتا وہ ایک نظر فون کی طرف دیکھتی یقین سے بولی تھی ۔۔۔۔۔
لیکن واسم پر اسکا یہ یقین کتنا سچ ثابت ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہندی ہے رچنے والی ہاتھوں میں گہری لالی
کہیں سخیاں اب کلیاں ہاتھوں میں کھلنے والی ہیں
تیرے من کو جیون کو نئی خوشیاں ملنے والی ہیں
او ہریالی بنو
آنے والے ہیں سیاں پکڑیں جو تیری بیاں
گونجے گی شہنائی انگنائی انگنائی
مہندی ہے رچنے والی ہاتھوں میں گہری لالی
سٹیج پر پیلے رنگ کے خوبصورت شرارے کرتی جس پر خوبصورت زرک کا کام تھا دوپٹہ سر پر پیچھے پنز کے ساتھ ٹکائے ،،،،،،
جبکہ شرٹ کے بازو کہنیوں تک فولڈ کر رکھے تھے ۔۔۔۔۔
وہ دونوں صوفے پر بیٹھیں ہوئی ہاتھوں اور پاؤں میں مہندی لگوانے میں مصروف تھیں ۔۔۔۔
اور انکے بالکل سامنے گاؤں کی کچھ عورتیں اور خاندان کی لڑکیاں ڈھولکی پر گیت گا رہی تھیں ۔۔۔۔۔
آپ انکے ہاتھوں کے ڈیزائن میں دلہوں کا نام بھی لکھیے گا چھپا کر جو کہ آسانی سے مل نا سکے ۔۔۔۔۔
زر نے ان دونوں کی طرف شرارت سے دیکھتے مہندی لگانے والی لڑکیوں کو کہا جس پر وہ مسکرائی تھیں ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے برعکس ابرش ابیہا نے اسے آنکھیں دکھائی تھی ۔۔۔۔
جس پر اس نے بےنیازی سے سر جھٹکا تھا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے آپ ہمیں نام بتا دیں ہم لکھ دے گی ۔۔۔۔۔ وہ زر کی طرف دیکھتی ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
ارے میں کیوں بتاؤں گی یہ دونوں ہیں نا یہ بتائیں گی آپکو اپنے ہونے والے سائیں کا نام ،،،،،، چلو لڑکیوں تم جلدی سے انہیں اپنے میاں کا نام بتاؤ تب تک میں بڑی ماں کی بات سن کر آتی ہوں ۔۔۔۔۔
اور آپ یاد سے انکے ہاتھ پر میرے بھائیوں کا نام لکھیے گا میں کچھ دیر میں آ کر باقاعدہ چیک کروں گی ٹھیک ہے ۔۔۔۔
جس پر انہوں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
وہ مہندی لگانی والی لڑکیوں کو اچھے سے تاکید کرتی ان دونوں کو پھنسا کر خود وہاں سے رفو چکر ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے پیچھے ان دونوں نے دانت پیسے تھے ۔۔۔۔۔
جی آپ ہمیں بتا دیں کہ کیا نام لکھوانا ہے آپ نے ؟؟؟؟؟
کچھ دیر بعد ایک لڑکی نے ان کے چہرے کی طرف دیکھتے سوال کیا تھا ۔۔۔۔
ڈریگن “
جی ،،،،،، ابیہا کے جواب پر مہندی والی حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے گویا ہوئی ۔۔۔۔
جبکہ حیران تو ابرش بھی بہت ہوئی تھی یہ نام سن کر ۔۔۔۔
کیا جی ،،،،،، جو بولا ہے وہ لکھ دیں ،،،،، لیکن آپکے ہزبینڈ کا نام
یہی نام ہے میرے ہونے والے سائیں کا ،،،،،، اس سے پہلے کہ وہ لڑکی اپنا جملہ مکمل کرتی ابیہا اسکی بات کاٹتی تھوڑا شرمانے کی کوشش کرتے بولی ۔۔۔۔
جبکہ اسکے لہجے سے بالکل نہیں لگ رہا تھا کہ وہ شرما رہی ہے ۔۔۔۔۔
جس پر وہ اپنی مسکراہٹ چھپاتی سر ہلا گئی ۔۔۔۔
لیکن بیا آپ لالا کے نام کی جگہ ڈریگن کیوں لکھوا رہی ہیں ؟؟؟؟
اس کی بات پر ابرش نے حیرت سے پوچھا تھا ۔۔۔۔
چپ کرو تم اپنے لالا کی چمچی اسی لائق ہیں تمہارے لالا ۔۔۔۔۔ وہ بڑے ہونے کا رعب جماتی اسے تھوڑا غصے سے ڈپٹتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
اصل میں دوپہر میں جو واسم نے کسی اور کیلئے اسے اگنور کیا تھا اسکا غصہ تھا جو اسکا نام ڈریگن لکھوا کر نکالا تھا ۔۔۔۔
دیکھیے گا میں انہیں بتاؤں گی اس بارے میں ،،،،،، اسکے رعب ڈالنے پر وہ معصومیت سے اسے دھمکی دیتی بولی ۔۔۔۔۔
بتا دینا میں کونسا ڈرتی ہوں تمہارے لالا سے ،،،،،، جبکہ اسکی دھمکی پر وہ شان بےنیازی سے بولی تھی ۔۔۔۔
جس پر وہ منہ بناتی نا چاہتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کر گئی ۔۔۔۔۔
آپکے ہبی کا کیا نام ہے ؟؟؟؟؟
جب دوسری لڑکی جو اسے مہندی لگا رہی تھی اس معصوم گڑیا کے چہرے کی طرف دیکھتی سوال گو ہوئی ۔۔۔۔
و ،،،،، وہ ،،،،،
جی ؟؟؟؟؟
وہ ،،،،،، کیا وہ وہ لگا رکھی ہے ،،،،، نام کیوں نہیں بتا رہی تم لالا کا ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے اٹکنے پر ابیہا آنکھوں میں بھرپور شرارت سموئے بظاہر غصے سے بولی تھی ۔۔۔۔
جس پر اس نے ابیہا کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا تھا ،،،،، کہ نام بتا دے لیکن اسکی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے اس نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
جس پر اس نے بیچارگی سے اسے ایک نظر دیکھنے کے بعد پھر مہندی والی کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔
جو اسے ہی منتظر نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
جب اس کے کانوں میں صبح ضارب شاہ کے بولے گئے الفاظ گونجے تھے ۔۔۔۔
کہ آج کے بعد آپ ہمیں سائیں کہہ کر بلائیں گی جو کہ ہمارے خاندان کی روایت ہے
اور سائیں کے علاوہ اگر آپکے ہونٹوں سے کبھی کوئی دوسرا لفظ ادا ہوا تو یاد رکھیے گا کہ اس کا انجام بھی انہیں بھگتنا ہوگا ۔۔۔۔
سا ،،،،، سائیں
اسکی دھمکی اور عمل کو یاد کرتے ہوئے وہ پل میں گلال ہوتی بمشکل اٹکتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔۔
جس پر اس نے حیرت بھری نظروں سے دیکھا تھا کہ یہ کیسا نام ہوا بھلا سائیں ۔۔۔۔
حیران تو ابیہا بھی ہوئی تھی ،،،،، وہ انہوں نے بولا ہے ایسا کہنے کیلئے ۔۔۔۔
ابیہا کو اپنی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ معصومیت سے گویا ہوئی تھی ۔۔۔۔
جبکہ اسکی بات پر ابیہا نے قہقہہ لگایا تھا ،،،،، جس پر وہ منہ بسور کر رہ گئی ۔۔۔۔
جی تو پھر یہی نام لکھ دوں ،،،،، جب مہندی والی نے ان دونوں کی طرف دیکھتے دوبارہ پوچھا تھا ۔۔۔۔
جی لکھ دیں اب کی بار ابیہا نے جواب دیا تھا جس پر وہ سر ہلا گئی ۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ ابھی تک حیران تھی ان دونوں پر زندگی میں پہلی بار ایسی دلہنیں دیکھی تھیں جو اپنے ہاتھوں میں اپنے ہزبینڈ کا سہی نام لکھوانے کی بجائے ایسے عجیب و غریب نام لکھوا رہی تھیں ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ لوگ انکی مہندی مکمل کرتی وہاں سے اٹھ گئی تھیں ۔۔۔۔۔
جو کہ انکے نازک ہاتھوں پر بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
جب زر نے وہاں آ کر اسے دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ دونوں ناراضگی کے اظہار پر اپنے دونوں ہاتھ اسکی پہنچ سے دور کر گئی ۔۔۔۔
جس پر وہ نفی سر ہلاتی ،،،،، انہیں بعد میں دیکھنے کا ارادہ کرتی خود بھی مہندی لگوانے بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے بسورے ہوئے منہ کو دیکھتے ان دونوں نے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکی مہندی کافی حد تک سوکھ چکی تھی اور تب تک زرمینے کے ساتھ ساتھ دوسری لڑکیاں بھی مہندی لگوا کر فارغ ہو چکی تھیں ۔۔۔۔
اور انکے ہاتھوں میں سجی مہندی مختلف بیل بوٹوں کے خوبصورت ڈیزائن کو دیکھتے ہوئے عورتوں نے کافی تعریف کی تھی اور ساتھ صدا سہاگن رہنے کی دعا بھی کی ۔۔۔۔۔
جب زر کے قریب ہوتے ابرش نے سرگوشی کی تھی ۔۔۔۔۔
زر مجھے واشروم جانا ہے ۔۔۔۔۔ جس پر وہ سر ہلاتے ہوئے عظمی بیگم کو بتانے کے بعد اسے ساتھ لے کر اندر کی طرف بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔۔
جب پیچھے سے اسے کسی نے آواز دی تھی ۔۔۔۔۔ ابرش تم چلو میں ابھی آتی ہوں ٹھیک ہے ۔۔۔۔
وہ اتنا کہتی خود باہر کی طرف بڑھ گئی تھی ،،،،، جبکہ ابرش نے حویلی اندر جانے کیلئے قدم بڑھائے تھے ۔۔۔۔۔
جب یکدم کسی نے اسے پیچھے سے دبوچتے ہوئے اسکی ناک پر رومال رکھا تھا جس کے بعد اسے ہاتھ ہلانے کا موقع بھی نہیں ملا تھا اور وہ اپنے حواس کھوتی چلی گئی ۔۔۔۔
جبکہ اس نقاب پوش نے اس پر کالی چادر ڈالتے ہوئے آس پاس نظر دوڑاتے اسے اپنے کندھے پر اٹھایا تھا ،،،،، اور حویلی کی پچھلی سائڈ سے یہاں ایک پرانا گیٹ تھا اس پر لگے زنگ آلود تالے کو توڑتے ہوئے باہر مین سڑک کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
جہاں ایک وین میں اسکے باقی ساتھی اسکا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زر نے پورے لان میں ایک نظر دیکھنے کے بعد کہ اسے کس نے بلایا تھا جب کسی کو اپنی طرف متوجہ نہیں پایا تو وہ سر جھٹکتی ہوئی اندر کی طرف دوبارہ بڑھ گئی ۔۔۔۔۔
اور ابرش کے کمرے جا کر واشروم کے بند دروازے کو دیکھتی وہاں بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اسکے باہر آنے کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔۔
اور ساتھ ساتھ اپنے ہاتھوں کو بھی دیکھ رہی تھی جس پر مہندی سوکھ کر اب ہلکی ہلکی اترنی شروع ہو گئی ۔۔۔۔۔
لیکن جب کافی دیر گزرنے کے بعد بھی وہ باہر نا آئی تو اور نا ہی واشروم سے پانی گرنے کی کوئی آواز تو پریشان ہوتی اٹھ کر اسکا دروازہ ناک کرنے لگی ۔۔۔۔
ابرش اس نے دروازہ ناک کرتے اسے آواز دی لیکن جواب ندارد جبکہ اسکا ہاتھ لگتے دروازہ ہلکا سا کھل گیا تھا ۔۔۔۔
جسے پورا اندر کی طرف دھکیلتے اس نے واشروم کے اندر نظر دوڑائی جہاں خالی باتھروم اسکا منہ چڑا رہا تھا ۔۔۔۔
ہو سکتا ہے کسی اور روم میں چلی گئی ہو ،،،،، وہ دل میں آئے برے خیالات کو جھٹکتے ہوئے اسے حویلی کے دوسرے کمروں میں ڈھونڈنے لگی ۔۔۔۔
جب وہ اسے وہاں نا ملی تو وہ باہر کی طرف بڑھ گئی کہ شاید وہ واپس چلی گئی ہو ،،،،، لیکن وہاں سٹیج پر اکیلی بیٹھی ابیہا کو دیکھ کر اسکا دل بند ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔
ساتھ ہی اسکی آنکھوں سے آنسو روانی سے بہنے لگے تھے ۔۔۔۔۔
جب اچانک نجمہ بیگم کی اس پر نظر پڑی اور اسے ایسے پھوٹ پھوٹ روتے دیکھ وہ فورا اسکی طرف بڑھتی اسے اپنے حصار میں لے کر چپ کروانے لگی ۔۔۔۔
کیا ہوا زر ایسے کیوں رو رہی ہیں بیٹا ؟؟؟؟؟
وہ ،،،، وہ ماما ،،،،، ابرش ،،،،،، وہ اتنا کہتے ایک بار پھر روانی سے رونے لگی تھی ۔۔۔۔۔
جبکہ اسکے ایسے رونے کے درمیان ابرش کا نام لینے اور پھر اسے سٹیج پر نا موجود پا کر انہیں کچھ غلط ہونے کا احساس شدت سے ہوا تھا ۔۔۔۔
لیکن وہ ایک سمجھدار خاتون تھیں جو کہ زمانے کی اونچ نیچ کو اچھے سے سمجھتی تھیں ،،،،، اس لیے آس پاس خواتین کا رش دیکھتی ہوئی اسے اپنے حصار میں لے کر ایک سائڈ چلی آئی ۔۔۔۔
اب بتائیں مجھے کیا ہوا ہے ؟؟؟؟ کہاں ہیں ابرش ؟؟؟؟
ماما وہ میں اس نے روتے ہوئے شروع سے لے اینڈ تک انہیں ساری بات تفصیل سے بتائی تھی ۔۔۔۔۔۔
میں پوری حویلی میں چیک کر لیا ہے ماما وہ کہیں پر بھی نہیں ہے ۔۔۔۔
میں سب کو کیا جواب دوں گی ،،،،، بڑی ماں نے اسے میرے ساتھ بھیجا تھا میں کہاں سے لا کر دوں گی انہیں انکی بیٹی ،،،،، وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی تڑپتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔۔
اس کو ایسے روتے دیکھ کر آنسو تو نجمہ بیگم کی آنکھوں سے بھی جاری ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔
جبکہ عظمی بیگم اور ابرش کی تکلیف کا احساس کرتے دل پٹھنے کے قریب تھا ۔۔۔۔
اچھا ادھر دیکھیں ہماری طرف ،،،،،، آپ پیار کرتی ہیں نا ابرش سے ،،،،،لیکن پھر خود کو سنبھالتے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر پیار سے گویا ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔
یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ماما اگر میرا بس چلے تو اسکی ساری پریشانی اپنے حصے میں لے کر اسے ہر تکلیف سے بچا لوں ۔۔۔۔
ماما وہ بہت معصوم ہے ،،،،، اور کافی حد ناسمجھ بھی پتا نہیں کہاں ہوگی ،،،، کس حال میں ہوگی ۔۔۔۔۔
اتنا کہتے وہ ایک بار رونا شروع کر چکی تھی ۔۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا انہیں وہ یہی کہیں گھر میں ہی ہونگی ،،،،، آپ نے ٹھیک سے دیکھا نہیں ہوگا ۔۔۔۔
ہم سب مل کر ڈھونڈتے ہیں نا مل جائیں گی ان شااللہ ۔۔۔۔۔
سب سے پہلے آپ رونا بند کریں اور ہماری بات دھیان سے سنے ،،،،، انکی بات کو سنتے اسے ڈھارس سی ملی اور ساتھ میں امید کی ایک نئی کرن بھی روشن ہوئی تو وہ اپنے آنسو پونچھتے انکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔
آپ نے باہر جا کر کسی کے بھی سامنے اس بات کا ذکر نہیں کرنا کہ ابرش حویلی سے غائب ہیں ۔۔۔۔
لیکن کیوں ماما ؟؟؟؟؟
بیٹے یہ آپکی بہن اور اس خاندان کی عزت کا سوال ہے ،،،،، ہو سکتا ہے بلکہ ہمیں پوری امید ہے کہ ابرش حویلی میں ہی ہونگی لیکن اگر یہ بات مہمانوں یا پھر کسی اور پتا چل گئی تو وہ انکے کردار پر باتیں بنائے گے ۔۔۔۔۔
آپ نہیں جانتی میری بچی یہ دنیا بڑی ظالم ہے ،،،،،، ہمیشہ مظلوم کو ہی غلط بولتی ہے جس کے چلتے اصل گنہگار تو ہمیشہ بچ کر نکل جاتا ہے ۔۔۔۔۔
لیکن ساری زندگی کیلئے ذلالت صرف لڑکی کے حصے آ جاتی ہے ۔۔۔۔
اس لیے آپکو اپنی بہن کی خاطر مظبوط بننا ہوگا ،،،،،، آپ اپنے آنسو صاف کریں اور اماں سائیں کے ساتھ اپنی بڑی ماما اور ابیہا کو بابا سائیں کے کمرے میں لے کر جائیں اور انہیں ساری تفصیل بتائیں ۔۔۔۔۔
تب تک ہم باہر کے معاملات سنبھالتے ہیں ۔۔۔۔۔
جائیں میری جان اور خبردار جو اب آپ روئیں یا پھر ابرش کے بارے میں کچھ بھی برا سوچا ،،،،، وہ ادھر ہی کہیں ہونگی ان شااللہ جلد مل جائیں گی ۔۔۔۔
وہ اسے رسان سے سمجھاتیں دنیا کی اونچ نیچ بتاتیں ہوئی ہمت دیتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
جس پر سر ہلاتے وہ ایک امید کے تحت مسکرائی تھی اور پھر ایک نظر انکے چہرے کی طرف دیکھتی سٹیج پر خواتین کی حلقے میں بیٹھی اماں سائیں اور ابیہا کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔
جبکہ پیچھے سے نجمہ بیگم نے ابرش کیلئے اس کے سہی سلامت رہنے کی دعا کی تھی ،،،،،، جو قبول ہوئی تھی یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
