267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Bheegi Palkon Pe Naam Tumhara Hai) Epi 3

احمد شاہ نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر داخل ہوئے دھڑکن نے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا
میری جان اداس ہے دھڑکن کے ہاتھوں میں ملائکہ کی تصویر دیکھ کر وہ آگے بھرے ۔
بابا سائیں آپ دیدہ پر غصہ کیوں ہو رہے تھے وہ اس کے قریب آ کر بیٹھے تو پوچھنے لگی ۔
آپ کی دیدہ تنگ ہی بہت کرتی ہے میں کیا کروں احمدشاہ چاہ کر بھی اسے نہیں بتا پائیں کے سویرا کیا کرکے آئی ہے وہ اسے نہیں بتا سکتے تھے کہ وہ کس طرح سے ان کے سامنے ان کی عزت کو لڑکوں کے ساتھ پارٹی اور کلبوں میں برباد کر رہی ہے ۔
بابا سائیں انہوں نے آپ کو سوری بولا ہوگا نہ وہ معصومیت سے بولی ۔
تو بابا نے نامیں سر ہلایا
پھر تو ڈانٹ پڑنی چاہیے لیکن آپ نے ان کو تھپڑ کیوں مارا ۔
دھڑکن نے پھر پوچھا ۔
اس کی غلطی بہت بری تھی احمد شاہ نے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
اور وہ جانتے تھے کہ ان کی دھڑکن ان کی بات کو سمجھ جائے گی۔
ہم پاکستان جا رہے ہیں احمد شاہ نے کہا ۔
اور پھر دھڑکن کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھنے لگے جو ہمیشہ سے پاکستان جانا چاہتی تھی
سچی بابا سائیں آپ سچ کہہ رہے ہیں ہم پاکستان جا رہے ہیں ۔۔۔ !
تھینک یو بابا سائیں ہم پاکستان جا رہے ہیں کتنا مزا آئیگا میں داداسائیں سے ملونگی وہ خوشی سے بیڈ پر اچھلنے لگی۔
تو احمد شاہ نے ہنستے ہوئے اپنی باہیں کھولی وہ بھاگ کر ان کے سینے سے لگی
اسے اپنے سینے سے لگایا تو انہیں لگا جیسے وہ اپنا ہر درد بھول گئے ہوں
لیکن اب وہ فیصلہ کر چکے تھے کہ سویرا کو مقدم کے حوالے کر دیں گے اور پھر دھڑکن اس کا تو انہیں یقین تھا کہ وہ کبھی بھی ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کرے گی۔
•••••••••••••••••
تم کالج نہیں گئی اسے کچن میں کھڑا دیکھ کر وہ یہیں آ گیا اسے دیکھے بغیر تو ویسے بھی وہ گھر سے باہر نہیں نکلتا تھا جبکہ اپنے پیچھے اچانک اس کی آواز سن کر وہ ڈرگئی۔
ارے تم تو ڈر گئی کتنی بار کہا ہے تمہیں عادت ڈال لو ساری زندگی ڈرتی رہو گی کیا مقدم شاہ نے فاصلہ کم کرتے ہوئے کہا ۔
مقدم لالہ آپ اچانک ۔۔۔۔۔۔۔؟کچھ چاہئے آپ کو ۔۔۔۔۔؟
حوریہ نے اس کے قریب آنے پر گھبرا کر پوچھا
جبکہ اس کے اس طرح سے گھبرانے پر اس کے گھنی مونچھوں کے نیچے عنابی لب مسکرائے تھے۔
“تم”۔۔۔۔۔ ایک لفظی جواب آیا حوریہ نے گھبرا کر اسے دیکھا
جو جان لٹاتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اس کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوراً نگاہیں جھکا گئی ۔
میرا مطلب ہے تم کالج نہیں گئی آج۔۔۔۔۔۔؟ “مجھے تو لگا تھا کہ دیدارِ محبوب آج بھی نصیب نہیں ہوگا “یہ جملہ اس نے کم آواز میں کہا تھا لیکن اس کی بڑبڑاہٹ سننے کی ناکام سی کوشش کی تھی اس نے ۔
وہ آج ڈرائیور چاچا نہیں آئے نانا سائیں نے انہیں شہر بھیجا ہے حوریہ نے نگاہیں نیچی رکھ کر جواب دیا
تو مجھے جگا دیتی غلام ہر وقت حاضر ِخدمت ہے مقدم نے ایک اور قدم کا فاصلہ کم کیا تھا ۔
جو بڑی مشکل سے کھسکتے ہوئے حوریہ نے فاصلہ قائم کیا تھا وہ پھر سے ختم ہوگیا
وہ مقدم لالا۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنی بار سمجھایا ہے کہ مجھے لالہ کہہ کر مت پکارا کرو وہ سخت لہجے میں بولا اس کا موڈ خراب ہوچکا تھا ۔
اس لیے اسے اسی طرح سے کچن میں چھوڑ کر باہر چلا گیا اس کا تو کچھ انتظام کرنا ہوگا اماں سائیں سے بات کرتا ہوں کہ وہ حور کے رشتے کی بات کریں۔
دلہن بن کے میرے کمرے میں آو گی تو تمہیں پتہ چلے گا کہ مقدم شاہ کے جذبات تمہارے لیے کس حد تک بے لگام ہو چکے ہیں وہ سوچتے ہو اپنی جیپ کی طرف بھر گیا
•••••••••••••••••
شاہ سائیں میری بیٹی کی شادی ہونے والی تھی
کل صبح وہ درزیانی کے پاس گئی اور اپنے کپڑے دے کر واپس آ رہی تھی کہ اس ظالم نے کھیتوں میں اس کے ساتھ راحت سر پر ہاتھ مارتے زور زور سے رونے لگا
میری بیٹی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی میں کس طرح سے اس کی شادی کروں گا
راحت اونچی اونچی آواز میں سر پیٹتا رو رہا تھا
بس کرو چاچا تمہارا انصاف ضرور ہوگا تم گھبرا مت ہم ہیں نہ مقدم شاہ نے اسے کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا اور پھر شاہ سائیں کی طرف دیکھا جس کا مطلب تھا کہ وہ بھی ان کے فیصلے کا انتظار کر رہا ہے
تم کچھ کہنا چاہتے ہو شاہ سائیں نے فیصل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
شاہ سائیں اس کی بیٹی نے خود مجھے بلایا تھاوہ پہلے بھی مجھ سے ملتی رہی ہے فیصل نے کہا جبکہ راحت غصے سے اس کا گریبان پکڑ چکا تھا
راحت بیٹھ جا کیوں پنچایت کی توہین کر رہا ہے پیچھے سے ایک لڑکے نے سے تھام کر بٹھایا
آج جو کچھ ہوا ہے ہمارے گاؤں میں وہ انسانیت کی توہین ہے اکبر تو اس پنچایت کی توہین ہو جائے تو کیا فرق پڑتا ہے آج کے اس مقدمے کا فیصلہ میرے پوتے کریں گے شاہ سائیں نے فیصلہ سنا کر اپنے پوتوں کی طرف اشارہ کیا ۔
بولو مقدم سائیں کیا فیصلہ ہے تمہارا ۔۔۔۔؟
کیا کرنا چاہیے فیصل کے ساتھ۔۔۔۔۔؟ انھوں نے مقدم شاہ سے پوچھا
اسے بیچ چرائے پر پھانسی لگا دینی چاہیے مقدم نے ایک ہی پل میں اپنا جذبات سے بھرپور فیصلہ سنایا ۔
شاہ سائیں نے ہاں میں گردن ہلاتے ہوئے اب کردم کی جانب دیکھا
میرے خیال میں فیصل کو راحت چچا کی بیٹی سے نکاح کروا دینا چاہیے کردم نے کہا تو مقدم نے غصے سے اس کی طرف دیکھا
جبکہ شاہ سائیں نے اس کے فیصلے پر بھی ہاں میں گردن ہلائی ۔
تو فیصلہ ہوگیا ہم قاسم علی شاہ آج یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ راحت کی بیٹی کا نکاح اس جمعہ کو فیصل سے ہوگا اور اگر اس نکاح کے بعد فیصل نے بچی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی زیادتی یا انچی آواز میں بھی بات کی تو اس کا انجام اس کی سوچ سے زیادہ خطرناک ہوگا
بچی کی شادی کی ساری ذمہ داری ہم اٹھائیں گے جہیز بھی ہمیں دیں گے اور بچی کی ہر ضرورت کا خیال رکھا جائے گا
ہم تمہیں اس بچی کے لیے معاف کر رہے ہیں فیصل ورنہ مقدم شاہ کا فیصلہ بھی قابل غور تھا وہ کہتے ہوئے آگے بڑھ چکے جبکہ مقدم شاہ کا آف موڈ وہ دیکھ چکے تھے
اس کی شکل دیکھ کردم شاہ کا قہقہ بری مشکل سے روکا تھا
•••••••••••••••••
مقدم سائیں آپ کا فیصلہ غلط نہیں تھا لیکن کردم سائیں نے آج آپ سے زیادہ عقلمندی دکھائی ہے
شاہ سائیں نے بہت محبت سے مقدم کو سمجھایا لیکن وہ اس کے موڈ سے یہ اندازہ لگا چکے تھے کہ اس کو اس طرح سب کے سامنے اپنے فیصلے کو نہ ماننا غصہ دلا گیا ہے
لیکن وہ اپنے لاڈلے پوتے کی ضد پر کسی کی زندگی برباد نہیں کرسکتے تھے ۔
ہم نے آج شام حویلی میں کچھ لوگوں کو دعوت دی ہے بہت اچھے لوگ ہیں ماشاءاللہ حوریہ بھی اب 19 سال کی ہو چکی ہے
ہم نے اسی کی شادی کے سلسلے میں کچھ لوگوں کو دعوت دی ہے ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کی ہو جائے وہ کردم کو بتا رہے تھے
جبکہ گاڑی میں بیٹھا تیسرا وجود غصے کی آخری انتہا پر تھا
گاڑی روکو۔۔۔ ۔ ۔ اس نے ڈرائیور کو حکم دیا شاہ سائیں نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا جہاں سےوہ اس کے غصے کا اندازہ لگا سکتے تھے
کیا ہوا مقدم سائیں سب کچھ ٹھیک تو ہے ۔۔۔؟ شاہ سائیں نے پریشانی سے پوچھا
میں کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتا ہوں وہ اتنا کہہ کر گاڑی سے اتر چکا تھا جبکہ اسے دیکھتے ہی اس کے چاروں گارڈز بھی اس کے پیچھے آئے ۔
میں کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتا ہوں وہ چلایا
لیکن شاہ سائیں آپ کی حفاظت۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے تمہاری حفاظت کی ضرورت نہیں ہے مقدم شاہ اپنی حفاظت خود کرنا جانتا ہے دفع ہو جاؤ یہاں سے وہ غصے سےدھاڑتے ہوئے بولا ۔
اس کے غصے سے خوفزدہ گارڈز پیچھے ہی رک گئے لیکن اسے اکیلا چھوڑ کر شاہ سائیں کے غصے کو ہوا نہیں دے سکتے تھے ۔
اس لیے وہی فاصلے پر رکنا بہتر سمجھا
••••••••••••••
دادا سائیں مقدم سائیں کو اچانک ہوا کیا ہے پہلے تو کبھی اس طرح سے ری ایکٹ نہیں کیا کردم شاہ نے پریشانی سے پوچھا
نہیں کردم سائیں وہ اس بات کو لے کر پریشان نہیں ہیں
بات کچھ اور ہے خیر جو بھی ہے شام تک پتہ چل جائے گی وہ زیادہ دیر تک اپنا غصہ اپنے تک نہیں رکھ پاتے
شاہ سائیں نے بے فکری سے کہا
آج صبح چاچا سائیں کا فون آیا تھا وہ لوگ پاکستان آنا چاہ رہے ہیں میرے خیال سے اس بار وہ مقدم شاہ اور سویرا کی شادی کے لئے آنا چاہتے ہیں کردم شاہ نے پوری بات بتائی۔
لیکن اس کے بعد بھی قاسم شاہ سائیں کے چہرے پر کوئی خوشی نظر نہ آئی تھی ۔
کیونکہ وہ ایک ایسے بیٹے کی واپسی کی خوشی نہیں منانا چاہتے تھے جو انہیں تب چھوڑ کر دوسرے ملک چلا گیا جب انہیں سب سے زیادہ اس کی ضرورت تھی
جب ان کا ہنستا کھیلتا گھرانہ برباد ہوا تھا تب ان کے بیٹے نے ان کا ساتھ دینے کی بجائے ان کو چھوڑ دیا وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔
ان کے وہاں جانے کے دو سال بعد انہیں پتہ چلا کہ سویرا کے بعد ان کی ایک اور بیٹی پیدا ہوئی ہے ۔
پھر ان کی بہو کا انتقال ہوگیا اس وقت اماں سائیں نے انہیں واپس آنے کے لیے کہا تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بیٹیوں کی پرورش خون خرابے میں نہیں کرنا چاہتے
وہ تو اپنی اماں سائیں کی وفات پر بھی لوٹ کر نہ آئے ۔
دو بیٹوں اور ایک بیٹے جیسے دماد کو پہلے ہی کھو چکے تھے لیکن اس دن انہوں نے اپنا آخری بیٹا بھی کھو دیا ۔
اس دن ان کے دل سے احمدشاہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اتر گیا19 سال سے وہ اپنے بیٹے کو دیکھ نہیں پائے تھے اور نہ ہی دیکھنے کی تمنا تھی اور نہ ہی آنے کی خوشی •
••••••••••••••••