267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Bheegi Palkon Pe Naam Tumhara Hai) Epi 2

اپنے بیٹے کا ناشتہ بنا کر وہ اس کے کمرے میں آ گئیں ۔
نازیہ نے ایک نظر پورے کمرے کو دیکھا ۔
اور پھر اپنے بیٹے کو ۔۔جو ان سے بے خبر پر سکون نیند سو رہا تھا ۔
رات دوستوں کے ساتھ جانے کی وجہ سے وہ بہت دیر سے واپس آیا تھا ۔مقدم شاہ زندگی گزارنے والوں میں سے نہیں زندگی جینے والوں میں سے تھا ۔
وہ اپنی زندگی کو بھرپور طریقے سے جی رہا تھا کردم شاہ کے مقابلے میں وہ ذرا لاپروا تھا ۔اس کی زندگی میں تین چیزیں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی ایک اس کی ماں دوسری اس کی آزادی اور تیسری حوریہ۔
حوریہ کے لیے اس کے جذبات نازیہ بچپن سے ہی دیکھتی آئیں تھیں وہ اسے لے کر بہت ٹچی تھا ۔نازیہ جانتی تھی کہ وہ حوریہ کے لیے اپنے دل میں جذبات رکھتا ہے لیکن وہ حقیقت کو قبول نہیں کرنا چاہتی تھی اور نہ ہی اس حقیقت کا سامنا ۔
وہ اپنے شوہر کے قاتل کی بیٹی سے اپنے بیٹے کی محبت کو قبول نہیں کرنا چاہتیں تھیں۔ابھی تک مقدم شاہ نے اس سے خود اس بارے میں کوئی بات نہ کی تھی ۔
لیکن وہ جانتی تھی آج نہیں تو کل مقدم شاہ اپنی ماں کو اپنی پسندضرور بتائیے گا ۔لیکن اس معاملے میں وہ کچھ حد تک پر سکون بھی تھی۔
کیونکہ مقدم شاہ کا بچپن سے ہی رشتہ اس کی چاچا زاد سویرہ سے تہہ تھا ۔جس کی پیدائش پر ہی مقدم شاہ کے بابا حالم شاہ نے سویرا کے ہاتھ میں مقدم شاہ کے نام کی انگوٹھی پہنائی تھی۔
احمد شاہ لندن میں اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ رہتے تھے اب تک انہیں سویرہ کی شادی کے سلسلے میں یہاں آ جانا چاہیے تھا ۔لیکن بابا سائیں کی ناراضگی کی وجہ سے وہ ابھی تک یہاں نہ آئے تھے بابا سائیں ان کا چہرہ تک نہیں دیکھنا چاہتے تھے ۔
بابا سائیں کی ناراضگی بلکل صحیح تھی اس معاملے میں گھر کا کوئی فرد کچھ نہ کہتا ۔احمد شاہ کو معاف کرنا یا سزا دینا بابا سائیں کے ہاتھ میں تھا ۔
•••••••••••••
اٹھ جائیں بیٹا سائیں صبح ہو چکی ہے آپ کے دادا سائیں کا آرڈر ہے کہ آپ کو نو بجے ڈیرے پر پہنچنا ہے نازیہ نے محبت سے مقدم شاہ کو جگانے کی کوشش کی
وہ جانتیں تھیں کہ وہ اتنی آسانی سے نہیں اٹھے گا اسی لیے دادا سائیں کا نام لینا بہت ضروری تھا ۔
لیکن یہ بھی سچ تھا کہ 9 بجے اسے ڈیرے پر پہنچنا تھا ۔
دادا سائیں اپنے دونوں پوتوں میں گاؤں کے غریب اور بے بس لوگوں کے لیے احساس دیکھنا چاہتے تھے ۔
کردم تو اس معاملے میں مقدم سے بہت آگے تھا ۔
وہ گاؤں والوں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتا تھا۔ سارے گاؤں کو یقین تھا کہ اس گاؤں کا اگلا سرپنچ کردم شاہ ہوگا ۔
لیکن دادا سائیں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دونوں پوتوں کو آزمائیں گے جو اس گدی کے لائق ہوا اسی کو ہی یہ گدی دی جائے گی ۔
لیکن اب وہ مقدم سے ناامید ہوتے جارہے تھے کیونکہ مقدم کو گدی میں کوئی انٹرسٹ نہ تھا ۔اسے سب سے زیادہ اپنی آزادی پیاری تھی جس میں وہ کسی قسم کا انٹر فیر برداشت نہیں کر سکتا ۔
صبح بخیر میرا چاند اسے اٹھتا دیکھ کر نازیہ نے محبت سے اس کی پیشانی چومی
بابا سائیں بہت تعریف کر رہے تھے صبح آپ کی کہہ رہے تھے کہ آپ شیر کا شکار کر کے لائیں ہیں نازیہ مسکراتے ہوئے بتانے لگیں اور ساتھ میں اس کا ناشتہ میز پر لگانے لگیں ۔
جب کہ وہ ان کی باتوں پر مسکراتا فریش ہونے چلا گیا جلدی کریں بیٹا سائیں ناشتہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔۔
نازیہ کے لہجے میں اس کے لئے محبت تھی وہ مسکراتے ہوئے باہر آیا اور ان کی پیشانی پر اپنے لب رکھے وہ جب رات شراب پی کے سوتا تھا تو صبح اپنی ماں سے تب تک بات نہیں کرتا جب تک اس شراب کی بدبو اس کے منہ سے چلی نہ جائے ۔
دادا سائیں نے اپنے پوتوں کو ہر طرح کی آزادی دی تھی یہی وجہ تھی کہ نازیہ اپنے بیٹے کو بری عادتوں کی طرف جانے سے روک نہ پائی ۔
دادا سائیں کا کہنا تھا کہ وہ خاندانی جاگیر ہیں ۔اور اس طرح کی آزادی ان کے خاندان کے ہر مرد کو دی جاتی ہے
لیکن اتنی بری عادتوں کے باوجود بھی مقدم شاہ اپنے بڑوں کی عزت اور احترام میں کبھی کمی نہ کرتا ۔
جبکہ یہی ساری آزادیاں کردم کو بھی میسر تھی ۔ لیکن آوارہ گردی شراب رات دیر تک پارٹیاں ۔ یہ سب کردم کو ہرگز پسند نہ تھا ۔
اسے بس ڈیرے پر جانا اچھا لگتا تھا ۔وہاں نہ جانے کتنے گھنٹے بیٹھا رہتا تھا ۔اسے محفل پسند نہ تھی وہ تنہائی پسند تھا ۔وہ اپنا زیادہ وقت اپنے آپ کے ساتھ گزارتا تھا
اماں سائیں آپ کے ہاتھ میں جادو ہے وہ ان کے ہاتھ چومتا ناشتہ کرنے میں مصروف ہو چکا تھا جبکہ نازیہ اپنے وجاہت کے منہ بولتے ثبوت کو دیکھ رہی تھی جو اپنے باپ کے سب نقش چڑھائے ان کے سامنے بڑی شان سے بیٹھا تھا۔
اس کی خوبصورتی لفظوں کی محتاج نہ تھی اس کی گہری سیاہ آنکھیں ہی سامنے والے کو اپنا اسیر کا لیتی تھی وہ ہر صبح اس کو اپنے سامنے بٹھا کر ناشتہ کرواتی تھیں ۔
اور جس دن وہ ان کے سامنے ناشتہ کئے بغیر چلا جائے ان کا سارا دن بیچینی سے گزرتا ۔
بس سارا دن ایک ہی سوچ سر پر سوار رہتی نہ جانے ان کے بیٹے نے کچھ کھایا بھی ہوگا یا نہیں ۔
اور مقدم شاہ جانتا تھا کہ اس کی ماں سوائے اس کے حویلی میں کسی سے بات نہیں کرتی تھی ۔
اسی لیے وہ چاہے جتنا بھی مصروف کیوں نہ ہو اپنی ماں کے لئے ہر روز وقت ضرور نکالتا تھا جو اسے دیکھ کر جیتی تھیں
•••••••••••••
ان کا خاص آدمی صدیق بہت دنوں سے ہی سویراپہ نظر رکھے ہوئے تھا ۔
سویرا کی جو خبر یں انہیں مل رہی تھی اس کی وجہ سے وہ اس سے بہت زیادہ غصہ تھے ۔
سویرا کا باہر لڑکوں کے ساتھ گھومنا شراب نوشی کرنا یہ ان کے خاندان کے عورتوں کی روایات نہ تھی ۔
انہوں نے شروع سے ہی اپنی بیٹیوں پر کوئی پابندی نہ لگائی تھی شاید یہ اسی کا ہی نتیجہ تھا جو سویرا مکمل ان کے ہاتھ سے نکل چکی تھی ۔
انہیں سویرا پر بہت غصہ تھا ۔اس وقت رات کے ایک بجے وہ اس کا انتظار کر رہے تھے ۔
صدیق نے جس لڑکے کے بارے میں بتایا تھا وہ ایک انگریز تھا
اور احمد شاہ یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ ان کی بیٹی بہت جلد اس انگریز کی وجہ سے ان سے بغاوت کرنے والی ہے ۔
اور حقیقت یہی تھی کہ سویرہ صرف اور صرف مقدم شاہ کی امانت تھی ۔
اس کی آزادی اپنی جگہ لیکن وہ یہ رشتہ توڑ نہیں سکتے تھے ایک یہی آخری سہارا تھا حویلی واپس جانے کا بابا سائیں سے ملنے کا ان سے معافی مانگنے کا ۔
اور ان کی لاڈلی بیٹی ان سے یہ آخری سہارا بھی چھین لینا چاہتی تھی ۔
جو انہیں ہر چیز گوارا نہ تھا
•••••••••••••••
سویرہ یہ کونسا وقت ہے گھرآنے کا احمد شاہ نے غصے سے اپنی بیٹی سے کہا۔
بابا سائیں میں اپنے فرینڈز کے ساتھ تھی اور آپ کو تو پتا ہے فرینڈز کے ساتھ وقت تو لگ ہی جاتا ہے اس کے لہجے کی لڑکھڑاہٹ احمد شاہ پر بہت کچھ ظاہر کر رہی تھی جس کی وجہ سے احمد شاہ کا ہاتھ اٹھا ۔
تھپڑ کی گونج نے پورے گھر کو ہلا کر رکھ دیا
دھڑکن دوڑ کر نیچے آئی لیکن احمد شاہ کو غصے میں دیکھ کر وہیں سے پلٹ گئی
احمد شاہ نے سے جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا
بابا سائیں آپ نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں آپ جانتے ہیں نہ یہ ان لیگل ہے سویرا اپنی تمیز اور تربیت کو پیروں تلے روندتے ہوئے بولی
بدتمیز تم مجھے بتاؤ گی کہ کیا ان لیگل ہے وہ غصے سے دھاڑتے ہوئے بولے وہ ابھی تک اس بات کا یقین نہیں کر پا رہے تھے کہ ان کی بیٹی سچ میں نشےکی حالت میں بے ہودہ لباس میں ان کے سامنے کھڑی ہے ۔اور اب اس کے گستاخانہ لہجے نے انہیں مزید تاش دلایا تھا
وہ جانتے تھے کہ انہیں کی دی گئی چھوٹ کا نتیجہ تھا کان کھول کر سن لو سویرا یہ جو کچھ تم کرتی پھر رہی ہو ایک ایک بات کی خبر ہے مجھے ان لڑکوں سے اپنی دوستی ختم کرو میں یہ سب کچھ برداشت نہیں کروں گا مجھے مجبور مت کرو کہ میں تم سے تمہاری آزادی چھین لوں
اور ایک بات جو خبریں مجھے مل رہی ہیں ان میں سے ایک پرسنٹ بھی سچ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
تو آپ نے میرے پیچھے جاسوس چھوڑے ہوئے ہیں شک تو مجھے پہلے ہی تھا لیکن اب یقین ہو گیا ہے کیوں بابا سائیں ۔۔۔؟ یہ سب کچھ آپ نے یہ جاننے کے لیے کیا ہے کہ آپ پتا لگا سکیں کہ میرا بائے فرینڈ ہے یا نہیں تو سن لیں ولیم میرا بوئے فرینڈ ہے ۔
چٹاخ۔ ۔۔
اس کی بات ابھی مکمل نہ ہوئی تھی کہ احمدشاہ کا ہاتھ پھر سے اٹھا
خبردار جو تم نے یہ بات دوبارہ کی کان کھول کر سن لو سویرا مقدم شاہ کی امانت ہو تم اس گھرمیں اور اس امانت میں خیانت احمدشاہ مرتے دم تک نہیں کرے گا
صدیق آج کے بعد یہ گھر سے باہر نہ نکلے وہ اپنے خاص ملازم کو آرڈر دیتے ہوئے جانے لگے
نہیں بابا سائیں آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے ۔
اگر آپ نے مجھے زبردستی اس گھرمیں روکنے کی کوشش کی تو میں پولیس میں جاؤں گی اور آپ جانتے ہیں اس ملک کا قانون آپ کے حکم کا غلام نہیں ہے وہ بنا خوف اور ڈر کے بولی ۔
نہیں بیٹا سائیں آپ کے بابا سائیں کے آگے اس ملک کے قانون کی کوئی اوقات نہیں جو اولاد کو باغی کر دے اس قانون کو ہم اپنے پیروں کی جوتی کے نیچے کچلتے ہیں وہ مغرورانہ انداز میں کہتے ہوئے زینے چڑھنے لگے ۔
ان کا ارادہ دھڑکن کے پاس جانے کا تھا آج جو کچھ بھی ہوا اس سے وہ کتنا ڈر گئی ہوگی اس بات کا انہیں اچھے سے اندازہ تھا
سویرا ضد اور اکڑ کے معاملے میں احمدشاہ پر تھی جبکہ دھڑکن ہر معاملے میں اپنی ماں پرتھی ڈر ۔ پیار۔ احساس۔شرارت اس کی ہر بات میں انہیں اپنی جان سے پیاری بیوی یاد آتی
دھڑکن کے ہر انداز میں ملائکہ کا عکس جھلکتا تھا ایک یہ بھی وجہ تھی کہ احمدشاہ کو ان کی یہ بیٹی ان کی جان سے بھی زیادہ عزیز تھی عزیز تو سویرا بھی بہت تھی لیکن اس کی اکڑ اور ضدی پن اسے احمد شاہ سے دور کر رہا تھا
•••••••••••
تم کالج نہیں گئی ابھی تک حوری کردم شاہ ابھی نیچے آیا تھا اس کا ارادہ ڈیرے پر جانے کا تھا
نہیں کردم لالا وہ آج ڈرائیور چاچا کسی کام کے سلسلے میں شہر چلے گئے ہیں اس لئے میں آج چھٹی پر ہوں نہیں جا پائی حوریہ نے وجہ بتائی ۔
تو مجھے جگالیتی تمہارے ایگزامز ہونے والے ہیں تم اس طرح لاپروائی کیسے کر سکتی ہو اس کا نتیجہ جانتی ہو نا تم کردم نےسخت لہجے میں کہا ۔
وہ شروع سے ہی عورتوں کی تعلیم کے حق میں تھا وہ تائشہ کو بھی آگے پڑھنے کا کہیں بار کہہ چکا تھا لیکن اسے آگے پڑھنے میں کوئی دلچسپی نہ تھی
وہ لالا آپ سو رہے تھے اور ویسے بھی تین دن کے بعد آپ ٹھیک سے آرام کر رہے تھے مجھے آپ کو جگانا مناسب نہیں لگا حوریہ نے نظریں جھکا کر کہا
آئندہ اپنا دماغ چلانے کی ضرورت نہیں ہے اگر چاچا نہ ہوں تو مجھے کہہ دیا کرو ورنہ مقدم سائیں بھی گھر پر ہی ہوتے ہیں اس وقت کردم نے سمجھاتے ہوئے کہا جبکہ وہ تو مقدم کا نام سنتے ہی پریشان ہوگئی
وہ جو جب بھی اس سے اکیلے میں ملتا عجیب عجیب باتیں کرتا اسے تومقدم کی کچھ بات سمجھ ہی نہیں آتی تھی لیکن اس کی پیام دیتی نظریں اسے بہت عجیب خوف میں مطلع کر دیتی
وہ منہ سے کم آنکھوں سے زیادہ باتیں کرتا تھا مقدم شاہ کی باتوں کے بارے میں اس نے کہیں بار کسی نہ کسی کو بتانے کے بارے میں سوچا لیکن اس حویلی میں مقدم شاہ کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ وہ نانا سائیں کے لاڈلے تھے ۔انہیں تو بتانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی
خالہ سائیں تو اس سے کلام تک کرنا پسند نہ کرتیں مامی سائیں تو کسی سے بھی بات نہیں کرتی تھی ۔اور ویسے بھی مامی سائیں کے تو وہ بیٹے تھے ۔
تائشہ سے کہتی تو وہ اس کا مذاق اڑا دیتی ۔کیونکہ مقدم شاہ پر تو پورےگاؤں کی لڑکیاں مرتی تھی ۔
کردم لالہ سے اس طرح کی بات کرنا ناممکن تھا کردم ڈیرے پر جا چکا تھا جبکہ اس کی آج کالج سے چھٹی ہو چکی تھی ۔
اسی لیے وہ اپنا فیورٹ کام کوکنگ کرنے کے لئے کچن میں آگئی