267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 31)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

تمہیں ٹھیک سے پتا ہے نہ کہ وہ لوگ کون سے ہوٹل میں ٹھہرے ہیں ۔

احسن ملک نے اپنے لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے اسے مکمل انفارمیشن دی ۔

ان لوگوں پر نظر رکھو لیکن دیہان رکھنا کے مقدم شاہ بہت تیز انسان ہے اسے یہ سب کچھ پتہ نہ چلے ۔

اس کا دماغ چیتے کی رفتار کو مار دے سکتا ہے اور اس کی نظر چیل کی نظر کو بھی اگر اسے شک ہوا اور میری بیٹی پر آنچ آئی تو تم لوگوں میں سے ایک بھی زندہ نہیں بچے گا

سر بے فکر ہو جائیں کسی کو کچھ بھی پتا نہیں چلے گا ہم آپ کی بیٹی اور مقدم شاہ پر نظر رکھیں گے ۔

اور جب آپ کی بیٹی اکیلی ہوگی تب آپ کو خبر دے دیں گے آپ اس سے مل کر سب کچھ بتا دیجیے گا فحال بھی آپ کی بیٹی کمرے میں تنہا ہے لیکن مقدم شاہ اس کا بہت خیال رکھ رہا ہے اورہر تھوڑی دیر کے بعد وہ کمرے میں جا رہا ہے یہ نہ ہو کے آپ پکڑے جائے ۔

اس کے آدمی نے بتایا ۔

ٹھیک ہے لیکن مقدم شاہ کے ہر قدم پر نظر رکھو اور حوریہ کو تنہا پاتے ہی مجھے بتاؤ ۔ملک نے فون رکھتے ہوئے کہا

وہ وقت دور نہیں قاسم شاہ سائیں جب میری بیٹی میرے پاس ہوگی وہ خیالوں میں شاہ سائیں سے مخاطب تھا

•••••••••••••••

آپ بہت اداس لگ رہی ہیں بڑی اماں آپ کی پریشانی سمجھ سکتی ہوں ۔

حوریہ نے کس طرح سے مقدم سائیں کو اپنی طرف لگا کر آپ کو خود معافی مانگنے پر مجبور کیا ۔سب سمجھ رہی ہوں ۔

پہلے اس کے باپ کی وجہ سے ہمارا سارا خاندان تباہ ہوا اور اب اس کی وجہ سے مقدم سائیں آپ سے الگ ہو رہے ہیں ۔

کاش میں آپ کے لئے کچھ کر پاتی ۔

میں نے جو کچھ بھی اس دن کہا تھا سب جھوٹ تھا ۔اصل میں بات یہ ہے کہ میں فی الحال شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔اسی لئے اس دن میں نے بدتمیزی سے مقدم سائیں سے شادی کرنے سے انکار کر دیا لیکن میرا یقین ماں سائیں کاش میں انہیں پہلے دیکھ لیتی ۔

سویرا کب سے ان کے قریب بیٹھی باتیں کئے جا رہی تھی جبکہ نازیہ نے اس کے کسی سوال کا کسی بات کا کوئی جواب نہ دیا ۔

کافی دیر وہ ان کے جواب کا انتظار کرتی رہی پھر مایوس ہوکر ان کے قریب سے اٹھ گئی ۔

ماں بالکل بیٹے جیسی ہے مغرور اکڑو سویرا بڑبڑاتے ہوئے باہر آگئی

••••••••••••••

وہ چائے لے کر کمرے میں آئی تو کردم نہا رہا تھا ۔

کردم سائیں چائے میں نے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی ہے نہ کہ سٹڈی ٹیبل پہ پہلے بتا رہی ہوں بعد میں الزام لگانے کی ضرورت نہیں ہے ۔

وہ اونچی آواز میں بولی جبکہ اس کی آواز سن کر کردم بے اختیار مسکرا یا ۔

یہی رکوآ رہا ہوں میں اس سے پہلے کے وہ باہر نکلتی کردم کا ایک اور آرڈر آگیا ۔

اور پھر اگلے دو منٹ میں کردم باہر تھا ۔

اپنے کرتے کے بٹن بند کرتے ہوئے وہ اس کے قریب آ روکا ۔وہاں کبرڈ سے ٹائول نکال کے لاؤ وہ الماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیڈ پر آ بیٹھا ۔

اور دوسرے ہاتھ سے قریب سے چائے کا کپ اٹھایا ۔

چائے کا پہلا گھونٹ بھرتے ہی الماری سے تولیہ نکالتی دھڑکن کو ہنسی آگئی لیکن وہ بامشکل اسے ظبط کرتی تو اس کے قریب آئیں

کردم کے چہرے پر کسی بھی قسم کا کوئی تاثر نہ تھا ۔

کھڑی کیا ہو سر پہنچو میرا اور دوسرا حکم دیتا چائے پینے لگا ۔

دھرکن نے اس کے آرڈر پر منہ بنایا اور پھر حیران اور پریشان نظروں سے اس کے ہاتھ میں چائے کا کپ دیکھ رہی تھی جو آدھا خالی ہو چکا تھا ۔

یا اللہ یہ کیا ہو رہا ہے اتنی گندی چائے کس طرح پی رہے ہیں وہ سوچتے ہوئے اسے گھور گھور کر دیکھ رہی تھی کردم نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا پھر اپنے سر کی طرف اشارہ کیا تو اس نے فوراً ہی تولیہ اس کے سر پر رکھا ۔

اس افراتفری میں وہ اس کے بہت نزدیک آ چکی تھی ۔ایک نظر کردم نے اسے اپنے بالکل قریب دیکھا دھڑکن فی الحال صرف چائے کا سوچ رہی تھی جو کردم کے اندر جا کر نہ جانے اس کے گردے پھیپھڑے ہلا رہی تھی کہ نہیں ۔

جبکہ کردم اس کے فل سپیڈ میں چلتے ہاتھ کو محسوس کرکے مسکرایا

چائے ختم کرکے کردم نے کپ ایک طرف رکھا اور اپنے سر پر چلتے ہوئے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا دھڑکن ایک دم گھبرا گئی ۔اور جلدی سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی لیکن یہ اس کے بس کی بات نہ تھی

بہت اچھی چائے بنائی ہے ۔لیکن اگلی بار نمک ذرا تیز رکھنا ویسے ایک بات تو بتاؤ تمہیں کس نے بتایا کہ میں نمک والی چائے پیتا ہوں۔وہ مسکراتے ہوئے پوچھ رہا تھا جب کہ دھڑکن کی نگاہوں کے سامنے وہ چائے کے تین بڑے چمچ جس میں اس نے نمک بھربھر کر چائے میں ڈالا تھا وہ منظر یاد آیا

ہمارے گھر میں تو اور کوئی نمک والی چائے نہیں پیتا کردم نے اسے اپنے ساتھ بیڈ پر بٹھاتے ہوئے پوچھا ۔

پچھلی دفعہ ملازمہ نے بتایا تھا ۔وہ معصومیت سے بولتی اس کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھ رہی تھی ۔جبکہ اس کے بلکل قریب بیٹھی وہ نروس بھی ہو چکی تھی ۔

آپ کو واقع ہی چائے پسند آئی دھڑکن کنفیوز سی پوچھنے لگی ہاں اچھی تھی پھر کوشش کروگی تو اس سے بھی زیادہ اچھی بن جائے گی کردم مسکرایا

اس وقت صرف اس کے ساتھ وقت گزارتا اس کے لئے مسکراتا کردم دھڑکن کو بہت پیارا لگ رہا تھا ۔

اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامتیں مسکراتے ہوئے وہ اسے باتیں کر رہا تھا نہ جانے کیوں دھڑکن کا دل چاہا کہ یہ وقت کبھی ختم نہ ہو اور کردم اسی طرح اس کا ہاتھ تھام کر اس سے باتیں کرتا رہے

دھڑکن میں تم سے تائشہ کے بارے میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کردم مسکرا کر بات کا آغاز کرنے لگا ۔

جب دھڑکن نے اچانک ہی اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑایا بیشک وہ اس کے ساتھ رہنا چاہتی تھی اس سے باتیں کرنا چاہتی تھی ۔ لیکن تائشہ کے لئے اس کے پاس بات کرنے کے لئے کوئی بات نہ تھی ۔

مجھے لگا شاید آپ میرے بارے میں کچھ بات کرنا چاہتے ہیں وہ اس کے قریب سے اٹھتی ہوئی بولی موڈ اف ہو چکا تھا ۔

دیکھو دھڑکن میں تم سے ۔۔۔۔۔

آپ دیکھیں کردم سائیں اگر آپ مجھے اس بات کا یقین دلانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ وہ سب کچھ میری غلط فہمی تھی تو میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ وہ کوئی غلط فہمی نہیں تھی تائشہ دیدہ نے یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا ہے اگر آپ کو مجھ پر یقین نہیں ہے تو پلیز مجھ سے کوئی بات نہ کریں ۔

اس کا نام سن کر وہ بیزار ہو چکی تھی وہ اس کے قریب سے اٹھ کر کمرے سے باہر جانے لگی پھر اچانک مڑی

میں اس سے کبھی بات نہیں کرتی جو زبردستی مجھے غلط ثابت کرنے کی کوشش کرے لیکن آپ سے بات کرنا میری مجبوری ہے ۔کیوں کہ میں دادو سائیں کو دکھ نہیں دینا چاہتی اگر میں چاہتی تو آپ کی اور آپ کی اس لاڈلی پلس چہیتی تائشہ دیدہ کی ساری باتیں میں دادو سائیں کو بتا سکتی تھی ۔

لیکن میں نے ایسا کچھ نہیں کیا کیونکہ میں انہیں کسی قسم کا کوئی دکھ نہیں دینا چاہتی ۔

اسی لیے بہتر ہوگا کہ آپ میری بات کو سمجھیں

میں نہیں چاہتی کہ کل جو کچھ بھی ہوا وہ بات ہم تینوں کے علاوہ کسی اور کو پتہ چلے اسی لئے بہتر ہوگا کہ گھر میں کسی بھی قسم کی کوئی بد مزگی نہ پھیلائی جائے ۔

اور مجھے محاطب کرنے کی کوشش بھی نہ کی جائے ۔کیونکہ میں ناراض ہوں ۔

اور جب تک کوئی سرپرائز پلان کرکے مجھے نہیں مناتا میں تب تک نہیں مانتی دھڑکن نے اسے منانے کا آئیڈیا بھی دیا تھا

لیکن فکر نہ کریں میں آپ سے خود کو منانے کی کوئی امید نہیں رکھتی ۔کیونکہ میں جانتی ہوں آپ دنیا کے سب سے بورنگ ترین انسان ہے

اسی لئے اب اگر کوئی بھی کام ہو تو ملازمہ سے کہیے گا مجھے نہیں ۔اگر الزام لگاتے ہوئے اور ڈانٹتے ہوئے آپ کو یاد نہیں آیا تھا کہ میں آپ کی منکوحہ ہوں تو کام کرتے ہوئے بھی یاد نہیں آنا چاہیے ۔وہ اپنی طرف سے اسے بہت بڑی بڑی باتیں سنا رہی تھی ۔

جبکہ کردم کو ایک پل کے لئے وہ بہت سمجھدار اور دوسرے ہی پل میں کوئی نھنی سی بچی لگ رہی تھی ۔

وہ اسے بہت بھاری بھاری باتیں سنا کر کمرے سے باہر جا چکی تھی

تو اب میڈم کو منانا پڑے گا ظاہری سی بات ہے اسی لئے تو بتا کے گئی ہے کہ ناراض ہوں ۔

لیکن کیسے مناؤں گا میں نے کبھی کسی کو نہیں منایا اور نہ ہی کسی نے مجھے اس طرح سے منایا ہے خیر میں تو کبھی کسی سے اس طرح سے خفا بھی نہیں ہوا ۔

کیا مطلب کیا اب میں اس کی طرح بچے جیسی حرکتیں کرونگا

مقدم سائیں اب تم ہی کوئی آئیڈیا دو وہ فون اٹھاتے ہوئے مقدم کا نمبر ملانے لگا ۔

کیونکہ دھڑکن کی نظر میں مقدم بہت ہی رومانٹک ہسبنڈ تھا ۔اب ایک رومینٹک انسان دھڑکن کے شوہر کو اپنی بیوی کو منانے کا کوئی طریقہ تو بتا ہی سکتا تھا