267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai) Epi 16

سچ بتاؤ تم لوگ میری مدد کیوں کر رہی ہو ۔۔۔۔؟
اور یہ بتاؤ کہ تم دونوں کیوں نہیں چاہتی مقدم شاہ اور کردم شاہ کا نکاح نہ ہو ۔
چودھری ان دونوں کے سامنے بیٹھادلچسپی سے ان کی خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا
کیونکہ مقدم شاہ میرا منگیتر ہے اور کردم شاہ ا سکا ۔
لیکن وہ بڈھا کردم شاہ کا نکاح میری بہن کے ساتھ اورمقدم شاہ کا نکاح اس گنوار کے ساتھ کر رہا ہے ۔سویرا نے انتہائی بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا
اس لئے ہم تمہارے پاس آئے ہیں بتاؤ تم ہماری مدد کرو گے یا نہیں سویرا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔
خوبصورت لوگوں کی چوہدری مدد نہ کرے ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا اور عاشق تو مجھے بہت ہی پسند ہیں
تم لوگ بس یہ چاہتی ہو نا کہ نکاح سے پہلے مقدم شاہ اور کردم شاہ حویلی سے کہیں چلے جائیں تاکہ عین وقت پر ان کا نکاح نہ ہو ۔
اور تم لوگ یہ بھی چاہتی ہو کہ کوئی بڑا مسئلہ بنے تاکہ نکاح کچھ دن کے لیے ٹل جائے
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے میں تم دونوں کی مدد کرنے کے لئے تیار ہوں میں کل ہی سکول والی اس زمین پر آگ لگا دوں گا وہ بھی نکاح سے کچھ دیر پہلے یہ خبر سن کر وہ دونوں آئیں گے اور نکاح نہیں ہوگا ۔
اس زمین کو بچانے میں ان لوگوں کے کچھ خاص لوگ زخمی ہو جائیں گے جس سے ان دونوں کا نکاح ٹل جائے گا پھر تم لوگ سوچ لو تم دونوں کو آگے کیا کرنا ہے
میں صرف وقتی نکاح روک سکتا ہے ۔چودھری نے بات کرتے ہوئے ان کے چہرے کی رونق دیکھی تھی ۔
تھینک یو سو مچ ہمیں اس سے زیادہ تمہاری اور مدد چاہیے بھی نہیں باقی ہم خود سنبھال لیں گے ۔
لیکن فی الحال نکاح روک دو سویرہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور پھر تائشہ کو دیکھ کر مسکرائی وہ جو اس کے ساتھ آنے کو تیار ہی نہ تھی ۔
لیکن جب اس نے یہ کہا کہ کردم شاہ ہمیشہ کے لئے اس کا ہو سکتا ہے تو وہ اس کے ساتھ آنے پر مجبور ہوگئی
لیکن کردم کے دشمنوں کے ساتھ ہاتھ ملا کر وہ خوش نہیں تھی ۔
وہ تو کردم شاہ کی دیوانی تھی اسے ہر حالت میں پانا چاہتی تھ ی وہ اس کے لئے کوئی بھی قیمت چکانے کو تیار تھی اسے بس کردم شاہ کا ساتھ چاہیے تھا ۔
اسے لگ رہا تھا کہ اس کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے اس نے زندگی کے ہر مقام پر کردم شاہ کو ٹوٹ کر چاہا تھا وہ کتنی آسانی سے اسے چھوڑ کر کسی دوسری سے نکاح کرنے لگا بے شک محبت اندھی ہوتی ہے وہ سہی غلط کی پہچان ختم کر دیتی ہے اور تائشہ کی پہچان ختم ہوچکی تھی
•••••••••••••••
حوریہ بہت ساری رسمیں ادا کر چکی تھی اور نہ جانے کتنی ہی رسمیں ادا کرنی تھی کردم کی شادی میں ایک بہن کے روپ میں وہ سب سے آگے تھی۔
آج ان دونوں کا نکاح تھا ۔
تائشہ اور سویرہ دونوں کو اس شادی میں کوئی دلچسپی نہ تھی وہ دونوں اپنے کمرے میں گھسی ہوئی تھی بلکہ ایک ہی کمرے میں دونوں گھسی ہوئی تھی
دھڑکن کو اپنی بہن پر بہت دکھ ہو رہا تھا وہ اپنی ہی بہن کی شادی میں شرکت نہیں کر رہی تھی اگر حوریہ یہاں نہ ہوتی تو کیا ہوتا
ایسے وقت میں بہنیں اور سہیلیاں ہی تو ہوتی ہیں جس کے ساتھ ایک لڑکی اپنی جذبات کا اظہار کر سکتی ہے ۔لیکن نہ تو اس کی بہن کو اس میں دلچسپی تھی اور نہ ہی وہ اس کے جذبات جاننا چاہتی تھی ۔
لیکن حوریہ نے اپنی شادی کی پرواہ کیے بغیر دھڑکن کا خیال رکھا ۔
دھڑکن عمر میں تو تم مجھ سے چھوٹی ہو لیکن پھر بھی میری جیٹھانی بننے جارہی ہو یا میں تمہیں اپنی بھابھی کہوں ۔ حوریہ اس کا دوپٹا سیٹ کرتے ہوئے پوچھنے لگی
کچھ بھی کہہ لیں کیا فرق پڑتا ہے دھڑکن نے بے دلی سے کہا اسی وقت ان کے کمرے کے قریب سے نکلتے ہوئے کردم کے قدموں وہی روک گئے۔
یہ تو وہ جاہتا تھا کہ وہ اسے پسند نہیں کرتی ۔اور اس شادی کے لیے بھی وہ صرف اور صرف دادا سائیں کے لئے تیار ہوئی ہے لیکن وہ اسے اتنی بددل تھی کہ اسے اس شادی سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا
کیا مطلب کوئی فرق نہیں پڑتا حوریہ اس کے قریب بیٹھ کر پوچھنے لگی
میں اپنی بات نہیں کر رہی میں کردم لالہ آئی مین کردم سائیں کے بارے میں بات کر رہی ہوں ۔
کیا مطلب میں کچھ سمجھی نہیں حوریہ کے ساتھ ساتھ دروازے پر کھڑا کر دم بھی اس کی بات کو نہیں سمجھا تھا
ارے میرا مطلب ہے کہ کردم سائیں یہ شادی صرف دادو سائیں کے کہنے پر کر رہے ہیں ورنہ وہ مجھے بالکل لائک نہیں کرتے ۔
کبھی کبھی سوچتی ہوں مقدم لالا کتنے رومانٹک ہیں وہ نہ صرف آپ کیلئے مہندی کی ڈریس لائیں بلکہ آپ کو اپنے ساتھ لے کر کے اور شاپنگ کروائی لیکن کردم سائیں نے مجھے دیکھنا تک گوارا نہ کیا ۔
آپ نے دیکھا جب سے ہماری منگنی ہوئی ہے انہوں نے ایک بار بھی مجھ سے بات کی نہیں کی یہاں تک یہ بھی نہیں پوچھا ۔کہ تمھیں شاپنگ پہ جانا ہے
بلکہ شاپنگ کو چھوڑو انہوں نے تو مجھے بات بھی نہیں کروایا صبح میں کمرے سے باہر نکلی تو وہ مجھے دیکھے بنا باہر چلے گئے ۔ٹھیک ہے پہلے ہمارا کوئی ایسا رشتہ نہیں تھا لیکن اب یہ اس نے ہاتھ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا یہ پہنائی ہے انہوں نے مجھے میں منگیتر ہوں ان کی بات تو کر ہی سکتے ہیں لیکن کیوں کریں گے بات وہ مقدم لالا تھوڑی ہیں وہ کردم سائیں ہیں دنیا کے سب سے ان رومنٹک اور بورنگ پرسن وہ معصومیت سے کہتی اپنی بات پر اداسی سے بیٹھ گئی ۔
حوریہ نے گہرا سانس لیا جو وہ سوچ رہی تھی ایسی کوئی بات نہیں تھی ۔
ہر لڑکی کی طرح دھڑکن بھی اپنے منگیتر سے کچھ امید رکھتی تھی ۔
جب کہ دروازے پہ کھڑا کردم اس کی مکمل بات سننے کے بعد اپنا ماتھا کھجا رہا تھا ۔
اتنی بیوقوف لڑکی ہے یہ اس طرح کے باتیں کھلے عام کون کرتا ہے بھلا ۔
اگر کرنی تھی شاپنگ تو بتا دیتی لے جاتا ساتھ کردم نےسوچتے ہوئے قدم آگے کی طرف بڑھائے
کچھ زیادہ ہی ان رومنٹک اور بورڈنگ پرسن سمجھا ہے نہ مجھے تمہیں تو میں بتاؤں گا رومیس کیسے کہتے ہیں
•••••••••••••••••
نکاح کا وقت ہوچکا تھا اس وقت دوپہر کےڈھائی بج رہے تھے
دادا سائیں نے یہ وقت مقرر کیا تھا نکاح کیلئے۔
مولوی صاحب آ چکے تھے مقدم اور کردم دادا سائیں کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے تھے ۔
سویرا اور تائشہ بے فکر تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ نکاح آج کی تاریخ میں ممکن نہیں ہے اور اس کے بعد وہ یہ نکاح نہیں ہونے دیں گی یہ وہ سوچ چکی تھی
سویرانے ایک آخری بار چوہدری کو فون کرکے کنفرم کروایا ۔اور چودھری نے اسے بے فکر رہنے کے لیے کہا
مولوی صاحب نے نکاح شروع کردیا تھا جبکہ ابھی تک کردم یا مقدم کا فون نہیں بجا تھا ۔
جس کی وجہ سے سویرا اور تائشہ دونوں ہی بہت پریشان تھی۔
سویرا دیدہ نکاح تو شروع ہو گیا ہے لیکن ابھی تک کوئی فون نہیں آیا چودھری ابھی تک فون کیوں نہیں کر رہا تائشہ نے بیچینی سے پوچھا ۔
پتا نہیں میں بھی یہی سوچ رہی ہوں وہ مسلسل چودھری کو فون کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن فون بند جا رہا تھا
••••••••••••
چوہدری صاحب آپ کا فون کے سے بج رہا ہے آپ اٹھا کیوں نہیں رہےاس کے ایک آدمی نے پوچھا ۔
کیونکہ میرا دماغ خراب نہیں ہے میں نے ان بیوقوف لڑکیوں کے سامنے یہ تو کہہ دیا کہ میں ان کی مدد کروں گا لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پائیں کہ میں ان کے خاندان کا دشمن ہوں
اور ان کو میری وجہ سے کوئی خوشی میں نصیب نہیں ہونے دوں گا ۔
وہ بیوقوف لڑکیاں چاہتی ہیں کہ میں اس وقت جب کہ میں بالکل آزاد ہوں مقدم شاہ اور کردم شاہ سے بغاوت کروں تاکہ وہ مجھے گاؤں کے چوڑائے پہ کھڑا کرکے گولی مار دیں ۔
میں اتنا بھی بے وقوف نہیں ہوں ۔بلکہ میں تو چاہتا ہوں ان دونوں کی شادی ہو جائے تاکہ کچھ دن کے لیے ان دونوں کا دھیان بٹ اور وہ زمین میری ہو جائے ۔
وہ تو لڑکیاں حسین تھی تو میں نے دل رکھنے کے لیے کہہ دیا کہ میں مدد کروں گا چوہدری نےقہقہ لگاتے ہوئے ان دونوں کی بیوقوفی کا مذاق اڑایا ۔
•••••••••••••••
نکاح کی رسم مکمل ہوچکی تھی آج کی تاریخ میں مقدم شاہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حوریہ کو پاگیا تو دھڑکن ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کردم کے نام کردی گئی ۔
نکاح کے بعد دونوں جوڑیوں کو ایک ساتھ بٹھایا گیا ۔
دھڑکن کی حالت آج بھی کچھ دن پہلے جیسے ہی تھی ۔
لیکن آج رشتہ بدل چکا تھا۔
جبکہ مقدم کی خوشی کا اندازہ اس کے چہرے سے بھی صاف لگایا جا سکتا تھا ۔
سنو تم تو نہیں آئی مجھ سے ملنے کے لیے لیکن آج رات میں آونگا مقدم شاہ نے سامنے دیکھتے ہوئے حوریہ کو سرگوشی نماآواز میں کہا جس کے بعد حوریہ کے دل کی دھرکن کسی گاڑی کی طرح بھاگی تھی
جبکہ دوسری طرف اسے اس طرح سے کانپتے دیکھ کر نرمی سے کہا تھا ۔
ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں کچھ بھی نہیں کہوں گا ۔
ریلیکس ہو جاؤ ۔وہ پہلی بار اس سے اتنے نرم لہجے میں بات کر رہا تھا ۔
دھڑکن نے ذرا نظر اٹھا کر دیکھا تو کردم کو پہلی بار زندگی میں مسکراتے ہوئے پایا ۔
دیکھو تو اس طرح سے گھبراو گی تو سب لوگ کیا سمجھیں گے ۔ہہہم۔آرام سے بیٹھو ۔وہ اس کا ہاتھ میں سے اپنے ہاتھوں میں لیے آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ کی نرماہٹ کو محسوس کر رہا تھا ۔
••••••••••••••
شام کو مہندی کی رسم ادا ہو رہی تھی
تائشہ اور سویرا فون کا انتظار ہی کرتے رہ گئی لیکن کوئی فون نہیں آیا سویرا کو تو اتنا غصہ آ رہا تھا کہ اس کا دل چاہا ابھی چوہدری کے ڈیرے پر جا کے اس کا منہ توڑ آئے
جبکہ تائشہ روئے جارہی تھی
جس نے ساری پلاننگ کرلی تھی لیکن سویرا کی بات سن کر اس نے نقصان اٹھایا تھا اس نے سوچا تھا کہ وہ خودکشی کا ڈرامہ کرے گی تب کردم اس پر ترس کھا کر اسے شادی کرلے گا ۔
لیکن وہ بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی اسے رہ رہ کر سویرا پہ غصہ آ رہا تھا ۔
جس نے اس سے کہا تھا کہ جو میں کہتی ہوں تم وہ کرو تمہیں کردم شاہ مل جائے گا لیکن اس کے حصے میں کچھ نہ آیا جس طرح سے سویرا خالی ہاتھ تھی
تائشہ اس وقت بیٹھی روئے جارہی تھی جبکہ سویرا اس کے آنسوؤں سے اریٹیٹ ہو چکی تھی ۔
تائشہ فور گارڈ سک رونا بند کرو رونے سے کچھ نہیں ہوگا ہمیں کچھ سوچنا ہوگا۔
کیا ہوگا کیا کریں گے ہم بتائیں مجھے وہ غصے سے غراتے ہوئے بولی ۔
سویرا کو اس کا لہجہ بہت برا لگا تھا لیکن فی الحال وہ ضبط کر گئی کیونکہ اس کے علاوہ اس کا ساتھ دینے والا اور کوئی نہ تھا
اور فلحال تائشہ کی مدد کرنا اس کے لیے بہت ضروری تھا اسی لئے اس کے پاس زمین پر بیٹھ گئی
میری بات سنو تائشہ دھڑکن بہت ڈرپوک ہے اتنی کہ ہم جو بھی کرے گی وہ کسی کو کچھ نہیں بتائے گی میں اس کی بہن ہوں اس کے ساتھ کچھ نہیں کرسکتی لیکن تم میرا مطلب ہے اس سے ڈراؤ دھمکاؤ اور کچھ نہ سہی وہ تمہاری دھمکی میں آکر کر دم سے دور تو رہ سکتی ہے ۔
ہم ان دونوں کا ریلیشن نہیں بننے دیں گے کردم بہت انا پرست ہے اگر دھڑکن نے اسے خود سے قریب آنے سے روکا تو یقین کرو وہ کبھی اسے منہ نہیں لگائے گا
جو لڑکی اس کے کام ہی نہ سکے وہ اس کا کیا کرے گا اچار ڈالے گا چار دن میں طلاق دے کر فارغ کرےگا اور پھر تم سے شادی کرلے گا ۔
سویرا کتنی آسانی سے اپنی ہی بہن کی طلاق کی بات کر رہی تھی ۔
اور اس کی بات پر عمل کرنے کا تائشہ نے پورا ارادہ کر لیا تھا
جبکہ سویرا کو آج ہی پتہ چلا تھا کہ اگر حوریہ سے مقدم کی شادی نہ ہوتی تو سویرا سے بھی کبھی نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ حوریہ اس کی پسند ہے اور وہ پہلے ہی اسے ریجیکٹ کر چکا ہے ۔
لیکن وہ بھی فیصلہ کر چکی تھی جس انسان نے اسے ریجیکٹ کیا تھا وہ اس نے حاصل کرکے دم لے گی ۔
لیکن اگر وہ اپنی محبت کا بھوت اتارنا چاہتا ہے تو سویرا کو کوئی اعتراض نہ تھا وہ چار دن اپنی محبت کے ساتھ گزار سکتا ہے
•••••••••••••••••••
مہندی کی رسم ادا ہورہی تھی ۔
حویلی میں شورو ہنگامے تھے ۔دادا سائیں بہت خوش تھے ۔آخر کے دونوں پوتوں کی شادی تھی
اپنی بیٹی کو اپنی خواہش پوری کرتے دیکھ کر احمدشاہ کی آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھی ۔
دھڑکن کردم کے ساتھ بیٹھی باربار اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔
دوپہر میں کردم کے نرم لہجے نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کردیا آخر وہ بھی اس کا چہرا دیکھ رہی تھی
وہ بھی مقدم سے کم نہ تھا ۔مگر مقدم کی با نسبت اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی ۔
جبکہ مقدم تھورا شوخ اور ہنس مکھ تھا ۔
وہ بار بار ایک ہی بات سوچ رہی تھی وہ اور کردم دونوں ایک ساتھ کیسے لگتے ہوں گے ویسے تو لوگوں نے بہت تعریف کی تھی اس کے ذہن میں خود سے ہی سوال پیدا ہو رہے تھے
لیکن وہ جانتی تھی کہ اس کے سوالوں کا جواب دینے کے لئے کردم شاہ اس کے ساتھ آئینے کے سامنے ہرگز کھڑا نہیں ہوگا کیونکہ وہ ان رومینٹک پرسن ہے ۔
دھڑکن کے اس طرح کے چونچلے اسے ہرگز پسند نہیں آئیں گے
یا اللہ میرے نصیب میں کتنا ہنڈسم بندہ لکھ ہی دیا تھا تو تھوڑا رومینٹک بھی لکھ دیتے وہ منہ بسورکر اللہ سے شکایتیں کر رہی تھی ۔
جبکہ دوسری طرف ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مقدم شاہ اس محفل کے ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا کیونکہ اس کے بعد حوریہ اس سے ملنے آنے والی تھی اور اسے یقین تھا کہ اب وہ ہرگز انکار نہیں کرے گی
حوریہ کو ملنے کا آنے کے بعد دھمکی بھی دے چکا تھا کہ نہ آنے کی صورت میں وہ اس کے کمرے میں آ جائے گا ۔
اور اسے یقین تھا کہ وہ کبھی اسے اپنے کمرے میں نہیں آنے دے گی ۔
لیکن ہائے یہ رسم جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی