267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai) Epi 14

کردم کو اپنے سامنے دیکھ کر دھڑکن کے ہاتھ پر پھول چکے تھے وہ ایک ایک قدم اٹھاتا اس کی طرف آ رہا تھا اس کی آنکھوں سے نکلتے شعلے دیکھ کر دھڑکن اندر تک کانپ کر رہ گئی ۔
وہ انکار کیے جانے کے قابل تو ہرگز نہ تھا ۔
یہ چھوٹی سی لڑکی کیسے اس سے شادی سے انکار کر سکتی ہے ۔
کردم کے غصے کو دیکھ کر دھڑکن نے ایک نظر دادا سائیں کی طرف دیکھا اور اپنی طرف بڑھتے اس کے قدموں کو اگنور کر کے دادا سائیں کے پیچھے آکھڑی ہوئی ۔
جبکہ وہ خاموشی سے آگے آیا اور سامنے ٹیبل پر رکھا ہوا فون دادا سائیں کے سامنے سے اٹھاکر اسے سخت نگاہوں سے گھورتا باہر نکل گیا ۔
دھڑکن کی سانس میں سانس آئی ۔
اب یہ خود ہی انکار کر دیں گے دھڑکن نے دادا سائیں کو دیکھتے ہوئے خوشی سے کہا
وہ تب تک انکار نہیں کرے گا جب تک میں اسے نہیں کہوں گا ۔
تو پھر آپ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں انکار کریں وہ لاڈ سے ان کے قریب بیٹھ گئی ۔
دادو سائیں مجھے ان سے شادی نہیں کرنی آپ دیکھ رہے تھے نہ وہ مجھے کس طرح سے گھور رہے تھے وہ مجھے پسند نہیں کرتے یہ بات وہ مجھ پر ظاہر کر چکے ہیں ۔
آپ کو پتہ ہے پہلی ملاقات میں ہی انہوں نے مجھے کس طرح سے ڈانٹا تھا ۔میں کبھی ان کے ساتھ نہیں چل سکتی۔ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے نہیں بنے ہم دونوں کا نیچر بہت الگ ہے ۔وہ مجھے کبھی اپنی بیوی کے روپ میں قبول نہیں کر پائیں گے ۔اور نہ ہی میں انہیں ۔ سمجھنے کی کوشش کریں وہ ان کے پاس بیٹھی سیریسی بولی تھی
آئی پرومس آپ جو کہیں گے میں وہ کروں گی لیکن کردم لالا سے شادی نہیں کر سکتی میں آپ کو نہیں پتا وہ مجھے اتنا نا پسند کرتے ہیں کہ ایک ہی دن میں میرے گلے میں رسی ڈال کر مجھے پھندا چڑادیں گے ۔
آپ جہاں کہیں گے جس سے کہیں گے میں شادی کر لوں گی لیکن کردم لالاسے نہیں وہ تو مجھے گھورگھور کر ہی مار ڈالیں گے وہ بے بسی کی انتہا پر تھی ۔
ٹھیک ہے دھڑکن ہم تم سے زبردستی نہیں کریں گے تم کردم سے شادی نہیں کرنا چاہتی نا تو نہ سہی ہم دوبارہ تمہیں کردم سے شادی کرنے کے لیے کبھی نہیں کہیں گے ۔
لیکن کیا تم جانتی ہو کہ آج تمہارے لئے ہم نے کیا کیا ہے ۔
ہم نے تمہارے لئے آج اپنے . 19 سالہ غصے کو اپنے سینے میں دفن کر دیا ۔
تم ہمیں چھوڑ کر نہ جاؤ تم ہم سے دور نہ جا پاؤ اسی لئے آج ہم نے تمہارے باپ سے بات کی ۔
ہم نے تمہارے اس خود غرض باپ سے بات کی جو انیس سال پہلے ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ۔
جب ہمیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی ۔جب اس کے علاوہ ہمارا اور کوئی سہارا نہ تھا تب تمہارا خود غرض باپ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ۔
اس نے ایک بار نہیں سوچا کہ اس کےباپ نے اپنے دو جوان بیٹے کھوئے ہیں اسے سہارے کی ضرورت ہے ۔
اس نے ایک بار نہیں سوچا کہ اس کا باپ تنہا کس طرح سے اس کے بھائیوں کو دفنائے گا داداسائیں کی آنکھیں میں نمی اترنے لگی ان کی آواز میں گلتی نمی کو دھڑکن محسوس کر چکی تھی ۔
ہم نے اپنا بیٹے جیسا دماد کھو دیا
اپنی سب سے عزیز بیٹی آہانہ کو کھو دیا ۔
ؐہماری جوان بیٹی اپنی دو سالہ بچی کو لے کر ہمارے دروازے پر بیوہ ہو کرآبیٹھی
ہماری بہو ہمارے سامنے بیوہ ہو گئی
ہم نے اس دن اپنے سارے رشتے کھودیئے جس دن تمہارا باپ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا تھا تمہاری دادی پل پل بیماری کی حالت میں تڑپتے ہوئے اپنے احمد کو پکار رہی تھی ۔
لیکن اس نے کہا کہ وہ خون خرابے کے ماحول میں اپنی بیٹیوں کو نہیں لانا چاہتا ۔
ہم نے سوچا تھا کہ ہم اس سے کبھی بات نہیں کریں گے پھرکبھی زندگی میں اس کی طرف مڑ کر نہیں دیکھیں گے لیکن تمہارے لئے ہم نے دیکھا ۔
تمہارے لئے ہم اپنے برسوں کا غصہ بھلا کر اس سے بات کرنے جا پہنچے
ہاں دھڑکن تمہارے لیے کیوں کہ ہمیں لگا تھا کہ تمہارے باپ کی ہوئی غلطی کی سزا ہم تمہیں کبھی نہیں دیں گے
ہم نے سوچا تھا کہ ہم تمہیں کبھی خود سے دور نہیں جانے دیں گے ۔ہم نے اپنے 19سالہ غصے کو اپنے اندر ہی مار دیا
اور تم نے ہمیں کیا صلہ دیا دھرکن یہ تھی ہمارے لئے تمہاری محبت اسی لیے روئی تھی تم ہمارے سینے سے لگ کر
تمہارے لیے دھرکن ہم اپنی بیوی کی تڑپ کو بھول گئے ہم بھول گئے کہ وہ عورت کس طرح سے تمہارے باپ کو پکارتی تھی اور تمہارا باپ پلٹ کر نہ آیا
ہم نے خود ہی اسے فون کیا تھا اس کے سامنے روئے تھے احمد واپس آؤ ہمیں تمہاری ماں کو تمہاری ضرورت ہے لیکن وہ نہیں آیا ہے وہ کم ظرف تو اپنی ماں کی موت پر بھی واپس نہ لایا ان کندھوں پر اس کے بھائیوں کے جنازے اٹھائے تھے ۔
اور اس وقت ہمارے ساتھ تمہارا باپ کھڑا نہیں تھا ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنا خاندان لٹتا دیکھا تھا آپنے اپنوں کو خود سے دور جاتا دیکھا تھا لیکن آج انیس سال بعد تمہاری محبت ان سب کی محبت پر حاوی ہوگئی کہ ہم اس شخص کے پاس تمہارا رشتہ لے کر گئے ۔
لیکن تمہارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں ہوگی ۔
تم کردم سے شادی نہیں کرنا چاہتی نا تو چلی جاؤ اپنے باپ کے ساتھ واپس ہمیں بھی تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا
دادا سائیں ۔۔
ان کے آنسوؤں اور لفظوں پردھڑکن اندر تک تڑپ اٹھی تھی
نہیں لگتے ہم تمہارے کچھ بھی کوئی رشتہ نہیں ہے کچھ نہیں لگتی ہو تم صرف اپنے خود غرض باپ کی بیٹی ہو آج تم نے ہمارا دل توڑ دیا دھڑکن چلی جاؤ یہاں سے ہم تمہارا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتے ہم نے کہا چلی جاؤ یہاں سے وہ چلاتے ہوئے بولے تھے دھڑکن سہم کر پیچھے ہٹی ۔
جبکہ ان کے گرتے آنسو اور غصیلی بھری نگاہوں نے دھڑکن کو وہاں سے جانے پر مجبور کر دیا
•••••••••••
دھڑکن ان کے کمرے سے روتی ہوئی نکلی ۔
باہر سب لوگ ہی موجود تھے لیکن کمرے کا دروازہ بند ہونے کی وجہ سے اندر کی کاروائی سے کوئی بھی واقف نہ تھا لیکن دھڑکن کےبے تحاشا رونے سے سب اس کی طرف متوجہ ہوگئے ۔
اس وقت وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اسی لئے اپنے کمرے کی طرف رخ کیا لیکن احمدشاہ سے دیکھ چکے تھے ۔
دھڑکن بیٹا کیا ہوا تم اس طرح سے کیوں رو رہی ہو ۔
احمد شاہ نے اسے روکا تو دھڑکن روتے ہوئے ان سے لپٹ گئی
بابا سائیں ۔ دادا سائیں کو کہیں کہ وہ نہ روئے وہ جہاں کہیں گے میں وہی شادی کروں گی مجھے شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے پلیز وہ نہ روئیں میں انہیں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی ۔
وہ بے تحاشا روتے ہوئے ان سے لپٹی ہوئی تھی جبکہ کردم اورمقدم تو دادا سائیں کے رونے کے بارے میں سنتے ہی اس کمرے کی طرف بھاگ چکے تھے ۔
دادا سائیں آپ ٹھیک تو ہیں مقدم فوراً ہی بھاگ کر ان کے قریب آیا وہ کرسی پر نظریں جھکائے نڈھال سے پڑے تھے ۔
کیا ہوا ہے آپ کو دادا سائیں آپ ٹھیک تو ہیں کردم نے ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا ۔
انہوں نے ایک نظر اپنے دونوں پوتوں کو دیکھا
جس کے اس کے پاس دو جوان بازو ہوں اسے بھلا کیا ہو سکتا ہے انہوں نے مسکرانے کی کوشش کی۔
جبکہ ایک نظر دروازے پر کھڑے ہوئے احمد شاہ کو دیکھا ۔وہ دھڑکن کو کمرے میں چھوڑ کر ان کے پاس آئے تھے ۔
دادا سائیں نے منہ پھیر لیا ۔آج دھڑکن کی وجہ سے وہ بہت ہرٹ ہوئے تھے ۔
اپنی بیٹی کو یہاں سے لے کر چلے جاؤ احمدشاہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں وہ سنگ دلی کی انتہا پر تھے ۔
ایسے کیسے چلا جاؤں بابا سائیں میں اپنی بیٹی کو آپ کے پوتے کے ساتھ بہا کے ہی جاؤں گا ۔
احمد شاہ کے کہنے پر بابا سائیں نظر اٹھا کر ان کے چہرے کو دیکھا ۔
اسے آپ کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے بابا سائیں وہ میری بیٹی بعد میں آپ کی پوتی پہلے ہے آپ کا سب سے پہلا حق ہے اس پر ۔ آپ سے زیادہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی ۔
کہہ رہی تھی کہ میرے دادا سائیں کو کہیں کہ وہ نہ روئیں وہ شادی کے لیے تیار ہے ۔احمد شاہ نے ان کے قدموں کے قریب بیٹھتے ہوئے بتایا تو وہ بے یقینی سے ان کا چہرہ دیکھنے لگے ۔
بابا سائیں میری دھڑکن سویرا جیسی نہیں ہے وہ آپ کے حکم کے خلاف کبھی نہیں جائے گی وہ میرا سر کبھی جھکنے نہیں دے گی آپ آج ہی مقدم اور حوریہ کے ساتھ دھڑکن اور کردم کے نکاح کا اعلان کردیں۔
وہ ان کے قریب بیٹھے آہستہ آہستہ بتا رہے تھے جبکہ مقدم کا سارا دھیان کردم کے چہرے پر تھا جو پے تاثر سا چہرہ لیے ان کے الفاظ سن رہا تھا ۔
اس سب کے بعد مقدم نےاسے اوپرچھت پر ملنے کے لیے کہا تھا وہ اسے کیوں بلا رہا ہے کردم خود بھی جانتا تھا لیکن صرف گردن ہلا دی
•••••••••••••••
کیا مطلب تم سے پوچھ کر یہ فیصلہ کیا گیا ہے مقدم شاہ نے سامنے کھڑے کردم شاہ سے پوچھا
نہیں مجھ سے پوچھا تو نہیں گیا لیکن دادا سائیں کا فیصلہ ہے اور میں ٹال نہیں سکتا مقدم سائیں
اور تائشہ کے بارے میں کیا سوچتے ہو تم وہ تمہاری منگیتر ہے اس پہ کیا گزرے گی کردم سائیں وہ تو بچپن سے ہی تمہیں اپنا سب کچھ مانتی آئی ہے اب اگر اچانک ہی تمہاری شادی کسی اور سے ہو جائے گی تو اس پہ کیا گزرے گی ۔مقدم نے پریشانی سے پوچھا
بچپن سے آج تک وہ لڑکی میرے دل میں اپنی جگہ نہیں بنا پائی ۔اس نے ہر بات میں جھوٹ کا سہارا لیا ہے مقدم ہر بات میں ہمارا تو رشتہ ہی جھوٹ کی بنیاد پر کھڑا ہے ۔وہ تو شکر ہے کہ میں نے کبھی اسے اتنی اہمیت ہی نہیں دی ذرا سوچو اگر میں اس کے بارے میں اپنے دل میں کوئی نرم جذبات رکھتا اور وہ ہر بات پر مجھ سے جھوٹ بولتی تو کیا وہ رشتہ قائم رہتا ۔
بڑی سے بڑی بات لےکر چھوٹی سے چھوٹی بات ۔یہاں تک کہ میٹرک میں وہ فیل تھی ۔لیکن اس نے مجھے یہ بات نہیں بتائی ۔میری خواہش تھی کہ میری ہونے والی بیوی ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو وہ لڑکی میری اس خوائش کو بھی پورا نہیں کرنا چاہتی ۔وہ مجھ سے محبت کے دعوے تو کرتی ہے لیکن میری محبت میں خود کو ایک قابل انسان نہیں بنانا چاہتی۔
حوریہ سے میری کام کروا کے مجھے کہتی ہے کہ وہ اس نے کئے ہیں ۔
میں جانتا ہوں مقدم شاہ یہ بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن پھر بھی کچھ رشتے انہی باتوں پر قائم ہوتے ہیں ۔اگر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مجھ پر یقین نہیں کر سکتی تو آگے زندگی کے اہم فیصلوں میں وہ میرا ساتھ کیا دے گی
اور تمہیں اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے مقدم سائیں میں کبھی اپنی حد سے آگے بھرکر تائشہ کے قریب نہیں گیا ۔
میں نے اسے کبھی ایک منگیتر کے طور پر نہیں دیکھا ہمیشہ اسے کزن کی طرح رکھا ہے مقدم سائیں میں اس کے جذبات سے بے خبر نہیں ہوں لیکن میں نے اپنے جذبات کو کبھی بے لگام نہیں ہونے دیا
میں نے کبھی اس سے اپنے ساتھ بات کرنے کا زیادہ موقع نہیں دیا کبھی اسے لے کر باہر نہیں گھوما یہاں تک کہ میں اسے اپنے کمرے میں بھی نہیں آنے دیتا
جانتے ہو کیوں۔ ؟کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرا نام اس کے نام سے الگ ہونے کے بعد وہ میرے نام کی وجہ سے بد نام ہو ۔
شاید میں دادا سائیں کی بات مان کر اسے شادی کر لیتا لیکن وہ کبھی میرے دل میں اپنی جگہ نہیں بنا پاتی
میں محبت پر یقین رکھتا ہوں مقدم سائیں لیکن اس محبت پر جو پاکیزہ بندھن میں بندھنے کے بعد ہوتی ہے میں تائشہ سے محبت نہیں کرتا اور نہ ہی اس سے خود سے محبت کرنے کا حق دیتا ہوں تب تک نہیں جب تک وہ میرے نکاح میں نہیں آجاتی ۔
میں نے دادا سائیں سے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ میرے دل میں محبت کے دیپ تب جلیں گے جب میرا نکاح ہوگا اس سے پہلے نہ تو میں کسی لڑکی کے بارے میں ایسا سوچ سکتا ہوں اور نہ ہی میں اپنے دل کو بے لگام ہونے کی اجازت دیتا ہوں ۔
اور دھڑکن اس کے بارے میں کیا سوچتے ہو تم مقدم نے پوچھا ۔
اس کے بارے میں کیا سوچنا ہے مقدم سائیں دادا سائیں کا فیصلہ سر آنکھوں پر ۔
دھڑکن کے بارے میں سوچتے ہوئے اس سے تھوڑی دیر پہلے دھڑکن کے ساتھ اپنا ٹکڑاو یاد آیا اور اس کے بعد جس طرح سے اس نے دادا سائیں کے سامنے اس سے شادی سے انکار کیا نجانے کیوں اسے غصہ آرہا تھا ۔
اب وہ اتنا بھی گیا گزرا نہ تھا کہ ایک ہی پل میں اس سے شادی سے انکار کر دیا جائے اس گاؤں کی کوئی لڑکی ایسی نہ تھی جو کردم شاہ کے لئے انکار کرتی اور وہ ننھی سی لڑکی ایک ہی پل میں انکار اس کے دادا کے منہ پر مار گئی
بہت ڈرتی ہے وہ تم سے مقدم شاہ نے کہا
پھر تو بہت مزہ آئے گا کردم ذرا سا مسکرایا