267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai) Epi 20

تمہیں کیا لگتا ہے دھڑکن یہ کیا ذرا سی بات ہے تمہیں اندازہ بھی ہے کتنی بڑی بےعزتی کی بات ہے کہ دلہن کو دلہے کے کمرے سے نکال کر واپس اسی کمرے میں لا کر پھینک دیا گیا ۔
اور اس کردم نے ذرا سا اعتراض نہیں اٹھایا ۔
مانا کے اس کی شادی زبردستی کی گئی ہے لیکن تم اس کی دلہن ہو اس طرح سے کیسے کرسکتا ہے وہ تمہاری بےعزتی ۔
سویرا مقدم اور حوریہ کا غصہ دھڑکن کو کردم کے خلاف کرکے نکال رہی تھی
لیکن سویرا دیدہ کردم سائیں مجبور تھے دادا سائیں نے فیصلہ کردیا تھا تو اب وہ کیا کرتے ۔
کیا کرتے تمہارا دماغ خراب ہے دھڑکن تم کیا سمجھ رہی ہو یہ کوئی بہت چھوٹی سی بات ہے دھڑکن تمہیں تمہاری شادی والی رات اس کے کمرے سے نکال کر واپس تمہارے کمرے میں بھیج دیا گیا ہے ۔
اور وہ آکر تمہیں کچھ سمجھاتا اس بارے میں تمہیں کچھ بتاتا وہ گھر سے ہی باہر نکل گیا ۔
مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ ڈیرے پر کیوں گیا ہے مجھے ڈر ہے کہیں وہ تم سے جڑے جذباتوں کا سودا ڈیرے پر نہ کسی سے یہ کر رہاہو ۔سویرا اس کے کان کی بالکل قریب بولی تھی جس سے وہ اور کنفیوز ہو رہی تھی ۔
کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا سویرا دیدہ ۔
مطلب صاف ہے دھڑکن اب تم بچی نہیں ہو شادی شدہ ہو اور وہ آخر مرد ہے یقینا اس وقت وہ تمہارے حقوق سے کسی اور کو نواز رہا ہوگا ۔
نہیں سویرا دیدا کردم سائیں ایسے نہیں ہیں سویرا کی باتیں سے اس وقت کتنی بری لگ رہی تھی کہ وہ وہاں سے اٹھ کر باہر جانے لگی
ہاں شاید نہیں ہوگا میں بھی نہ جانے کیا بات ہے لے کر بیٹھ گئی اپنی کچھ پرابلم کی وجہ سے تمہاری شادی میں بھی ٹھیک سے شرکت نہیں کر پائی لیکن سترہ دن بعد تمہاری رخصتی بہت دھوم دھام سے کریں گے ۔
چلو اب تم ریسٹ کرو میں بھی اپنے روم میں جا رہی ہوں ۔
سویرا خاموشی سے اس کے قریب سے اٹھ کر باہر جا چکی تھیں ۔
کردم سائیں سچ میں ڈیرے پر کسی لڑکی کے ساتھ ہوں گے ۔یہی ایک بات سوچ سوچ کر دھڑکن کے سر میں درد شروع ہوچکا تھا ۔
نہیں کردم سائیں ایسے نہیں ہیں وہ خود کو جتنا یقین دلاتی بار بار اس کا دھیان اتنا ہی سویرا کی باتوں پر چلا جاتا۔
ساری رات اس سے یہ سوچ کر نیند نہ آئی تھی کہ کردم شاہ کہاں ہوگا اور کیا کر رہا ہوگا
•••••••••••••
مقدم سائیں اپ مجھے سونے دیں نہ
ساری رات مقدم کی شدتیں برداشت کرکے اب وہ بہت تھک گئی تھی ۔
لیکن مقدم نے تو قسم کھا رکھی تھی کہ نا تو اب وہ اسے خود سے دور جانے دے گا ۔
اور ناہی سونے دے گا ۔
سو کر کیا کر لینا ہے ۔جاگ کر اپنے شوہر کی خدمتیں کرو
وہ آنکھوں میں محبت لیے بولا توحوریہ شرمائی۔
ساری رات خدمت کی توہے وہ بڑی مشکل سے یہ الفاظ بول پائی تھی مقدم کی بے باک نظریں اسے کچھ بولنے نہیں دے رہی تھی
ٹھیک سے نہیں کی چلو میں سیکھتا ہوں کیسے کرتے ہیں شوہر کی خدمت وہ ایک بار پھر سے اس کے نازک وجود کو اپنے شکنجے میں لے چکا تھا
اور جس نے ساری رات اسے ایک سیکنڈ کے لیے نہ سونے دینا دیا تھا اس نے اب بھی نہیں سونے دینا تھا یہ بات ہو وہ ایک رامیں ہی سمجھ چکی تھی ۔
••••••••••••••••••
اتنا کچھ ہوگیا آپ لوگوں نے مجھے بتایا کیوں نہیں ۔
اور گاؤں والوں میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی کہ وہ شاہ سائیں سے بغاوت کریں ۔
کہ وہ کردم سائیں کے خلاف آواز اٹھائیں
دادا سائیں کردم سے کبھی غلطی نہیں ہو سکتی اور ویسے بھی دھڑکن 18 سال کی ہونے والی ہے تو پھر کیا مسئلہ ہے ۔صرف چند دن کیلئے آپ نے کردم کی دلہن کو اس کے کمرے سے نکال دیا ۔
یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا دادا سائیں کہ دھڑکن کی رخصتی واپس لے لی جائے
دیکھو مقدم اس وقت ہمیں یہی ٹھیک لگا گاوں والے بغاوت پر اتر آئے تھے ۔اس لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے اور کردم کو اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے
کردم کو اعتراض نہیں لیکن آپ نے دھڑکن کا سوچا اس کے جذبات کا سوچا ۔
اس طرح سے کسی کی رخصتی کرکے رخصتی واپس لے لینا کیا اتنی چھوٹی سی بات ہے ۔اور مجھے کسی نے بتانا ضروری بھی نہیں سمجھا ۔مقدم غصے سے ان کے قریب بیٹھ گیا ۔
مقدم سائیں آپ کو کیا لگتا ہے مجھے احساس نہیں ہے لیکن یہ اصول بھی تو کردم سائیں نے خود بنایا ہے گاؤں میں اور اس پر عمل کرنے کا پہلا فرض کردم سائیں کا ہے ۔
ہم سمجھ سکتے ہیں ان کی کوئی غلطی نہیں تھی انہیں ہم نے ہی نہیں بتایا کہ دھڑکن ابھی 18سال کی نہیں ہے ۔
لیکن پھر بھی یہ ان کا اپنا بنایا گیا اصول تھا جس پر عمل کرنا ان کا فرض تھا ۔
بس کچھ دن کی ہے تو بات ہے ہم کونسا ان دونوں کی طلاق کروا رہے ہیں اور مقدم سائیں آپ اس طرح سے ناراض نہ ہوں شام کو آپ کا ولیمہ ہو گا ۔
اور کردم کا ولیمہ بھی ہم ان شاءاللہ دھوم دھام سے کریں گے
کہاں ہے کردم سائیں میں ابھی جاتا ہوں اسے لینے کے لیے
رات کو ہی ڈیرے پر چلے گئے تھے واپس نہیں آئیں دادا سائیں نے بتایا ۔
مجھے پہلے ہی اندازہ تھا وہ جب بھی پریشان ہوتا ہے وہی جاتا ہے ۔خیر میں اسے لے کے آتا ہوں آنے میں تھوڑا وقت لگ جائے گا ۔
مقدم کہتا اپنی گاڑی کی چابی اٹھا کر گھر سے باہر جا چکا تھا
••••••••••••••••••
اتنا کچھ ہو گیا اور میں کچھ جانتی بھی نہیں ہوں ۔
حوریہ نے پریشانی سے کہا اسے رات والے واقعے کی خبر بس ابھی ہی لگی تھی ۔
ہاں حوریہ دیدا پہلے تو مجھے بھی پتہ نہیں چلا رات پھوپو سائیں آئیں تھیں اور مجھے کہنے لگی کہ میری رخصتی واپس لے لیے گئی ہے۔
اور مجھے میرے کمرے میں واپس جانا ہوگا ۔
ویسے اگر یہ بات خود کردم سائیں آ کر مجھے بتاتے تو بات کچھ اور ہوتی ۔لیکن کردم سائیں تو رات کو ہی ڈیرے پر چلے گئے مجھے کچھ بھی بتانا ضروری تک نہ سمجھا انہوں نے ۔
دھڑکن کے اندر کہیں نہ کہیں سویرا والی باتوں کا اثر ہو چکا تھا اسے ڈر تھا کہ ڈیرے پر وہ کسی لڑکی کے ساتھ نہ ہو ۔
ویسے حوریہ دیدا ڈیرے پر کیا ہے کردم سائیں اتنا کیوں جاتے ہیں ڈیرے پر ۔
دھڑکن نے پوچھا ۔
یہ تو نہیں پتہ کہ وہاں پر کیا ہے بس اتنا پتہ ہے کہ بڑے ماموں سائیں کو مامی سائیں سے محبت ڈیرے پر ہی ہوئی تھی
ماموں سائیں نے پہلی مامی سائیں کو وہیں پر دیکھا تھا اور وہیں سے پسند کرلیا ۔
اور پھر وہیں پر ان دونوں کا نکاح ہوا تھا ۔
اوہو مجھے تو یاد ہی نہیں رہا میں نے چہولے پر کھیر رکھی تھی ۔
حوریہ نے اٹھتے ہوئے کہا
اف دیدہ آپ کی شادی کا پہلا دن ہے اور آپ کام میں الجھی ہوئی ہیں ۔
دھڑکن نے اس طرح سے اسے کام کرنے پر ٹوکا تھا پہلے دن کی دلہن تو وی آئی پی ہوتی ہے (دھڑکن کے مطابق )
نہیں وہ مقدم سائیں کردم لالہ کو لینے گئے ہیں نہ ان دونوں کو میرے ہاتھ کی کھیر بہت پسند ہے ۔
کردم لالا کا موڈ اچھا ہو جائے گا اور میں مقدم سائیں بھی خوش جائیں گے اس نے شرماتے ہوئے کہا اور کر باہر چلی گئی ۔
جبکہ اس کے اس طرح سے شرما کر باہر جانے پر دھڑکن کو اپنے آپ میں کوئی کمی سی محسوس ہوئی ۔
آج نجانے کیوں وہ اداس تھی بہت اداس
•••••••••••
مجھے نہ بتانے کی وجہ جان سکتا ہوں میں مقدم اس کے سامنے بیٹھ کر پوچھنے لگا ۔
تم ہی تو کہہ رہے تھے کہ تم حوریہ سے بچپن سے محبت کرتے ہو میں نہیں چاہتا تھا کہ تمہارے اور حوریہ کے پرسنل مومنٹ میں میری وجہ سے ڈسٹربنس پیدا ہو۔
کردم نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
کچھ دن پہلے کردم نے جب اس سے پوچھا تھا کہ حوریہ اس کو کیسے پسند آئی تو اس نے بچپن سے لے کر جوانی تک کے سارے قصے سنا ڈالے ۔
اس کے ہر انداز میں حوریہ کے لیے محبت ہی جھلکتی تھی ۔
کردم کو یہی بات بہت پسند آئی تھی اس نے اپنی بہن کی خوشیوں کے لئے نہ جانے کتنی دعائیں مانگی تھی اور اب وہ اپنی اور دھڑکن کی وجہ سے ان دونوں کی کی زندگی ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
ہاں پتا ہے مجھے تم بہت بڑے تیس مار خان ہو سب کچھ اکیلے سنبھالو گے
لیکن کردم تمہیں مجھے یہ سب کچھ کل رات ہی سب کچھ بتانا چاہیے تھا میں دادا سائیں کو کبھی یہ فیصلہ نہیں کرنے دیتا اور گاؤں والوں کا تو میں وہ حال کرتا جو ساری زندگی یاد رکھتے
اور حوریہ میری بیوی ہے میں کبھی بھی اس سے اپنی محبت کا اظہار کر سکتا تھا کل رات تمہیں میری ضرورت تھی اور میں مقدم غصے میں تھا
اور اس کے غصے پر بھی کردم مسکرا رہا تھا
ہاں بھائی پتہ چل گیا مجھے تم مجھے حوری زیادہ چاہتے ہو ۔کردم نے شرارت سے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
تومقدم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
اوئے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے اس سے زیادہ کسی سے پیار نہیں کرتا
وہ اس کی ہر بات سے یہ اندازہ لگا چکا تھا کہ حوریہ سے زیادہ کسی سے محبت نہیں کرتا ۔
لیکن پھر بھی مقدم نے بتانا ضروری سمجھا
چلو آج تمہارا ولیمہ ہے میں بھی چل کر ذرا دھڑکن سے بات کرتا ہوں ۔
رات کو بنا اس سے کچھ بولے میں یہاں چلایا یقیناً وہ بہت ہرٹ ہوئی ہوگی ۔کردم نے اٹھتے ہوئے کہا ۔
رات غصے میں وہ حویلی سے نکل کر یہاں تو آ گیا لیکن بعد میں اس نے دھڑکن کے بارے میں بہت سوچا اس میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ دھڑکن کو کہتا کہ جاؤ میرے کمرے سے
وہ اس کی دلہن تھی وہ اسے اپنے کمرے سے نکال نہیں سکتا تھا وہ عزت سے رخصت ہو کر اس کے کمرے تک آئی تھی کل رات سے اپنا کمرہ آباد لگا تھا اور اور اب اس ویران کمرے میں وہ نہیں جانا چاہتا تھا