267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai) Epi 17

••••••••••••••
رات ایک بجے تک رسم چلتی رہی گاؤں کی عورتوں نے گیت گائے اور نجانے کون کون سے رسمیں ادا کی ۔
مقدم تو اس سب سے اکتا چکا تھا لیکن کردم اپنے باپ کا دل رکھتا تھا جس طرح سے اس کا باپ گاوں والوں سے محبت کرتا تھا بالکل اسی طرح سے وہ بھی گاؤں والوں سے بے پناہ محبت کرتا تھا گاؤں کی کتنی ہی عورتیں اسے اپنا بیٹا نہ صرف کہتی تھی بلکہ مانتی بھی تھی
ان کے مسائل حل کرنا ان کی مشکلوں میں ان کا ساتھ دینا تو کردم کا کام تھا ۔
یہی وجہ تھی کہ گاؤں والے مقدم شاہ سے زیادہ کردم شاہ کو پسند کرتے تھے اور اسی کوئی اگلا سرپنچ بنانا چاہتے تھے
لیکن مقدم کو سرپنچ بننے میں کوئی خاص انٹرسٹ نہ تھا وہ تو اپنی زندگی بہت مزے سے جی رہا تھا ۔
•••••••••••••••••••••
میں پوچھتا ہوں ایسے کیسے میری بیٹی کا نکاح کر دیا ۔
دیکھو قاسم شاہ تم نے کبھی مجھ سے میری بیٹی کو ملنے نہیں دیا کبھی اسے میری شکل نہیں دیکھنے دی لیکن اس کے نکاح میں تو مجھے شامل کر لیتے ۔
ملک آج بندوق یا تلوار اٹھا کر نہیں آیا تھا بلکہ اپنی بیٹی کے لیے آیا تھا جس کے نکاح میں بھی وہ شامل نہ ہو سکا ۔
ملک کی حوریہ کے علاوہ اور کوئی اولاد نہ تھی اولاد ہوتے ہوئے بھی وہ بے اولادوں جیسی زندگی گزار رہا تھا ۔
قاسم شاہ نے کبھی حوریہ کو اس سے ملنے تک نہ دیا ۔
اور آج اسے خبر دئے بغیر ہی حوریہ کا نکاح کردیا ۔
جاؤ قاسم شاہ مقدم شاہ سے پوچھ لو کہ وہ اپنی منکوحہ کو تم سے ملنے کی اجازت دیتا ہے ۔
مقدم شاہ۔۔۔ ملک نے نام دہرایا ۔
ہاں مقدم شاہ وہی مقدم شاہ جس کے باپ کو تم نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا ۔وہی مقدم شاہ جس کے تایا کو تم نے بیڑیاں ڈال کر اپنی گاڑی کے پیچھے گھسٹا تھا ۔
وہی مقدم شاہ جس کی پھوپھی کو تم نے زبردستی اپنے نکاح میں لیا تھا ۔
وہی مقدم شاہ جس کی دوسری پھوپھو کو تم نے بیوہ کیا تھا ۔
وہی مقدم شاہ جس کے خاندان کو تم نے برباد کیا تھا اب تمہاری بربادی کی باری ہے ۔
میرا پوتا مقدم شاہ کبھی اپنی بیوی کو تم سے ملنے کی اجازت نہیں دے گا ۔
تم بندق یا تلوار اٹھا کر نہیں لائے ورنہ ہم بھی مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں ضرورت اترتے لیکن تم سوالی بن کے آئے ہو اپنی بیٹی سے ملاقات کی بھیک مانگنے آئے ہو لیکن ۔
ہم تمہیں کچھ نہیں دے سکتے ۔بابا سائیں غرور سے کہتے وہاں سے جا چکے تھے ۔
جبکہ ملک اور اس کے آدمی دلہن کی طرح سجی ہوئی حویلی کو دیکھ رہے تھے جس میں آج اس کی بیٹی بہائی جارہی تھی جس میں اسے شامل تک نہ کیا گیا
•••••••••••••••••••
رسم ختم ہونے کے بعد دونوں دولہنیں نے اپنے کمرے میں جا چکی تھی ۔حوریہ نے ابھی ڈریس چینج کرنے کے بارے میں سوچا تھا جبکہ دھڑکن اپنے دوبٹے اور جویلری کے ساتھ بری طرح سے الجھ کر رہ گئی ۔
حوریہ جو اپنی جویلری اتارنے کے بعد اس کے لیے واپس آنے والی تھی پتہ نہیں کہاں رہ گئی ۔
حوریہ دیدہ اب آ جائیں کہاں رہ گئی خدا کے لئے مجھے بچائیں ۔
یہ دوپٹہ نہیں پورا پنجرہ ہے میں تو کیا قید ہوگئی وہ اپنے آپ کو چھڑواتے یہ بھی نہ دیکھ پائی کہ اس کے قریب کون آیا ۔
جبکہ اس کے دوپٹے سے ساری سیفٹی پن ہٹانے کے بعد دھڑکن اس کی طرف پیٹھ کرکے کھڑی ہو گئی
دیدہ یہ بھی اتاریں وہ گلے کے ہار کی طرف اشارہ کر رہی تھی ۔
کردم شاہ نے بہت غور سے اس کا حسین سراپہ دیکھا تھا ۔
وہ بے پناہ حسین تھی شاید اس سے زیادہ حسین وہ پہلے کبھی نہ لگی تھی ۔
مطلب نکاح کے دو بولوں نے اپنا اثر دکھا دیا تھا ۔
اس نے آہستہ سے اس کے گلے کا ہار نکالا اور سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا لیکن جیسے ہی اس کی نظر شیشے پر پڑی تو دھڑکن بوکھلا کر رہ گئی
کردم سائیں آپ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی زبان سے الفاظ اٹک اٹک کر نکلے تھے ۔
ہاں میں سب لوگوں کی وجہ سے ٹھیک سے دیکھ نہیں پایا تمہیں ۔لیکن میں نے نوٹ کیا ہے تم نے مجھے کافی غور سے دیکھا ہے ۔
خیر یہ بتاؤ کہ ہم دونوں ساتھ کیسے لگتے ہیں وہ آئینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔
میں تو ٹھیک ہوں تمہاری ہائیٹ بہت کم ہے خیر وہ میں کھینچ کر لمبا کر لوں گا ۔کردم نے مسکرا کر کہا تو دھڑکن نے اسے گھور کر دیکھا
مذاق تھا یار وہ ابھی بھی مسکرا رہا تھا
آپ مذاق بھی کرتے ہیں ۔۔دھڑکن نے پوچھا
اب میں کیا کیا کرتا ہوں یہ تو تمہیں کل رات ہی پتا چلے گا ۔کردم نے بڑے حق سے اس کے لبوں کو اپنے انگوٹھے سے چھوا ۔
حوریہ سے کیا کہہ رہی تھی تم کہ میں رومینٹک نہیں ہوں بورنگ ہوں وہ اس کے مزید قریب ہوا ۔
میرا آج یہاں آنے کا کوئی ارادہ نہ تھا ۔
لیکن پھر سوچا کیوں نے تمہیں ثبوت دے دوں رومینٹک ہونے کا ۔وہ اس کے ہونٹوں پر جھکا اور اپنے ہونٹ اسکے خوبصورت نرم لبوں پر رکھ دیے ۔
دھڑکن نے پیچھے ہٹنے کی ناکام سی کوشش کی ۔لیکن اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر کردم نے اسے مزید اپنے قریب کر لیا ۔
وہ اس کے چہرے پر جھکا اس کی خوشبو کا اپنے سینے میں اتارا وہ اسے مکمل بےبس کر چکا تھا ۔
اس کے پکڑ میں وہ حل تک نہیں پا رہی تھی ۔
کیسا لگا پہلا رومینٹک ڈوز کردم نے پیچھے ہٹتے ہوئے پوچھا ۔
جبکہ وہ اپنی پھولی ہوئی سانسوں کو نارمل کرنے کی کوشش میں نظریں جھکا ادھر ادھر دیکھ رہی تھی اس کا چہرہ شرم سے سرخ ہو چکا تھا ۔
میرے خیال سے آج کے لیے کافی ہے ۔یہ تو ٹریلر تھا بے بی فلم میں کل دکھاؤں گا ۔
تیار رہنا یہ نازک مزاجی نہیں چلے گی وہ اس کی کپکپاہٹ کو دیکھتے ہوئے بولا ۔
ویلکم ٹو مائی لائف ۔۔۔
وہ اس کے ماتھے کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا باہر چلا گیا ۔
جبکہ دھڑکن نے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کیا اور جلدی سے کمرے کا دروازہ بند کیا وہی کمرے کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی ۔
اب اسے حوریہ کا انتظار بالکل نہیں تھا ۔
یا اللہ یہ تو ضرورت سے زیادہ رومانٹک ہیں دھڑکن نے اپنے دھڑکتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا
پھر خود ہی شرما کااپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپا گئی
••••••••••••••
مقدم شاہ مسلسل ایک گھنٹے سے حوریہ کا کمرے میں آنے کا ویٹ کر رہا تھا
لیکن وہ ابھی تک نہیں آئی تھی ۔
حوریہ کانہ آنا اسے غصہ دلا رہا تھا ۔
اب تک کیوں نہیں آئی وہ اب تک تو آ جانا چاہیے تھا ۔
وہ کمرے میں چکر کاٹتا مسلسل اس کا انتظار کر رہا تھا ۔
اب صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو رہا تھا ۔
حوریہ اگر آج تم میرے کمرے میں نہ آئی تو تمہیں یہ رات بہت بھاری پڑے گی ۔
وہ مسلسل ٹہلتے ہوئے بڑبڑارہا تھا ۔
تمہارے پاس یہ آخری آدھاگھنٹہ ہے حوریہ اگر تم اس آدھے گھنٹے میں نہیں آئی تو پھر مجھے مجبوراً آنا پڑے گا وہ خود سے اسے ٹائم دے رہا تھا ۔
اور پھر اسی طرح سے ٹہلتے ٹہلتے یہ آدھا گھنٹہ بھی گزر گیا ۔
تمہارا وقت ختم ہوا حوریہ۔ اور آج کی رات اپنے شوہر کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ ۔
وہ کمرے سے نکلتے ہوئے بڑبڑایا تھا ۔
لیکن اپنے کمرے کے کچھ فاصلے پر سویرا کو دیکھ کر وہی رک گیا ۔
اس رات اس سے ٹکرانے سے پہلے اور بعد میں دونوں کے بیچ کوئی بات نہ ہوئی تھی یہاں تک کہ وہ تو اس کے آنے پر بھی اس سے ملا تک نہ تھا ۔
مقدم شاہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے سویرا اس کے قریب آ کر کہنے لگی ۔
ہم صبح بات کریں گے ۔وہ اگنور کرتا آگے جانے لگا اس کے اس انداز پر سویرا سلگ اٹھی ۔کوئی اسے اس طرح سے اگنور کرے اسے ہرگز گوارا نہ تھا ۔
میری بات ضروری ہے شاید آپ کو یہ بات پتا نہیں ہے حوریہ کس کی بیٹی ہے ۔کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی شادی جس لڑکی سے ہوئی ہے اس کا باپ تایا سائیں کا قاتل ہے آپ کو اندازہ بھی ہے اس کے باپ نے کیا کیا نہیں کیا اس خاندان کے ساتھ
سویرہ نےدادا سائیں اور ملک کی باتیں سن لی تھی اور یہی سوچا تھا کہ اس راز کے ذریعے وہ مقدم کے دل میں حوریہ کے لئے نفرت پیدا کرے گی ۔
آپ کو پتہ ہے آج وہ شخص یہاں بھی آیا تھا حوریہ کی نکاح میں شامل ہونے کے لئے لیکن دادا سائیں نے اسے نکال دیا ۔
کیا آپ کو پتہ ہے ۔۔۔ ۔
مجھے سب کچھ پتہ ہے اس بارے میں سب کچھ جانتا ہوں میں اس خاندان کا کوئی بھی راز مجھ سے چھپا ہوا نہیں ہے ۔
لیکن ایک بات سویرہ جو تمہیں بھی بتانا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ حوریہ ملک کی بیٹی نہیں بلکہ مقدم شاہ کی بیوی ہے ۔
اور اس گھر میں اس کی حیثیت وہی ہے جو مقدم شاہ کی بیوی کی ہے اس کے علاوہ وہ دادا سائیں کی سب سے لاڈلی بیٹی کی آخری نشانی ہے ۔
میں سمجھ سکتا ہوں شاید یہ جان کر کے حوریہ ملک کی بیٹی ہے تمہیں افسوس ہوا ہوگا لیکن وہ صرف ہمارے دشمن کا خون نہیں ہے سویرا وہ ہمارے گھر کی بیٹی ہے ۔
مقدم کو لگا کے شاید اپنے خاندان کے قاتل کے بارے میں سن کر سویرا کو دکھ ہوا ہے اسی لیے اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا اور آگے بڑھ گیا ۔
جبکہ سویرا کو لگ رہا تھا کہ یہ باتیں جان کر مقدم غصے میں حوریہ کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کرے گا تو یہ صرف اس کی سوچ ہی رہ گئی ۔
کیونکہ یہ بات اس کے لیے کوئی نئی نہ تھی
•••••••••••••••••••
کیا مجھے وہاں جانا چاہیے ۔حوریہ نے خود سے سوال کیا نہیں نہیں پتا نہیں مقدم سائیں میرے ساتھ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ سوچتے ہوئے واپس بیٹھ گئی ۔
لیکن اگر میں نا گئی تو وہ پھر سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی ۔
اسے آگے کنواں پیچھے کھائی نظر آرہی تھی
دونوں ہی طرف سے اپنا نقصان ۔
لیکن بعد میں اپنا نقصان کروانے سے بہتر تھا کہ پہلے سب کچھ ٹھیک کردے ۔
لیکن اگرمقدم سائیں نے کچھ ایسا ویسا کیا تو ۔
ہاں تو کیا ہوا وہ میرے شوہر ہیں وہ خود کو جواب دیتی پھر اٹھ کر کھڑی ہوگئی ۔
لیکن ابھی میری رخصتی تو نہیں ہوئی نا
۔لیکن نکاح تو ہوگیا ہے کبھی اس کا دل ہاں اور کبھی نہ کر رہا تھا ۔
اگر مقدم سائیں خود یہاں گئے تو ۔تو پھر تیرا بیرا غرق ہوگا حوریہ
مجھے مقدم سائیں کو غصہ بالکل نہیں دلانا چاہیے مجھے جانا چاہیے ان کے کمرے میں ۔
خود سے فیصلہ کرتے ہوئے اٹھی تو اس کے کمرے کا دروازہ بجا ۔
وہ خود ہاں نہ سی کیفیت میں اٹھ کا دروازہ کھولنے لگی لیکن سامنے دیکھتے ہی اس کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے نیچے رہ گئی
••••••••••••••••••••••