Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 47)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 47)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
دھڑکن نے جاگی سوئی کیفیت میں چائے بنائی اسے اچھے سے اندازہ تھا کہ یہ چائے کیسی بنی ہوگی لیکن اب کردم نے بھی تو تھوڑی دیر پہلے ہی اس کی اتنی تعریف کی تھی کہ وہ صرف اس کی چائے اس لیے پی جاتا ہے کیونکہ وہ چائے اس نے خود نہیں بنائی ہوتی
اللہ جی میری چائے کی اتنی بےعزتی ماشاءاللہ سے اتنے خوش قسمت انسان ہیں کہ میں انہیں چائےبنا کے دیتی ہوں ۔کتنی بُری بات ہے کردم سائیں آپ کو تو میری چائے کی قدر ہی نہیں ہے ۔
لیکن اب آپ کو میں بتاؤں گی میری چائے کی قدر نہ کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے ۔اب ساری زندگی آپ میرے ہاتھ کی چائے پینے کو ترسیں گے ۔
بہت بڑی غلطی کر دی ہے آپ نے میری شرط مان کر ۔اب جب کل سے آدھی آدھی رات کو گھر آیا کریں گے اور مجھے چائے بنانے کے لیے کہا کریں کہ میں بھی آپ کو آگے سے ٹھنگا دیکھاؤ ں گی ٹھنگا
دھڑکن چائے نامی شاہکار تیار کرتے ہوئے اپنے انگوٹھے کو ہر طرف سے موڑ کر کردم کو تصوراتی نظروں سے دیکھتی آپنی فیوچر پلاننگ کر رہی تھی ۔
خیر چاہے تو بن گئی مگر سب کچھ برابر ڈالا ہے میں نے کچھ غلطی تو نہیں کی میں نے ایک بار چائے کے لیے استعمال ہونے والی ساری چیزوں پرنظرثانی کی ویسے تو سب کچھ ٹھیک ہی تھا ۔
لیکن پھر بھی دھڑکن اس وقت کچھ زیادہ ہی نیند میں تھی اس لیے شک تھا کہ چائے ضرورت سے زیادہ اچھی بنی ہوگی ۔
ہاں تو کیاہوا ۔ویسے بھی آپ کی نظروں میں میں کونسا اچھی چائے بناتی ہوں جومیں اتنی محنت سے اس کو ٹیسٹ کروں ایسی ہی پییں وہ چائے کا کپ اٹھاتے اپنے کمرے کی طرف چل دی ۔
اف دھڑکن اتنی دیر لگا دی لاؤ کردم نے اسے کمرے کے دروازے پر کھڑا دیکھ کر جلدی سے کہا دھڑکن نے آگے بڑھتے ہوئے چائے نامی شاہکار کے حوالے کردیا
چلیں اب چائے کا کپ اٹھائیں اور جائیں یہاں سے سکون سے سونے دیں مجھے ۔اور یہ آخری چائے تھی یاد رکھیے گا شرط دھڑکن نے یاد کرواتے ہوئے کہا تو کردم نے ہاں میں گردن ہلا دی ۔جیسے صدیوں سے اس کی ہر بات مانتا آیا ہوں ۔
لیکن چاہے کا سیپ لیتے ہی اسے خوشگوار حیرت ہوئی ۔
وا دھڑکن آج تم نے واقعی ہی چائے بنائی ہے ۔بیگم ابھی تو شادی ہونے میں ایک رات باقی ہے اور ابھی سے اتنی اچھی چائے ۔تم کمال ہو ۔
اسے امید نہیں تھی کہ رات کے دو ڈھائی بجے اسے اتنی اچھی چائے نصیب ہوگی جبکہ دھڑکن اپنی تعریف سن کر حیران اور پریشان نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
کیا چائے واقع ہی اچھی بنی تھی یا صرف کردم آگے بھی اس کے ہاتھ کی چائے پینے کے لئے ایک تعریف کر رہا تھا لیکن برداشت نہیں تھی اس نے فورا سے کردم کے ہاتھ سے چائے کا کپ نکالتے ہوئے خود سیپ لیا ۔
آئی کانٹ بلیو یہ میں نے بنائی ہے دھڑکن نے بے یقینی سے کہا ۔یہ چائے میں نے بنائی ہے کردم سائیں میں کتنی اچھی چائے بنا سکتی ہوں ۔ یہ صبح تک خراب ہو جائے گی نہیں تو میں دادا سائیں کو چکاتی دھڑکن خوشی سے کہا ۔
کوئی بات نہیں پھر تم صبح دوبارہ انہیں بنا دینا کردم نے آئیڈیا دیا ۔
نہیں نہ صبح اتنی اچھی تھوڑی نہ بنے گی مجھ سے کوئی بھی کام رائٹ سے ایک ہی بار ہوتا ہے اب تو مجھے یاد میں نہیں کہ میں نے چائے کے پانی میں سب سے پہلے کیا ڈالا تھا اچھی نہیں بنےگی پھر دھڑکن کو افسوس ہوا ۔
جبکہ کردم اس کے انداز پر مسکراتے ہوئے اپنی چائے ختم کرنے لگا ۔کیا تھی دھڑکن ۔۔۔۔؟ پاگل ۔شرارتی ۔معصوم ۔بےوقوف ۔سمجھدار ۔نادان ۔کیا تھی وہ کردم سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔
مگر جو بھی تھی جیسی بھی تھی اب کردم کی تھی ۔کردم نے کبھی زندگی میں اپنے لیے دھڑکن جیسی لائف پارٹنر کے بارے میں نہیں سوچا تھا اس کا بچپنانہ اس کی نادانی جہاں پہلے اسے غصہ دلاتی تھی اب اس کی یہںی ساری باتیں سے ایکٹ کرنے لگی تھی ۔
وہ خود اس سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈنے لگا تھا ۔وہ اسے اپنی پرواہ کرتے دیکھنا چاہتا تھا وہی پرواہ جو وہ اپنی ماں کے چہرے پر اپنے باپ کے لیے دیکھا کرتا تھا ۔
وہ چاہتاتھا کہ وہ اس کی فکر کرے ویسی ہی فکر جو نازیہ چاچی چاچو سائیں کے لئے دکھاتیں تھیں۔
ہررات جاگ کر اس کا انتظار کرےجس طرح سے دادی سائیں دادا سائیں کا انتظار کرتی تھیں۔
وہ اس کے لئے سجے سنوارے جس طرح سے حوریہ اپنے آپ کو مقدم کے لیے سجاتی ہے ۔
وہ تائشہ کے لیے کبھی اس طرح محسوس نہیں کر سکا وہ اس کے بچپن کی منگیتر تھی وہ بچپن سے جانتا تھا کہ اس لڑکی کے ساتھ اس کی شادی ہونی ہے لیکن وہ کبھی اس کے قریب نہیں جا سکا ۔
تائشہ بھی تو اس کی فکر کرتی تھی اس کی ہر چیز کا خیال رکھتی تھی ہر رات اس کا انتظار کرتی تھی لیکن اس سب کے باوجود بھی تائشہ کے لیے کبھی وہ جذبات محسوس نہیں کر سکا جو اس نے دھڑکن کے لیے کیے تھے ۔
شاید وجہ بہت عام سی تھی کہ دھڑکن ہر بات میں تائشہ کی طرح جھوٹ نہیں بولتی تھی ۔تائشہ اس سے بات کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتی یہاں تک کہ عام روٹین کی باتوں میں بھی وہ اس سے جھوٹ بولتی تھی ۔صرف اس لئے کہ وہ زیادہ دیر کردم سے بات کر سکے ۔
اور اس کے ہر جھوٹ کے ساتھ کردم کو اس پر غصہ آتا تھا لیکن اپنے غصے کا اس نے کبھی اظہار نہیں کیا ۔کیا ضروری تھا کہ تائشہ ہمیشہ جھوٹ کا سہارا لے کر اس سے بات کرتی اگر وہ دھڑکن کی طرح عام سے انداز میں بات کرتی تو کیا وہ اسے جواب نہیں دیتا ۔
وہ اس کی منگیتر تھی اس کے ساتھ اس کی شادی ہونی تھی لیکن اس کے باوجود بھی تائشہ نے کبھی اسے اپنا یقین نہیں دلایا ۔
وہ اپنی سہیلی کے گھر جانے کے بہانے کبھی شاپنگ جاتی توکبھی کہیں بھی گھومنے چلی جاتی جبکہ کردم نے اسے کہیں دفعہ بتایا تھا اس گاؤں میں ان کے بہت دشمن ہیں جن سے وہ اپنی عزت کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے ۔
لیکن تائشہ نے کبھی ان باتوں کو اہمیت نہ دی۔ _ تائشہ ہر غیرضروری بات کو اہمیت دیتی اور ہر ضروری بات کو نظر انداز کر دیتی ۔
اور دھڑکن ڈر سے ناراضگی سے کیسے بھی کردم کے ہر اصول کو فالو کرتی تھی۔
اس کے دل کی دھڑکن دھڑکن کو پہلی بار دیکھتے ہی اپنی رفتار بھول چکی تھی ۔
لیکن اس نے یہ بات کبھی دھڑکن پر ظاہر نہیں ہونے دی وہ اپنے دل کو کنٹرول کر رہا تھا وہ ایسا چاہتا ہی نہیں تھا کہ وہ دھڑکن سے محبت کرے وہ اپنے آپ پر تائشہ کا حق سمجھتا تھا
لیکن شاید کردم کا دل خود کوتائشہ کی امانت نہیں سمجھتا تھا اسی لیے چپ چاپ دھڑکن اس کے دل میں سما گئی اور اسے خبر بھی نہ ہوئی ۔
وہ ہمیشہ اپنے جذبات کی نفی کرتا رہا لیکن جب گھر آنے کے بعد دھڑکن نے اپنی تنگ جینز اور شرٹ چھوڑ کر حوریہ کے کپڑے پہنے تھے تو اس کا دل الگ انداز میں دھڑکا تھا وہ چھوٹی سی لڑکی اس کی بات کو کتنی اہمیت دے گئی تھی جبکہ کردم نے کتنے غصے سے کہا کہ یہ کپڑے اچھے نہیں
جبکہ اس کے لباس میں کسی قسم کی کوئی بےہودگی نہ تھی ہاں لیکن اس طرح کا لباس کردم کو کبھی بھی پسند نہ تھا ۔
اس کا ڈوپٹہ سارا دن نجانے کہاں کہاں ہوتا اس کے گھر آنے کے بعد اس کے سر سے ہلتا نہ تھا ۔
وہ معصوم اس کے دل میں اترتی گئی اپنے ہرانداز اپنی ہر شرارت اپنی ہر نادانی کے ساتھ ۔ہاں کردم شاہ اس سے محبت کرنے لگا تھا لیکن ایک سوال تھا جو اسے پریشان کرتا تھا کیا وہ بھی اس سے محبت کرتی تھی ۔
شاید ہاں یا شاید نہ
کردم اپنی سوچوں سے نکل کر دھڑکن کو دیکھنے لگا جو بے سود بے حواس بڑے مزےسے اپنی نیند پوری کر رہی تھی ۔
اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرےکے نیچے رکھیں تمام تر سوچوں سے بے فکر سی مسکراہٹ ۔جبکہ اس کے تھوڑے سے فاصلے پر اس کی کیٹی کا چھوٹا سا ٹوکری نما بیڈ تھا ۔
کردم نے مسکراتے ہوئے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے ۔مجھے اس دن کا شدت سے انتظار ہے جب تم مجھے کہو گی کہ میں بھی تمہاری زندگی میں اتنی ہی اہمیت رکھتا ہوں جتنی کی تم میری زندگی میں رکھتی ہو
مقدم کی آنکھ کھلی تو حوریہ آئینے کے سامنے کھڑی تیار ہونے میں مصروف تھی ۔
وہ اس وقت گہرے نیلے رنگ کی خوبصورت فراک اور چوڑی دار پجامے میں اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ مقدم تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔
وہ اسے تین چار بار جگانے کی ناکام کوشش کر چکی تھی لیکن رات دیر واپس آنے اور دیر سے سونے کے بعد اب وہ بہت دیر سے ہی جگاتھا اس وقت صبح کے گیارہ بج رہے تھے ۔
شیٹ وہ ہربڑاتے ہوئے بیڈ سے اٹھا ۔
حوریہ جلدی سے میرے کپڑے نکالو مجھے جگایا کیوں نہیں باہر مہمان آ چکے ہوں گے ۔
وہ تیزی سے واشروم کی طرف بڑھتے ہوئے بولا
آپ کے کپڑے اور باقی ساری چیزیں وہ تیار رکھی ہیں بس آپ جناب کے جاگنے کا انتظار تھا ۔
اور یہ آپ نے کیوں کہا کہ میں نے آپ کو جگایا نہیں میں نے آپ کو تین چار بار جگایا لیکن آپ تھے جو اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ۔
حوریہ نے جلدی سے اپنی صفائی پہ پیش کی ۔
تو کیا کروں میرا سوہنا ماہی تم ساری رات مجھے سونے نہیں دیتی تو پھر صبح تو یہی ہو گا نا ۔
وہ اس کا ماتھا چومتے تیزی سے واشروم کی طرف بڑھ چکا تھا جبکہ حوریہ اس الزام پر واش روم کے دروازے کو گھور کر رہ گئی
لیکن فی الحال وہ کسی بھی قسم کی بحث کے بالکل موڈ میں نہ تھی ۔
دھڑکن کو تیار کرنے کے لئے پالر والی آچکی تھی اور سویرا اس کے ساتھ تھی
جبکہ مقدم کے نہ جاگنے کی وجہ سے حوریہ اپنے کمرے میں ہی تیار ہو رہی تھی ۔
اور تائشہ کو رضوانہ پھوپھو نے زبردستی باہر لاکر مہمانوں کو سنبھالنے کا حکم دیا تھا ۔
حوریہ دھڑکن کے لیے بہت خوش تھی وہ ہمیشہ سے کردم کے لیے کہ ایسی ہی دلہن چاہتی تھی
وہ تائشہ سے بھی بہت محبت کرتی تھی لیکن دھڑکن اس کے دل کے بہت قریب آ چکی تھی ۔
تائشہ نے کبھی بھی کردم کے خالی پن کو بھرنے کی کوشش نہ کی تھی جبکہ دھڑکن نے کچھ ہی وقت میں اسے اپنا اسیر کر لیا تھا
گھر میں سب لوگ یہ بات نوٹ کرچکے تھے کہ اب کردم زیادہ وقت ڈیرے پر نہیں بلکہ گھر پر گزارتا ہے اور گھر آنے کے بعد بھی اس کا مقصد صرف اور صرف دھڑکن کو تنگ کرنا ہی ہوتا ہے ۔
گھر میں سب لوگ جانتے تھے کہ کردم اس شادی سے بہت خوش ہے جبکہ دھڑکن کا کہنا تھا کہ یہ شادی اس کے دادا سائیں اور بابا سائیں کی مرضی سے ہو رہی ہے تو وہ بھی خوش ہے ۔
