Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 (Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai) Epi 12
No Download Link
Rate this Novel
(Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai) Epi 12
وہ ابھی تک اپنے خیالوں میں گم تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی
اس وقت کون ہو سکتا ہے وہ سوچتے ہوئے اٹھی اوردروازہ کھولا
لیکن سامنے مقدم شاہ کو دیکھ کر بوکھلا گئی جو اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
سنا ہے میری منگ بنایا گیا ہے تمہیں سوچا میں بھی دیکھ آوں منگ کیسی ہوتی ہے وہ مسکراتے ہوئے نہ صرف اندر داخل ہوا بلکہ دروازہ بھی بند کر دیا ۔
مقدم لالا آپ۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ بولنے ہی والی تھی کہ مقدم شاہ نے اسے گھور کر دیکھا ۔
میرا مطلب ہے مقدم سائیں آپ جائیں یہاں سے کوئی آ جائے گا حوریہ نے فوراً بات بدلی تو مقدم شاہ کے لبوں کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔
ظالم ایک ہی بار میں مار ڈالو گی کیا ۔۔۔مقدم شاہ نے کہتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما۔
جہاں اس کے نام کی انگوٹھی آب و تاب سے چمک رہی تھی آج پہلی بار یہ انگوٹھی مجھے اتنی پیاری لگی ہے مقدم شاہ نے اس کا ہاتھ اپنے لبوں کے قریب لے جاتے ہوئے کہا اس سے پہلے کوئی گستاخی کرتا ہے حوریہ نے اپنا ہاتھ کھینچا ۔
لیکن آگلے ہی پل اس کی نظر مقدم شاہ کے چہرے پر پڑی جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا اس کی یہ حرکت مقدم شاہ ناگوار گزری ہے ۔
مجھے یہ گریز پسند نہیں اگر تم مجھ سے شرما رہی ہو تو قبول ہے لیکن اگر یہ ہاتھوں کسی اور آ جانے کے خوف سے چھڑوایا ہے تو سن لو آج کے بعد تمہاری اس طرح کی غلطی معاف نہیں ہوگی
ہونے والی بیوی ہو میری جب دل چاہے گا ملنے آؤں گا جب دل چاہے گا ۔۔۔۔۔۔۔وہ اس کے چہرے کو اپنے قریب کرتے ہوئے بول رہا تھا
ہونے والی بیوی ہوں مقدم سائیں ہوچکی بیوی تو نہیں ہوں حوریہ نے نگاہیں جھکا کر دھیمے لہجے میں کہا اس کے انداز پر مقدم شاہ مسکرایا
تو یہ وجہ ہے اس گریز کی
تو پھر تمہیں جلدی سے مسز مقدم شاہ بناتے ہیں پھر اگر تم نے نخرے دکھائیں تو دیکھنا وہ اسے سخت نگاہوں سے گھورتا باہر جانے لگا پھر ایڑیوں کے بل مڑا اور اپنی جیب سے آج صبح اس کے لیے خریدا گیا تحفہ نکالا ۔
اور بنا اس کی مزاحمت کی پروا کیے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے کر وہ بریسلیٹ اس کی نازک کلائی پر پہنا دیا
اسے دیکھ کے ایسا لگا جیسے یہ تمہارے لیے بنایا گیا ہے اور جو چیز تمہارے لیے بنائی گئی ہے وہ تو تمہارے پاس ہی ہونی چاہیے جیسے کہ میں ۔اس کے خوبصورت چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے وہ نرمی سے بولا ۔
میں جا رہا ہوں دروازہ بند کر لو اور سانس لے لو وہ جو کب سے سانس روکے کھڑی تھی مقدم شاہ اس کی حالت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا
اس کے جاتے ہی حوریہ نے دروازہ بند کیا دروازے کے ساتھ کھڑی ہو کر سکون کی سانس لی
مقدم شاہ کا یہ بے باک انداز اس کے دل کی دنیا ہلا گیا تھا اسے مقدم شاہ کا یہ حق جتاتا انداز اچھا لگ رہا تھا
وہ سارا دن اسی کے بارے میں سوچتی رہی تھی آخر اس شخص نے اپنی محبت کو اپنے نام کی انگوٹھی پہنا کا ثابت کردیا ۔
•••••••••••••••
سویرا ساری رات نہ سو سکی صبح کی روشنی پھیلتے ہی وہ کمرے سے باہر نکل گئی
رضوانہ پھوپھو کو دیکھتے ہی وہ ان کے قریب آئی اسے دیکھ کر وہ نظریں پھیر گئی
ان کے اس طرح سے کرنے پر سویرا کو بہت غصہ آیا وہ بنانے انہیں محاطب کیے پلٹ گئی جب کہ رضوانہ نے غصے سے اسےجاتے ہوئے دیکھا
انہیں اس پر بہت غصہ تھا جس کی وجہ سے انہیں حوریہ کو روز یہاں حویلی میں دیکھنا پڑگیا تھا
کل تک تو میری بلائیں لے کر نہیں تھکتی تھی آج شادی سے کیا انکار کردیا سارا پیار ختم ہوگیا وہ بڑابڑ آتے ہوئے واپس کمرے میں چلی آئی
جبکہ نظریں اس شخص کا دیدار کرنے کے لیے بے چین تھی
وہ اسے بے چین کر کے نہ جانے کہاں غائب ہو گیا تھا
وہ اپنے سر کل میں سب سے زیادہ خوبصورت لڑکی تھی ۔اور اس کے ساتھ صرف ولیم ہی جچتا تھا لیکن اس شخص کو دیکھنے کے بعد اسے ویلم بھی اس کے مقابلے میں بہت کم لگ رہا تھا اسے ولیم اور اس میں زمین آسمان کا فرق محسوس ہو رہا تھا ۔
سویرا کو ہر خوبصورت چیز پسند آتی تھی کیونکہ اس کا ماننا تھا کہ ہر خوبصورت چیز پر پہلا حق اس کا ہے ۔اور اس شخص پر بھی پہلا حق اسی کا تھا اب بس یہ جاننا تھا کہ آخر وہ ہے کون
•••••••••••••••
شاہ سائیں کہیں جا رہے تھے جب احمد شاہ کو باہر کھڑا دیکھا بلکہ وہ کل کے بعد ابھی انہیں نظر آئے تھے
بابا سائیں کو اپنی طرف دیکھتا پا کر وہ ان کے قریب آئے ہم دو دن کے بعد واپس جارہے ہیں بابا سائیں اس کے بعد آپ کو میری صورت نہیں دیکھنی پڑے گی ۔
جانتا ہوں میری غلطی معافی کے لائق نہیں ہے لیکن پھر بھی آپ سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگتا ہوں کل جو سویرا نے کیا اس کے بعد مجھے اتنی ہمت نہیں کہ میں کسی سے نظر ملا پاؤں ہو سکے تو مجھے معاف کر دیجئے گا
ہوسکتا ہے اس کے بعد میں کبھی واپس نہ پاؤں وہ نظرجھکائیں کہتے ہوئے بابا سا ئیں کو بے چین کر کے گئے
اس کا مطلب ہے دھڑکن بھی ان کے ساتھ واپس جارہی ہے۔
دھڑکن کے جانے کا سن کر نہ جانے کیوں ان کا دل ویران ہونے لگا
وہ ان سے کچھ کہے بغیر باہرنکل گئے احمد شاہ بس انہیں جاتا ہوا دیکھ رہے تھے
••••••••••
سویرا کی بے چینی حد سے سوارتھی صبح پھوپھو سائیں کی بے مروتی دیکھ کر اس کا واپس باہر جانے کا دل نہیں کر رہا تھا لیکن اپنے بے چین دل کا کیا کرتی وہ خود اپنی حالت نہیں سمجھ پا رہی تھی بس ایک ہی جنون سر پہ سوار تھا کہ اس شخص کو دیکھنا ہے
اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر باہرآئی باہر ملازموں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا کچن میں جھنکا تو حوریہ کھڑی نظر آئی اس لڑکی سے وہ بالکل بات نہیں کرنا چاہتی تھی پھر اسے حوریہ پر ترس آیا بیچاری کو اس کا ریجیکٹ کیا ہوا لڑکا جو مل رہا تھا
لیکن یہ بے وقوف لڑکی اس کی مدد کر سکتی تھی سویرا سوچتے ہوئے کیچن میں داخل ہوگئی
ہائے حوریہ کیسی ہو تم وہ اس کے پاس اگر مسکرا کر پوچھنے لگی
میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں
وہ کل والی ساری بات نظرانداز کر کے اس سے پوچھنے لگی ٹھیک ہوں ویسے کیا کرتی ہو تم ۔۔۔۔؟ اس نے حوریہ سے سرسری سا پوچھا
کچھ نہیں بس پڑھتی ہوں اور کھانا بنانے کا شوق ہے تو اس نے گیس پر رکھی ہوئی ہانڈی کی طرف اشارہ کیا
گڈ نائس سویرا نے مسکرا کر کہا
ویسے کون کون ہوتا ہے حویلی میں وہ اپنے مطلب کی بات آئی
میرا مطلب ہے اتنی بڑی حویلی ہے ۔۔۔۔۔۔؟
ہم ہی ہیں بس گھر کے لوگ
پھر بھی کون کون میں زیادہ کسی سے ملی نہیں مجھے تھوڑا ٹینشن تھا اب ریلیکس ہوں تو اس نے کل والی بات کی طرف بھی اشارہ کیا
دادا سائیں ہیں رضوانہ خالہ سائیں ہیں نازیہ مامی سائیں ہیں کردم لالا سائیں تائشہ دیدہ ہیں اور مقدم لالہ میرا مطلب ہے مقدم سائیں مقدم کے نام پر حوریہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی
اور۔ ۔؟ سویرا اس کی مسکراہٹ اگنور کر گئی
اور بس یہی لوگ ہیں حوریہ نے کہا
بس اور کوئی بھی نہیں سویرا نے حیرت سے پوچھا وہ جو کوئی بھی تھا کا حویلی کے نوکروں میں سے نہیں تھا
یہ تو اسے یقین تھا ۔
مقدم شاہ میرے لیے بنا ہی نہیں ہے اس کے ساتھ صرف تم ہی سوٹ کرو گی اسی لئے میں نے اس سے شادی سے انکار کر دیا لیکن تم کافی خوش لگ رہی ہو یقیناً اس کے ساتھ تمہاری اچھی کٹ جائیں گی لیکن میں اس طرح کے انسان کے ساتھ ساری زندگی نہیں گزار سکتی ۔ میرا مطلب ہے اجوکیشن اور اسٹائل زندگی کا بہت بڑا حصہ ہے تم میری بات کا مطلب سمجھ رہی ہو نہ ۔سویرا ان ڈائریکٹلی اسے یہی بتانے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ ایک گوار کے ساتھ ساری زندگی گزارنے کے لئے مجبور ہو چکی ہے ۔
سویرا دیدہ آپ نے مقدم سائیں کو دیکھا بھی ہے ۔اسٹائل کی بات کر رہی ہیں نہ آپ یہاں کا اسٹائل مقدم شاہ کے ہونے سے ہے ۔یہاں کے لوگ انہیں فالو کرتے ہیں ۔
اور انہوں نے ڈبل ایم اے کیا ہے ۔وہ بھی یہاں سے نہیں امریکہ سے اسے سویرا کے طنز کی سمجھ نہیں آئی تھی ۔لیکن اس کا انداز اس سے یہ بتانے پر مجبور کردیا کہ وہ مقدم کو غلط سمجھ رہی ہے ۔
جبکہ سویرا کو اس کی باتوں میں کوئی انٹرسٹ نہ تھا
چلو ٹھیک ہے تم کھانا بناؤ میں چلتی ہوں سویرا کہہ کے کر باہر نکل گئی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کیا بات ہے دادا سائیں آپ جب سے آئے ہیں اداس لگ رہے ہیں کردم شاہ کب سے انہیں دیکھ رہا تھا جو آج بہت پریشان لگ رہے تھے
احمد شاہ دھڑکن کو واپس لے کے جا رہا ہے
وہ لوگ واپس جانے والے ہیں وہ دھڑکن کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے ہم پھر سے اکیلے ہو جائے گے تم ہمیشہ کہتے تھے تائشہ اور حوریہ ہماری نواسیاں ہیں ہمارے دل میں ہمیشہ سے اپنے پوتیوں کو دیکھنے کی خواہش تھی
ہم کبھی تائشہ اور حوریہ کے اتنے قریب نہیں گے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ یہ ان کا اصل گھر نہیں ہے ہم سویرا اور دھڑکن سے نہیں ملنا چاہتے تھے ہم ان کے قریب نہیں جانا چاہتے تھے لیکن وہ دھڑکن وہ خود ہمارے قریب آگئی
ہم نہیں چاہتے کہ وہ واپس جائے ہم اسے اپنے پاس رکھ لینا چاہتے ہیں ہمیشہ کے لئے
تو آپ چاچا سائیں سے بات کریں نہ کہ وہ اسے یہی چھوڑ جائیں کردم شاہ جانتا تھا کہ وہ دھڑکن کو بہت چاہنے لگے ہیں اس لیے ان کی پریشانی کا حل بتایا
ورنہ دھڑکن کے بارے میں وہ کبھی کوئی بات نہیں کرتا تھا
ہم اس سے بات نہیں کرنا چاہتے اس نے نہ صرف ہمیں بلکہ اپنی ماں کو دھوکہ دیا ہم اسے معاف نہیں کرسکتے کردم سائیں
پھر آپ کیا کریں گے کردم شاہ نے پوچھا دادا سائیں نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا
پھر بنا کچھ بولے چلے گئے کردم شاہ انہیں جاتا ہوا دیکھ رہا تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ہائے تاِئشہ سویرا نے تائشہ کو باہر آتا دیکھ کر کہا تھا اور مسکرا کے پاس آئی
سویرا دیدہ آپ یہاں تائشہ نے اس کے باہر آنے پر خیرت کا اظہار کیا
ہاں آج موسم اچھا تھا ہے تم سناؤ کیا کرتی ہو ویسے تمہارے بال بہت خوبصورت ہے اگر انکی لینتھ تھوڑی سی کم کرو تو اور زیادہ اچھے لگے گے سویرا نے اس کے بالوں کو دیکھتے ہوئے کہا
کیونکہ وہ سمجھ چکی تھی کہ وہ اس کے فیشن سینس کو فالو کر رہی ہے ۔
اچھا کیا واقعی ایسی بات ہے تو آج ہی میں اپنی سہیلی کو بلاکر بال کٹوا لیتی ہوں وہ پالر میں کام کرتی ہے کردم سائیں نے مجھے باہر جانے سے منع کردیا ہے وہ اکثر آ جاتی ہے
چھوڑو کسی کو کیوں بلاؤ گی میں کاٹ دوں گی کیا ضرورت ہے اس کو بلانے کی
ویسے حویلی میں کتنے ملازم ہیں سویرا نے اپنے مطلب کی طرف آتےہوئے پوچھا
بہت سے ہیں کیوں ۔۔۔تائشہ نے ناسمجی سے پوچھا
نہیں بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی اگر کسی کو کہیں جانا ہو تو
تو کردم سائیں یا مقدم لالا سائیں لے جاتے ہیں گھر کی عورتوں کے معاملے میں وہ کسی پر اعتبار نہیں کرتے تائشہ نے فوراً کہا
رات میں حویلی میں کتنے لوگ ہوتے ہیں سویرا نے پوچھا
مرد میں کوئی نہیں ہوتا کچھ ملازمہ ہوتی ہیں
مرد تو سارے چلے جاتے ہیں اپنے اپنے گھر
میں نے رات کے وقت حویلی میں ایک آدمی کو دیکھا تھا ۔سویرا نے بتایا
باہر کا تو کوئی نہیں ہوتا رات میں آپ نے کردم سائیں کو دیکھا ہو گا
نہیں تو کردم لالہ کو تومیں جانتی ہوں
تو پھر مقدم لالہ ہوں گے
نہیں مقدم شاہ نہیں ہوسکتا سویرا نے فوراً نفی کی وہ اس شخص کو مقدم سوچ بھی نہیں سکتی تھی
انہوں نے کندھے پر کالی چادر ڈالی تھی جینز کے ساتھ ۔
تائشہ نے پوچھا
ہاں اونچا قدتھا مونچھیں ڈارک براؤن بڑی بڑی آنکھیں سفید سرخ رنگت سویرا کی آنکھوں کے سامنے رات والے آدمی کا چہرہ تھا
اس کا چہرہ اسے خفظ ہو چکا تھا اب تو وہ ساری زندگی اسے نہیں بھلا سکتی تھی
ہاں ہاں وہ مقدم لالا ہیں وہ اکثر رات کو لیٹ آتے ہیں اور کل تو وہ شہر گئے ہوئے تھے رات کو بہت دیر سے آئے تھے انہی کو دیکھا ہوگا آپ نے تائشہ نے سویرا کے قدموں سے زمین کینچی سویرا نے اپنے ہاتھوں سے اپنا سب کچھ تباہ کرلیا تھا وہ بھی یقینی سے تائشہ کی باتیں سنتی رہی
•••••••••••••
کیا وہ لوگ شادی تک بھی نہیں روکیں گے رضوانہ شاہ سائیں کے کمرے میں آئی تھی تو
ان سے پتہ چلا کہ احمد شاہ اور ان کی بیٹیاں واپس جارہی ہیں تو ان سے پوچھنے لگی
ہمیں نہیں پتا ہمیں دھڑکن نے بس اتنا ہی بتایا ہے کہ احمد شاہ واپس جا رہا ہے شاہ سائیں نے کہا
چلے جیسے ان لوگوں کی مرضی ہم زبردستی تو ان لوگوں کو روک نہیں سکتے
مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ احمد شاہ کی بیٹی اس قدر بد لحاظ ہو سکتی ہے
شکر ہے ہمارے گھر کی بہو بننے سے پہلے پتا چل گیا نجانے کتنا شرمندہ کرتی
اس میں احمدشاہ کبھی کوئی غلطی نہیں ہے بن ماں کی بچیاں کیسے سنبھالتا
رضوانہ افسوس سے کہتی اپنے کمرے میں جا چکی تھی
جبکہ شاہ سائیں اب تک یہی سوچ رہے تھے کہ دھڑکن جانے والی ہے ۔
کچھ ہی دن میں وہ دھڑکن کے کتنے قریب آگئی تھی ۔
اب اچانک اس کے جانے کے بارے میں سن کر انہیں اچھا تو نہیں لگ رہا تھا ۔
ان کی ہر سوچ دھڑکن کی طرف جا رہی تھی انہیں بار بار اس کے آنسو یاد آرہے تھے
۔•••••••••••۔
