Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 (Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai) Epi 19
No Download Link
Rate this Novel
(Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai) Epi 19
دھڑکن کو لاکر کردم کے کمرے میں بٹھا دیا گیا
لیکن اسے زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا ۔
تھوڑی ہی دیر میں کردم کمرے میں آ گیا تھا کیونکہ کردم کبھی زیادہ دوست نہیں بناتا تھا اور گاؤں کے کسی بھی لڑکے کی اتنی اوقات نہ تھی کے کردم کو اس کی دلہن سے ملنے سے روک سکے ۔
جبکہ سویرا اور تائشہ نے کسی رسم میں حصہ نہ لیا ۔
اس نے سالی ہونے کے ناطے سویرا کے لئے گفٹ لیا تھا لیکن شاید اسے کیسی رسم میں کوئی دلچسپی نہ تھی ۔
وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آکر بیٹھا دھڑکن اپنے دل کی دھڑکن شمار کرتی چپکے سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
اب بتانا شروع کروں میں رومینٹک ہوں یا نہیں ۔وہ اس کے کان کے قریب سرگوشی کرتے ہوئے بولا ۔
نہیں مجھے پتہ ہے آپ ہو ۔۔اپنی جان مشکل میں دیکھ کر دھڑکن فوراً سے بولی تھی ۔
اچھا تو تمہیں پتہ ہے کہ میں رومنٹک ہوں ذرا مجھے بھی بتاؤ کہ میں کتنا رومینٹک ہوں اسے ایک ہی لمحے میں کھینچ کر اپنے قریب کر چکا تھا ۔
کردم سائیں میں بہت تھک گئی ہوں مجھے یہ سب کچھ اتارنا ہے ۔وہ اسے اپنے اس قدر نزدیک دیکھتے ہوئے بولی ۔
تکیلف کرنے کی کیا ضرورت ہے اس کام کے لیے میں ہوں نا ۔
وہ اسے اپنی باہوں سے چھوڑے بغیر بولا ۔دھڑکن نے ایک بے بس سی نظر اس کے چہرے پر ڈالی ۔
اس طرح سے مت دیکھو دھڑکن تمہاری جان مشکل میں پڑ جائے گی ۔
وہ شرارت سے کہتا ہے اس کے خوبصورت چہرے پر جھکا
اس کے لبوں کو آزادی بخش تو دھڑکن ذرا سا پیچھے ہٹی بو اس کی قربت میں اپنے آپ کو بالکل بے بس محسوس کر رہی تھی ۔
کردم نے اسے اس طرح سے خود سے فاصلہ بناتے ہوئے دیکھا تو مسکرا دیا ۔
آج کی رات یہ دوریاں نہیں چلے گی وہ اسے اشارے سے اپنے قریب بلا رہا تھا ۔
مجھے چینج کرنا ہے وہ اس کی گستاخ نظروں سے چپکنے کی کوشش کرتے ہوئے بہانہ بنانے لگی ۔
ابھی تو کہا اس کام کے لیے کردم سائیں حاضر ہے وہ اس کا ہاتھ پکڑ کے ایک بار پھر سے اسے اپنے نزدیک کھینچ چکا تھا ۔
اس کا دوپٹا جو نجانے کتنی پیز سے سیٹ کیا گیا تھا وہ ایک ایک کرکے کھولنے لگا۔
کردم سائیں۔ وہ اسے دیکھ کر بے بسی سے پکارنے لگی کیونکہ اس کا دوپٹہ کردم اتار کے دور اچھال چکا تھا ۔
بولو دھڑکن سائیں آج جو کہو گی مانوں گا سوائے دوری کے ۔
دھڑکن کو اپنی شرٹ کی ڈوری کھلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔
کردم نے ذرا سا اس کی گردن پر جھکا تودھڑکن نے مضبوطی سے اس کے کندھوں کو تھاما ۔
اس کے اس طرح سے گھبرانے پر مسکرایا تھا ۔
گھبراؤ مت دھڑکن میں کوئی غیر نہیں ہوں جو تم اس طرح سے ڈر رہی ہو ۔مجھ سے اس طرح سے ڈرو گی تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا ۔
وہ اسے خود سے لگائے محبت سے بولا ۔
دھڑکن نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا پھر اس کے سینے میں چہرہ چھپا گئی
آپ اس طرح سے دیکھیں گے تو ڈر تو لگے گا نا۔۔۔وہ آہستہ سے منمنائی تو کردم مسکرا دیا
مطلب دیکھنے سے مسئلہ ہو رہا ہے ابھی اس مسئلہ کا حل نکالتے ہیں ۔کردم نے مسکراتے ہوئے اسے بیڈ پر لٹایا اور ہاتھ بھراکر لائٹ آف کر دی ۔
اب تو ڈر نہیں لگ رہا نا ۔وہ اہستہ سے اس کے کان میں سرگوشی کرتا پوچھ رہا تھا ۔جب دھڑکن نرمی سے مسکرا دی۔
وہ کوئی غیر محرم تھوڑی تھا جس کی قربت میں وہ ڈر تھی وہ اس کا شوہر تھا اس کا محرم اس کا جیون ساتھی دھڑکن اپنی آنکھیں بند کیے کردم کی بے باکیاں محسوس کر رہی تھی
••••••••••••••••
مقدم نے کمرے میں قدم رکھا تو حوریہ بیڈ پر بیٹھی کافی گھبرائی ہوئی تھی ۔
وہ اپنی شیروانی کے بٹن کھولتا اس کے قریب آیا ۔
اور ایسے ہی کھڑے اس نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا ۔
میں نے سوچا تھا کہ آج کی رات میں تم سے اپنی بےعزتی کا بدلہ لوں گا ۔
لیکن تمہارے اس معصوم چہرے کے آگے میں ہمیشہ بے بس ہو جاتا ہوں ۔
اسی چہرے میں تو مجھے اپنا گھائل بنایا ہے وہ بے دردی سے اس کے لبوں کو نشانہ بناتے ہوئے بولا ۔
حوریہ اس کے جارحانہ انداز پر گھبرا کر پیچھے ہوئی۔
جب مقدم نے اسے کھینچ کر ایک بار پھر سے اپنے قریب کیا کہا تھا نہ تم سے کہ کل یہ نخرے برداشت نہیں کروں گا میں ۔
وہ سختی سے کہتا ایک بار پھر سے اس کے لبوں پر جھکا ۔
اسے اپنی لبوں پر چُبن سی محسوس ہوئی۔
اگلے لمحے مقدم نے اسے بیڈ پر دھکا دیا ۔
حوریہ نے اپنے لبوں کو چھوا جہاں خون کی ایک ننھی سی بوند تھی
بڑی سے بڑی غلطی کرلو مسز مقدم شاہ اس سے زیادہ بری سزامقدم شاہ کبھی نہیں دے سکتا ۔
وہ اس کے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر لگاتا محبت سے بولا ۔حوریہ پر سکون سے اپنی آنکھیں موند گئی ۔
اگر تم نے مجھے نخرے دکھائے تو پچھتاؤ گی۔ وہ اس کا دوپٹہ اس کے وجود سے الگ کرتا مسکرا کر بولا ۔
آپ نے مجھے ڈرا دیا تھا مقدم سائیں مجھے لگا آپ اب مجھ سے خفا ہیں ۔وہ اس کے سینے میں منہ چھپاتے ہوئے بولی ۔
ناراص تو تھا تم سے لیکن آج تمہارا یہ حسین چہرا دیکھ کر مقدم شاہ اپنی ساری ناراضگی بھول گیا ۔ تمہارے پاس بہت سارے طریقے ہیں مجھے اپنا اسیر کرنے کی ۔سب سے خوبصورت طریقہ تمہارا یہ حسین روپ وہ اس کے دلہن کی طرح سجے سراپے کو دیکھ کر بولا ۔
مقدم نے اسے اپنے مزید قریب کیا تو وہ ذرا سا پیچھے ہٹی مودم کو ناگوار گزرا کہا تھا نہ نخرے برداشت نہیں کروں گا اس کا مطلب ہے کہ مجھے آپ کو نخرے دکھانے کی اجازت نہیں وہ اس کی لو دیتی نظروں میں دیکھتے ہوئے بولی ۔
تمہارا غصہ تمہاری باتیں تمہارے نخرے سب سر آنکھوں پر ۔مگر اس معاملے میں نخرے برداشت نہیں کروں گا ۔
وہ اس کے بالوں کا عاشیآنہ کھلتے ہوئےاس کی گردن میں اپنا چہرہ چھپا گیا ۔
آج میرا ارادہ تمہیں یہ بتانے کا ہے کہ جب سے تم پیدا ہوئی ہو تب سے کتنا تڑپایا ہے تم نے ۔وہ اس کی آنکھوں پر محبت کی مہر لگاتا آہستہ آواز میں بولا ۔
جب سے میں پیدا ہوئی ہوں حوریہ نے سرگوشی نما آواز میں کہا ۔
ہاں جب سے تم پیدا ہوئی تب سے مقدم شاہ نے تمہیں چاہا ہے ۔تمہیں اپنے لئے سوچا ہے ۔ کبھی نگاہ بھر کر تمہیں نہیں دیکھا کہیں جذبات نے لگام نہ ہوجائیں ۔
لیکن آج یہ دریا نہیں رکے گا ۔
آج تمہارے وجود کی رانیاں مقدم شاہ کے نام ہیں
جسے کو سود سمیت وصول کرے گا مقدم شاہ لائٹ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کے نازک وجود کو خود میں سمیٹ لیا اور یہ رات مقدم شاہ کی زندگی کی سب سے خوبصورت تھی۔
•••••••••••
دھڑکن کے ساتھ ابھی مشکل سے اس کے 15 منٹ گزرے تھے کہ اس کا دروازہ زور سے بجا
اف یہ کون سے ظالم لوگ آگئے ہیں جو آج کی رات بھی سکون سے نہیں دے رہے ۔
وہ اندھیرے میں بڑبڑایا تھا ۔
جب اسے دھڑکن کی معصوم سی ہنسی سنائی دی ۔
یہ مت سوچنا کہ تم بچ گئی ہو دو منٹ میں واپس آ رہا ہوں ۔
وہ لائٹ آن کرتے ہوئے بولا ۔
اور ابھی اترای اپنی شرٹ کو دوبارہ پہننے لگا ۔
جبکہ دھرکن شرم سے نظر تک نہیں ملا پا رہی تھی ۔
ابھی اتنا بھی مت شرماؤ شرمانے والا تو ابھی کچھ ہوا ہی نہیں ۔
وہ آنکھ دباتا اس کے قریب سے اٹھا اور دروازہ کھولنے لگا
کردم سائیں جلدی چلیے باہر گاوں والے احتجاج کر رہے ہیں ۔
دروازے پہ اس کا خاص ملازم کھڑا اسے بتا رہا تھا ۔
کس بات کا احتجاج کر رہے ہیں کردم کوکچھ سمجھ نہ آیا تھا ۔
آپ نیچے چلے ملازم نے پریشانی سے کہا تو کردم دروازہ بند کرتا ہوں نیچے آگیا
•••••••••••••••••
کردم باہر آیا تو بہت سارے لوگ کھڑے تھے ۔
وہ دادا سائیں کے ساتھ آ کر کھڑا ہوا ۔
میں مقدم سائیں کو بلا کے لاتا ہوں اس کے ملازم نے کہا ۔
نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے میں سنبھال لوں گا ۔
کردم کے کہنے پر ملازم نے پیچھے دور کھڑی سویرا اور تائشہ کو دیکھا تھا ۔
پھر وہ نظر جھکا گیا
تائشہ یہ ملازم اوپر مقدم سائیں کے کمرے میں کیوں نہیں جا رہا سویرا نے پریشانی سے پوچھا
مجھے نہیں پتا سویرہ دیدہ میں نے تو اسے کہا تھا جیسے ہی گاؤں والے اکٹھے ہوں وہ مقدم لالہ اور کردم سائیں کو بلا لائے لیکن یہ تو صرف کردم سائیں کو بلا کر لایا ہے ۔
تائشہ نے کہا تو سویرا ملازم کو غصے سے گھورتی گاؤں میں ہونے والا نیا تماشہ دیکھنے لگی
••••••••••••••••••
آپ لوگ کون ہوتے ہیں میری شادی پر اعتراض کرنے والے کردم کو ان کی باتوں پر غصہ آنے لگا تھا ۔
دیکھیے کردم سائیں حویلی والوں نے جو اصول بنائے ہیں ہم ان کے پابند ہیں ہم نے وہی کیا ہے جو آپ لوگوں نے ہم سے کرنے کو کہا اب وہ اصول آپ خود کیوں توڑ رہے ہیں ۔
گاوں کے ایک آدمی نے سامنے آتے ہوئے سوال پوچھا
کس نے اصول توڑے ہیں کردم نے پوچھا ۔
آپ نے توڑے ہیں کردم سائیں ۔دوسرے آدمی نے جواب دیا
بات کو گمانے کی ضرورت نہیں ہے بتاؤ کیا چاہتے ہو تم لوگ اور کون سا اصول توڑا ہے میں نے میرے لیے بھی وہی سزا ہوگی جو اس گاوں میں ہر اصول توڑنے والے انسان کو ملتی ہے ۔
کردم فیصلہ کرتے ہوئے آگے ہوا اس سے کبھی کوئی غلطی نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی کبھی کوئی غلطی ہو سکتی تھی
اگر آپ کو یاد ہو تو کچھ دن پہلے گاؤں کا ایک آدمی اپنی بیٹی کی شادی کر رہا تھا ۔نکاح بھی ہوچکا تھا آپ نے اس لڑکی کو طلاق دلوائی تھی یہ کہہ کر کے وہ آدمی اس لڑکی سے عمر میں بہت بڑا ہے اور وہ لڑکی 18 سال کی نہیں ہے اور گاؤں میں یہ اصول بنایا تھا کہ کوئی بھی 18سال سے کم لڑکی کو رخصت نہیں کیا جائے گا ۔
تو آپ یہ اصول کیسے توڑ سکتے ہیں ۔اس آدمی کی مکمل بات سننے کے بعد اس نے داداسائیں کو دیکھا تھا ۔
اس نے نکاح نامے پر دھڑکن کی عمر دیکھنے کی غلطی نہ کی تھی ۔
معاملے کو سمجھتے ہوئے احمد شاہ آگے ہوئے تھے ۔
میری بیٹی 18 سال کی ہوجائے گی اگلے مہینے صرف 17 دن رہ گئے ہیں اس کے اٹھارہ سال ہونے میں احمد شاہ نے کہتے ہوئے کردم سے نظر چرائی تھی۔
جبکہ اپنا ہاتھ میں پکڑا ہوا موبائل کردم نے اتنی زور سے زمین پر پھینکا تھا کہ وہ کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا ۔
نکاح نامے پر لڑکیوں کی عمر نہ دیکھنا کوئی بڑی بات نہ تھی لیکن گھرمیں کردم کو یہ بات نہ بتانا واقع ہی غلط تھا
اس نے کیوں نکاح نامے پر دھڑکن کی عمر نہیں دیکھی تھی اپنا ہی بنایا ہوا اصول اس نے کیوں توڑا تھا وہ خود اصولوں کا پابند اتنی بڑی غلطی کیسے کر گیا تھا ۔
ہمیں یہ ساری باتیں نہیں سنیں ہیں احمد سائیں ہمیں انصاف چاہیے اگر گاؤں کی بیٹیوں کے لئے اصول بنائے گئے ہیں تو یہی اصول حویلی کی بیٹیوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں ۔
کردم شاہ نے غلطی کی ہے اور اس کی سزا انہیں ضرور ملے گی ۔
نہ جانے وہ آدمی کس کی باتوں میں آکر اتنے باتیں کر رہا تھا ۔
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے بتائیں آپ مجھے کیا سزا دینا چاہیں گے لیکن ایک بات کان کھول کر سن لیجیے میں دھڑکن کو نہیں چھوڑوں گا وہ میری بیوی ہے میری عزت ہے کردم جلد سے جلد اس معاملے کو رفع دفع کرنا چاہتا تھا ۔
فیصلہ تو شاہ سائیں کریں گے
بتائیے شاہ سائیں اس طرح کا اصول اگر کسی گاؤں والے نے توڑا ہوتا تو آپ سے کیا سزا دیتے ۔وہ آدمی اب شاہ سائیں سے مخاطب تھا ۔
نکاح جائز رشتہ ہے ۔اور ہمارے دین میں بچیوں کا نکاح کیا جاتا ہے لیکن قانونی طور پر دھڑکن ابھی 18سال کی نہیں ہے اسی لئے ہم فیصلہ کرتے ہیں جب تک دھڑکن 18 سال کی نہ ہوجائے تب تک ہم اس کی رخصتی واپس لیتے ہیں ۔
دھڑکن کو اب سترہ دن کے بعد ہی رخصت کیا جائے گا ۔
دادا سائیں نے فیصلہ کرتے ہوئے ایک نظر کردم کی طرف دیکھا جو شاید ان کی طرف متوجہ نہیں تھا ۔
گاؤں کے سبھی لوگ ان کے فیصلے سے مطمئن تھے اور ویسے بھی اس غلطی کی اس کے علاوہ اور کوئی سزا ہو بھی نہیں سکتی تھی ۔
کردم تمہیں کوئی اعتراض ہے دادا سائیں نے پوچھا ۔
آپ کا فیصلہ سر آنکھوں پر دادا سائیں ۔کردم کہتا ہوا وہی سے باہر جاچکا تھا دادا سائیں جانتے تھے کہ وہ ڈیرے پر جارہا ہے اور آج کی رات وہی رکے گا ۔
••••••••••••••••••••
تائشہ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی یہ سویرا کا پہلا پلان تھا جو کامیاب ہوا تھا ۔
کل ہی ایک ملازمہ کردم کی تعریف کرتے ہوئے اسے کردم کے گاؤں کے لیے کیے جانے والے کام بتا رہی تھی ۔
جس میں اس نے کردم کے اصول کے بارے میں بات کی تھی ۔
اور وہیں سے سویرا کو پتہ چلا تھا کہ وہ 18 سال سے کم عمر کی لڑکی کی ۔شادی بھی اس گاؤں کا اصول توڑنا ہے
سویرا جانتی تھی کہ دھڑکن کی عمر 18 سال نہیں ہے ۔
اس نے اس ملازمہ کو اس طرح سے پزل کیا تھا کہ گاؤں میں جاکر ڈھنڈورا پیٹ چکی تھی ۔
تائشہ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ کچھ بھی نہ کرتے ہوئے بھی وہ دھڑکن اور کردم کو الگ کر چکی تھی ۔
اب سترہ دن سے پہلے ان دونوں کی طلاق کروانی تھی ۔
لیکن سویرا کو افسوس اس بات کاتھاکہ مقدم کو اس سارے معاملے میں شامل تک نہیں کیا گیا تھا اس کا ارادہ تو مقدم کو حوریہ اسے دور کرنے کا تھا ۔
لیکن اس کے پلان میں گڑبڑ ہوگی لیکن تائیشہ کا فائدہ ہو چکا تھا
