267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 50)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

اس نے کمرے میں قدم رکھا تو دھڑکن سامنے اس کے بیڈ پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھا اور اس کے بالکل قریب آ بیٹھا ۔

دھڑکن میں کوئی بہت لمبی لمبی باتیں نہیں کروں گا میں بس ایک بات جاننا چاہتا ہوں کیا تم بھی میرے لیے ویسے ہی جذبات رکھتی ہوجیسے کہ میں رکھتا ہوں ۔

یہ تو وہ جانتا تھا کہ وہ یہ شادی صرف اور صرف دادا سائیں اور احمد شاہ کے کہنے پر کر رہی ہے لیکن صرف اپنے بزرگوں کے کہنے پر اپنی زندگی اس طرح سے تو کسی کے حوالے نہیں کر سکتی تھی ۔

کیا اب بھی وہ کردم کو ویسا ہی سمجھتی ہے جیسا وہ اس کے آنے کے وقت تھا ۔

مطلب مجھے آپکی بات سمجھ نہیں آئی دھڑکن نےاسے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔

اس میں نہ سمجھنے والی کونسی بات ہے دھڑکن میں تم سے جانا چاہتا ہوں کہ کیا تم اس شادی سے خوش ہو ۔کردم کو اس کے اس حد تک انجان بننے پر غصہ آنے لگا تھا ۔

آپ کو نہیں لگتا کہ یہ سوال آپ نے ضرورت سے زیادہ جلدی پوچھ لیا ہے اگر میرا جواب نہ ہو تو کیا کریں گے آپ ۔

خیر چھوڑیں ان باتوں کو اب تو آپ کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہے ۔کونسا ٹام کروز مل جانا ہے مجھے دھڑکن نے منہ بنا کر کہا ۔

شکل ہے تمہاری ٹام کروز والی اس کے انداز نے کردم کو کافی ہلکا پھلکا کردیا تھا اس نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ وہ اسے پسند کرتی ہے

مگر جسے وہ پسند کرتی تھی اس کے ساتھ اس کی شادی ناممکن تھی ۔

شکل تو میری کردم شاہ والی بھی نہیں تھی لیکن پھر بھی آپ گلے پر گئے ہونا ۔۔۔دھڑکن نے اسی کے انداز میں حساب برابر کیا ۔

یہ صرف تم ہی ہو دھڑکن شاہ جو اتنا بولنے کی ہمت کرتی ہو اگر تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک اس کی سات نسلیں معافی مانگ رہی ہوتی ۔

اب یہ نسل کیا ہوتا ہے۔۔۔۔دھڑکن نے کنفیوز ہو کر پوچھا یہ لفظ اس نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا ۔

جبکہ اس کے پوچھنے پر کردم بے اختیار مسکرا یا ۔اب تو اسے ساری زندگی دھڑکن کو اپنی باتیں کامطلب سمجھانا تھا

نسل مطلب دادا سائیں ان کے بیٹے میرے بابا عالم شاہ انکا بیٹا میں اس کے بعد میرا بیٹا پھر اس کا بیٹا مطلب نسل در نسل ۔کردم نے سمجھایا تھا ۔

لیکن آپ کا تو کوئی بیٹا ہی نہیں ہے دھڑکن نے جلدی سے کہا ۔

ہوجائے گا دھڑکن سائیں تمہیں تو مجھ سے بھی زیادہ جلدی ہے کردم نے اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے اپنے قریب کیا تھا ۔

تمہارے نصیب میں ٹام کروز تو نہیں ہے لیکن میں وعدہ کرتا ہوں میں تمہیں اتنا پیار دونگا جتنا تم نے ٹام کروز سے بھی نہیں کیا وہ کہتے ہوئے اس کے لبوں پر جھکا ۔

جب دھڑکن نے اپنا منہ پھیر لیا کردم سائیں میں اتنی پیاری لگ رہی ہوں آپ نے میری تعریف نہیں کی آج تو سارا دن ہی دھڑکن سب کی واہ واہی لوٹتی رہی اور جس کے لئے یہ سارا بناؤ سنگھار کیا ہے وہ اس کی تعریف نہ کرے تو دھڑکن کو کھانا ہضم کیسے ہو ۔۔۔جب اتنے انتظار کے بعد بھی کردم نے تعریف نہ کی تو اسے مجبورا خود ہی اسے کہنا پڑا ۔

صبح تعریف کر دوں تو چلے گا کردم اسی طرح اس پر جھکے ہوئے بولا تھا جب اس نےنفی میں سر ہلایا ۔

دھڑکن میں تمہاری خوبصورتی سے متاثر نہیں ہوں مجھے اپنی زندگی میں بس ایک ایسی لڑکی چاہیے جو میری پرواہ کرتی ہو۔ میں جیسا بھی ہوں مجھے قبول کرے مجھ سے جھوٹ نہ بولے ۔مجھے جھوٹ سے سخت نفرت ہے دھڑکن اور میں تم سے بس یہی ایک اس کی امید رکھتا ہوں کہ تم زندگی کے کسی موڑ پر مجھ سے جھوٹ نہیں بولو گی ۔

اور میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ میں ہر ممکن طریقےسے تمہیں خوش رکھنے کی کوشش کروں گا ۔

کردم نے اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے کہا تھا

لیکن اس سب باتوں میں آپ نے پھر بھی میری تعریف نہیں تھی دھڑکن نےصدمے سے کہا ۔

تعریف میں لفظوں سے نہیں عمل سے کرتا ہوں اگر تمہیں میری تعریف میں کوئی کمی محسوس ہو تو تم صبح بتا دینا وہ صبح پوری کرلیں گے وہ پھر سے اس کے چہرے پر جھکا تھا ۔

حوریہ کے ساتھ مشکل سے اس کے 20 منٹ گزرے تھے جب کسی نےدروازہ کھٹکھٹایا

اس طرح سے مقدم شاہ کےکمرے کے دروازہ کھٹکھٹانے کی ہمت کسی میں نہ تھی ۔

اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو باہر جنید کھڑا تھا ۔

شاہ سائیں چوہدری نے ساری کی ساری دیواریں توڑ دی ہیں اور پورے گاؤں والوں کے کھیتوں میں آگ لگا دی ہے ۔

سب کچھ جل کر برباد ہوگیا چودھری نے سب کچھ برباد کردیا۔

اس نےپریشانی سے بتایا ۔

او مائی گارڈ جلدی گاڑی نکالو جنید ہمیں ابھی زمین پر جانا ہوگا مقدم نے جلدی سے اپنے پیروں میں جوتے ڈالے اور اس کے ساتھ باہر آنے لگا

پہلے میں کردم شاہ سائیں کو باخبر کر دوں سائیں ۔جنید نے کہا

نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے میں سنبھال لوں گا مقدم نے اسے ٹوکا تھا

نہیں سائیں مجھے کردم شاہ کا حکم ہے کہ آپ کو زمین پر اکیلے نہ جانے دیا جائے ۔

چاہےجو بھی حالات ہوں جیسے بھی ہوں میں آپ کو وہاں اکیلے نہیں جانے دوں گا مجھے کردم شاہ کو باخبر کرنا ہوگا ۔

میری بات ماننے سے انکار کر رہے ہو مقدم کو غصہ آیا تھا ۔

سائیں مجھے کردم شاہ کی خدمت کے لیے رکھا گیا ہے اور ان کی اجازت کے بغیر میں کچھ نہیں کروں گا اور بنا اس کی طرف دیکھے کردم کے کمرے کی طرف چلا گیا ۔

جبکہ اس کے اس حرکت پر مقدم کو اس سے زیادہ کردم پر غصہ آیا تھا

کردم سائیں کا چمچا وہ غصے سے بربڑایا

دروازہ کھٹکنے کی آواز پر کردم نے غصے سے دروازے کی طرف دیکھا جبکہ اس کے غصے پر دھڑکن کی ہنسی نکل گئی ۔

کردم سائیں میں بہت مشکل سے اس کمرے تک پہنچی ہوں اب خبردار جو آپ نے مجھے یہاں سے نکالا میں نے بہت کچھ کیا ہے اس کمرے میں آنے کے لیے میں تو سیٹنگ چینج کرنے کے بارے میں بھی سوچ چکی ہوں ۔

اب خبردار جو کسی نے مجھے یہاں سے جانے کے لیے کہا میں نہیں جانے والی ایک تو اتنی دعائیں مانگنے کے یہ بڑا کمرا ملا ہے مجھے اور جب یہاں آتی ہوں کوئی نہ کوئی مصیبت آٹپکتی ہے میں پہلے بتا رہی ہوں اس بار رخصتی واپس لی گئی تو آپ جائیں گے میرے کمرے میں تو یہیں رہوں گی ۔

دھڑکن نے اسے اپنا ارادہ بتاتے ہوئے کہا ۔

توکردم اس کے انداز میں مسکرایا۔

دھڑکن سائیں اب تو میں تمہیں خود سے ویسے بھی دور نہیں جانے دوں گا کردم نے کہتے ہوئے دروازہ کھلا۔

جیند نے اسے باخبر کیا ۔

اسے افسوس اپنے نقصان پر نہیں بلکہ گاؤں والوں کے نقصان پر ہو رہا تھا

اگر سارے کھیت جل گئے تو گاؤں والے کیا کریں گے ۔

کردم سوچتے ہوئے مقدم کے ساتھ اس زمین پر جانے کے لیے نکلا