267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 25)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

مقدم کے جانے کے بعد حوریہ جلدی سے کچن میں آئی

لیکن سامنے دیکھا تو سب کچھ تقریبا تیار تھا ۔

یہ سب کچھ کس نے بنایا اس نے قریب کھڑی ملازمہ سے پوچھا

یہ سب کچھ میں نے بنایا ہے حوریہ بی بی ۔

آپ ہماری اتنی مدد کرتی ہیں تو کیا ہم آپ کی تھوڑی سی مدد نہیں کر سکتے ملازمہ نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

اب صرف روٹیاں بنانی رہتی ہیں اور کباب وہ تو آپ خود ہی بنائیں گئی ُ۔

میں باقی کام کرتی ہوں۔اور فکر نہ کریں میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی

میں نے بہت کوشش کی ہے کہ سب کچھ اسی طرح سے بناؤں جس طرح سے نازیہ بی بی بناتی ہیں ۔

اب بالکل ان کے جیسا تو نہیں بنا ہوگا لیکن اتنا برا بھی نہیں بنا ۔

اس نے جیسے حوریہ کی ساری پریشانی دور کر دی

آپ کا بہت بہت شکریہ اگر آپ یہ سب کچھ نہیں کرتی تو میں پھنس گئی تھی ۔

حوریہ نے شکر کی سانس لی ۔

•••••••••••••••

ہیلو میں نے آپ سے کیا کہا تھا کہ آپ مجھے فون نہیں کریں گے بلکہ میں آپ کو فون کروں گی ۔

ملک کا فون آتا دیکھ کر سویرا پریشانی سے لوگوں میں سے اٹھ کر باہر آئی تھی ۔

تم نے مجھ سے کہا تھا کہ گھر میں حوریہ کے علاوہ اور کوئی نہیں لیکن یہاں تو مقدم شاہ بھی ہے ۔

میں اپنی بیٹی سے مل ہی نہیں پایا ۔ملک نے غصے سے کہا

کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا مقدم سائیں تو ڈیرے پر ہیں وہ حویلی میں کیسے آئیں ۔

سویرا نے پریشانی سے کہا ۔

دیکھو لڑکی اگر تم میری مدد کرنا ہی چاہتی ہو تو ٹھیک سے کرو یہ تو تم مجھے پھسا رہی ہو اگر آج میں وقت پر وہاں سے نہیں نکلتا یا کسی نوکر کی نظر میں آجاتا تو جانتی بھی ہو حویلی والے میرا کیا حال کرتے ۔ملک نے کہا تو سویرا کو اس کی باتوں سے مزید غصہ آنے لگا

پہلے ہی مقدم شاہ کا سب سے چھپ کر حویلی میں حوریہ سے ملنے جانا ہی اسے غصہ دلا گیا تھا ۔

اور اب یہ ملک اپنی بیٹی سے نہ مل پانے کا افسوس کر رہا تھا فون بند ہونے کے بعد بھی وہ اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی رہیں

بس بہت ہو گیا حوریہ بہت جی لی تم نے اپنی زندگی اس بارے میں کچھ ایسا کروں گی ۔کے مقدم شاہ خود تمہیں چھوڑ دے گا

••••••••••••••

شام میں کھانا تقریبا سبھی لوگوں کو پسند آیا تھا ۔

جس کی وجہ سے حوریہ اب پر سکون ہو چکی تھی

جبکہ دوسری طرف زمینوں کے مسائل پھر سے کھڑے ہو چکے تھے ۔

ایسے میں مقدم کا کہیں جانا مشکل ہوگیا تھا لیکن کردم نے دادا صاحب کو سمجھایا کہ وہ سب کچھ اکیلے ہینڈل کر لے گا ۔

دادا سائیں اس کی بات نہیں مان رہے تھے ۔لیکن کردم نے جب مقدم کومایوس دیکھا تو آخر اس نے دادا سائیں کو منا ہی لیا ۔

مقدم نے بھی اس سے یہی کہا تھا کہ وہ اسے اتنے بڑے مسئلے میں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا ۔

جس پر کردم نے اسے بھی یقین دلایا تھا کہ وہ یہ سب کچھ سنبھال سکتا ہے اس نے پہلے بھی کیا ہوا ہے ۔

وہ نہیں چاہتا تھا کہ مقدم اس کی وجہ سے اپنی زندگی کے حسین ترین دن برباد کر دے ۔

اسی لیے دادا سائیں کو بھی اس نے خود مطمئن کیا تھا تب جا کہ وہ اسے کہیں بیھجنے کے لئے تیار ہوئے

آج ان کی شادی کو سات دن گزر چکے تھے ہر طرف دعوتوں کا سسلہ جاری تھا مقدم کی سنگت میں اس کے دن رات حسین گزر رہے تھے ۔

وہ جو چاہتا تھا اسے حاصل کرتا تھا ۔نہ حوریہ کی مزاحمتیں کام آتی تھی اور نہ ہی مینتیں

وہ اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے معاملے میں بے باک تھا ۔

کمرے میں آکر جب مقدم نے اسے یہ سرپرائز دیا کہ وہ کچھ ہی دن میں سوات کے لئے یہاں سے نکل رہے ہیں تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا ۔

وہ تو بچپن سے ہی سوات ناران اور کاغان جانا چاہتی تھی

لیکن اسے یہ بھی پتا تھا کہ حویلی سے لڑکیوں کو باہر نہیں دیا جاتا اور اتنی دور تو ناممکنات میں سے تھا ۔

لیکن شادی کے بعد اس کی یہ خواہیش اتنی جلدی پوری ہو جائے گی اسے امید نہ تھی اسی لئے خوشی بھی دوگنی ہو رہی تھی

اس وقت وہ بڑے مزے سے اپنی اورمقدم کے بیگ پیک کر رہی تھی ۔

جب مقدم کمرے میں داخل ہوا اس سے اس قدر مصروف دیکھ کر اس کے قریب بیٹھ گیا ۔

میرے دل کا قرار یہ سارے کپڑے تو گرمیوں کے رکھے ہیں ۔

وہ اسے دیکھ کر بولا ۔

ہاں مقدم سائیں موسم بدل چکا ہے نہ تو وہاں پر گرمی ہورہی ہوگی ۔حوریہ نے وجہ بتائی ۔

جی نہیں وہاں اتنی گرمی نہیں ہوئی کہ ہم یہ والے کپڑے پہنے ۔

ویسے بھی آپکو پیکنگ کرنے کی ضرورت کیا ہے آپ کو وہاں میری پسند کے کپڑے پہنے ہیں ۔مجھے بھی تو دیکھنا ہے کہ میری بیوی پے کون کون سی چیز سوٹ کرتی ہے ۔

مقدم سائیں میں پہلے بتا رہی ہوں میں وہ بے ہودہ لباس نہیں پہننے والی ۔

کل رات ہی ایک فلم کے دوران مقدم نے کہا کہ حوریہ ایسے کپڑے پہنے جس پر ہیروئن کو دیکھ کر حوریہ کی آنکھ کھل گئی ۔

ویسے ہی کپڑے پہنو گی ڈونٹ وری میں تمہیں ان کپڑوں میں کہیں باہر نہیں لے جاؤں گا صرف بیڈروم میں ۔

میرے سامنے ۔

نہیں نہیں بالکل نہیں آپ کے سامنے بھی نہیں کسی کے سامنے کہیں مجھے شرم آئے گی نہ ۔

وہ بے بسی سے بولی جبکہ وہ اسے دیکھ کر مسکرائے جا رہا تھا ۔

میرے دل کا قرار تمہیں وہ لباس پہنا کر شرماتے ہی تودیکھنا چاہتا ہوں میں۔قسم سے جب شرما شرما کے میری پناہوں میں سماتی ہونا دل کے سارے تار ہل کے رہ جاتے ہیں ۔

وہ اس کے قریب آکر خمار آلود لہجے میں بولا ۔

مقدم سائیں پکینگ ۔۔اس کےلہجے سے ہی وہ اس کے ارادوں کا پتا لگا چکی تھی ۔

بعد میں کر لینا کون سا ہم ابھی جا رہے ہیں اس کے ہاتھوں سے کپڑے لے کر دور اچھالتا اسے اپنے قریب کرنے لگا ۔

مقدم لالا آپ کو نانا سائیں بلا رہے ہیں ۔تائشہ نے کھلے دروازے پر دستک دیتے ہوئے کہا تو پھر یہ فورا اس سے دور ہٹی ۔

جبکہ انہیں اس حد تک نزدیک دیکھ کر تائشہ فوراً پلٹ گئی ۔

وہاں جاکر ایک اور فائدہ ہوگا ۔کوئی بھی ہم دونوں کو ڈسٹرب تو نہیں کرے گا ۔وہ منہ بنا کر کہتا داداسائیں سے ملنے چلا گیا ۔

مقدم شاہ کی بنی ہوئی شکل پر حوریہ کی مسکان بڑی مشکل سے رکی تھی

•••••••••••••••

آج کل کام کی نوعیت اتنی زیادہ بڑھ چکی تھی کہ کردم کو دھڑکن کو دیکھنے تک کا وقت نہیں ملتا

اور دھڑکن بھی اب اپنی پرانی روٹین پر آ چکی تھی وہ اکثر لڈو لیے دادا سائیں کے کمرے میں ملتی۔

لیکن دادا سائیں کے سامنے وہ بالکل بھی کوئی بات نہیں کر سکتا تھا پر دادا سائیں اس کی نظروں میں دھڑکن کے لیے پسندگی دیکھ چکے تھے ۔

مشکل سے ہی سہی لیکن سات دن گزر چکے تھے ۔

لیکن دھڑکن کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے اسے اپنے آنے والی زندگی کا انتظار ہی نہیں اس کا بچپنانہ ایک بار پھر سے سر اٹھا کر سامنے آ چکا تھا ۔

پہلے کردم کو لے کر اس کے دل میں جو ڈر تھا تقریبا ختم ہو چکا تھا ۔

کردم اور دھڑکن کا آمنا سامنا بھی بہت کم ہوتا تین دن پہلے ڈنر ٹیبل کے بعد آج وہ داداسائیں کے ساتھ لڈو کھیلتی نظر آئی ۔

دیکھو دھڑکن ہم نے ابھی تمہاری گوٹ ماری ہے ۔

دادا سائیں میں نے تو کوئی بکری رکھی ہی نہیں ہے آپ نے کیسے میری بکری مار دی ۔

اپنی بےایمانی پکڑے جانے پر فوراً ہی انہیں باتوں میں لگانے کی کوشش کرنے لگی ۔

دیکھو دھڑکن ہم بکری کی نہیں اپنے کھلاڑی کی بات کر رہے ہیں جسے تم نے ابھی بڑی صفائی سے ہماری آنکھوں کے سامنے اٹھانے کی کوشش کی ہے ۔۔ہمیں پہلے بھی تم پر شک تھا کہ تم نے دو بار ہماری گوٹ کو گھر پہنچنے سے پہلے اٹھا دیا ہے ۔اور اب تم نے ہمارے سامنے کیا ہے پہلے ہم غلط فہمی سمجھ کر اگنور کر رہے تھے لیکن اس بار تم نے ہماری آنکھوں کے سامنے کیا ہے تم بے ایمانی کر رہی ہو اور ہم بے ایمانی نہیں کرنے دیں گے تمہیں ۔

واہ وا ہ واہ ہار رہے ہیں تو اس طرح سے الزام لگائیں گے مجھ پر وہ جلدی جلدی بول رہی تھی جب کردم کو آتا دیکھ کر خاموش ہو گئی ۔

بہت بڑی بے ایمان ہو تم دھڑکن ہم تم پر الزام نہیں لگارہے بلکہ حقیقت بیان کر رہے ہیں تم نے بے ایمانی کی ہے اب شرافت سے گوٹ واپس رکھ دو ہماری ۔

دادا سائیں کو اس کے ساتھ بچہ بنے دیکھ کر کردم مسکراتا ہوا ان کے قریب بیٹھ گیا ۔

جبکہ دلچسپ نظروں سے سامنے بیٹھی دھڑکن کو دیکھ رہا تھا جو اسے خود کو دیکھتا پا کر کنفیوز ہو گئی

اور فورا ہی گوٹ رکھ دی ۔

میں نے بے ایمانی نہیں کی لیکن پھر بھی اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایسا ہے تو لے رکھ لے واپس وہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتی گوٹ ان کے حوالے کرنے لگی

اس کی معصوم بنی ہوئی شکل دیکھ کر دادا سائیں کو اس پر ترس آگیا ۔

ٹھیک ہے اس بار ہم تمہیں معاف کر رہے ہیں لیکن اگلی بار ایسی غلطی نہیں ہونی چاہیے ۔دادا سائیں نے ترس کھاتے ہوئے کہا جبکہ ان دونوں سے چھپ کر

دھڑکن نے اپنی ہنسی چھپائی لیکن چھپانے کے باوجود بھی کردم سے وہ چھپ نہیں سکی ۔

بہت بڑی پٹاکا ہے یہ لڑکی ۔میں بیکار میں سے چھوٹا پٹاکا سمجھ رہا تھا ۔کردم پر ایک اور راز فاش ہوا ۔

دھڑکن ایک کپ چائے بنا لاو دادا سائیں مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔

وہ داداسائیں سے کچھ چودھری کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا اسی لیے اسے باہر بیجنے لگا ۔

چائے تو میں بنا لائی ہوں تائشہ نے دادا سائیں کے کمرے میں قدم رکھتے ہوئے کہا مجھے پتا ہے آپ کو حویلی واپس آتے ہی چائے کی طلب ہوتی ہے تائشہ نے مسکراتے ہوئے چائے کا کپ اس کے سامنے رکھا ۔جب کہ جتلاتی نظروں سے دھڑکن کو دیکھا

مجھ سے زیادہ آپ کو کوئی نہیں جانتا کردم سائیں تائشہ کی لہجے میں غرور تھا

جبکہ تائشہ کو چائے سرو کرتے دیکھ کر دھڑکن کو بالکل اچھا نہ لگا ۔

تم نے ٹھیک کہا تھا تائشہ لیکن فی الحال مجھے اپنی بیوی کے ہاتھ کی چائے پینے کی طلب ہے جاو دھڑکن ۔

اس نے تائشہ کے کپ کواگنور کرتے ہوئے دھڑکن کو مخاطب کیا

جوکہ کنفیوز نظروں سے اسے دیکھنے لگی

مجھے چائے بنانی نہیں آتی کردم سائیں وہ معصومیت کے ریکارڈ توڑ تے ایک بار پھر سے بولی

لیکن کردم کو اس چہرے پر بالکل ترس نہیں آیا تھا

کوئی بات نہیں دو تین بار بناؤ گی تو آجائے گی جاو ملازمہ ہوں گی وہ تمہیں بتائے گی ان سے سیکھ کر بناؤ ۔

اور آج سے روز شام میرے لئے چاہے تم بناؤ گی۔ وہ اسے رعایت دینے کا ارادہ بلکل نہیں رکھتا تھا ۔

جبکہ وہ مرے قدموں سے اٹھی اور کچن کی طرف جانے لگی ۔

جبکہ تائشہ اپنے جلے ہوئے جذبات لے کر وہاں سے باہر آگئی

ملازمہ سے پوچھ کر بنا لو مطلب کیا سوچے گی ملازمہ کہ اس گھر کی بڑی بہو کو چائے تک بنانا نہیں آتی انٹرنیٹ سے دیکھ کر بناؤں گی فون پے یوٹیوب کھولتے ہوئے کچن کی طرف جانے لگی

••••••••••••••