267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 42)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

حوریہ کا ارادہ سب سے پہلے دھڑکن سے ملنے اس کے کمرے میں جانے کا تھا لیکن وہ جیسے ہی گھاڑی سے نکلی دھڑکن بھاگتی ہوئی اس کے پاس آگئی۔

دھڑکن کے اس طرح سے دوڑ کر حوریہ کے پاس آنے پر مقدم بےساختا مسکرایا تھا ۔

جبکہ اب دونوں ایک دوسرے کے گلے لگی ہوئی تھی اور حوریہ اسے وش کر رہی تھی۔

یہ لو گڑیا تمہارا گفٹ مقدم نے اس کا گفٹ اس کے حوالے کرتے ہوئے کہا جیسے دھڑکن لیتے ہی فورا کھولنے لگی ۔

او یہ کتنا پیارا ہے ہاتھ میں پکڑا بریسلیٹ وہ اپنے ہاتھ میں پہنتے ہوئے بولی ۔

تب ہی دادا سائیں وہاں پہنچ آئیں۔

دادا سائیں کو دیکھتے ہی مقدم مسکراتے ہوئے ان کی طرف آیا اور ان سے ملنے لگا ۔

جبکہ حوریہ وہی پیچھے کھڑی دیکھ رہی تھی ۔

دادا سائیں نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر باہیں پھیلا کر اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا ۔

اس نے بے یقینی سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا پھر مقدم کو سوالیہ انداز میں ۔

جبکہ مقدم نے مسکراتے ہوئے اسے آگے آنے کا اشارہ کیا ۔

حوریہ آہستہ آہستہ چلتی ان کے قریب آئی۔

وہ اب بھی بے یقینی کی کیفیت میں تھی ۔

دادا سائیں نے اسے اپنے سینے سے لگایا اس کے ماتھے پر پیار کیا ۔

ان کا لمس محسوس کرتے ہیں حوریہ کی آنکھیں پانی سے بھرنے لگی ۔

کتنے سالوں سے وہ ان کی شفقت کے لیے تڑپ رہی تھی کے آج خدا نے اس پر بھی رحم کر دیا

تم دونوں بہت تھک گئے ہوں گے جاؤ آرام کرو پھر حوریہ کو اپنے بھائی کی شادی کی بھی تیاری کرنی ہوگی ۔

دادا سائیں نے مسکراتے ہوئے دھڑکن کی رخصتی کی سب سے پہلی خبر حوریہ کو دی تھی ۔

حوریہ نے ایک نظر دھڑکن کو دیکھا جو خود حیرانگی اور پریشانی سے انہیں دیکھ رہی تھی ۔

اتنی جلدی دادا سائیں میرا تو خیال تھا کہ بارہ دن کے بعد آپ کوکردم سائیں کو یہ گفٹ دینا چاہیے تھا مقدم نے مسکراتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا

اس نے پندرہ دن بڑی مشکل سے گزارے ہیں اب وہ ایک دن بھی انتظار کرنے کو تیار نہیں ۔

دادا سائیں نے بتایا تو مقدم مسکرا دیا

کہیں یہاں میرے والا معاملہ تو نہیں شروع ہوگیا ۔۔؟مقدم نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا دادا سائیں نےہاں میں گردن ہلائی ۔

مطلب کردم سائیں تو گئے کام سے مقدم مسکراتے ہوئے حوریہ کا ہاتھ تھام کر اسے اندر لے جانے لگا

چلو بیگم کل سے تمہارے بھائی کی شادی کی تیاریاں کرنی ہے آرام کر لو ۔

ان دونوں کے جانے کے بعد داداسائیں نے دھڑکن کا پھولا ہوا چہرا دیکھا

آپ نے کچھ کہنا ہے ۔انہوں نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر پوچھا تو اس نے ہاں میں سر ہلایا

میرے کمرے میں آجائے ۔داداسائیں بس اتنا کہہ کر اپنے کمرے میں چلے گئے

دھڑکن داداسائیں کے کمرے میں آئی تو کردم پہلے ہی وہاں موجود تھا ۔

آپ یہاں کیا کر رہے ہیں کردم سائیں دادا سائیں نے پوچھا مجھے آپ سے کچھ بات کر نی تھی دادا سائیں اس نے دھڑکن کو پیچھے آتے نہیں دیکھا تھا لیکن جیسے ہی نظر اس کے چہرے پر پڑی وہ خاموش ہوگیا ۔

ہاں بولیں کیا کہنا چاہتے ہیں آپ دادا سائیں نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔

اکیلے میں بات کرنی ہے اس نے دھڑکن کو دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے گھور کر اسے دیکھا ۔

پہلے بتائیں کہ آپ نے میری پوتی کو کیا تحفہ دیا ہے دادا سائیں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔

جب تک دادا سائیں کی بات پر دھڑکن اچانک ہی کیٹی کی یاد ستانے لگی ۔ہائے بے چاری وہ اکیلی کمرے میں ہوگی دھڑکن نے سوچا

گفٹ تو اس کو پرسوں مل جائے گا نہ دادا سائیں مجھے آپ سے کچھ اور بات کرنی ہے وہ سیریس سے انداز میں بولا تھا دادا سائیں کو کچھ گڑبڑ محسوس ہوئی شاید وہ کسی اور چیز کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا لیکن دادا سائیں کا موڈ وقت بہت خوشگوار تھا اور حوریہ کو دیکھ کر وہ اور خوش ہو چکے تھے ۔

ہماری پوتی رخصتی کے بارے میں کچھ کہنا چاہتی ہے میرے خیال میں اسے کوئی اعتراض ہے دادا سائیں نے کردم کا دھیان دھڑکن کی طرف لگانا چاہا ۔

اسے کوئی اعتراض نہیں ہے آپ بے فکر ہو جائیں زمین کو گھورتی دھڑکن نے اچانک آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا اس نے کب پوچھا تھا دھڑکن سے کے اسے اعتراض ہے یا نہیں خود سے ہی دادا سائیں کو مطمئن کر رہا تھا ۔

ویسے بھی دھڑکن کو کون سا کوئی اعتراض تھا ۔وہ تو بس دادا سائیں کو ستانے کے لیے ان کے کمرے میں منہ پھولا کر آئی تھی

کیا بات ہے تم اتنے پریشان کیوں ہو ۔دادا سائیں نے اس کا سیریس انداز دیکھ کر پوچھا ۔

دھڑکن تم جاؤ یہاں سے مجھے دادا سائیں سے کوئی اور اہم بات کرنی ہے ۔کردم نے اسے بھیجتے ہوئے کہا جبکہ اس کے سیریس انداز نے دھڑکن کو باہر جانے پر مجبور کر دیا ۔

تم اتنے یقین سے کہہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ وہ لوگ حوریہ کے پیچھے وہاں گئے تھے ۔

دادا سائیں جب مقدم اور حوریہ یہاں آ رہے تھے تب مقدم کی گاڑی کا کوئی پیچھا کر رہا تھا ۔میرے کچھ آدمی شہر گئے ہوئے تھے وہ مقدم کی گاڑی کو آتا دیکھ کر ان کے پیچھے ہی واپس آئے ۔

لیکن انہوں نے دیکھا کہ مقدم کی پیچھے ملک کے لوگ لگے ہیں ۔

اور مجھے یقین ہے کہ ملک کے لوگ حوریہ کے لیے ہیں وہاں گئے تھے ۔

دادا سائیں مجھے ڈر ہے یہ نہ ہو کہ حوریہ کو ہم سے دور کرنے کے لیے وہ لوگ مقدم سائیں کو کچھ ۔۔ ۔۔

نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا ہم اپنے پوتے کو کچھ نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی ہم اپنی نواسی کو نقصان پہنچنے دیں گے ۔

اللہ نہ کرے کہ مقدم سارے کو کچھ ہو لیکن آپ ملک کی فطرت سے اچھی طرح سے واقف ہیں ۔

وہ اس شکست کو ہضم نہیں کر پا رہا کہ حوریہ کی شادی ہوچکی ہے اس لیے اب مقدم سائیں کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا ۔

اپنی بیٹی کو حاصل کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد سے گزر جائے گا

بے فکر ہو جاؤ ہم صبح اٹھتے ہی مقدم سے اس بارے میں بات کریں گے دادا سائیں نے اسے مطمئن کرتے ہوئے کہا ۔

دادا سائیں ویسے تو حوریہ کہیں باہر نہیں جاتی اور اگر جاتی بھی ہے تو مقدم سائیں کے ساتھ لیکن میں پھر بھی چاہتا ہوں اب وہ کہیں باہر نہ جائے اور اگر جائے تو گارڑز کا انتظام کر دیں۔

کردم نے فکر مندی سے کہا ۔

کردم کے ان کے کمرے سے جانے کے بعد وہ کافی پریشان تھے اتنے برسوں کے بعد انہوں نے اپنی نواسی کو جی بھر کر دیکھا تھا اور اب ملک پھر سے اپنا اصل دکھانے لگا تھا ۔

اپنی بیٹی کو حاصل کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا تھا ہاں وہ مقدم شاہ کو بھی نقصان پہنچا سکتا تھا۔

اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ مقدم حوریہ کا شوہر ہے اس کا سائبان ہے اسے بس اپنی بیٹی سے مطلب تھا اگر بات کردم کی ہوتی تو شاید وہ بھانجے کو کچھ بھی نہ کہتا لیکن یہاں بات مقدم شاہ کی تھی

اماں سائیں آپ کیوں ضد لگا کے بیٹھی ہیں قاسم شاہ سائیں اپنے پوتے کو کبھی یہاں نہیں آنے دے گا یہ بات یاد رکھیے آپ ۔

اٹھ کر کچھ کھا لیجیے آپ کی حالت دن بدن بھگرتی جارہی ہے ۔احسن نےماں کو زبردستی کچھ کھلانا چاہا ۔

جبکہ وہ عورت اپنے نہ ڈال وجود کے ساتھ بار بار کھانے کی نفی کر رہی تھی ۔

بس ایک بار میرے نواسے سے ملا دو بے بس ایک بار اپنی پوتی کو دیکھنا چاہتی ہوں ۔

ختم کرو یہ دشمنیاں سب کچھ لوٹ چکی ہیں یہ دشمنیاں کچھ بھی باقی نہیں بچا ۔

تمہاری بہن نے پنچایت میں جا کر نکاح کرلیا تو تم نے بدلہ لینے کے لئے شاہ سائیں کی بیٹی کو زبردستی اپنے نکاح میں لے لیا ۔لیکن کیا ملا تمہیں اس مظلوم پر ظلم کرکے دن رات اسے اذیتیں دے دے کروہ معصوم تو ایک بچی کو پیدا کرتے ہی دنیا سے چل بسی اور تمہاری بہن اسے تم نے اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیا ۔

میں میری بچی کا ہنستا کھیلتا گھر برباد کر دیا دشمنی کی آرمیں تم نے اس کا سارہ خاندان برباد کر دیا ۔

اماں سائیں روروکر احسن ملک کو اس اس کی غلطی کا احساس دلارہی تھی جو گناہ اس نے کیا تھا اس کو بتا رہی تھی ۔

ہاں کیا حاصل ہوا تھا اسے اس خاندان کو ختم کر اس کے وہ اہانہ کے پاس ایک نئی زندگی گزارنے کے عزم سے آیا تھا ۔

وہ اپنی بہن کے کیے کی سزا دینا رات اہانہ کو دیتا رہا اور جب اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تب وہ اس سے دور چلی گئی اتنی دور کے کبھی واپس نہ آئی۔

آہانہ کے ساتھ کئے گئے ظلموں میں اسے ساری زندگی کے لیے تنہا کر دیا کوئی عورت اس کے دل میں وہ مقام نہ بنا سکیں جو اہانہ کا تھا ۔

وہ خود بھی اہانہ کی جگہ کسی کو نہ دے پایا جو جگہ وہ اہانہ کو بھی نہ دے پایا تھا