267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Bheegi Palkon Pe Naam Tumhara Hai) Epi 08

دادا سائیں مجھے پتا ہے آپ اتنی دیر سے حویلی اس لیے واپس لائے ہیں تاکہ آپ چاچا سائیں سے نہ مل پائیں مقدم شاہ نے ان کے ساتھ جویلی میں قدم رکھا تھا
ہاں کیوں کہ میں اس نافرمان اولاد کا چہرا نہیں دیکھنا چاہتا تھا دادا سائیں نے ایک ہی جملے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا
خیر میرے بارے میں کیا سوچا ہے آپ نے وہ اپنے مطلب کی بات پر اتر آیا
مقدم سائیں سویرا آپ کے منگیتر ہے وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولے
مجھے پروا نہیں وہ لاپروائی سے بولا
لیکن وہ اسے سمجھانے ہی سکتے تھے کہ انہیں پرواہ ہے وہ اپنی زبان سے نہیں پھر سکتے
وہ جیسے ہی حویلی میں داخل ہوئے سامنے صوفے پر دھڑکن کمبل میں بیٹھی جوانہیں دیکھتے ہی بھاگ کر ان کے قریب آئی اور ان کے سینے سے لگ گئی
اف دادا سائیں آپ اس عمر میں بھی کتنے ہینڈسم ہیں آئی لو یو وہ تیز تیز بولتی ان کا گال چوم چکی تھی
دادا سائیں نے غصیلی نظروں سے اس کی طرف دیکھا جبکہ مقدم شاہ حیران اور پریشان اس کی حرکتیں دیکھ رہا تھا مقدم لالا آپ وہ اس کی طرف مڑی آپ بھی بہت ہینڈسم ہیں لیکن میری دادوسائیں سے تھوڑا وہ مسکراتے ہوئے اسے بولی تو مقدم شاہ نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا
دادو سائیں آپ کی خوبصورتی اور صحت کا راز کیا ۔ ۔ ؟
وہ اپنے ہاتھ کا مائیک بناتے ہوئے ان کے سامنے کرکے پوچھ رہی تھی
تمہارا باپ اور بہن کہاں ہے وہ روعب دار لہجے میں گویا ہوئے تھے
وہ لوگ تو آپ سے پیار ہی نہیں کرتے آپ کا ویٹ کیے بنا سو گئے لیکن میں میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں اسی لیے تو نہیں سوئی میں کب سے آپ کا ویٹ کر رہی تھی وہ اپنی دونوں باہیں پھیلائے بولی اور پھر انہیں باہوں سے ان کے گرد گھیرا بنایا
آپ ان دونوں سے ناراض ہو جائیں وہ لوگ آپ سے ملے بغیر سو گئے لیکن میں آپ سے ملنے کے لیے آپ کا یہاں انتظار کر رہی تھی باہر سردی میں وہ صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
دیکھا میں آپ سے کتنا پیار کرتی ہوں وہ ان کے بازوں کے ساتھ جھولے لینے میں مصروف تھی جبکہ اس کی ان پیاری پیاری حرکتوں پر مقدم شاہ مسکرائے جا رہا تھا
ہممم اب مل لیانہ ہم سے جاؤ تم بھی جا کر آرام سے سو جاؤ وہ اپنے لہجے کو سخت بنا کر بولے
ہاں مجھے بھی بہت نیند آ رہی ہے میں تو بس آپ کا انتظار کر رہی تھی وہ اب ایک بار پھر سے ان کا گال چوم کر گڈنائٹ کہتی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی اس کے جاتے ہی کا شاہ سائیں کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی جو مقدم نہ دیکھ لے اس لئے جلدی سے چھپا گئے
••••••••••••
آگیا میرا چاند اس نے اپنے کمرے میں قدم رکھا تو اماں سائیں اس کے کمرے میں اس کا انتظار کر رہی تھی
وہ مسکرا کر اندر داخل ہوا
جی ہاں آگیا ابھی تک کیوں جاگ رہی ہیں آپ۔۔۔۔؟ وہ ان کی گود میں سر رکھتے ہوئے پوچھنے لگا
بیٹا سائیں آپ نے صبح جانے سے میں کیا تھا کہ آپ کو مجھ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے اس لئے میں آپ کا انتظار کر رہی تھی
اماں سائیں مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگی تو وہ شرمندہ ہوگیا
آئی ایم سوری اماں سائیں آپ کو میری وجہ سے اتنا انتظار کرنا پڑا وہ ان کا ہاتھ چوم کر بولا تو وہ مسکرائی
کوئی بات نہیں میری جان آپ کا انتظار آپ کی ماں کو برا نہیں لگتا
بتائیں کیا بات کرنا چاہتے تھے آپ مجھ سے اماں سائیں نے پوچھا
جی میں شادی کے بارے میں سوچ رہا تھا
ارے بیٹا سائیں یہ تو بہت اچھی بات ہے احمد بھائی بھی اسی سلسلے میں سویرا کو لے کر یہاں آئے ہیں آپ کہتے ہیں تو میں صبح ہی احمد بھائی سے بات کرتی ہو ۔
اپنے بیٹے کے چہرے پر وہ سویرا کے نام سے آئی بیزاری دیکھ چکی تھی لیکن پھر بھی اپنی بات جاری رکھی
میں حوریہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں میں دادا سائیں سے بات کر چکا ہوں آپ ایک بار ان سے بات کر لیں میں جانتا ہوں گھرکی بات ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ سب کچھ اس رسم و رواج کے مطابق ہو
میں نہیں چاہتا کہ حوریہ کسی بھی قسم کے احساس کمتری کا شکار ہو وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ اس کی نظر
اماں سائیں کے چہرے پر پڑی جو بے یقینی سے اس کی طرف دیکھ ر ہی تھی
اماں سائیں ماضی میں جو کچھ ہوا اس میں حوریہ کی کوئی غلطی نہیں ہے اور حوریہ میری خواہش ہے اور
آپ کی ہر خواہش پوری ہو گی آپ کو آپ کی پسند کی ہر چیز ملے گی مجھے آپ کی خوشی سے زیادہ عزیز کوئی چیز نہیں ہے وہ اس کا ماتھا چومتے باہر نکل گئی ان کی آنکھوں کا پانی وہ دیکھ چکا ہے لیکن اپنے گھر والوں کی یہ نفرت حوریہ کے لیے اسے بیکار لگتی تھی
وہ لوگ حوریہ کے باپ سے کی جانے والی نفرت بھی حوریہ سے کر رہے تھے انہیں لگاتا تھا انیس سال پہلے خویلی کی بربادی حوریہ کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا تھا کہ چند دن کی بچی کیسے کسی کی بربادی کی وجہ بن سکتی ہے
برباد تو وہ ہوئی تھی جس سے اس کا سب کچھ چھن گیا تھا اس کا باپ اس سے الگ کہ کردیاگیا باپ ہوتے ہوئے بھی وہ یتیموں جیسی زندگی گزاری تھی انیس سال پہلے اصل بربادی توحوریہ کی ہوئی تھی جیسے بربادی کی وجہ بنایا جارہا تھا
••••••••••
کیا تم حوریہ کواپنی بہو کے روپ میں قبول کر پاؤگی میں جانتا ہوں اپنے شوہر کے قاتل کی بیٹی کو اپنے سامنے اپنی بیٹےکی بیوی کے روپ میں قبول کرنا تمہارے لیے مشکل ہے کیا تم اسے قبول کر پاؤ گی جانتا ہوں یہ بہت مشکل ہے اور اگر تم اسے اپنی بہو کے روپ میں قبول نہیں کر پائی تو
دیکھو بہو یہ بچی کے ساتھ ہی نہیں تمہارے ساتھ بھی زیادتی ہوگی
نہیں بابا سائیں مجھے میرے بیٹے کی خوشی کے آگے اور کچھ نہیں
میں مقدم سائیں کی شادی حوریہ سے کرنا چاہتی ہوں آپ اگر ہاں کر دیں تو آج شام میں حوریہ کو مقدم سائیں کے نام کی انگوٹھی پہنا دوں گی نازیہ نے پوچھا
اور جہاں تک احمد بھائی کی بات ہو تو آپ بہتر جانتے ہیں کہ آپ ان کو کیا کہہ کر مطمئن کریں گے لیکن میں اپنے بیٹے کی ضد کے آگے مجبور ہوں
ہاں ہم ایک بار حوریہ سے بات کرلیں پھر سوچیں گے
حور یہ سے کیا بات کرنی ہے شاہ سائیں کیا یہ کافی نہیں ہے
کہ وہ ہمیشہ اسی خویلی میں رہے گی اور ویسے بھی یہاں تک بات مقدم سائیں کی خواہش کی ہے جو آپ ہر حال میں پوری کریں گے
چاہے حوریہ کی مرضی ہو یا نہ ہو اگر آپ حوریہ کو فیصلے کا حق دیں گے تو وہ پہلے کی طرح انکار کر دے گی تو آپ کو کیا لگتا ہے سید حالم شاہ کا بیٹا پیچھے ہٹ جائے گا
نہیں وہ ہر حد پار کر جائے گا کیا آپ مقدم سائیں کی ضد سے واقف نہیں ہیں ۔۔۔۔۔؟
آپ حوریہ کا رشتہ طے کردیں وہ قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لے گی لیکن اگر آپ نے اسے فیصلے کا حق دیا تو وہ آپ کے لئے مقدم سائیں کی ضد پوری کرنا مشکل ہوجائے گا
نازیہ اپنی بات مکمل کرتے ہوئے اٹھیں تو شاہ سائیں سوچ میں پڑ گئے
ہم تمہاری بیٹی کی شادی اپنے پوتے سے کر کے تمہیں ہمیشہ کے لئے اس سے محروم کردیں گے
تم ساری زندگی اپنی بیٹی کی شکل نہیں دیکھ پاؤگے احسن ملک تم ساری زندگی ہم سے بیک مانگو گے لیکن ہم تم پر ترس نہیں کھائیں گے
تاریخ ایک پر پھر سے دہرائی جائے گی جس طرح سے تم نے ہم سے ہماری بیٹی چھین لی اب تم اپنی بیٹی کے لیے تڑپو گے
••••••••••••
شام کے سائے گہرے ہوئے تو خویلی کے لوگ باہر لان میں تازہ ہوا سے لطف اندوز ہونے لگے
سویرا جب سے آئی تھی اپنے کمرے میں بند تھی اسے کسی سے کوئی مطلب ہی نہ تھا بابا سائیں اس سے ناراض تھے اور دھڑکن کو بھی اس بات کرنے سے منع کر چکے تھے
اور حویلی کے لوگوں کو وہ خودمنہ لگانا پسند نہیں کرتی تھی
حوریہ تو اسے دھڑکن کی کاپی لگ رہی تھی جبکہ تائشہ اس سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتی تھی تاکہ وہ اسے فیشن کے بارے میں کچھ سیکھا سکے تائشہ کو تو اس کا ہر انداز اچھا لگ رہا تھا اس کے میک اپ سے لے کر ڈریسنگ اسے تو وہ ہر انداز میں سے کمال لگ رہی تھی
جبکہ دھڑکن اسے بچی ہی لگی تھی جو دن رات اچھلتی کودتی رہتی ہے اور اب اس کی ڈریسنگ بھی حوریہ جیسی ہی ہو گئی تھی
اپنے سے زیادہ بڑا دوپٹا جو ہر وقت اس کے پیروں میں گرا ہوتایا کہیں رکھ کر بھول جاتی لیکن کردم شاہ کے سامنے نہ جانے اس کا دو پٹہ کیسے سر پر ٹکتا تھا شاہد اس کی طرح اس کا دوپٹہ بھی کردم شاہ سے خوف کھاتا سے دادا سائیں سے اس رات کے بعد ملاقات نہیں ہوئی
دو دن سے مقدم اور دادا سائیں شہر گئے ہوئے تھے جس کی وجہ سے چھوٹی بڑی ہر ذمہ داری کردم شاہ سنبھال رہا تھا اسے تو سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ بندہ اتنے سارے کام ایک ساتھ کیسے کر لیتا ہے
ابھی وہ بیٹھے کچے امرود کھا رہی تھی کہ کردم شاہ آیا
احمد شاہ نے اسے دھڑکن کو گاوں دکھانے کا کہا
آج صبح بڑی مشکل سے اس نے بابا سائیں کو منایا تھا
وہ حیرانگی سےاپنے باپ کو دیکھنے لگی اس نے کہا تھا کہ کسی کے ساتھ میں بھیج دینا لیکن کردم سائیں کے ساتھ نہیں
بابا سائیں میں تو آپ کی اچھی بیٹی ہوں نہ معصومیت سے پوچھا؟
ایک پل کے لئے کردم نے بھی اس کا چہرا دیکھا لیکن پھر نظریں جھکا گیا
ہاں بیٹاسائیں اسی لیے تو آپ کو بھیج رہے ہیں
بابا سائیں نے محبت سے کہا
لیکن آپ میرے ساتھ اتنا برا ظلم کیسے کرسکتے ہیں وہ کردم شاہ کے پیچھے کھڑی تھی اتنا بڑا کہتے ہوئے اس نے باقاعدہ کردم شاہ کی سر سے پاوں تک طرف اشارہ کیا جو شاید اس کی بات کو سمجھ چکا تھا
حوریہ میں گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں جلدی سے آؤ مجھے کچھ دیر بعد ڈیرے پر بھی جانا ہے وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا جبکہ تائشہ اس سے پوچھ بھی نہ پائی کہ کیا وہ بھی ان کے ساتھ آ سکتی ہے
حوریہ اور دھڑکن سے تو اس کو کوئی مطلب ہی نہیں تھا وہ تو بس کردم کے لیے جانا چاہتی تھی لیکن اب دل کے ارمان دل میں ہی رہ گئے
•••••••••
سرپراز 2.5 لائکس پر