Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 53)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 53)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
دادا سائیں جب سے گھر واپس آئے تھے کردم کے نام کے جانور صدقے دئیے جا رہے تھے ۔
کردم بہت برے حادثے سے بچ گیا تھا یہ بات دادا سائیں کے لئے ایک نئی زندگی جیسی تھی ۔
کردم کی حالت دیکھ کر وہ بہت پریشان ہو چکے تھے اب تو جب تک کردم گھر واپس نہیں آجاتا تب تک انہوں نے یہ صدقوں کا سلسلہ جاری رکھنا تھا یہ بات مقدم جانتا تھا مقدم اب بھی ہسپتال میں تھا وہ واپس نہیں آیا تھا ۔
تقریبا سبھی لوگ اسپتال سے گھر واپس آ چکے تھے جنید کو بھی مقدم نے زبردستی بھیجا تھا وہ واپس آنے کا نام نہیں لے رہا مقدم جانتا تھا کہ جنید جیسے وفادار لوگوں کی ضرورت انہیں آگے بھی بہت پڑے گی ۔
دادا سائیں نے تو مقدم کو بھی آرام کرنے کے لیے کہا تھا لیکن اس وہ نہیں مانا اس نے کہا تھا کہ وہ جنید کے واپس آنے کے بعد ہی جائے گا اس وقت جنید کے علاوہ اور کسی پر یقین نہیں کر سکتا تھا اور کردم کو اس حالت میں اکیلے ہسپتال چھوڑ کر جانا اس کے لئے بہت مشکل تھا ۔
جبکہ اسے یقین تھا جنید اس وقت آرام کرنے کی بجائے کردم پر حملہ کرنے والے کے بارے میں پتہ کروا رہا ہوگا ۔
چٹاخ۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے بھانجے پر گولی چلانے کی میں نے مقدم شاہ کا قتل کرنے کے لئے کہا تھا کردم پر گولی چلانے کی ہمت کیسے ہوئی تمہاری ۔
ملک پاگلوں کی طرح ایسے پیٹ رہا تھا کردم کی حالت سوچتے ہوئے اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے وہ اس کی بہن کا بیٹا تھا وہ کیسے اس پر گولی چلا سکتا تھا
اسے اپنی بہن سے ویسی محبت نہیں جیسی وہ بچپن سے کرتا رہا تھا اس کی بہن نے اسے دھوکہ دیا تھا اسے پورے گاؤں کے سامنے شرمندہ کیا تھا ۔
لیکن یہ بھی سچ تھا کہ خون کے ساتھ خون دھو یا نہیں جا سکتا ۔
کردم کودیکھتے ہوئے اس کا خون بر جاتا تھا وہ اس کا بھانجا تھا اگر اس کا کوئی بیٹا ہوتا تو کردم سائیں جتنا ہوتاوہ اس سے بالکل اپنے بیٹوں جیسی محبت کرتا تھا ۔
لیکن وہ اس بات سے بھی بے خبر نہ تھا کہ کردم اس سے کس حد تک نفرت کرتا ہے۔
سائیں مقدم شاہ کو یقین ہے کہ یہ گولی ان پر چلی ہے اب وہ اس بارے میں پتا ضرور کریں گے ۔
اور اگر انہیں یہ پتہ چل گیا کہ یہ سب کچھ آپ نے کروایا ہے تو آپ کی بیٹی آپ سے نفرت کرنے لگی گی اور آپ کی بات مان کرآپ کے پاس نہیں آئے گی ۔
اس کے وفادار آدمی نے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
نہیں وسیم ایسا نہیں ہوسکتا میں یہ نہیں ہونے دے سکتا مجھے میری بیٹی واپس چاہیے ۔
اپنی بیٹی کو یہاں لانا چاہتا ہوں اسے مقدم شاہ سے آزادی دلوانا چاہتا ہوں ۔
یہ بات مقدم کو کبھی پتا نہیں چلنے چاہیے کہ اس پر گولی چلانے والا میں تھا ورنہ اس سے میری بیٹی مجھ سے اور زیادہ دور ہوجائے گی اور یہ بات میں برداشت نہیں کر سکتا ۔
وہ بے چینی سے ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا
اس وقت رات کا تقریبا ایک بج رہا تھا مقدم وہی کردم کے کمرے میں تھا اسے ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا ۔
مقدم کا فون کردم کے دھکا مارتے ہوئے وہیں گر گیا تھا ۔
جسے اٹھانے کا اسے بالکل وقت نا ملا اسے یقین تھا حوریہ اور دھڑکن بہت پریشان ہوں گی اور اسے بہت بار فون کر چکی ہوں گی
ڈاکٹر نے کردم کی حالت اب تسلی بخش بتائی تھی ۔
مقدم نے آنکھیں بند کیں تو دو راتوں سے جاگا ہوا تھا اسے نیند نے آلیا ابھی اسے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی جب کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔
مقدم کی آنکھ فورا ہی کھل گئی تھی جنید کو سامنے دیکھ کر وہ مسکرایا ۔اس نے سوچ بھی کیسے لیا تھا کہ اس کا کردم ساہیں ہسپتال میں ہے اور وہ آرام سے سو رہا ہوگا
آوجنید بیٹھو ۔
اس نے جنید کو کہا تھا وہ جانتا تھا کردم کو ٹھیک دیکھ کر وہ بھی مقدم جتنا ہی خوش ہے ۔
نہیں سائیں آپ جائیں آرام کریں اب میں آگیا ہوں نا میں کردم سائیں کے ساتھ رہوں گا ۔
اور سائیں میں نے پتہ کر لیا ہے چوہدری یہاں سے بھاگ کر کہاں گیا ہے ۔
کردم سائیں کی طبیعت ذرا سنبھل جائے تو اس کا علاج کرتے ہیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے چیل کائووں کے حوالے کردیں گے وہ غصے سے بولا تھا ۔
نہیں جیند میں بالکل ٹھیک ہوں تم جاؤ آرام کرو ابھی شام میں ہی تو گئے تھے تم اور اب واپس آگئے ہو میں نے کہا نہ آج میں رکوں گا کل تم رک جانا۔ اس نے چوہدری والی بات کو مکمل نظرانداز کر دیا تھا کیونکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ چوہدری نے صرف کھیت میں آگ لگائی ہے باقی سب کچھ کسی اور نے کیا ہے
نہیں سائیں آج رات میں رکوں گا اگر آج کی رات میں گھر پے آرام سے سو گیا نہ تو میری وفاداری مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی کہ میرے سائیں تکلیف میں تھے اور میں سو رہا تھا ۔
اس کے بات سن کر وہ بے ساختہ مسکرایا تھا اسے دیکھ کر مقدم کو کبھی نہیں لگا تھا کہ وہ پڑھالکھا نوجوان ہے وہ اسے ہمیشہ سے کردم کا چمچہ کہہ کر بلاتا تھا ۔
ٹھیک ہے تم یہی پر رکو میں گھر جاتا ہوں ویسے بھی دودن سے کپڑے پہنے ہوئے ہیں ۔
شاید زندگی میں اتنا گندہ کبھی رہا ہوں مقدم نے مسکراتے ہوئے اپنی بےبسی بیان کی اوراس کے ہاتھ سے چابی لے کر حویلی کے رستے چلا گیا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا اگر مقدم گھر نہ بھی آیا تو جنید نے آرام کرنے نہیں جانا ۔
جنید وہی کردم کے ساتھ کرسی رکھ کر بیٹھ گیا ۔
سائیں آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں پھر دیکھنا میں چوہدری کا کیا حال کرتا ہوں ۔ ٹکڑے ٹکڑے کروں گا بلکہ ٹکڑے نہیں کروں گا آگ لگا کے مار دوں گا اسے ۔وہ اس کے قریب بیٹھا جذباتی انداز میں بول رہا تھا ۔
اگر کردم ہوش میں ہوتا تو اس کے انداز پر ضرور مسکرا دیتا
اس نے خاموشی سے کمرے میں قدم رکھا حویلی سنسان تھی اور بالکل حویلی کی طرح اس کا کمرہ بھی سنسان تھا حوریہ بیڈ پر لیٹی شاید گہری نیند میں تھی۔
دو دن کے بعد اپنے دل کے قرار کو دیکھ کر وہ بے ساختہ اس کے قریب آ کر اس کا ماتھا چوم چکا تھا ۔
آئی مس یو سو مچ وہ اس کے کان میں گنگناتے ہوئے اس کے کان کی لوح کو چومتا اٹھ کر نہانے چلا گیا ۔
واپس آیا تو وہ ابھی بھی بالکل ویسے ہی سو رہی تھی اس کے چہرے پر آج مسکراہٹ نہیں تھی جس دن اس کا دل اداس ہوتا تھا اس دن اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں ہوتی تھی ۔
شاید کردم کی حالت کی وجہ سے وہ بھی بہت پریشان تھی۔
وہ آرام سے اس کے قریب آ کر لیٹ گیا اور اس کا ہاتھ تھام کر اپنے سینے پر رکھا ۔
یہ لڑکی اس کا سکون تھی۔ اس کے بغیر جینے کے بارے میں وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا
اسے اپنے قریب محسوس کرتے ہوئے اسے نیند آنے لگی۔مقدم نے مسکراتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کیں اسے صبح دوبارہ ہسپتال جانا تھا حوریہ اور دھڑکن کو لے کر ۔
مقدم سائیں آپ میرے ساتھ اس طرح نہیں کرسکتے ۔آپ کو پتہ ہے نا میں آپ سے کتنی محبت کرتی ہوں آپ بھی تو مجھ سے محبت کرتے تھے آپ مجھے چھوڑ کے نہ جائے میں مر جاؤں گی وہ روتے تڑپتے اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
جب مقدم نےاسے خود سے دور کر دیا
اور بنا کچھ بولے پلٹ گیا ۔
نہیں مقدم سائیں میں آپ کو نہیں جانے دوں گی میں آپ کے بغیر مر جائوں گی وہ اس کے پیر پکڑ چکی تھی ۔
مقدم سائیں آپ جو کہیں گے کروں گی لیکن خدا کے لئے مجھے چھوڑ کر نہ جائیں محبت کے اس سفر میں اکیلی نہیں جی سکتی ۔
وہ بھاگتے ہوئے اس کے پیروں سے لپٹی تھی جب مقدم نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے اپنے ہاتھ میں کسی اور کا ہاتھ تھام لیا ۔
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس کے سامنے اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ۔
مقدم سائیں آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے ۔وہ بُری طرح سے روتے ہوئے نیند میں بربڑا رہی تھی کہ مقدم کی آنکھ کھلی ۔
حوریہ کی بے چینی اور گھبراہٹ وہ صاف لفظوں میں سن چکا تھا ۔
حوریہ کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔ ؟ اس نے فورا سےحوریہ کو اٹھاتے ہوئے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔
آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے آپ تو مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔وہ اب بھی بربڑا رہی تھی
ہاں میری جان میں تم سے بے تحاشا محبت کرتا ہوں میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جا سکتا وہ اسے اٹھاتے ہوئے بول رہا تھا
۔آپ ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ پلیز نہ جائیں ۔
نہیں میری جان میں کہاں جاؤں گا تمہیں چھوڑ کے تمہارے بغیر سانس نہیں آتی اور تم کہہ رہی ہو کہ چھوڑ کر چلا جاؤں گا اور مسکراتے ہوئے اس کا آنسووں سے بھرا ہوا چہرہ صاف کرنے لگا ۔
نہیں آپ چلے گئے ہیں چھوڑ کے آپ نے بھی مجھے چھوڑ دیا۔جو بھی مجھ سے پیار کرتا ہے وہ مجھے چھوڑ کر چلا جاتا ہے آپ بھی چلے گئے ہیں ۔
حوریہ میری جان میں کہاں گیا ہوں دیکھو مجھے کھولو آنکھیں میں یہاں ہوں تمہارے پاس وہ اسے اپنے سینے میں بھیجے اس کے مسلسل بہتے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے بولا ۔
اگر کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اس کی بے چینی شوخ انداز میں لیتا لیکن اس کے آنسو اسے بے چین کر چکے تھے ۔
آپ نہیں گئے حوریہ آنکھیں کھولے بے یقینی سے دیکھ رہی تھی
میں کہاں جاؤں گا میری جان کوئی اپنی جان کے بغیر جی سکتا ہے بھلا وہ اسے کیسی بچے کی طرح بہلا رہا تھا ۔
مگر آپ چلے گئے تھے نہ اس کا ہاتھ پکڑ کے وہ روتے ہوئے بولی ۔
کس کا ہاتھ پکڑ کے ۔۔۔۔۔ مقدم اس کے خواب کے تہہ جانا چاہتا تھا ۔
اس چڑیل کا ہاتھ پکڑ کے ۔حوریہ نے روتے ہوئے اس کا بایاں ہاتھ خود سے دور کیا تھا
یہ ہاتھ پکڑ کے گئی تھی وہ چڑیل وہ اس کے ساتھ چپکی ہوئی اس کا بایاں ہاتھ خود سے دور کر رہی تھی ۔
اس ہاتھ میں تھا نہ کسی اور کا ہاتھ ۔۔۔۔۔؟وہ اپنا بایاں ہاتھ سامنے کرتے ہوئے بیڈ سے اٹھا حوریہ نے زور سے گردن ہاں میں ہلائی ۔
اس کے معصوم انداز پہ وہ بے ساختہ مسکرایا تھا لیکن مقدم کی اگلی حرکت نے حوریہ کے رونگٹے کھڑے کر دیے تھے ۔
جب دیکھتے ہی دیکھتے اپنے بائیں ہاتھ کا مکابنا کر شیشے پہ دے مارا ۔خون کسی فوارے کی طرح نکل رہا تھا ۔
تمہارے خواب میں بھی اس ہاتھ کی ہمت کیسے ہوئی کسی اور کا ہاتھ تھامنے کی مقدم شاہ کی سانس سانس پے صرف حوریہ کا حق ہے ۔
اس نے حوریہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا جب کہ حوریہ جو ہاتھ اپنے آپ سے دور کر رہی تھی بے چینی سے وہی ہاتھ پکڑے اور زیادہ رونے لگی ۔
وہ خواب تھا مقدم سائیں وہ جلدی سے فرسٹ ایڈباکس نکال کر اسے بتانے لگی ۔
وہ اس کے جنون کا کون کون سا روپ دیکھ کر حیران ہوتی اور کون کون سے روپ سے محبت کرتی وہ آج تک سمجھ نہیں پائی تھی ۔
آج کے بعد یہ ہاتھ تمہارے خواب میں بھی ایسی غلطی نہیں کرے گا ۔
مقدم نے کہتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا جبکہ وہ بے چینی سے اس کے ہاتھ پر پٹی باندھ رہی تھی ۔
بہت برے ہیں آپ ۔۔۔حوریہ اس کے ہاتھ پر پٹی باندھ ہوئے بولی جب کے اس کے انداز پر مقدم مسکرادیا شکر ہے وہ خواب کے زیرِ سے باہر نکل چکی تھی۔
اورمقدم یہی چاہتا تھا کہ وہ صرف اس کے جنون میں جئے مقدم شاہ کبھی اس کے ساتھ بے وفائی کرے گا یہ بات وہ کبھی اس کے ذہن میں ہی نہیں آنا چاہتا تھا
