267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 40)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

ساری تیاری مکمل ہوچکی تھی وہ سب کچھ کمپلیٹ کر چکا تھا اب صرف اور صرف دھڑکن کاگفٹ باقی تھا وہ اسے کیا گفٹ دے وہ خود کنفیوز تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ دھڑکن کو کونسی چیز پسند آئے گی

جیولری وہ بہت زیادہ پہنتی نہیں تھی اس سے یہی لگ رہا تھا کہ اسے جویلری زیادہ پسند نہیں ہے ۔

کردم کا ارادہ اس کے لیے برسیلٹ خریدنے کا تھا جو بعد میں بدل گیا ۔

اب وہ آخری بار بازار جاکر اس کے لئے گفٹ خریدنے والا تھا ۔

اس نے احمد شاہ سے پوچھا تھا کہ وہ دھڑکن کے لیے ایسا کون سا گفٹ لائے جو سے بہت پسند آئے ۔

احمد شاہ نے اسے بہت سارے آئیڈیا دیے تھے اور یہ آئیڈیا دیا تھا کہ اسے جھولے پر بیٹھنا بہت پسند ہے ۔

احمد شاہ نے کہا تھا کہ وہ اسے ایک جھولہ لے دے ۔لیکن کردم خودکو کوپی کیٹ نہیں کہلوا سکتا تھا ۔

اب وہ یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ یہ والا آئیڈیا وہ پہلے ہی کر چکا ہے ۔

اس نے کبھی کسی لڑکی کو گفٹ نہیں دیا تھا سوائے حوریہ کے لیکن پھر حوریہ اس کے بہن تھی اور دھڑکن اس کی بیوی اب بہنوں والے گفٹ وہ بیوی کو نہیں دے سکتا تھا ۔

میں تھوڑی سی ہیلپ کروں وہ بے چینی سے سوچتے ہوئے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا

جب اسے سویرا کی آواز سنائی دی ۔

اس نے سویرا سے کبھی خود سے بات نہیں کی تھی یہاں تک کہ ان دونوں کا سامنا بھی صرف کھانے کی میز پر ہی ہوتا تھا ۔

کردم لالہ میں آپ کو بتا سکتی ہوں کے آپ دھڑکن کو کیا گفٹ دیں تو وہ بہت خوش ہو جائے گی ۔

سویرا نے مسکراتے ہوئے رازدار انداز میں کہا تھا ۔

اسے سویرا سے کا کوئی لینا دینا نہ تھا بس مقدم کے لیے اس دن سنیں اس کے منہ سے الفاظ اسے برے لگے تھے ۔

مگر اب مقدم حوریہ سے شادی کر چکا تھا اور اس شادی سے بہت خوش بھی تھا اسی لیے سویرا سے ناراض رہنے کا کوئی فائدہ نہ تھا ۔

اسی لیے اس نے سویرا کی مدد لینے کے بارے میں سوچا تھا

اور سویرا اس کی کافی زیادہ مدد کی تھی ۔

اس نے سویرہ کے کہیے پر عمل کرتے ہوئے وہ سب کچھ کیا جو دھڑکن کو پسند آئے

اور سویرہ کے ہیں کہنے پر وہ دھڑکن کے لئے گفٹ بھی لایا تھا

میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے ۔کیوں سب لوگ میرا گفٹ کھا جاتے ہیں ۔

کردم سائیں میرے ساتھ اس طرح سے کیسے کر سکتے ہیں یہ میری پہلی سالگرہ ہے جو میں ان کے ساتھ مناؤں گی وہ بھی نکاح کے بعد ۔

کردم سائیں کو چاہیے کہ وہ میرا برتھ ڈے اسپیشل بنائے اور وہ ہیں جو گھوڑے بیچ کر اپنے کمرے میں سو رہے ہیں ۔

میں آپ کو اس کے لیے کبھی معاف نہیں کروں گی کردم سائیں ساری زندگی مجھ سے تانے کھائیں گے گفٹ نہ دینے کے لئے کے ۔

بہت ہی ظالم ٹائپ بیوی بن کے دکھاؤں گی آپ کو ۔

لوگوں نے ظالم شوہر کے بارے میں تو بہت سنا ہوگا لیکن میں ظالم بیوی بن کے دکھاؤں گی ۔

دن رات ظلم کرونگی آپ پر ۔ساری زندگی پچھتائیں گے مجھے گفٹ نہ دینے کے لئے ۔

بہت برا کیا ہے آپ نے میرے ساتھ اس کا انجام تو آپ کو بھگتنا ہی پڑے گا ۔

دھڑکن یہاں سے وہاں ٹہلتی مسلسل بڑبڑا رہی تھی ۔

یہ اس کی شادی کے بعد پہلی سالگرہ تھی اور کردم کا فرض بنتا تھا کہ وہ اسے گفٹ دے (دھڑکن کے مطابق) ۔

لیکن کردم کو تو اس بات کا ہوش ہی نہ تھا اسے تو بس اپنے رواج کی پڑی تھی ۔

کوئی کیسے کر سکتا ہے اپنی معصوم سی بیوی کے ساتھ ایسا ۔وہ بیڈ پر بیٹھی مسکین سی شکل بنا کر بولی ۔

دھڑکن تو کیوں پریشان ہو رہی ہے باقی سب تو گفٹ دیں گے نا اس نے اپنے معصوم دل کو سمجھانا چاہا

لیکن کردم سائیں تو نہیں دیں گے ۔اس نے اپنے معصوم دل کی معصوم سی خواہش کو دل میں ہی دفناتے ہوئے معصومیت سے کہا ۔

آپ بہت گندے ہیں کردم سائیں میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی اگر آپ نے کل مجھے گفٹ نہ دیا تو وہ خود کو کمبل میں لپٹتے ہوئے بولی ۔

اور آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگی ۔

نیند تھی جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی وہ اس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے ۔

وہ اس کے روٹھنے پر اسے منانے کی کوشش تو کر سکتا ہے لیکن اس کے لئے ایک چھوٹا سا گفٹ نہیں لا سکتا ۔

کونسی صدی کے ہیں یہ رواج کہاں ملتے ہیں اس طرح کے رواج ۔

اس رواج کو تو میں ختم کرکے رہوں گی

تائشہ صبح سے سویرا کی حرکتیں دیکھ رہی تھی کبھی وہ کردم کے پاس مل رہی تھی تو کبھی احمدشاہ کے کمرے میں دھڑکن کی برتھ ڈے کی پلاننگ کر رہی تھی

تائشہ کو اسے دیکھ کر غصہ آرہا تھا وہ اس کے ساتھ اس طرح سے کیسے کر سکتی ہے یہاں اس کی جان پہ بنی ہوئی ہے اور وہاں وہ دھڑکن کی سالگرہ کی تیاری کر رہی ہے ۔

اب بات اس کی برادشت کی حد سے اوپر جا چکی تھی

اسی لیے بہت غصے سے سویرہ کے کمرے میں آکر رکی

جبکہ سویرا کو اس طرح سے اس کا اپنے کمرے میں بنا اجازت آنا ناگوار گزرا تھا

کیا لگتا ہے آپ کو سویرا دیدہ یہ جو سب کچھ آپ کر رہی ہیں وہ صحیح ہے ۔

کل تک آپ کو مقدم لالا بہت پسند تھے آپ ان کو حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھی اور اب اچانک ہی ان سے آپ کا دل بھر گیا ۔

لیکن ایک بات کان کھول کر سن لیں اگر آپ نے اس طرح سے راستے میں مجھے چھوڑا تو میں آکو نہیں چھوڑوں گی میں سب کو بتا دوں گی کہ وہ پیپرز آپ نے چوہدھری تک پہنچائے تھے۔

تم نہیں تائشہ یہ بات میں خود سب کو بتانے والی ہوں اور مجھے دھمکیاں دینے سے بہتر یے کہ تم سدھر جاو ۔اور آئندہ اس طرح سے منہ اٹھا کر میرے روم میں مت آنا ۔

وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے باہر جانے کا اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔

جبکہ اتنی توئین کے بعد تائشہ بھی اس کے کمرے میں نہ روکی

بارہ ہونے میں بیس منٹ باقی تھے ۔وہ آہستہ سے اپنے کمرے سے نکلا اور اس کے کمرے کی طرف چل دیا۔

اس نے دروازہ کھٹکھٹانے کے زحمت نا محسوس کی ۔

وہ اپنے آپ کو کمبل میں قید کئے مکمل طور پر نیند کی وادیوں میں گم تھی

کردم نے ایک نظر نیچے راہداری کی طرف دیکھا جو بالکل سنسان پڑی تھی ۔

اور پھر واپس آ کے آہستہ سے اس کے نازک سے وجود کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور اس راہداری کی طرف چلایا ۔

اس دوران اس نے مکمل احتیاط کی تھی کہ وہ اپنی نیند سے نہ جاگے کیونکہ اس طرح سے کردم کو دیکھ کر وہ چیخ چیخ کے پوری حویلی کو جگا دیتی ۔

اور فی الحال کردم یہ نہیں چاہتا تھا ۔اس کا ارادہ بیس منٹ کے اندر ہی دھڑکن کو واپس اس کے کمرے میں چھوڑنے کا تھا ۔

کیونکہ دادا سائیں اور احمد شاہ نے اسے سرپرائز دینے کے لیے بارہ بجے کی پوری پلاننگ کی ہوئی تھی

مقدم سائیں دھڑکن کی سالگرہ شروع ہونے والی ہے ہم کب تک پہنچیں گے حویلی حوریہ نے پوچھا ۔

بس تھوڑی دیر اور میری جان دھڑکن کی سالگرہ کے عین وقت تو نہیں لیکن 30 منٹ تک پہنچ جائیں گے ۔

ؓمقدم نے مسکرا کر کہا ۔

دھڑکن کی حویلی میں پہلی سالگرہ ہے اور مجھے لگتا ہے کہ وہ بہت مستیاں کرنے والی ہے ۔

باہر کے لوگ تو ہوں گے ہی نہیں لیکن پھر بھی حویلی میں بہت کام ہوگا بہت کچھ سنبھالنا ہوگا ۔

صبر صبر صبر میری بیگم کام کرنے اور کام سنبھالنے کے لئے گھرمیں اور لوگ بھی موجود ہیں تم ان باتوں کی ٹینشن مت لیا کرو تمہیں بس ایک ہی بات کی ٹینشن ہونی چاہیے ۔

کے اپنے شوہر کا خیال کیسے رکھو اسے کیسے سنبھالو ۔

اور تم ہو کہ جسے ہر کسی کے پڑی رہتی ہیں سوائے اپنے شوہر کے ۔اسی لئے تو تمہیں حویلی سے دور لے کر گیا تھا لیکن دادا سائیں اور کردم سائیں کا گزارا نہیں ہے میرے بغیر بلا لیا ۔

یار حد ہے بندہ سکون سے ہنیمون تو انجوائے کرنے دیتا ہے لیکن خیر کوئی بات نہیں دادا سائیں نے مجھے آفر دی ہے کہ دھڑکن اور کردم سائیں کی شادی کے بعد ہم چاروں گھومنے جائیں گے ۔

اس بار قسم لے لو بیشک کردم سائیں پہلے آجائیں لیکن میں تو دو مہینے لگا کے ہی آؤں گا ۔

ہم سارا وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزاریں گے جس میں میں کسی تیسرے کی مخالفت برداشت نہیں کروں گا ۔

مقدم نے اسے اپنے ارادے بتائے ۔

جبکہ اس کی باتوں پر وہ سوائے مسکرانے کے اور کچھ نہیں کر رہی تھی ۔

اس شخص کو سمجھنا ویسے بھی اس کے بس سے باہر تھا ۔

اور اس سے بحث کرنا یا باتوں میں جیتنا ناممکن اسی لئے تو وہ اس کی ہر بات خاموشی سے مان لیتی تھی ۔