Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 52)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 52)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
دھڑکن جب سے کمرے میں آئی تھی بس روئے جارہی تھی کیا کردم پر یہ مصیبت اس کی وجہ سے آئی تھی کیا وہ سچ میں منہوس تھی اپنے آپ کو منہوس تصور کرتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
سویرہ اسے سمجھا سمجھا کر ہلکان ہو گئی تھی لیکن نہ تو اس نے رونا بند کیا اور نہ ہی اس کی بات سمجھنے کی
کوشش کی
نہیں دیدا پھوپو سائیں بالکل ٹھیک کہتی ہیں میں ہی مہنوس ہوں میں جب سے ان کی زندگی میں آئی ہوں ضرور کچھ نہ کچھ بُرا ہو رہا ہے میری ذات سے انہیں کوئی خوشی نصیب نہیں ہوئی ایک تو زبردستی ان کی زندگی میں شامل کر دی گئی آپ کو پتہ ہے اگر دادا سائیں اور بابا سائیں کی مرضی نہ ہوتی تو وہ کبھی وہ جیسی لڑکی سے شادی نہ کرتے ۔
مجھے زبردستی ان کی زندگی میں شامل کر دیا گیا کیا پتا وہ تائشہ دیدہ کے لئے جذبات رکھتے ہیں ۔وہ ان کی بچپن کی منگیتر تھی ان کی شادی ہونے والی تھی ان کے ساتھ کیا کردم سائیں نے کبھی ان کے بارے میں سوچا بھی نہ ہوگا ۔
اس نے سویرہ کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا
دھڑکن تمہیں کیا لگتا ہے اس گھر میں کوئی بھی کردم لالہ کے ساتھ کسی قسم کی کوئی زبردستی کر سکتا ہے کیا انہیں کسی کام کے لئے مجبور کر سکتا ہے ۔اس حویلی میں تو کیا اس پورے گاؤں میں کردم سائیں کی حکومت چلتی ہے اور تمہیں لگتا ہے کہ انہیں اس رشتے کے لئے مجبور کیا گیا ہے آئی ایم سوری دھڑکن لیکن مجھے نہیں لگتا کہ کردم لالاکو کوئی بھی مجبور کر سکتا ہے
ہاں لیکن وہ جسے چاہے اسے مجبور بھی کرسکتے ہیں اور اپنی بات بھی منوا سکتے ہیں ۔اور ان پر یہ مصیبت تمہاری وجہ سے نہیں آئی ان کے بہت دشمن ہے کسی دشمن نے ہی دشمنی نکالتے ہوئے یہ کیا ہوگا ۔
تم ان سب باتوں کو دل سے نکال کر فی الحال صرف اور صرف ان کی زندگی کی دعائیں مانگو ڈاکٹر نے ان کی حالت بہت نازک بتائی ہے ۔ جانتی ہو دھڑکن اللہ محبت کرنے والوں کی دعائیں قبول کرتا ہے تم بھی ان کے لئے دعائیں مانگ کر اپنی محبت کو ثابت کرو اور یقین کرو اگر تمہاری دعا قبول ہوگی نہ تو تم سے زیادہ کردم لالا سے کوئی محبت نہیں کرتا ہوگا جس طرح سے انہوں نے تمہیں کیٹی دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ تم سے محبت کرتے ہیں ۔
سویرا نے اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
دھڑکن کیا کردم لالہ کی باتوں سے تمہیں اس بات کا کبھی احساس نہیں ہوا کہ وہ تمہیں چاہتے ہیں وہ جس طرح سے تمہارے لیے تمہاری پسند کا گفٹ ڈھونڈ رہے تھے وہ کچھ ایسا چاہتے تھے جو تمہیں پسند آئے یقین کرو اس دن میں نے انکی آنکھوں میں تمہارے لیے محبت دیکھی تھی شاید وہ اظہار کرنے کے لئے لفظوں کا سہارا نہ لیں لیکن یقین کروتم دونوں کے بیچ میں محبت کا رشتہ ہے
ڈاکٹر کیسا ہے میرا پوتا ۔ڈاکٹرجیسے ہی آپریشن تھیٹر سے باہر آیا دااد سائیں نے کھڑے ہوتے ہوئے اس راستہ روک لیا ۔
دیکھیں جناب ہم کوشش کر رہے ہیں آگے اللہ کی مرضی دعائیں مانگے زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے گولی سینے کے بیچوں بیچ لگی ہے ۔
ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ہم ان کی جان بچا لیں آگے اللہ کی مرضی ۔
ڈاکٹر نے کوئی امید نہ دلائی اور آگے بڑھ گیا جبکہ اس کی بات سن کر دادا سائیں ایک بار پھر سے بے بسی سے اسی چیئر پہ آ بیٹھے
جب جنید بھاگ کر ان کے لئے پانی لے آیا ۔
مقدم نے جنید کے ہاتھ سے پانی لیتے ہوئے ان کے لبوں سے لگایا
دادا سائیں آپ پانی پیے اللہ بہتر کرے گا آپ کی طبیعت خراب ہو رہی ہے آپ گھر جائیں میں یہیں رہوں گا سب کو سنبھالوں گا
نہیں مقدم سائیں ۔
جب تک کردم سائیں ٹھیک نہیں ہوجاتے میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا ۔مجھے آرام کی نہیں اپنے دونوں پوتوں کی ضرورت ہے ۔
دادا سائیں انکار کرتے ہوئے کہا ۔
داداسائیں سمجھنے کی کوشش کریں آپ کی طبیعت خراب ہو رہی ہے میں یہیں ہوں کردم کو کچھ نہیں ہوگا مقدم نے سمجھانا چاہا
ضد نہ کریں مقدم سائیں گھر جاکر بھی ان کا دھیان یہی رہے گا احمد شاہ نے سمجھاتے ہوئے کہا
جبکہ احمدشاہ کی بات سن کر مقدم بھی آگے سے کچھ نہ بولا مقدم سمجھ ہی سکتا تھا کہ ان کے دونوں پوتوں میں ان کی جان بسی ہے ۔
کردم کو اس حالت میں چھوڑ کر وہ کہیں نہیں جا سکتے تھے ۔
اسی لئے مقدم نے بھی مزید ضد نہ کی
یا اللہ جی پلیز میرے کردم سائیں کو بچالیں انہیں کچھ نہیں ہونا چاہیے اگر انہیں کچھ ہوگیا تو میرا کیا ہوگا ۔
اللہ جی میں نے ان کے خلاف آپ سے جو بھی باتیں کیں وہ سب غلط تھی ۔
وہ بالکل بھی بُرے نہیں ہیں بہت اچھے ہیں بس تھوڑا غصہ کرتے ہیں میں مانتی ہوں میں نے آپ سے ان کی شکایت لگائی تھی لیکن میں نے ان کے لئے اتنا برا تو کبھی نہیں چاہا تھا ۔
وہ مجھے ڈانتےتھے غصہ کرتے تھے لیکن اب نہیں کرتے اللہ جی پہلے کیا کرتے تھے ۔
اللہ جی اگر یہ سب کچھ میری شکایتوں کی وجہ سے ہوا ہے تو پلیز ان کو بچا لیا ان کی کوئی غلطی نہیں ہے ۔
بابا سائیں تو کہتے ہیں کہ وہ میرے سائباں ہیں اگر انہیں کچھ ہوگیا تو میرا اس دنیا میں کوئی سہارا نہیں ہوگا ۔
اللہ جی پھر میں کس کے سہارے جیوں گی ۔وہ جائے نمازپر بیٹھی مسلسل روتے ہوئے دعائیں مانگ رہی تھی ۔
اللہ جی ائی پرومیس میں تب تک ان کے سامنے نہیں آؤں گی جب تک وہ بالکل ٹھیک نہیں ہو جاتے پلیز آپ انہیں ٹھیک کردیں۔
میں ان کی کوئی شکایت نہیں کروں گی اورنہ کیوں نہیں کبھی تنگ کروں گی پلیز انہیں کچھ مت کیجئے گا ۔
آنسو اب سسکیوں کی آواز اختیار کر چکے تھے ۔
وہ اب بھی مسلسل دعائیں مانگ رہی تھی ۔
اب نجانے اس کی یہ دعائیں قبول ہونی تھی یا نہیں لیکن وہ اپنا فرض ادا کر رہی تھی۔ اپنے محرم کو اپنے خدا سے مانگ رہی تھی۔
ڈاکٹر نرم سی مسکراہٹ ہونٹوں پے جمائے آپریشن تھیٹر سے باہر نکلا
مبارک ہو آپریشن کامیاب ہوگیا ہے ۔یہ کیس ہمارے لئے بہت مشکل ثابت ہوا ہے اگر گولی صرف ایک انچ کے فاصلے سے لگتی تو یقینا ان کا دل چھڑ کر دیتی ۔
وہ تو اللہ کا کرم ہے کہ ہم آپریشن میں کامیاب رہے ۔
انہیں چوبیس گھنٹے میں ہوش آجائے گا ۔
اس کے بعد 7 دن وہ یہی ہیں اسپتال میں رہیں گے ۔اور اس کے بعد ہی ہمیں انہیں کہیں شیفٹ کرنے کے بارے میں سوچیں گے اگر کنڈیشن اچھی ہوئی تو آپ 7دن کے بعد انہیں واپس کر لے آ جائے گا ۔ورنہ انہیں مزید یہیں پر روکنا ہوگا ۔
ڈاکٹر خوشخبری سناتے ہوئے آگے بڑھ چکا تھا ۔
دادا سائیں ساری رات اسی ایک چیئر پر بیٹھے رہے ۔لیکن اس خوشخبری نے ان کی ساری تھکاوٹ دور کر دی تھی ان کا پوتا ٹھیک تھا یہ خبر ان کے لیے جنت کی ہوا جیسی تھی ۔
دادا سائیں اب تو آرام کرلیں مقدم نے جیسے منت کی تھی ۔
سنا آپ نے ڈاکٹر نے کیا کہا کردم سائیں اب ٹھیک ہیں انہیں چوبیس گھنٹے میں ہوش آجائے گا ۔
اب آپ آرام کریں آپ کو بھی آرام کی ضرورت ہے اور جنید تمہیں بھی اس نے جنید کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو ساری رات کردم کے دروازے کے باہر کھڑا تھا ۔
وہ کہنے کو تو کردم کا صرف ایک ملازم تھا لیکن اس سے اتنی محبت کرتا تھا کہ اس نے ساری رات بیٹھنے کی زحمت بھی نہ ہے ۔
وہ ساری رات آپریشن تھیٹر کے دروازے پر بنے ایک سوراخ سے کردم کو دیکھتا رہا ۔
وہ 26 سالہ نوجوان ہر تھوڑی دیر میں کردم کی حالت دیکھ کر رونے لگتا ۔
وہ ہمیشہ سے کردم کے ساتھ تھا ہر اچھے برے وقت میں اس کا ساتھ نبھاتا تھا آج سے پہلے وہ مقدم کو کبھی اتنا کمزور نہ لگا اس واقعے کے بعد مقدم خود بھی ہمت ہار رہا تھا لیکن اسے پتہ تھا اگر وہ یہاں کمزور پڑ گیا تو آگے بہت مشکل ہوگی ۔
یہاں مقدم کو ثابت قدم رہنا تھا اسے بہت سارے لوگوں کا سہارا بننا تھا ۔
اور یہ بھی پتہ کرنا تھا کہ آخر کردم پر گولی چلانے والا ہے کون کیونکہ یہ تو وہ جان چکا تھا کہ جو کوئی بھی تھا وہ کردم کا نہیں بلکہ اس کا اپنا دشمن تھا لیکن چودھری کی نا تو اتنی ہمت تھی اور نہ ہی اتنی اوقات کے وہ مقدم پر حملہ کرواتا یہ کسی اور کا کام تھا لیکن کس کا اب یہ مقدم کو جانے نہ تھا
