267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 69)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

صبح چار بجے کا وقت تھا باہر ہلکی ہلکی روشنی پھوٹنے لگی تھی

مقدم شاہ کسی چھوٹے بچے کی طرح حوریہ کو خود میں بھیجے گہری نیند سو رہا تھا ۔

کل رات وہ شاید اسے یہی بتانے یہاں آیا تھا کہ وہ صرف اس کا ہے اس کی محبت پر صرف اس کا حق ہے ۔

اذانوں سے تھوڑی دیر پہلے ہی حوریہ کی آنکھ کھل گئی ۔فی الحال کمرے میں گھپ اندھیرا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ بلب جلایا ۔کمرے میں ہلکی روشنی شاید مقدم بھی محسوس کر چکا تھا ۔ یا اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ اس کے قریب سے اٹھ کر جانے والی ہے

اسی لئے مقدم نے اس کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے اسے مزید اپنے قریب کیا اور اسے کسی تکیےکی طرح بانہوں میں بھرتے ہوئے آدھا اس کے اوپر لیٹ چکا تھا

وہ اسے اپنے قریب محسوس کرنے کے لئے اکثر صبح ایسا ہی کرتا تھا

اس کا چہرہ حوریہ کے چہرے کے صرف چند انچ دور تھا ۔اس کی حرکت نے حوریہ کے چہرے پر گہری مسکان چھوڑی تھی۔ اب وہ آنکھیں بند کئے شاید ایک بار پھر سے گہری نیند میں اتر چکا تھا جب کہ وہ بنا پلکیں جھپکائیں اسے دیکھے جا رہی تھی۔

سب لوگ کہتے تھے کہ مقدم ان کے خاندان کا سب سے خوبصورت مرد ہے وہ کبھی کبھی اس کا اور اپنا مقابلہ کرتی تھی وہ تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھی لیکن پھر بھی مقدم کی محبت اس کے لئے کبھی کم نہ ہوئی وہ اکثر سوچتی تھی کیا مقدم کو اس میں ایسا کیا دیکھا کہ وہ اس سے جنون کی حد تک محبت کرنے لگا ۔

اور پھر مقدم کا یہ دعویٰ کے وہ اس سے بچپن سے محبت کرتا ہے

کل رات اتنی ناراضگی کے باوجود بھی وہ خود کو اس کے قریب جانے سے روک نہیں پائی مقدم نے کل رات بھی اسے کتنی بار کہا تھا کہ کوئی بہت بڑی وجہ ہے جو وہ اسے ابھی نہیں بتا سکتا لیکن آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے جو اسے مقدم سے دور کر دے وہ اپنی جگہ پر کسی کو برداشت نہیں کر پا رہی تھی ہاں وہ اب مقدم کی محبت پر صرف اپنا حق سمجھتی تھی ۔وہ اسے کسی کے ساتھ بانٹنے کے لیے تیار نہ تھی۔ وہ نہ جانے کب سے اس کے چہرے کو دیکھے جا رہی تھی جب اس سے اپنے کانوں میں مقدم کی سرگوشی سنائی دی ۔

میرا سوہنا ماہی میں سونا چاہتا ہوں وہ آنکھیں بند کئے ہوئے بولا ۔

تو سو جائیں میں نے کب روکا ہے حوریہ کواس کی بات اچھی نہ لگی اسی لیے روٹھے انداز میں بولی۔ کہہ تو وہ ایسے رہا تھا جیسے اس نے اس کی آنکھیں پکڑ رکھی ہوں کہ وہ سو نہ پائے ۔

اس کے روٹھ انداز نے مقدم کو آنکھیں کھولنے پر مجبور کردیا وہ دلکشی سے مسکرایا

اب تم اتنی محبت سے مجھے نہارتی رہوگی تو کس کمبخت کا سونے کا دل کرے گا ۔وہ اس کے مزید قریب ہوتے ہوئے انچ پر کا فاصلہ بھی مٹانے لگا ۔

دور رہیں مجھ سے رات کو آپ کی چلنے دی اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ میں آپ کی بے وفائی بھول چکی ہوں وہ غصے سے چہرہ پھیر گئی ۔

ایسی کی تیسی اس بے وفائی کی اور دور رہنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہ حوریہ کا چہرہ ایک بار پھر سے اپنے ہاتھ سے سیدھا کرتے ہوئے اس کے چہرے پر جھکا ۔

اور اب ایک بار پھر سے اس کے مکمل ہوش ٹھکانے لگانے کا ارادہ رکھتا تھا ۔جب کسی نے ہلکی سی دروازے پر دستک دی ۔دستک دوبارہ پھر تیسری بار ہوئی جب کہ مقدم کا دستک پر دھیان دینے کا کوئی ارادہ نہ تھا ۔وہ اس وقت صرف اور صرف حوریہ کو اپنے قریب محسوس کرنا چاہتا تھا ۔

مقدم سائیں چھوڑیں مجھے کوئی دروازے پہ ہے باہر حوریہ نے دوبارہ مزاحمت کی ۔

کیا مسئلہ ہے جو بھی ہے چلا جائے گا

تم اس وقت صرف میری سنو وہ اس کے لبوں پر مہر لگا تا اس کے شہ رگ کوچومتے مکمل مدہوش ہو چکا تھا جب دروازے پر اس بار دستک ذرا زور سے ہوئی۔

کس کو موت پڑی ہے صبح صبح وہ انتہائی غصے سے اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھا یقیناً آج اس کی شامت لازم تھی۔

اس نے غصے سے دروازہ کھولا تو سامنے ہی سویرا کو کھڑے پایا

کیا مسئلہ ہے صبح صبح یہاں کیا کر رہی ہو وہ اس پر غصے سے چڑھ دوڑا ۔یقینا صبح صبح اس کی شکل دیکھ کر اسے بالکل اچھا نہ لگا تھا

مقدم سائیں سب لوگ جاگنے والے ہوں گے ملازموں کی چہل پہل بھی شروع ہونے والی ہے اگر اس وقت کسی نے آپ کو یہاں دیکھ لیا خاص کر بڑی اماں سائیں نے تو وہ بہت سوال پوچھیں گیں جن کے جواب نہ آپ کے پاس ہے اور نہ ہی میرے پاس ۔

سویرا نےکہتے ہوئے ایک نظر پیچھے بیڈ پربیٹھی پر دیکھا جہاں حوریہ بیٹھی انہیں گہری کی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔

میں فریش ہو کے آتا ہوں ۔مقدم ہاں میں سر ہلاتے ہوئے واش روم کی طرف جانے لگا ۔

حوریہ اب بالکل اس کے سامنے تھی ۔حوریہ سے نظر ملاتے ہوئے وہ نظریں چرا کر زمین کو دیکھنے لگی ۔جب اس نے آہستہ سے بیڈ چھوڑا اور چلتی ہوئی دروازے کی طرف آئی۔شاید وہ اس سے جواب لینے آرہی تھی وہ اس سے پوچھنے آرہی تھی کہ اس نے اس کے شوہر سے نکاح کیوں کیا ۔سویراسے نظر تک نہیں اٹھائی جا رہی تھی جب حوریہ اس کے بالکل سامنے آ رکی۔

تمہاری آنکھوں میں کوئی درد کوئی تکلیف نہیں ہے سویرہ بس مقدم شاہ کو پانے کی خوشی ہے تم نے وہ کمرہ تو حاصل کر لیا لیکن میرے مقدم سائیں کو مجھ سے چھین نہیں پاؤگی اپنے یہ ڈرامے جا کر کہیں اور کرو تمہاری نظریں میں تمہاری حالت سے میل نہیں کھاتی حوریہ غصے سے کہتی دروازہ اس کے منہ پر بند کر چکی تھی ۔

آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ اس نے سویرا کو آپ سے تم کہہ کر پکارا تھا وہ اس کی بہن سے اس کی سوتن بن چکی تھی بہن تو وہ کبھی تھی ہی نہیں وہ ہمیشہ سے اس کی سوتن تھی ۔

وہ تکلیف میں ہے حوریہ واش روم کے دروازے پر کھڑے مقدم نے اسے سویرہ کے درد کا احساس دلانا چاہا۔

میں تکلیف میں مقدم سائیں اسے اپنے کپڑوں میں دیکھ کر میں تکلیف میں ہوں یہ وہی ڈریس تھا جو آپ نے مجھےلے کر دیا تھا کیا کہا تھا آپ نے اس میں سب سے زیادہ خوبصورت لگتی ہوں۔ تو آپ نے اسے میرا وہی ڈریس پہننے کی اجازت کیسے دی وہ لڑکی میری چیزیں استعمال کر رہی ہے تو میں کیسے مان لوں کہ وہ میرے کمرے میں لے کر میرے شوہر سے دور رہے گی آپ میری تکلیف کبھی نہیں سمجھ سکتے آپ کبھی نہیں سمجھ سکو گے کہ مجھے ہر تکلیف سے دور رکھنے والے انسان نے مجھے سب سے بڑی تکلیف دی ہیں میں بہت تکلیف میں ہوں مقدم سائیں ۔۔حوریہ کی آنکھ کے آنسو نے اس بات کی گواہی دی تھی کہ وہ تکلیف میں ہے ۔ مقدم تیزی سےاس کے پاس آیا اور اسے خود میں بھیج لیا۔

میں تمہیں اس تکلیف سے نکالوں گا حوریہ۔وہ صرف ایک ڈریس ہے ۔تم میرا مقابلہ اس لباس سے کر رہی ہو صرف تمہارا ہوں میں یہ شادی صرف ایک مجبوری ہے سمجھنے کی کوشش کرو ابھی مجھے جانا ہوگامقدم نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا

آپ مت جائیں پلیز ۔ایک بار پھر سے وہ مقدم کی سینے میں خود کو چھپا گئی ۔

نہیں میری جان مجھے جانا ہوگا ۔

اگر آپ گئے تو میں چلی جاؤں گی ۔

خبردار ایسی بات دوبارہ مت کرنا ۔۔وہ اپنے ہاتھوں سے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا

میں چلی جاؤں گی مقدم سائیں ۔اگر اس وقت آپ مجھے چھوڑ کر اس مکار عورت کے پاس گئے تو میں چلی جاؤں گی ۔وہ اس کا گربان دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں میں بھیجے ہوئے بولی

تم کہیں نہیں جاؤ گی حوریہ۔ میں سویرہ سے بات کرکے اسے ہمارے کمرے سے نکال دوں گا ۔

پھر تو نہیں ہوگی نہ تمہیں تکلیف وہ تمہاری کوئی چیز استعمال نہیں کرے گی اور نہ ہی میرے قریب رہے گی وہ اس کی آنسو صاف کرتے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے دروازے کی طرف بڑھا

مقدم سائیں میں آخری بار کہہ رہی ہوں کے اگر آپ مجھے چھوڑ کر اس کے پاس گئے تو میں چلی جاؤں گی ۔حوریہ نے ایک بار پھر سے آنسو بہاتے ہوئے غصے سے کہا ۔

کہیں نہیں جاؤ گی تم حوریہ اور خود کو تھوڑا سا تیار کرلو آج رات کو میرا اور سویرا کا ولیمہ ہوگا ہم پورے گاؤں والوں کو انوائٹ کریں گے ۔ہمیں پورے گاؤں میں یہ بات پھیلانی ہوگی کہ میرا اور سویرا کا نکاح ہو چکا ہے۔اور اس معاملے میں تمہاری طرف سے کسی قسم کی کوئی مخالفت برداشت نہیں کروں گا ۔

اب بیٹھ کر رونے دھونے مت لگ جانا اٹھ کرناشتہ بنا میرے لیے ۔وہ سختی سے کہتا ہوں وہاں سے نکل گیا ۔

جب کہ اس کے آنسو بھری آنکھیں بار بار اس کے پاس پلٹ جانے پر مجبور کر رہی تھی ۔لیکن اب اتنا آگے بڑھ کر وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا ۔

کردم کی آنکھ کھلی تو اپنی بائیں جانب دیکھ کے بے اختیار مسکرا دیا وہ دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے میں ملائے اپنی تھوڑی کے نیچے رکھے اسی کی طرف کروٹ لئے سوئی ہوئی تھی ۔

کل حویلی چھوڑنے سے لے کر یہاں آنے تک وہ کتنا پریشان تھا اس کی پریشانی اس کے سر پر اتنی سوار تھی کہ اس کو دھڑکن پر دھیان دینے کا بالکل وقت نہیں ملا وہ اتنی آسانی سے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے اس کے ساتھ آ گئی تھی

کردم کی یہ سوچ تھی کی دھڑکن اس سے محبت نہیں کرتی صرف اپنے بڑوں کے کہنے پر یہ رشتہ نبھا رہی ہے لیکن دھڑکن اس کی سوچ ہر بار غلط ثابت کر دیتی ہاں وہ دھڑکن کو یہاں نہیں لانا چاہتا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ دھڑکن کسی بھی پروبلم کا شکار ہو لیکن کل وہ پھر بھی اس کے ساتھ آ گئی اور ایسا کرنے کے لئے اسے کسی بڑے نے نہیں کہا تھا یہ اس کے دل نے کہا تھا اس نے اپنے دل کی بات مانی تھی ۔

کل تک کردم کو دھڑکن کا یہ فیصلہ غلط لگا تھا لیکن آج صبح اسے اپنے اتنے قریب دیکھ کر اسے یہ فیصلہ بالکل ٹھیک لگا تھا کردم کو اس کی عادت ہو گئی تھی وہ اسے ہر وقت اپنے قریب دیکھنا چاہتا تھا اسے اس طرح سے بے خبر سوتے تھے کر کردم نے محبت سے اس کے گال پر اپنے لب رکھے ۔

کل کی حسین رات کے بعد دھڑکن کے ساتھ بالکل وقت نہیں گزار پایا تھا اور اب یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتا تھا لیکن اس کی جسارت پر دھڑکن نے رسپونس نہ دیا ۔

پٹاکا سائیں تمہاری نیند تو بڑی پکی ہے لیکن مجھے بھی دنیا کا سب سے بورنگ اور ان رومینٹک انسان کہا جاتا ہے تمہاری اس نیند کا تو کچھ کرنا ہوگا اس کے کان کے قریب سرگوشی کرتے ہوئے اس کے کان کی لو چوم گیا ۔

کیٹی ایشے نہیں کرتے گندی بچی ۔وہ اپنے نازک سے ہاتھ سے کردم کا چہرہ خود سے دور کرتے ہوئے منمنائی۔

حد ہو گئی کردم شاہ تمہاری بیوی کو تم میں اور ایک بلی کے بچے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا کردم اسے گھور کر رہ گیا ۔

تمہیں خود میں اور اس بلی میں فرق بتا کے رہوں گا پٹاکہ سائیں ۔وہ کہتے ہوئے اس بار اس کے لبوں کو اپنا شکار بنا گیا ۔

جبکہ انداز شدت سے اتنا بھرپور تھا کہ دھڑکن کی آنکھ کھول گئی

اس نے دونوں ہاتھوں سے کردم کو خود سے دور کرنا چاہا جب کہ وہ اس کسرتی وجود کے مالک کو ہلاتک نہ سکی یہاں تک کہ اسے اپنی سانسوں کا تناسب بگڑتا ہوا محسوس ہونے لگا ۔

آخر کردم کو اس پر رحم آہی گیا کردم نے آہستہ سے اس کے لبوں کو آزاد کیا ۔

اٹھیں میرے اوپر سے ۔سانڈ کہیں کے دھڑکن زور لگاتے ہوئے اسے اپنے اوپر سے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی جب کہ وہ دلچسپی سے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا صبح صبح اسے تنگ کرتے ہوئے اسے بہت مزا آ رہا تھا ۔

کیا کہا تم نے سانڈ ۔۔۔۔۔؟

تم نے اپنے شوہر کو سانڈ کہا۔۔۔۔۔

آپ نے سرکے سائیں کو سانڈ کہا ۔۔۔۔۔

اب پڑی رہو سارا دن یہی نہیں اٹھوں گا میں ۔۔وہ مزید اس کے اوپر اپنا وزن ڈالتے ہوئے بولا ۔

کردم سائیں سوری پلیز اٹھیں میرا دم گھٹ رہا ہے ۔وہ التجا کرنے لگی

ایک شرط پہ اٹھوں گا وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا

مجھے منظور ہے پہلے اٹھیں دھڑکن جلد سے جلد اپنا آپ سے آزاد کروانا چاہتی تھی

ہاں ٹھیک ہے پہلے شرط پوری کروں کردم نے ہاتھ کی ایک انگلی اپنے ہونٹوں سے لگاتے ہوئے اس کے لبوں کو چھوا ۔

مجھے گڈ مارننگ کس چاہیے وہ اس کے ہونٹوں کو سہلاتے ہوئے بولا ۔

آپ کو کیا ہو گیا ہے کردم سائیں شاید آپ بھول رہے ہیں آپ کردم سائیں ہیں اٹھیں میرے اوپر سے نہیں کرنی مجھے آپ کی شرط پوری ۔پہلے تو اس کے انداز پر وہ چھینپ سی گئی لیکن پھر اسے ظاہر نہ کرنے کے لیے مزید بولی

کیا مطلب ہے کہ اگر میں کردم سائیں ہوں تو تم سے کس نہیں مانگ سکتا یہ صرف میرا حق ہے اگر آزادی چاہتی ہو تو اس کی قیمت ادا کرو ۔

کردم سائیں مجھے تنگ کرنا بند کریں ورنہ میں دادو سائیں سے آپ کی شکایت لگاؤں گی ۔

تم اپنا اور میرا وقت برباد کر رہی ہو بھولو مت کہ تمہیں آج کالج بھی جانا ہے ۔اور جب تک تم میری شرط پوری نہیں کرتی میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا اور نہ ہی تمہیں اٹھنے دوں گا یا تو تم خود یہ شرط پوری کر دو ورنہ اگر میں نے اپنے طریقے سے پوری کی تو شاید ہی تم آج کالج اور میں کام پر جاؤ پاوں ۔کردم نے اسے اپنے ارادوں سے آگاہ کیا

اپنی آنکھیں بند کریں اور جب تک میں کس نہ کر لوں تب تک آپ اپنی آنکھیں نہیں کھولیں گے سمجھے میری بات کو

وہ وارننگ دینے والے انداز میں بولی

نہیں پٹاکا سائیں نہ تو میں آنکھیں بند کروں گا اور نہ ہی تمہیں کوئی بھی چالاکی کرنے دوں گا اب جلدی سے تم مجھے کس کرو اور پھر یہی سے آگے ہم رات کو کنٹینیو کریں گے ۔

وہ اس کے مزید قریب ہوتے ہوئے بولا ۔جبکہ کردم کی آنکھیں بند کروا کے وہ کسی طرح بھاگنے کا ارادہ رکھتی تھی ۔

ہاں تو ٹھیک ہے نہ میں کون سا کوئی بے ایمانی کرنے والی تھی نہیں بند کرنی تو نہ کریں میں ایسے ہی کس کر دوں گی ۔دھڑکن زبان میں جو آیا وہ بول گئی ۔

سپر مجھے پتہ تھا میری بیوی اس طرح کے چیلنجز ہنستے ہوئے قبول کرے گی ویسے بھی مجھے زیادہ شرمانے والے لڑکیاں پسند نہیں وہ ہنسی دباتے ہوئے مزید اس کے قریب ہوا ۔

اپنا چہرہ اس کے بالکل قریب لے آیا وہ اس کے ایک نقوش کو دیکھ رہی تھی

دھڑکن میں انتظار کر رہا ہوں کردم نے پھر سے یاد آیا ۔

کردم سائیں ابھی مجھے جانے دیں آئی پرومس میں کالج سے واپس آ کے آپ کو کس کروں گی ۔

کردم کو لگا کے اگر اب اس نے اسے مزید تنگ کیا تو وہ رو دے گی ۔

ٹھیک ہے اور یاد رکھنا مجھ سے وعدہ خلافی کی تو بہت پچھتاؤ گی وہ اس کے اوپر سے ہٹ کردوبارہ بیڈ پر لیٹ گیا جبکہ لبوں پہ اب بھی مسکان تھی۔

کل صبح بھی اس کی یہی حالت تھی اور اب بھی آزادی ملتے ہی وہ فورا بھاگ گئی ۔

ہائے میری معصوم پٹاکا سائیں تمہاری یہ شرم و حیا میری جان لے لے گی ۔کردم مسکراتے ہوئے اٹھ کر واش روم میں گیا تھوڑی دیر میں سے زمینوں کے لئے نکلنا تھا

تائشہ میری جان ناشتہ کرلونجانے کتنی دیر سے وہ اسے جگا رہا تھا کل رات تائشہ کو بہت تیز بخار تھا جنید نے اس کا بہت خیال رکھا

وہ ساری رات ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہ سو سکا تائشہ کی حالت اس کی وجہ سے ہوئی تھی اس گلٹ نے ساری رات سونے نہ دیا

اور پھر تائشہ کی طبیعت بھی اتنی خراب تھی اسے کسی نہ کسی کی ضرورت تھی ساری رات وہ بخار میں تپتی رہیں جنید ہر تھوڑی دیر بعد اس کے ماتھے پر پٹی رکھتا تو وہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھتی

شاید ہی کبھی کسی نے اس سے بخار کی حالت میں اس طرح سے ٹریٹ کیا تھا ۔

اور اب صبح صبح اٹھ کر جنید نے اس کے لئے ناشتہ بنایا تھا اور اب وہ اسے بہت پیار سے جگا رہا تھا اس کا بخار بھی اب اتر چکا تھا

تائشہ نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں تو وہ بے اختیار مسکرا دیا

حسین سجنی سوچا نہیں تھا کہ میری تقدیر میں اتنا خوبصورت چاند لکھا ہے وہ اس کے ماتھے کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے مسکرا کر بولا ۔

اٹھو میری جان ناشتہ کرلو پھر میں تمہیں میڈیسن دونگا جنہیں کھا کر صرف کچھ ہی دنوں میں تم ایک دم ہٹی کٹی پہلے جیسی ہو جاؤ گی ۔اور اس کے بعد وہی پائپ میں نے الگ کر کے رکھ دیا ہے ۔اس سے تم میرا وہی حال کر نا جو میں نے تمہارا کیا ہے بلکہ نہیں اس سے بھی زیادہ بری سزا کا مستحق ہوں میں ۔

جنید نے کہتے ہوئے اپنی جیب سے ریوالور نکال کر اس کے سامنے رکھا ۔

اگر چاہو تو مجھے جان سے مار ڈالنا لیکن معاف مت کرنا معافی کے قابل نہیں ہوں میں اور ایک عورت پر ہاتھ اٹھا کر مرد کہلانے کے بھی قابل نہیں رہا ۔

تائشہ میں کوشش کروں گا کہ آگے زندگی میں مجھ سے کبھی ایسی غلطی نہ ہو مجھے نہیں پتہ کہ اس سب میں تمہارا ہاتھ ہے یا نہیں ۔لیکن بس یہ پتا ہے کہ تمہیں سزا دینے کا حق میرا نہیں تم پہ ہاتھ اٹھانے کا میں کوئی حق نہیں رکھتا ۔

مجھے تو صرف تم سے پیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔اپنی بیوی کا خیال رکھنا اس کی ہر ضرورت پوری کرنا اس سے محبت کرنا اس سے نرمی سے پیش آنا اور جب وہ روٹھ جائے تو اسے محبت سے منانا یہ حکم ہے ایک مرد کے لیے اپنی بیوی سے پیش آنے کا ۔

اور میں نے کیا کیا ۔۔شرم آتی ہے خود کو مرد کہتے ہوئے

وہ آہستہ آہستہ بولتا نوالے بنا کر اس کے منہ میں ڈال رہا تھا جب کہ وہ اس کی باتیں سنتی انجانے میں کھا رہی تھی ۔

جانتی ہو تائشہ میں صرف پانچ سال کا تھا جب میری امی فوت ہو گئی ۔

ماں کا لمس کیا ہوتا ہے وہ تو میں ٹھیک سے محسوس ہی نہیں کر سکا ۔میری زندگی میں کبھی کوئی عورت نہیں آئی سوائے تمہارے شاید اسی لیے عورت کی قدر نہیں کر سکا ۔

لیکن وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد یہ غلطی مجھ سے کبھی نہیں ہوگی میں 17 سال کا تھا جب بابا بھی چلے گئے ۔بابا کے جانے کے بعد سے لے کر اب تک میں اس گھر میں بالکل اکیلا رہتا تھا ۔ لیکن اب میں یہ چاہتا ہوں کہ تمہارے وجود سے یہ گھر آباد ہوجائے ۔

جانتا ہوں کہ اتنی جلدی تم مجھے ایکسپٹ نہیں کر پاؤ گی

لیکن تم یہ مت سوچنا کہ میں تم سے دور رہوں گا ایسا کبھی نہیں ہو گا تائشہ۔ دور رہ کر رشتوں میں دوری بنانے سے بہتر ہے کہ پاس رہ کر انہیں سمجھا جائے میں تمہارے اور اپنے اس رشتے کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا ۔

ناشتے کے برتن اٹھاتے ہوئے وہ اٹھا

میں تمہارے لئے میڈیسن لے کے آتا ہوں ۔

وہ کمرے سے باہر جا چکا تھا جبکہ تائشہ خاموشی سے دروازہ کو دیکھ رہی تھی جہاں سے وہ باہر گیا تھا

اس نے آہستہ سے اپنے ماتھے کو چھوا جہاں ا بھی بھی جنید کے لمس کا احساس موجود تھا ۔

اس کے ہاتھ میں ایک بریسٹ تھا اس نے فوراً پہچان لیا تھا کہ یہ وہی بریسٹ ہے جو کل جنید کی جیب سے گرا تھا لیکن یہ اس نے تائشہ کو کب پہنایا یہ وہ نہیں جانتی تھی شاید رات کو غنودگی کی حالت میں

بریسٹ کو دیکھتے ہوئے بے ساختہ اس کے لبوں پر ایک مسکان آئی ۔لیکن اپنی ماں کا چہرہ یاد آتے ہیں وہ مسکان کہیں کھو گئی

مقدم اپنے کمرے میں آیا تو اس کے بیڈ پر حوریہ کا شادی والا لہنگا بڑے سلیقے سے رکھا گیا تھا

تبھی سویرہ واشروم سے باہر نکلے تھوڑی دیر میں پالر کی لڑکی اسے تیار کرنے آنے والی تھی

تم نے یہ ڈریس کیوں نکالی ہے وہ ماتھے پر بل ڈالے پوچھنے لگا

مقدم سائیں میرے پاس ولیمے کے لحاظ سے کوئی ایسا ڈریس نہیں ہے جسے میں پہن پاتی اس لیے بڑی اماں سائیں مجھے حوریہ کے کپڑے پہننے کے لیے کہا ہے ۔

سویرا سہمے ہوئے انداز میں بولی۔

اگر تمہارے پاس کپڑے نہیں ہیں تو تمہیں مجھے بتانا چاہئے آن لائن آرڈر کر لو یا شاپنگ چلی جاؤ حوریہ کی چیزیں کیوں نکال رہی ہو ۔

دیکھو سویرا ایک بات کان کھول کر سن لو میں حوریہ کی چیزوں پر کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کروں گا اٹھاؤ اسے اور واپس اندر رکھو ابھی کے ابھی وہ اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا

جبکہ سویرا اس کا غصہ دیکھ کر فوراً ہی حوریہ کا لہنگا اٹھا کر واپس الماری میں رکھنے لگی

تبھی ملازم دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اندر آیا اور سویرا کا سامان اس کے حوالے کرنے لگا

یہ کس نے کہا ہے تمہیں یہاں لانے کے لئے سویرا کا سوٹ کیس دیکھ کر اس سے مزید غصہ آنے لگا

نازیہ بی بی سائیں نے کہا ہے کہ سویرا بی بی کا سارا سامان آپ کے کمرے میں چھوڑ دیا جائے ۔اب سے وہ آپ کے کمرے میں رہیں گی نہ ۔ملازم کو اس کے غصے کی وجہ سمجھ میں نہ آئی تھی

ابھی کے ابھی اٹھاؤ یہ سارا سامان اوراس کے کمرے میں رکھ کے آؤں وہ غصے سے چلا اٹھا تھا ۔جبکہ اس کا غصہ دیکھتے ہوئے سویرا نے بڑی مشکل سے ملازم کو وہاں سے بھیجا تھا

مقدم سائیں آپ کیا کر رہے ہیں آپ نے تو کہا تھا کہ گھر والوں اور ملازموں کے سامنے ہم نارمل ہسبنڈ وائف کی طرح رہیں گے ۔تاکہ گاؤں میں بات نہ پھیریں اور اب آپ اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر پا رہے ۔

ایک تو میں زبردستی آپ کی زندگی میں شامل ہوگئی اوپر سے حوریہ مجھے غلط سمجھ رہی ہے اسے لگ رہا ہے کہ یہ سب کچھ میں نے جان بوجھ کر کیا ہے وہ تو جانتی بھی نہیں کہ مجھ پر کیا قیامت ٹوٹی ہے وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے وہیں بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی ۔

سویرا بات بات پر رونے مت لگ جایا کرو ٹھیک ہے تم اپنا سامان یہاں ایک سائیڈ پر رکھ لو ۔لیکن دھیان رہے کہ حوریہ کی کوئی چیز ادھرادھر نہیں ہونی چاہیے ۔

اور نہ ہی ڈریسنگ ٹیبل سے اس کی کوئی چیز اٹھانا

وہ کہتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا جب اماں سائیں اس کے کمرے میں داخل ہوئیں۔

سویرا کا سامان کمرے میں بھجوایا تھا میں نے ملازم نے کہا کہ آپ غصہ ہو رہے ہیں مقدم سائیں اماں سائیں پریشانی سے پوچھ رہی تھی

ارے یہ سامان ابھی تک تم نے لگایا نہیں ۔آو میں جگہ بنا کے دیتی ہوں یہ سارا سامان تم یہاں حوریہ کی الماری میں لگا دو وہ حوریہ کے سائیڈ کی الماری کھولتے ہوئے حوریہ کی چیزیں نکال کر باہر رکھنے لگیں ۔

اور یہ لہنگا تم نے واپس اندر کیوں رکھ دیا ابھی وہ لڑکی آ رہی ہوگی پالر والی وہ لہنگا اس کے ہاتھ میں پکڑتے ہوئے بولی

جب مقدم نے آگے بڑھتے ہوئے اماں سائیں کو روکنا چاہا

مقدم سائیں میری بات سنیں فلحال بڑی اماں سائیں جو کر رہی ہیں کرنے دیں ۔جب وہ یہاں سے چلے جائیں گی میں حوریہ کی چیزیں واپس اندر رکھ دوں گی اس وقت بڑی اماں سائیں کے سامنے بات بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں وہ اس کے غصے کو دیکھتے ہوئے سمجھانے والے انداز میں بولی

پھر شیشے کے آگے رک کر حوریہ کا لہنگا اپنے ساتھ لگانے لگی ۔تبھی بنا دستک کوئی اندر داخل ہوا ۔ اسے دیکھتے ہی مقدم کو جیسے سکون ملا تھا مگر اس کی نظروں کا زاویہ دیکھتے ہوئے مقدم کا سکون تباہ ہوگیا

اس کا آدھا سامان بیڈ پر اور باقی زمین پر پڑا تھا ۔

جبکہ سویرہ آئینے کے سامنے کھڑی اس کے سہاگ کا جوڑا اپنے ساتھ لگائے ہوئی تھی اس نے بے یقینی سے مقدم کو دیکھا اپنی آنکھوں میں آنسووں کا سمندرلیے وہ وہیں سے پلٹ گئی ۔

اس کی حالت سمجھتے ہوئے مقدم اس کے پیچھے بھاگا تھا ۔