Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 29)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 29)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
حوریہ دیدہ میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی چلیں ناشتہ کریں وہ جانتی تھی کہ حوریہ رات سے اس سے ناراض ہے وہ جب مقدم کو سب کچھ بتا رہی تھی تب حوریہ کی آنکھوں میں اپنے لیے ناراضگی وہ محسوس کر چکی تھی
اور اب اتنی دیر سے اس کے باہر آنے کا انتظار کر رہی تھی اس نے ابھی تک ناشتہ نہیں کیا تھا حوریہ نے ایک نظر اس کے معصوم چہرے کو دیکھا پھر بے اختیار مسکرا دی
تم بہت شرارتی ہو دھڑکن میں نے تمہیں منع کیا تھا نہ مقدم سائیں کو وہ سب کچھ بتانے کے لئے ۔
وہ اپنا ناشتہ لے کر باہر آئی۔
شاید ٹیبل پر موجود لوگ اس کا ہی انتظار کر رہے تھے کیونکہ ناشتہ تو وہ کافی دیر پہلے ہی کر چکے تھے
او حوریہ بیٹا بیٹھو ہمیں تم سے بات کرنی ہے۔
دادا سائیں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا تو وہ پریشان سی بیٹھ گئی
دیکھو بیٹا کل جو کچھ بھی ہوا وہ بہت زیادہ تھا وہ ٹیبل کی طرف دیکھتے ہوئے بولے وہ کبھی بھی اس سے بات کرتے ہوئے اس کے چہرے کو نہیں دیکھتے تھے
شاید ہم کل کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگئے تھے ہم سب نے کل تمہیں بہت ہرٹ کیا ۔
ہم تم سے اس کے لیے معافی چاہیے۔۔۔۔
پلیز مجھے برا نہیں لگا اس سے پہلے کہ وہ معافی مانگتے ہوئے وہ بول اٹھی
وہ اس شخص کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھنا چاہتی تھی وہ اسے اپنے سامنے جھکتےتو کبھی نہیں سوچ سکتی تھی ۔
مقدم سائیں کہہ رہے ہیں کہ وہ تمہیں لےکر شہر والے بنگلے میں شفٹ ہو رہے ہیں مامی نے بات میں حصہ لیا ۔
ہم سب ایسا نہیں چاہتے حوریہ تم ہمارے خاندان کی بہو ہو مقدم اس خاندان کا بیٹا ۔
ہم کوشش کریں گے کہ آج کے بعد ہمارے لفظوں سے یا ہمارے رویوں سے تمہیں تکلیف نہ پہنچے ۔آج سے بلکہ ابھی سے میں تمہیں اپنی بہو کے روپ میں قبول کر تی ہوں لیکن خدا کے لئے اس حویلی سے مت جانا میں اپنے بیٹے کے بغیر نہیں رہ پاؤں گی وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی ۔
ان کی آنکھوں سے نکلتے آنسو دیکھ کرحوریہ اندر تک کانپی تھی ۔ایک ماں اپنے بیٹے کے لئے ایک ایسی لڑکی کو قبول کر رہی تھی جس کا باپ اس کے شوہر کا قاتل تھا
آپ فکر نہ کریں مامی سائیں ہم کہیں نہیں جائیں گے ۔ہم نے کہاں جانا ہے یہ تو ہمارا گھر ہے اور صبح کا بھولا شام کو اپنے گھر ہی آتا ہے کہیں اور نہیں جاتا ۔
حوریہ یار جلدی سے ناشتہ کرو کیا چڑیا کی طرح چوگ رہی ہو ۔کیا کہا تھا تم سے کہ صبح صبح نکلیں گے اور تم ابھی تک تیار بھی نہیں ہو ۔
وہ اسے گھر کے کپڑوں میں دیکھتے ہوئے اچھا خاصہ تپ اٹھا تھا ۔
ہم تھوڑی دیر اپنی بہو سے بات کر رہے تھے
حوریہ بیٹا آرام سے ناشتہ کرو اور پھر سکون سے نکلنا ۔اسے تو ہر بات کی جلدی ہوتی ہے دادا سائیں کرسی سے اٹھتے ہوئے خوشگوار لہجے میں کہا ۔
جبکہ مقدم کو آتا دیکھ کر نازیہ اپنی آنکھیں صاف کر چکی تھی ۔
جبکہ رضوانہ تو ابھی بھی اسے قہر پرستی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
اچھا ٹھیک ہے تم ناشتہ کرو تب تک میں کردم سائیں سے ڈیرے پر ملنے جا رہا ہوں اور جب تک میں آؤں تم بالکل تیار ملو مجھے ۔
وہ اسے کہتا ہوا اٹھ کر چلا گیا ۔
جبکہ حوریہ کی خوشی کی تو کوئی انتہا ہی نہ تھی ۔آج اتنے سالوں کے بعد نانا سائیں نے اسے اتنی محبت سے مخاطب کیا کل وہ جن لفظوں سے ہرٹ ہوئی تھی آج تو وہ ان الفاظوں کو بھول ہی چکی تھی _
اسے اس گھرمیں مقدم شاہ کی بیوی کی حیثیت ملی تھی نہ کہ ملک کی بیٹی کی اس کا دل چاہا کہ مقدم شاہ کے گلے سے لگا کر اس سے اپنے دل کی کیفیت بیان کرے ۔
لیکن اسے پتہ تھا اس کے بعد مقدم شاہ نے فری ہو جانا ہے ۔مقدم شاہ کی محبت اور بے باکی کو سمجھتے ہوئے بے اختیار شرمائی جبکہ دھڑکن قریب بیٹھی اااوو ہووو کرتی اس سے لپٹ چکی تھی ۔
ویسے مقدم لالا نے ایسی بھی کوئی رومینٹک بات نہیں کی کہ آپ شرمائے وہ اسے چھڑتے ہوئے بولی توحوریہ مزید شرمانے لگی
۔••••••••••••••
ہاہاہا ۔مجھے یقین نہیں آرہا وہ چھوٹی سی لڑکی تمہارا دماغ خراب کر چکی ہے ۔
کردم نے جب سے اسے صبح والا واقعہ سنایا تھا وہ ہنسے جا رہا تھا ۔
اور کیا تم مجھے وجہ بتا سکتے ہو کہ وہ تم سے اتنی خفا کیوں ہے آخر ہوا کیا ہے ۔اس کی بگڑی ہوئی شکل دیکھ کر مقدم پوچھے بنا نہ رہ سکا
یار وہی چائے والا قصہ ۔کردم نے سرسری سی وجہ بتائی
مطلب وہ کل کی وجہ سے تم سے ناراض ہے جو تم نے وہ فائل کی وجہ سے اسے ڈانٹا تھا تو وہ اس کی غلطی تھی اسے چائے نہیں گرانی چاہیے تھی اور اگر غلطی سے چائے تمہاری فائل پر گر گئی تھی تو اسے بتا دینا چاہیے تھا مقدم کو حوریہ نے سب کچھ بتایا تھا ۔
جس پر مقدم کو ساری غلطی دھڑکن کی ہی لگی تھی ۔
چائے دھڑکن نے نہیں گرائی تھی تائشہ نے گرائی تھی
کردم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے بتایا ۔اور ساتھ میں باقی کی کاروائی بھی بتائی کہ کس طرح سے اس نے دھڑکن کو تائشہ سے معافی مانگنے پر مجبور کیا
کیا تائشہ نے کیوں کیا مطلب وہ ایسا کیوں کرے گی مقدم اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا ۔
اور اگر تم جانتے ہو کہ چائے تائشہ نے گرائی ہے تو پھر تم نے دھڑکن کو ڈانٹا ۔اور اسے تائشہ سے معافی مانگنے پر مجبور کیوں کیا ۔اب مقدم کو کردم غلط لگنے لگا تھا ۔
مجھے پہلے نہیں پتا تھا لیکن تائشہ کے دوپٹے سے اترے موتی میرے کمرے میں پڑے تھے ۔
تب مجھے احساس ہوا کہ مجھے دھڑکن کو نہیں ڈاٹنا چاہیے تھا
رات کو وہ میرے کمرے میں چائے دینے آئی تو میرا ارادہ اس سے بات کلیر کرنے کرنے کا تھا لیکن وہ آگے سے نخرے دکھا رہی تھی ۔
اور پھر اس کے ہاتھ وہ موتی لگے جسے اٹھا کر وہ تائشہ کے سر پر جا پہنچی۔
اور اس سے اچھی خاصی بدتمیزی کر ڈالی جو بھی ہے تائشہ عمر میں اس سے بڑی ہے اور اس کا مقام وہی ہے جو ایک گھر کی بڑی بیٹی کا ہوتا ہے ۔دھڑکن کی بدتمیزی پر مجھے غصہ آگیا اسی لیے میں نے اسے ڈانٹ کر معافی مانگنے کے لئے کہا ۔
تو بتاؤ مقدم سائیں اگر دادا سائیں سے کوئی غلطی ہو جائے گی تو کیا ہم اس طرح سے بدتمیزی کریں گے ان سے نہیں نہ دھڑکن کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے ۔
آگے اس طرح کے اوع حالات آئیں گے ۔اور اگر میں معافی نہیں مانگواتا تو بات بھر جاتی اور بڑوں میں چلی جاتی ۔دادا سائیں زمین کی وجہ سے پہلے ہی بہت پریشان رہنے لگے ہیں میں نہیں چاہتا تھا کہ گھر میں ہونے والے چھوٹے چھوٹے مسائل کی وجہ سے دادا سائیں کی طبیعت مزید خراب ہو
چاہے دھڑکن سہی تھی لیکن بدتمیزی تو بدتمیزی ہوتی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ میری بیوی کو کوئی بدتمیز کہے
واہ کردم سائیں یعنی کے آپ کو دھڑکن کی بدتمیزی پر غصہ آیا اور تائشہ کی گھٹیا حرکت پر غصہ نہیں آیا آج پہلی بار اسے کردم غلط لگا تھا ۔اس کا دل تو چاہ رہا تھا کہ وہ شادی پر کی جانے والی تائشہ کی حرکت بھی اس کے سامنے کھول دے
تائشہ میری کیا لگتی ہے جو میں اس پر غصہ کروں گا کیا حق ہے میرا اس پر جو میں اسے صحیح غلط کی پہچان بتاؤں ۔
میری بیوی دھڑکن ہے مقدم سائیں میں کسی باہر کی عورت پر یہ حق نہیں رکھتا کہ میں اسے ڈانٹوں یا اس سے معافی مانگنے کے لیے کہوں۔
کردم نے ایک نظر اس سے دیکھا جو اس سے بہت گھور کر دیکھ رہا تھا
بہت دیر ہوگئی ہے مقدم سائیں تمہیں اب نکلنا چاہیے گڑیآ انتظار کر رہی ہوگی ۔
اس سے مل کر وہ کھیتوں کی طرف چلا گیا ۔جبکہ مقدم وہیں کھڑا سوچ رہا تھا ۔
اس انسان کو سمجھنا کتنا مشکل ہے بیچاری دھڑکن
••••••••••••••
یہ سفر حوریہ کی زندگی کا سب سے خوبصورت ترین سفر ثابت ہوا تھا وہ مقدم کے سنگ بہت خوش تھی ۔
مقدم ہرتھوڑی دیر میں اسے کسی نہ کسی بات سے چھڑتا ۔
اس کا شرمایا ہوا روپ مقدم کو بہت پسند تھا اس کا تو ہر روپ ہی مقدم کی جان تھا ۔
اس کی ہر ادا مقدم کے لیے جان لیوا تھی۔
اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت احساس یہ تھا کہ اس کی جان اس کے ساتھ ہے ۔
گزرتے ہر ایک لمحے کے ساتھ حوریہ اپنے رب کا شکر ادا کر رہی تھی اس نے کہاں اپنی زندگی کو اتنا خوبصورت سوچا تھا ۔
یہ تومقدم کی سنگت تھی جو اسے دن بہ دن اور خوبصورت بنا رہی تھی ۔
ایک عورت چاہتی کیا ہے اپنی زندگی میں ۔صرف چاہے جانے کا احساس یہ احساس کتنا خاص ہوتا ہے یہ صرف
ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے وہ ہر کسی کی محبت نہیں چاہتی وہ محبت میں صرف اپنے شوہر کی محبت چاہتی ہے اپنے ساتھی کی محبت وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھنا چاہتی ہے ۔
چاہے جانے کا احساس محسوس کرنا چاہتی ہے شادی کے ان دس دونوں میں حوریہ نے یہ احساس دل و جان سے محسوس کیا تھا ۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ مقدم کی محبت اس کے لیے بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ ہر نماز میں اپنے لیے مقدم کی محبت کو کبھی کم نہ ہونے کی دعائیں مانگتی تھی۔
اور مقدم اسے اپنی محبت کا یقین دلاتا اپنے ہرانداز میں اسے بتاتا کہ وہ اس کے لیے کتنی خاص ہے ۔
وہ جو کبھی کسی کی محبت اپنے لئے محسوس نہیں کر سکی تھی اب اسے سوائے مقدم کے اور کسی کی محبت کی ضرورت نہ تھی
پہلے مقدم صرف اس سے محبت کرتا تھا لیکن اب اس نے اس گھر میں اس کے لیے ایک مقام بنایا تھا ۔بے شک وہ لوگ اسے کبھی اہانہ شاہ کی بیٹی کے روپ میں قبول نہ کرتے لیکن مقدم شاہ کی بیوی کے روپ میں قبول کرنے پر وہ مجبور ہوچکے تھے ۔
وہ اس گھر کی بیٹی نہ تھی لیکن بہت بہو تو تھی بس یہی بات حوریہ کو فرش سے عرش پر بیٹھا گئی تھی اب وہ بے مول نہیں تھی بلکہ اس گھر کے سب سے لاڈلے بیٹے مقدم شاہ کی بیوی تھی اس خاندان کی بہو تھی۔ اور یہ صرف اس کا مقام تھا جس پر اور کسی کا کوئی حق نہ تھا
••••••••••••••
سویرا دیدہ اب آپ کیا کرے گی مجھے کچھ بتائیں گی ۔
آخر کیا چل رہا ہے آپ کے دماغ میں ۔
میں نےتو دھڑکن اور کردم سائیں کی لڑائی کروا کے ان دونوں کو الگ کردیا اب وہ دونوں ایک دوسرے سے بات تک نہیں کر رہے لیکن آپ نے کیسے ان دونوں کو ہنی مون پر جانے دیا آپ نے کچھ نہیں کیا آخر چل کیا رہا ہے آپ کے دماغ میں ۔
تائشہ کب سے اس کے کمرے میں بیٹھی اس سے باتوں میں مگن تھی۔
اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا وہ نہیں جانتی تھی لیکن اس کی پرسرار مسکراہٹ بہت کچھ بیان کر رہی تھی ضرور اس کے دماغ میں کوئی ایسی کھچڑی پک رہی تھی جو بہت کچھ تباہ کرنے والی تھی ۔
بے فکر ہو جاو کچھ نہیں ہوگا ۔دھڑکن مجھے بتا رہی تھی کہ مقدم سائیں حوریہ کو بہت پہلے سے چاہتے ہیں وہ کبھی بھی مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے ۔
وہ ہمیشہ سے اس دو ٹکے کی لڑکی کو اپنی دلہن کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے ۔تو دیکھنے دو کچھ دن عیش کرنے دو انہیں جینے دو انہیں اپنی زندگی اور پھر انہیں میرے پاس آنا ہے ہمیشہ کے لئے میں نہیں چاہتی کہ ان کی کوئی بھی خواہش دھوری رہے ۔
وہ ہمیشہ کے لئے میرے ہونے والے ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے کہ کہ وہ کچھ دن اس لڑکی کے ساتھ گزار لیں جیسے وہ کبھی پسند کرتے تھے ۔
سویرا نے بے فکری سے کہا ۔
سویرا دیدہ کیا آپ مجھے اپنی پلاننگ بتائیں گی وہ اس کی باتوں سے اچھی خاصی گھبرا گئی تھی وہ ضرور کوئی بہت برا کارنامہ سرانجام دینے کے بارے میں سوچ رہی تھی
اور تائشہ کو اس کی باتوں سے ہول اٹھ رہے تھے ۔
کچھ تو گڑبڑ تھی جو سویرہ سے نہیں بتا رہی تھی وہ کیا پلان کر رہی تھی اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا تائشہ بھی نہیں جانتی تھی۔
اور اس کی شکل سے لگ رہا تھا کہ وہ اسے کچھ بھی نہیں بتانے والی
•••••••••••
