Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Last updated: 11 November 2025
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara
By Areej Shah
پورے گاؤں میں خاموشی کا سماں تھا رنگ برنگی چڑیاں اپنے رب پاک کی ثنا خوانی کرتی ۔اپنی خوبصورت آواز میں حسین صبح کی برکتوں کی نوید سنا رہی تھی ۔ گاؤں کی کچی زمیں پر رات بارش کی وجہ سے بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی اذان شروع ہونے میں تھوڑا وقت تھا گاؤں کی عورتیں اپنے خاندان کی خدمتوں میں بستر سے اٹھتی چہولا چوکی سنبھالنے لگی ۔یہ گاؤں باقی گاؤں کے لحاظ سے کافی حد تک خود مختار تھا ۔کیونکہ یہاں پر شاہ سائیں کی حکومت تھی ۔قاسم شاہ سائیں اس گاؤں کے سرپنچ تھے ۔برسوں سے انہیں کاخاندان اس گاؤں کی دیکھ ریکھ کر رہا تھا اس وقت صبح کے پانچ بجے تھے حویلی کے سب نوکر شاہ سائیں کے اٹھنے کا انتظار کر رہے تھے ابھی اذان ہونے میں تھوڑا سا وقت باقی تھا شاہ سائیں کوسستی سے نفرت تھی اور اس حویلی کے ملازموں کو شاہ سائیں کے غصے سے خوف آتا تھا ۔ شاہ سائیں کی مرضی کے خلاف اس حویلی میں کچھ نہیں ہوسکتا تھا اس حویلی میں تو کیا اس گاؤں میں بھی شاہ سائیں کے مرضی کے خلاف پتہ تک ہل نہیں سکتا تھا انصاف کے معاملے میں وہ اپنی اولاد کے ساتھ بھی نرمی سے پیش نہ آتے تھے لوگ انہیں سخت گیر کہتے تھے کیونکہ اپنے دو جوان بیٹوں اور داماد کو دفناتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو تک نہ گرا ۔ اس حویلی میں برسوں سے صرف شاہ سائیں کی ہی چلتی آئی تھی اور آگے بھی نہ جانے کتنے برسوں تک انکی ہی چلنی تھی ان کے اصول ان کا روعب پورے خاندان کے ساتھ پورے گاؤں پر پھیلا ہوا تھا ۔ قتل وغیرت کے معاملوں سے لے کر گاؤں کے گھر گھر کے پانی کا معاملہ تک شاہ سائیں خود سمبھالتے تھے ۔ یہ گاؤں ان کے لیے صرف ایک گاؤں نہیں بلکہ ان کا اپنا گھر تھا ان کا خاندان تھا ۔جس کا خیال رکھنا اپنا فرض سمجھتے تھے •••••••••••••••• آج سے 18 سال پہلے اس حویلی پر ملکوں کا ایسا قہر ٹوٹا جو ان کا خاندان تباہ کر گیا ان کے گھر کو ریزہ ریزہ کر گیا ان کی پانچ اولادیں سب سے بڑے عالم شاہ ان کے بعد حالم شاہ ان کے بعد بیٹی رضوانہ شاہ اور پھر احمد شاہ اور ان سب کے بعد ان کی سب سے لاڈلی اور پیاری بیٹی آہانہ جس کا نام لیتے ہوئے بھی اکثر ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے اس حویلی کے سب ہی لوگ شاہ سائیں کے لیے بہت اہم تھے سوائے حوریہ کے۔ وہ معصوم سی بےقصور لڑکی اس گھر میں ہر کسی کی نفرت کا شکار تھی اور اس نفرت کی وجہ اس کی ماں اہانہ شاہ نہیں بلکہ باپ احسن ملک تھا۔اس کا باپ جیسے اس نے زندگی میں کبھی دیکھا تک نہ تھا ۔جس کا لمس نے کبھی محسوس ہی نہ کیا تھا اس شخص کی نفرت کی وجہ سے وہ اپنی حویلی کے بیج نفرتوں کا شکار تھی۔ وہ اکثر سوچتی کہ وہ ان سب کی نفرتوں کا شکار کیوں ہے نانا سائیں اس کی طرف دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے ایک کردم لالا تھے جو اس سے محبت سے پیش آتے محبت سے تو مقدم لالہ بھی پیش آتے تھے لیکن وہ خود کو لالہ نہیں کہنے دیتے ہیں وہ اسے اپنی نظروں سے بہت کچھ پیغام دیتے تھے یہ نہیں تھا کہ وہ ان کی نظروں کے پیغامات سمجھ نہیں سکتی تھی وہ اتنی بھی بچی نہ تھی۔ وہ کبھی مقدم شاہ کی محبت کی طرف پیش قدمی نہیں کر سکتی تھی شاید وہ اپنی اوقات اس حویلی میں اچھے سے سمجھتی تھی ۔ کردم لالہ اورمقدم لالہ کے علاوہ اگر تائشہ کی بات کی جائے تو اسے صرف اپنے مطلب کے وقت ہی حوریہ کی یاد آتی تھی اس بے ضروسی لڑکی سے تائشہ کو بھلا کیا مطلب ہو سکتا ہے سوائے کردم شاہ کے وہ اس کے بچپن کا منگیتر تھا اس کا ساتھی تھا ۔اس کے خوابوں کا شہزادہ تھا تائشہ کا ہر جذبات اس کے ساتھ جڑا تھا ۔ لیکن کردم کے خیالات اس سے تھوڑے الگ تھے اس کا کہنا تھا انگوٹھی پہنا دی ہے شادی بھی کر لوں گا لیکن یہ پیار محبت کی میٹھی باتیں کرنا ایک دوسرے کا خیال رکھنا یہ سب کچھ شادی کے بعد ہی سوٹ کرتا ہے شادی سے پہلے یہ سب فضولیات ہیں منگنی کوئی ایسا مضبوط رشتہ نہیں جس کے بینا پر وہ تائشہ کو خوابوں کی دنیا دکھانا شروع کر دے۔کردم کی نظروں میں منگنی کی کوئی اہمیت نہ تھی ۔اہمیت تھی تو صرف اپنے دادا سائیں کی زبان کی ۔جس کی وجہ سے تائشہ کردم شاہ اس کے نام پر بیھٹی تھی ۔ ••••••••••••••••••
Complete novel available in DOWNLOAD LINK
