Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 (Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai) Epi 15
No Download Link
Rate this Novel
(Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai) Epi 15
ڈنر کے بعد بابا سائیں نے سب کو اپنے کمرے میں بلایا
تاکہ کردم اور دھڑکن کی شادی کے بارے میں سب کو بتا سکے
ان کے حکم کے مطابق تھوڑی ہی دیر میں سب ان کے کمرے میں حاضر تھے ۔
ہم نے سوچا تھا تین دن بعد بڑی مسجد میں ہم مقدم اور حوریہ کا نکاح کریں گے ۔
لیکن ہم نے سوچا ہے کہ کردم سائیں تو مقدم سائیں سے بڑے ہیں اسی لئے پہلے کردم کا نکاح ہوگا
بابا سائیں کی بات پر رضوانہ پھوپو نے مسکراتے ہوئے تائشہ کو دیکھا جبکہ تائشہ شرمانے کی پوری تیاری پکڑ چکی تھی
اسی لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آج سے تین دن بعد با روز جمعہ بڑی مسجد میں مقدم اورحوریہ سے پہلے کردم شاہ اور دھڑکن کا نکاح ہوگا بابا سائیں نے کمرے میں موجود سب لوگوں کے سروں پر بم گرایا
بابا سائیں یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میرا مطلب ہے کردم سائیں کا نکاح تائشہ سے ہوگا رضوانہ پھوپو جلدی سے بولی
یہ فیصلہ ہم نے کیا ہے رضوانہ اور اس فیصلے میں ہم کسی کی عمل دخل برداشت نہیں کریں گے ۔
ہم نے کہہ دیا کہ دھڑکن کا نکاح کر دم سے ہوگا تو ہوگا اب اس معاملے میں ہم کسی سے کچھ نہیں کہنا چاہتے اور نہ ہی کسی کے آگے جوابدہ ہیں یہی بتانے کے لئے ہم نے تم سب کو یہاں بلایا تھا اب تم سب یہاں سے جا سکتے ہو وہ سخت لہجے میں گویا ہوئے ۔
رضوانہ کا اس طرح سے مخالفت کرنا انہیں ہرگز پسند نہ آیا تھا ۔جبکہ تائشہ بے یقینی سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی جو اس کے حق میں آواز تک نہیں اٹھا رہی تھی ۔
وہ کچھ کہنے کے لئے آگے بڑھی رضوانہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا چل یہاں سے میری بچی مجھے پہلے ہی یقین تھا میری یتیم بیٹی کے سر پہ کوئی اپنا ہاتھ نہیں رکھے گا
آج آپ نے بھی ثابت کردیا کہ نواسی سے پوتی ہمیشہ عزیز ہوتی ہے وہ اس کا ہاتھ تھا میں اسے گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئی ۔
جبکہ سویرا اس تماشے کو دیکھ کر کافی انجوائے کر رہی تھی دھڑکن کی شادی اگر کردم سے ہوگئی تو اس کا کام اور بھی آسان ہو جائے گا
••••••••••••••••••
کمرے میں آنے کے بعد تائشہ نے خوب ہنگامہ کیا
یہاں تک کہ اپنی ماں کو بھی اچھی خاصی سنا ڈالی جبکہ وہ اسے سنبھالتی سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہ تھی آخر اس طرح سے اچانک کیسے اس کے کردم سائیں کو کسی اور کے ساتھ شادی کرنے کے لیے مجبور کر رہے ہیں
اسے تو یہی لگ رہا تھا کہ کردم کے ساتھ زبردستی کی جارہی ہے
کیونکہ وہ اس کا منگیتر ہے اس سے کوئی کیسے چھین سکتا ہے اسے
وہ بچپن سے اس کے نام پر بیٹھی ہے
اس طرح سے تو اچانک کسی اور کے ساتھ اس کی شادی نہیں کی جاسکتی ۔
اور وہ بھی جب کے کردم خود جانتا ہے کہ تائشہ اس کے لیے بچپن سے ہی کس طرح کے جذبات رکھتی ہے ۔
لیکن اس سارے ہنگامے پر کسی نے بھی کوئی خاص غور نہ کیا ۔
بس حکم کے مطابق تین دن کے بعد کردم کے ساتھ دھڑکن اور حوریہ کے ساتھ مقدم کا نکاح طے پا گیا
••••••••••••••••••
مقدم آج بہت خوش تھا اور مقدم کے حکم کے مطابق حوریہ اس سے ملنے اس کے کمرے میں بھی نہیں آئی تھی
اس کی وجہ سے اسے غصہ تو بہت آیا لیکن یہ سارے معاملات وہ شادی کے بعد بے باک کرنے والا تھا ۔
حوریہ بھی خوش تھی مقدم کی شوخ شرارتی نظریں دیکھ کر وہ خود سے بھی نظریں نہیں ملا پا رہی تھی
جبکہ کردم بالکل خاموش تھا اور دھڑکن کو اس کی خاموشی سے خوف آرہا تھا
وہ جانتی تھی کہ کردم سب کچھ سن چکا ہے اس دن اس نے کردم کے خلاف کیا کیا بکواس کی وہ سب جانتا ہے اس کے بعد بھی وہ دادا سائیں کے حکم کے مطابق اس سے نکاح کر رہا ہے
جب سے کردم اور اس کی شادی کی باتیں شروع ہوئیں تھیں دھڑکن کے دل میں کردم کے لیے عجیب سے احساسات پیدا ہونے لگے تھے
ہاں کل تک وہ اس سے دور بھاگتی تھی لیکن اسے ناپسند تو وہ کبھی نہیں کرتی تھی ۔
وہ شخص اس کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد تھا ۔اس کے لیے اپنے دل کی نرمی کو میں خود بھی محسوس کر چکی تھی اس کے نام سے اپنے چہرے پر چھانے والی سرخی اس کے نام سے دھڑکتا اپنا دل اس کی تو پوری دنیا ہی بدل چکی تھی
لیکن یہ بات الگ تھی کہ کردم کو دیکھ کر آج بھی اس کی جان جاتی تھی ۔
آج دھڑکن اور کردم کی نسبت طے کی گئی اوراس کے ساتھ ہی ان چاروں کے آج دن ڈالے گئے ۔
جس میں تھوڑی دیر کے لیے انہیں ساتھ بٹھایا گیا ۔
حوریہ بلکل سادہ سے سفید لباس میں مقدم کے قریب بیٹھی شرمائے جا رہی تھی
تم مجھ سے ملنے نہیں آئی نہ کل رات میرے کمرے میں میری بات نہ مان کر خود پنگا لے لیا ہے تم نے مجھ سے اب اپنے انجام کے لیے بھی تیار رہنا مقدم شاہ نے شرارتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی
۔جب کہ حوریہ اس کی باتوں کے ساتھ اپنے دل کی ایک ایک دھڑکن کو بھی باآسانی سن رہی تھی جو اس کے ساتھ بیٹھنے کی وجہ سے تیز ہو چکی تھی ۔
جبکہ ان کے ساتھ کچھ فاصلے پر کردم اور دھڑکن بیٹھے تھے ۔
دھڑکن مسلسل کانپ رہی تھی جبکہ کردم بالکل نارمل تھا ۔ہاں لیکن اس کے کانپنے کی وجہ سے ان کی کرسی ہل رہی تھی آرام سے نہیں بیٹھ سکتی تم وہ سرد لہجے میں گویا ہوا
انسان ہوں میں جن نہیں جو تمہیں کھا نہیں جاؤں گا وہ اسے سخت نظروں سے گھورتے ہوئے دھیمی آواز میں بول رہا تھا
جبکہ اس کی آواز سننے کے بعد دھڑکن کے مزید رونگٹے کھڑے ہوگئے
سو۔ ۔۔سو۔ سوری بڑی مشکل سے ایک لفظ زبان سے ادا ہوا
••••••••••••••••••••
یہ کردم سائیں کی منگنی تو بچپن میں ہی تائشہ بی بی کے ساتھ ہوگئی تھی ۔
تو پھر ان کی شادی کسی اور کے ساتھ کیوں ہو رہی ہے گاؤں کی ایک عورت نے پوچھا
پتا نہیں سننے میں تو یہی آیا تھا اور دیکھو تو سہی یہاں تو نہ رضوانہ بی بی ہیں اور نہ ہی تائشہ بی بی لگتا ہے خویلی میں کوئی ہنگامہ ہوا ہے ۔
ضرور تائشہ بی بی نے کچھ الٹا سیدھا کردیا جس کی وجہ سے کردم سائیں ان سے شادی نہیں کر رہے
پتا نہیں اب یہ بڑے لوگ ہی جانتے ہیں کہ کیا ہوا ہے مجھے تو بس یہ پتا ہے کہ کردم سائیں کی شادی اس لڑکی سے ہوگی
تو پھر منگنی ٹوٹ گئی کیا ۔دوسری عورت نے پوچھا
ظاہری سی بات ہے منگنی ٹوٹی ہے تبھی تو کہیں اور شادی ہونے جارہی ہے
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کردم سائیں نے خود ہی تائشہ بی بی سے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہو اب اس لڑکی کو دیکھو نہ کتنی پیاری ہے اس نے کردم شاہ کے ساتھ بیٹھی دھڑکن کی طرف اشارہ کیا
ہاں پیاری تو بہت ہے لیکن تائشہ بی بی بھی تو کسی سے کم نہ تھی ۔
ان کے کچھ فاصلے پر کھڑی نازیہ ساری باتیں سن چکی تھی بابا سائیں کے ایک فیصلے نے تائشہ کی ذات کو سوالیہ نشان بنا دیا تھا
ان کے ساتھ ساتھ گھر کے سبھی لوگ لوگوں میں ہونے والی باتوں کو محسوس کر چکے تھے
••••••••••••••••••
پھوپو سائیں کیا میں اندر آ سکتا ہوں کردم سائیں دروازے پر کھڑا رضوانہ سے اجازت مانگ رہا تھا اسے کمرے میں آتے دیکھ کر پریشان ہوگئی
رضوانہ نے خاموشی سے ہاں میں گردن ہلائی
کردم آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ان کے قدموں کے قریب آ بیٹھا
جانتا ہوں آپ مجھ سے خفا ہیں جانتا ہوں دادا سائیں نے جو فیصلہ کیا اس کی وجہ سے آپ کا خفا ہونا بالکل صحیح ہے
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ آپ سے محبت نہیں کرتے
دادا سائیں نےکیا سوچ کر یہ فیصلہ کیا مجھے نہیں پتا مجھے بس یہ بتا ہے کہ میری پھوپھو سائیں میری رسم میں شامل نہیں ہیں
پلیز پھوپھو سائیں میرا دل رکھ لیں سب نے کہا آپ نہیں آئیں گی لیکن میں پھر بھی اندر آیا ہوں یہ سوچ کے کہ آپ کبھی میری بات نہیں ڈالیں گی میری شادی کن حالات میں ہو رہی ہے
میں نہیں جانتا مجھے بس یہ پتا ہے کہ آپ کو میری شادی پہ آنا ہوگا
تائشہ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے میں جانتا ہوں
اس نے پھپھو کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی تائشہ کی طرف دیکھا جو بخار کی وجہ سے سرخ پڑچکی تھی ۔
جانتی ہو تائشہ میں تم سے تنہائی میں کیوں نہیں ملا کیونکہ مجھے قسمت کے فیصلوں پر یقین ہے
اگر میری شادی دھڑکن کے ساتھ ہونی لکھی ہے تو اسی کے ساتھ ہوگی اگر میں چاہتا تو تمہیں اپنی محبت کے حسین خواب دکھا سکتا تھا لیکن میں ایسا کیوں کرتا جبکہ میں قسمت کے فیصلوں پر یقین رکھتا ہوں
قسمت کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کب کس کے ساتھ جڑ جائے تم یوں بیمار ہوکہ مجھے گناہگار کر رہی ہو
میں تمہاری محبت سے انجان نہیں ہوں لیکن شاید تمہاری یہ محبت کسی اور کے حصے میں لکھی ہے ۔
جانتا ہوں تم نے میرے لیے اپنے دل میں ایک الگ مقام رکھا ہے ۔
لیکن وہ مقام میرا نہیں ہے تائشہ وہ خوبصورت مقام کسی اور کا ہے
میں نے کبھی تمہاری معصومیت کو رسوا نہیں ہونے دیا کبھی تمہاری عزت پر آنچ نہیں آنے دی کبھی تمہاری جذبات کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیا ۔
لیکن میں پھر بھی تم سے معافی مانگتا ہوں
جو کچھ بھی ہوا اس کے لئے مجھے معاف کر دو کردم نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑنا چاہئے جب تائشہ نے اس کے ہاتھ تھام لئے
کردم سائیں آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے آپ یہ سب کچھ کر کے مجھے گناہگار نہ کریں میں جانتی ہوں آپ کے ساتھ بھی زبردستی کی گئی ہے اس رشتے کے لئے
آپ بھی دھڑکن کو پسند نہیں کرتے لیکن شاید ہمارے نصیبوں میں یہی لکھا ہے
مجھے آپ سے کوئی گلا نہیں ۔
اس کا مطلب یہی ہوا کہ تم میری شادی میں شرکت کرو گی کردم نے پوچھا
اس نے ایک نظر رضوانہ کو دیکھا
اٹھے اماں سائیں تیار ہو جائیں ہمیں باہر چلنا ہے گاؤں والے باتیں بنا رہے ہوں گے
تائشہ نے بستر ایک طرف تہہ کرتے ہوئے کہا
اپنی خوشیوں کو آگ لگا کر مسکرانا کسے کہتے ہیں آج کوئی تائشہ سے پوچھتا
•••••••••••••••••
اس دن کے بعد اسے دھڑکن کہیں نظر نہ آئی تھی آج دو دن ہو گئے ان کے دن ڈالے ہوئے ۔
لیکن دھڑکن نہ جانے کہاں چھپ کر بیٹھ گئی تھی وہ غیر ارادی طور پر اس کا منتظر تھا ۔
ناشتے کی میز پر نہ ڈنر ٹیبل پر دن کے وقت وہ گھر پر نہیں ہوتا تھا ۔
ایک دو بار دل چاہا کہ وہ پوچھ لے لیکن پھر سوچا نہ جانے سب کیا سوچیں گے اور وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ آخر وہ اس کے بارے میں کیوں پوچھنا چاہتا ہے
کل نکاح تھا مقدم شاہ تو بہت خوش تھا ۔
اور اب کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر وہ حوریہ کو اپنے ساتھ شہر لے کر گیا ہے تاکہ اسے شادی کی شاپنگ کروائے اس کا ارادہ اس کو ہر چیز اپنی پسند کی چیزیں دلانے کا تھا
اماں سائیں نے پوچھا تو اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا اب دلہن میری من پسند ہے تو باقی ساری چیزیں بھی میری من پسند ہوں گی
کل نکاح کے بعد شام کو ان کی مایوں اور مہندی کی رسم ہونی تھی
جس کا فنکشن ساتھ میں رکھا گیا تھا ۔
حوریہ کے لیے ڈریس خریدا جا چکا تھا لیکن اس کے باوجود بھی مقدم اسے اپنے ساتھ لے کر گیا کیونکہ اس نے کہا تھا مہندی کی دلہن کو وہ اپنی پسند کا ڈریس دلوائے گا ۔
اس نے تو کردم کو بھی کہا تھا کہ دھڑکن کو ساتھ لے کر چلے لیکن کردم چاہ کر بھی اتنا بےباک نہیں ہوسکتا تھا
اس نے اپنے دونوں ہاتھ مقدم کے سامنے باندھے اور اسے کہا کہ تم اکیلے ہی جاؤ بھائی میں یہی ٹھیک ہوں
••••••••••••••••
سکول کا کیا بنا ۔کردم شاہ ڈیرے پر آیا تو پوچھنے لگا
سائیں چوہدری کہتا ہے زمین اس کی ہے اور وہ کوئی سکول وہاں پر تعمیر نہیں ہونے دے گا
ہم نے اسے بتانے کی بہت کوشش کی کہ اس کا باپ یہ زمین
شاہ سائیں کو بیچ چکا ہے
لیکن وہ مانتا ہی نہیں یہاں تک کہ پیپر تک چرا لئے ہیں اس نے نہ جانے کیا ہوگا شاید اسکول تعمیر نہ ہوسکے
نہیں یہ اسکول ضرور تعمیر ہوگا یہ داداسائیں کا خواب ہے اور یہ خواب ضرور پورا ہوگا یہاں بچیوں کی تعلیم کے لیے سکول ضرور تعمیر ہوگا اور کوئی چوہدری اس زمین پر قبضہ نہیں کرسکتا
چودھری کے باپ نے خود یہ زمین بیچی ہے
چوہدری یہ سب کچھ کر کے ٹھیک نہیں کر رہا بہت برا انجام ہوگا سب کا کردم کو چودھری کی بے ایمانی پر بہت غصہ آرہا تھا لیکن فی الحال گھرمیں شادی کے فنکشن سے چل رہے تھے اسی لیے وہ کسی قسم کا کوئی اشو افورڈ نہیں کر سکتا تھا
جہاں تک پیپرز کی بات ہے تو اصل کاغذات ہمارے پاس ہے جس نے اس کے اباواجداد کے سائن ہیں
•••••••••••••••
کچھ تو بولو خاموش کیوں ہو
مقدم سائیں جو کب سے اس سے باتیں کرتے ہوئے گاڑی چلا رہا تھا اس کے خاموش بیٹھنے پر بولا
بول تو رہی ہوں حوریہ نے نظریں جھکا کر کہا
تم بول نہیں رہی ہوں منمنا رہی ہو۔یار باتیں کرو میرے ساتھ یہ سب کچھ کیوں کیا ہے میں نے تم سے باتیں کرنے کے لئے تمہارے ساتھ وقت گزارنے کے لئے
اور تم ہو کہ منہ بنا کر بیٹھی ہو۔مقدم نے اس کے حسین چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
میں کیا بات کروں حوریہ کنفیوز ہوئی ۔
میری تعریف ہی کر دو ۔مقدم نے جلدی سے جواب دیا
کیا تعریف کروں حوریہ سیریز انداز میں بولی
کچھ بھی تعریف کر دو اپنی سوچ ہی بتا دو یہی بول دو مقدم سائیں آپ اتنے ہنڈسم.ہیں کہ پورے گاؤں کی لڑکیاں مرتی ہیں آپ پر اور آپ کا دل مجھ پر آگیا ہے ۔آپ ہیں جو مجھ سے محبت کر بیٹھے ہیں ۔مجھے دیوانوں کی طرح چاہنے لگے ہیں اور ایک میں ہو جو آپ کو گاس ہی نہیں ڈالتی مقدم اس کے چہرے پر نظر جمائے بولے جا رہا تھا
مقدم سائیں یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میں ایسا کبھی نہیں سوچتی حوریہ نے جلدی سے جواب دیا ۔
مطلب میں تمہیں ہنڈسم نہیں لگتا مقدم صدمے سے اس کی طرف دیکھا تھا ۔
نہیں آپ لگتے ہیں آگے جو آپ نے کہا ۔
اچھا تو میں ہنڈسم ہوں مقدم نے اس کی نظروں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
حوریہ شرما کر باہر دیکھنے لگی اس شخص کی باتوں کا مقابلہ کرنا اس کے بس میں نہ تھا ۔
دیکھا اب منہ پھیر لیا ٹھیک ہی تو کہتا ہوں کہ تم گھاس نہیں ڈالتی مجھے مقدم نے منہ بنا کر کہا ۔
پتا نہیں کیا سوچتے رہتے ہیں آپ میں نے کبھی نہیں سوچا آپ کے بارے میں ایسا ۔
تو پھر کب سوچو گی جانے من ۔مقدم شوخ ہوا
پلیز اب اس طرح کی باتیں نہ کریں اس نے اپنے سرخ گالوں کو دوپٹے سے چھپاتے ہوئے کہا
اف یار کتنا شرماتی ہو تم اچھا نہیں کرتا میں اس قسم کی باتیں یہ ساری باتیں ہم شادی کے بعد کریں گے پھر تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔جان من
مقدم نے پھر سے چھیڑتے ہوئے کہا جبکہ وہ تو بس شرمائے جارہی تھی پھر مقدم نے اسے خوب شاپنگ کروائی ۔
میں چاہتا ہوں تم اپنے آپ کو بس میرے نام کر دو میں جیسے چاہوں تمہیں سجاؤں ۔جیسے چاہے تم سے پیار کروں ۔بس میری بن جاؤ
وہ جذبات سے بھرپور لہجے میں بولا
جبکہ حوریہ اس کی قربت سے گھبراتی جلد سے جلد واپس گھر جانا چاہتی تھی
لیکن مقدم بھی اپنے نام کا ایک تھا اس نے واپس آتے آتے رات اندھیرا کر ہی دیا
