Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 35)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 35)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
وہ اسے ایک بہت ہی خوبصورت جگہ پر لایا تھا ۔
یہ چھوٹا ریسٹورانٹ تھا ۔
جس کے اندر دو بڑے بڑے کمرے تھے ۔جبکہ راہداری پھولوں سے بھری ہوئی تھی گلاب کے پھولوں کو اس طرح سے سجایا گیا تھا کہ دیکھنے والے کو وہ کوئی خوبصورت باغ نظر آتا تھا یا شاید پرستان کا کوئی حصہ ۔
بارش اب بھی ہو رہی تھی ماحول کافی سرد تھا ۔
ریسٹورنٹ کے اندر سب کچھ لکڑی کا تھا ۔
یہاں تک کہ میزوں پر رکھے ہوئے گملے بھی ۔
وہ اسے سب سے پہلے آزاد کشمیر میں لایا تھا یہ کوئی آزادکشمیر کا چھوٹا سا ہوٹل آبادی سے ذرا الگ تھا ۔
باہر بنی ہوئی سڑک پر ہر تھوڑی دیر کے بعد گاڑیاں نکلتی یہ ہوٹل ضرور آبادی سے ذرا الگ تھا لیکن باہر سڑک پر ہر تھوڑی دیر کے بعد گاڑیاں تیزی سے نکل رہی تھی یعنی کہ یہ آبادی کی طرف نکلتی واحد سڑک تھی ۔
اس سے تھوڑا سا آگے شہر کا بازار شروع ہو جاتا تھا ۔
جبکہ جس ہوٹل میں وہ رہ رہے تھے یہ جگہ اس ہوٹل سے کافی زیادہ فاصلے پر تھی ۔
چائے پینے کے بعد مقدم نے اسے واپس چلنے کے لیے کہا تو اس نے صاف انکار کر دیا ۔
مقدم سائیں تھوڑی دیر اور یہاں بیٹھتے ہیں نا کتنی پیاری جگہ ہے ۔حوریہ نے اس کا ہاتھ تھام کر محبت سے کہا تو مقدم نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ چوما
ٹھیک ہے میری جان تم ذرا یہاں بیٹھو میں دادا سائیں کو فون کر کے آتا ہوں ۔
وہ محبت سے اس کے گال کو چھوتا ہوا اٹھا اور۔ذرا فاصلے پہ ہوکر فون کرنے لگا تبھی شیشے کی دیوار کے سامنے ایک گاڑی آ کررکی جس میں سے دو لڑکیاں نکلی اور ہوٹل کے اندر چلی گئی آئی ۔
اور اس سے سامنے والے ٹیبل پر بیٹھی تھیں جبکہ ان دونوں لڑکیوں کا سارا دھیان باہر فون پر لگے مقدم پر تھا ۔
حوریہ ان کے تنگ و چست کپڑے غور سے دیکھ کر شرمندہ ہو رہی تھی جبکہ انہیں اس طرح سے مقدم کو دیکھتے ہوئے اچھا خاصہ غصہ آگیا
ان دونوں لڑکیوں کو گھوتے ہوئے اٹھی اور مقدم کا ہاتھ تھاما ۔
چلیں یہاں سے وہ اسے گھسیٹتے ہوئے بولی تو مقدم نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے روکنا چاہا
کیا ہوحورتم تو تھوڑی دیر اور رکھنا چاہتی تھی مقدم نے پوچھا ۔
کچھ نہیں ہوا بس ابھی کے ابھی چلیں میرے ساتھ وہ اس سے کہتی ان دونوں لڑکیوں کو گھورتے ہوئے اسے جواب دینے لگی جبکہ مقدم نے اس کی نظروں کا پیچھا کرتے ہوئے لڑکیوں کی طرف دیکھا تھا ۔
اپنی بیوی کے اس انداز پر سے ٹوٹ کر پیار آیا تھا ۔
اور اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا ۔
بیوی دیکھا تم نے وہ دونوں لڑکیاں کتنی پیاری تھی اور کیسے مجھے گھور رہی تھی گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے مقدم نے سے چھیڑتے ہوئے کہا تو حوریہ نے اسے گھور کر دیکھا
ایسی ہوتی ہیں پیاری لڑکیاں کپڑے دیکھے تھے آپ نے ان کے کوئی انہیں دیکھ لیں تو نظریں اٹھا کر دوبارہ نہ دیکھ پائے ۔
وہ کھا جانے والے انداز میں بولی تو مقدم نے ڈرتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کردی ۔
یار بہت خطرناک ہوتی جا رہی ہو تم اتنا کیوں منہ بنارہی ہو میں تو بس تعریف کر رہا تھا اور حسن کی تعریف کرنا ہر انسان پر فرض ہے ۔
اور ویسے بھی یہ لڑکیاں ہمیں دکھانے کے لئے ہی تو یہ سب کچھ پہنتی ہیں ۔
اور جب وہ ہمارے لیے اتنی محنت کرتی ہیں اپنا آدھا جسم دکھاتی ہیں تو ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم انہیں دل کھول کر سرہاہیں ۔
مقدم سائیں وہ اپنی عزتوں کا سودا کرتی ہیں جس پر صرف ان کے محرم کا حق ہوتا ہے اس طرح سے انہیں دیکھنے کا حق صرف ان کا شوہر رکھتا ہے یہ اس کی امانت ہوتی ہے ۔ حوریہ نے سمجھانا چاہا ۔
ہاں میری جان اور اگر وہ خود ہی اپنی امانت میں خیانت کر رہی ہے تو کسی مرد کی کوئی غلطی نہیں ۔اگر وہ اپنے شوہر کا حق اس طرح سے لوگوں میں تقسیم کر رہی ہے تو لوگوں کی غلطی نہیں اگر وہ اپنی عزتوں کا سودا کر رہی ہے تو غلطی عورت کی اپنی ہے
اسے دیکھنے والے مرد کی نہیں ۔
اگر عورت کو پردہ کرنے کا حکم ہے تو مرد کو بھی نظریں نیچی رکھ کر چلنے کا حکم ہے ۔ حوریہ جل کر بولی
اس دنیا میں عورت سے زیادہ مضبوط اور کچھ نہیں ہوتا ہی ہے ۔مرد تو فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بھی اسے دیکھ لے گا ۔لیکن ہمارا معاشرہ عورت کی ذات پر قائم ہے یہ معاشرہ عورت کی وفا پر قائم ہے مرد صدیوں سے بھٹکا ہوا ہے ۔
مقدم کی بات نے حوریہ کو شرمندہ کر دیا تھا
ویسے بھی کیا کروں ایسے نظارے مجھے میری بیوی نہیں کراتی تو کہیں تو کرنے ۔۔۔مقدم کی بات ابھی ادھوری تھی جب حوریہ نے مکہ بناکر اس کے سینے پر دے مارا ۔
اس کے حق جتلاتے انداز پر مقدم قہقہ لگا کر ہنسا تھا اور اس کا وہی ہاتھ تھام کر چوم ڈالا ۔
آئی لو یو میرے دل کا قرار وہ شدت سے بولا تو حوریہ اپنا ہاتھ چھڑارتی باہر دیکھ کر شرمانے لگی ۔
دادا سائیں نے کردم کو اپنے کمرے میں بلایا تھا ۔وہ جیسے ہی گھر واپس آیا سب سے پہلے ان کے کمرے میں گیا تھا ملازم نے کہا تھا کہ آج انہیں ان سے بہت ضروری بات کرنی ہے جبکہ ملازم اسے یہ بھی بتا چکا تھا کہ آج دوپہر ڈیرے میں ایک عورت ان سے ملنے آئی تھی ۔
تمہاری نانی آخری بار تم سے ملنا چاہتی ہیں وہ تمہاری دلہن کو دیکھنا چاہتی ہے ۔
دادا سائیں آپ جانتے ہیں کہ ممکن نہیں ہے کردم فورا ان کے قریب سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
کردم جو کچھ بھی ہوا اس میں عورتوں کی کوئی غلطی نہیں تھی وہ تمہاری نانی ہیں تم سے ملنا چاہتی ہیں وہ اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہی ہیں آج ان کی ملازمہ ملنےآئی تھی ہم سے ۔
اور ہمارے آگے گڑگڑا رہی تھی کہ ہم اس کی آخری خواہش پوری کریں ۔اور ہم وعدہ کرکے آئے ہیں کردم دادا سائیں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے یقین سے اپنے وعدے کے بارے میں بتایا تو وہ نظر جھکا گیا ۔
میں اس خاندان کے کسی شخص سے نہیں ملنا چاہتا دادا سائیں ۔اور جہاں تک ان کی عورتوں کی بات ہے تو حوریہ کی کوئی غلطی نہیں اگر آپ یہ بات نہیں سمجھ سکتے تو پلیز اس خاندان کی عورتوں کو بھی اتنی ہی سزا ملنی چاہیے جتنی حوریہ کو ملتی ہے
حوریہ کو اس گھر میں کوئی تکلیف نہیں ہے ۔
کیا اس کے لیے یہ تکلیف کم ہے کہ اس کا باپ اس کی ماں کا قاتل ہے کیا اس کے لئے یہ تکلیف کم ہے اس کے اپنے سگے نانا اسے اپنی نواسی نہیں مانتے
یا اس کے لئے یہ تکلیف کم ہے کہ اس کی خالہ اسے دن رات طعنے دیتی ہے ۔
یا پھرچھوٹی امی سائیں کی بات کر لیتے ہیں کس طرح سے انہوں نے حوریہ کی ذات کو اس کے کردار کو اپنے سخت لفظوں سے گھائل کیا ۔
اس لیے کہ وہ اس گھر کی بیٹی نہیں ہے
یا اس لیے کہ وہ ملک کے بیٹی ہے یاد رکھیں دادا سائیں اگر وہ ملک کی بیٹی ہے تو میں بھی ملک کا بھانجہ ہوں ۔
اگر ملک کی بیٹی کوخاندان سے محبت کرنے کی اجازت نہیں تو مجھے کیوں ۔
اگر ملک کے بیٹی کو خاندان سے ملنے کی اجازت نہیں تو مجھے کیوں ۔۔؟
معاف کیجیے گا دادا سائیں میں اس گھر میں تب تک قدم نہیں رکھوں گا جب تک حوریہ کو اس گھر میں وہ مقام نہیں ملتا جو کہ بیٹی کا ہوتا ہے مقدم نے اسے اپنی بیوی کا مقام دلوایا ہے لیکن میں اسے اس گھر میں اپنی بہن کا مقام دلواؤں گا اور یاد رکھیں دادا سائیں جس طرح سے آپ مجھ سے مقدم سے محبت کرتے ہیں یا پھر دھڑکن سے محبت کرتے ہیں اتنی ہی محبت آپ کو حوریہ کو بھی دینی ہوگی ۔
کیونکہ وہ اپنے اپنوں کو چھوڑ کر یہاں آرہی ہے ہمارے ساتھ اس کے لئے اس کے اپنے ہم ہیں اور اپنے محبت کرتے ہیں دادا سائیں نفرت نہیں ۔
جو محبت آپ ہمیں سکھاتے ہیں وہی محبتیں آپ اس معصوم سے کیوں نہیں کرتے جسے صرف چند دن کا اٹھا کر اس حویلی میں لے کے آئے تھے ۔اس معصوم کو دیکھ کر بتائیں مجھے کہ کیا وہ نفرت کے قابل ہے ۔
نہیں دادا سائیں وہ محبت کے قابل ہے اس گھر میں وہ ملک کی بیٹی بن کر نہیں آپ کی نواسی بن کر آئی تھی ۔پھر وہ کیوں آپ کی نفرتوں کے لائق ہے محبتوں کے نہیں ۔
آج پہلی بار ان کے سامنے کردم نے آواز اٹھائی تھی وہ تو کبھی ان سے کچھ نہیں کہتا تھا لیکن کب تک حوریہ کو یوں ہی تڑپتے ہوئے نفرتوں کی بارش میں بھیگتا دیکھتا رہے ۔
وہ ناجانے کیا کیا بول کر چلا گیا جبکہ دادا سائیں صرف یہ سوچ رہے تھے کہ کیا حوریہ ان کی نفرت کے قابل ہے ۔صحیح کہا تھا کردم نے جب وہ اس گھر میں آئی تھی تب شاہ سائیں کی نواسی بن کے آئی تھی نہ کہ ملک کی بیٹی
مقدم نے کمرے میں قدم رکھا تو حوریہ کہیں نہیں تھی۔ واشروم سے پانی گرنے کی آواز سن کر وہ بیڈ پر بیٹھا اس کا انتظار کرنے لگا ۔
آج دوپہر میں حوریہ کی جلن دیکھ کر نہ جانے کیوں اسے بہت مزہ آیا تھا صرف وہی اس کے لئے پاگل نہ تھا عشق کے کچھ جراثیم حورہہ میں بھی موجود تھے جو اسے جلن میں مبتلا کر رہے تھے اس کی حالت سوچ کر وہ ایک بار پھر سے مسکرایا ۔
کافی دیر انتظار کرنے کے بعد میں حوریہ باہر نہ آئی تو اسے پکارنا پڑا ۔
میرا سوہنا ماہی میرے دل کا قرار باہر آنے کا ارادہ ہے یا میں اندر آجاؤں وہ اونچی آواز میں دلکشی سے بولا تھا ۔
جبکہ اندر سے کوئی آواز نہ آئی ۔
مقدم آنکھیں بند کر کے وہیں بیڈ پر اس کا انتظار کرنے لگا تھوڑی دیر کے بعد واشروم کے دروازے کےکھلنے اور بند ہونے کی آواز سنائی دی ۔
مقدم ویسے ہی لیٹا رہا ۔
لیکن کافی دیر بعد بھی نہ اسے قدموں کے چلنے کی آواز سنائی دی اور نہ ہی حوریہ کو اپنے قریب محسوس کر پایا تھا وہ اٹھ کر واشروم کے دروازے کی طرف دیکھنے لگا ۔
جہاں حوریہ نظر جھکائے کھڑی تھی ۔_۔ اس کے کپڑوں کو دیکھ کر بے ساختہ مسکرایا تھا ۔
ٹائٹ جینز پر چھوٹی سی شرٹ پہنے وہ اس کے چودہ طبق روشن کرگئی ۔
وہ خاموشی سے آہستہ آہستہ چلتا اس کے قریب آیا ۔
اس کا جھکا ہوا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر کر اوپر اٹھایا
میرا بےبی اتنا جل گیا ان لڑکیوں سے ۔۔۔۔؟ وہ جذبات سے بھرپور لہجے میں بولا ۔
جب اس کے لفظوں کا مطلب سمجھ کر حوریہ نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور اگلے ہی لمحے مقدم کے قہقے سے پورا کمرہ گونج اٹھا حوریہ اسے دیکھ کر رہ گئی ۔
اسی طرح سے زور زور سے ہنستا پا کر حوریہ نے اسے دھکا دیا اور واپس لوٹ کے جانے لگی لیکن اس سے پہلے ہی مقدم نے اس کا ہاتھ تھام کر اس سے اپنے قریب کھینچ لیا ۔
ابھی اتنی محنت کر ہی لی ہے میرے دل کے قرارنے توداد تو وصول کر لو ۔
وہ اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے بولا ۔اس کے ہوش رُبا سراپے کو اپنی باہوں میں بھرے بیڈ لے آیا
حور تم بہت خوبصورت ہو ۔میرے لیے دنیا کی سب سے خوبصورت عورت ۔مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے تمہیں یہ سب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
تم سادگی میں بھی مجھے چاروں شانے چت کرنے کی اصلایت رکھتی ہو ۔
وہ اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے بولا ۔
اس دنیا میں کوئی اور تمھاری جگہ نہیں رہ سکتا ۔اس دل کی سلطنت نے تمہیں ملکہ کا کا مقام دیا ہے ۔
اب اس دل کی سلطنت پر اور کوئی قبضہ نہیں کر سکتا ۔مقدم شاہ کی محبت کے ” م ” پر بس تمہاری ” ملکیت ” ہے ۔
اس کے ” ح” پر بس تمہارا ” حق ” ہے
۔اس کی”ب” میں بس تم ہی تم “بسی ” ہو
اس کے “ت” میں بس تمہیں پانے کی “تڑپ” ہے ۔وہ اس کے چہرے کو نرمی سے اپنے ہاتھ میں بھرے اسے اپنی محبت کے حرف حرف کا مطلب سمجھا رہا تھا
جبکہ اس کے لفظ کو اپنے دل میں اترتا محسوس کرتی حوریہ اس کی باہوں میں پگھلنے لگی تھی
