267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 36)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

اب ان سب باتوں کا کوئی مطلب نہیں ہے چوہدری یہ زمین ہمارے نام ہو چکی ہے سب کچھ ہمارے پاس ہے ۔

اب بیکار میں یہ باتیں کرکے تم اپنا اور ہمارا وقت ضائع کر رہے ہو ۔

اس لیے میں نہیں چاہتا کہ یہاں کوئی بھی بد مزگی ہو میں اس زمین پر کام شروع کروانا چاہتا ہوں بہتر ہوگا کہ تم اپنا بوریا بستر یہاں سے اٹھاؤ اور یہاں سے نکل جاؤ چوہدری تین دن سے اس زمین پر قبضہ جمائے بیٹھا تھا

اس نے اپنے سبھی آدمیوں کو اس میں زمین پر لگایا ہوا تھا کسی بھی باہر والے کو زمینوں کی طرف آنے نہیں دے رہا تھا لیکن آج کردم کے غصے کی انتہا ہو گئی

دو دن میں یہاں پر کام شروع ہونے والا تھا ۔کل تک اسے لگ رہا تھا کہ چودھری خود ہی باز آجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا اس زمین پر بچیوں کا سکول بنانا داداسائیں کی خواہش تھی جسے پورا کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا تھا ۔

میں تمہیں آخری بار کہہ رہا ہوں کردم شاہ یہ زمین میری ہے اس پر میرا حق ہے مقدم شاہ کی مار کھانے کے بعد وہ دس دن تک ہسپتال میں رہا ۔اور اب ہسپتال سے واپس آکر پھر سے ان زمینوں پر قبضہ کرلیا آیا تھا ۔

اس وقت وہ بالکل بے فکر تھا اسے پتہ تھا کہ مقدم شاہ اس وقت یہاں نہیں ہے اور وہ جانتا تھا شاہ سائیں کے دونوں پوتوں میں سے باغی صرف مقدم ہے وہی اپنا غصے پر کنٹرول نہیں کرتا اور مارپیٹ پر آ جاتا ہے

جب کے کردم ایسے معاملات سمجھداری سے حل کرتا تھا ۔

مقدم شاہ کو یہاں نہ پاکر چودھری بالکل بے فکر تھا ۔

میں تمہیں دو دن کا وقت دے رہا ہوں چودھری ان دو دنوں میں مجھے تمہاری شکل اس زمین پہ تو کیا اس گاؤں میں بھی نظر نہیں آنی چاہیے ورنہ بہت پچھتاؤگے ۔

وہ اسے واڑن کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔

میں کسی سے نہیں ڈرتا کردم شاہ یہ زمین میری ہے اس پر میرا حق ہے اور یہ زمین میں تمہیں نہیں دوں گا ۔پیچھے سے دور دور تک چودھری کے چلانے کی آوازیں آرہی تھیں ۔

جبکہ کردم یہ سوچ رہا تھا کہ وہ اب دادا سائیں کو کیا جواب دے گا ۔

کہ اب تک زمینوں پر کام شروع کیوں نہیں کیا گیا

۔

ہمیں سمجھ نہیں آرہا کہ ہم تمہارے لیے کیا گفٹ لیں ۔ہم تو ٹھیک سے تمہاری پسند ناپسند کے بارے میں بھی نہیں جانتے

دادا سائیں نے بہت سوچا کہ وہ دھڑکن کو اس کی سالگرہ پر کیا تحفہ دیں لیکن پھر کنفیوز ہو گئے دھڑکن کی پسند آج اورتوکل کچھ اور تھی اسی لیے انہوں نے دھڑکن سے ہی پوچھنا بہتر سمجھا

او ہو دادا سائیں گفٹ پوچھ کر نہیں دیا جاتا آپ کو جو پسند ہے آپ دے دیں لیکن اچھا سا ہونا چاہئے جو مجھے بہت پسند ہو اس نے ایک شرط بھی رکھی

لیکن دھڑکن تمہیں کیا پسند آئے گا یہ بھی تو بتاؤ داداسائیں کے اس انداز پر احمد صاحب آہستہ سے مسکرائے تھے آہانہ کے بعد دھڑکن وہ پہلی لڑکی تھی جس سے دادا سائیں اس طرح سے بات کرتے تھے ۔

ویسے تو ہم تمہیں کچھ دن پہلے ہی ایک بہت خوبصورت تفہ دے چکے ہیں دادا سائیں نے سوچتے ہوئے کہا

کون سا تحفہ ۔۔۔۔؟ دھڑکن حیرت اور صدمے سے دیکھنے لگی وہ کونسے تحفے کے بات کر رہے تھے اور یہ نہ ہو کہ اس تحفے کی وجہ سے اسے نیا تحفہ نہ ملے ۔

کردم نے کمرے میں قدم رکھتے ہوئے ان کی آخری بات سنی تھی

ارے ہم نے تمہیں اپنا پوتا دیا ہے داداسائیں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

واپس لے لیں مجھے نہیں چاہیے کردم کے قدم دروازے پر یہ رک گئے

کیا کہا تمہیں ہمارا پوتا نہیں چاہیے دادا سائیں نے کہا ۔

اورنہیں تو کیا آپ سوچیں ہوسکتا ہے آپ مجھے ان سے بھی بہتر کوئی تحفہ دے سکیں دھڑکن کے انداز سے لگ رہا تھا کہ دادا سائیں کا یہ تحفہ اسے کچھ خاص پسند نہیں ۔

میری چھوٹی سی پٹاخہ سائیں گفٹ تو تمہیں میں دونگا ۔

کردم نے کمرے میں قدم رکھ کر اندر آتے ہوئے سوچا تھا ۔

دادا سائیں مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے اٹھو تم چائے بناؤ میرے لیے اس نے دا دا سائیں کے قریب بیٹھتے ہوئے اسے آرڈر دیا جس پر دھڑکن کا منہ بن گیا ۔

حد ہے چائے پی پی کر کالے ہو جائے دادا سائیں میں نے آج آپ کو دوپہر میں چائے کے نقصانات بتائے تھے نہ بتائیں ذرا دھڑکن نے آج سارا دن انٹرنیٹ پے چائے کے نقصانات نکالے تھے کیونکہ تین چار دن سے وہ مسلسل اس کے لئے چائے بنا بنا کر تھک چکی تھی ۔

ویسے تو اس نے ہر اسٹائل میں چائے بنا کر کردم کے سامنے پیش کی تھی لیکن نہ جانے کر دم کون سی مٹی کا بنا تھا کہ وہ جیسی بھی چائے بناتی خاموشی سے پی جاتا ۔

دادا سائیں آپ مجھے بتائیں چائے کے نقصانات اور آپ جائیں اور چائے بنائیں کردم نے اسے بھیجتے ہوئے کہا تو دادا سائیں اور احمد شاہ دونوں ہی مسکرا دیے

میں بھی چلتا ہوں دادا سائیں مجھے ذرا واک کرنی ہے ۔

احمدشاہ اٹھتے ہوئے دھڑکن کے ساتھ ہی باہر آگئے جبکہ دھڑکن نے جاتے ہوئے منہ کے اتنے ڈیزائن بنائے تھے کردم کے علاوہ سب ہی اس پر ہنستے رہے

تم کیا تحفہ دینے والے ہو ہماری پوتی کو دادا سائیں نے مسکراتے ہوئے کہا

میں خود تحفہ ہوں دادا سائیں کردم شاہ شرارت سے بولا ۔

ہم سیریس ہیں کردم

میں بھی سیریس ہوں دادا سائیں ۔

کل آپ اپنی پوتی کی آزادی ختم کردیں کل ہی رخصت کردم نے انہیں آئیڈیا دیا تھا

تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا کل اس کی سالگرہ ہے جو ہم بہت اچھے سے منانا چاہتے ہیں اور ویسے بھی ہمارا تحفہ اسے کچھ خاص پسند نہیں ہے داداسائیں نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔

وقت کے ساتھ گفٹ پسند آ جائے گا آپ فکر نہ کریں

مقدم کو تو آنے دودادا سائیں نے مسکراتے ہوئے کہا

انہوں نے ہنی مون پر جانے سے پہلے میرا انتظار کیا تھا نہیں نہ تو میں رخصتی کے لیے ان کا انتظار کیوں کروں ۔

کردم کے پاس آج ہر بات کا جواب موجود تھا ۔

ہماری پوتی اتنی اچھی لگنے لگی ہے دادا سائیں نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔

آپ کی پوتی نے تو نیندیں حرام کر رکھی ہیں ایسی چائے بنا کے دیتی ہے کہ ساری رات نیند نہیں آتی ۔

رخصت کریں اسے ٹھیک سے چائے بنانا سکھاؤں گا ۔

وہ ان کے قریب سے اٹھتے ہوئے بولا تو داداسائیں کا قہقہ بلند ہوا ۔

ہماری پوتی کے ساتھ رہ کر تم بھی بہت شرارتی ہوتے جا رہے ہو داداسائیں نے مسکراتے ہوئے کہا

بس آپ کی پوتی کی صحبت کا نتیجہ ہے وہ کمرے سے باہر نکل چکا تھا ۔

وہ ابھی کمرے سے باہر نکلا ہی تھا کہ سامنے سے تائشہ کو آتے دیکھا

میں آپ کے لئے چائے بناؤں کردم سائیں اس نے محبت سے پوچھا

نہیں دھڑکن بنا رہی ہے کردم نے کہا

لیکن وہ تو کمرے میں ہے وہ تو کچن میں آئی ہی نہیں تائشہ نے فورا اسے بتایا تھا ۔

آپ کو تو گھر آتے ہی چائے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے میں ابھی بنا لاتی ہوں تائشہ نے کہا

اس کی ضرورت نہیں ہے اسے کمرے میں کوئی کام پر گیا ہوگا ۔ فکر مت کرو مجھے چائے مل جائے گی ۔

اور ویسے بھی اب دھڑکن آہستہ آہستہ اپنے ساری ذمہ داریوں سمجھنے لگی ہےتمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔

میں دادا سائیں سے بات کرتا ہوں کہ تمہارے لئے کچھ دن پہلے جو رشتہ آیا ہے اس کی بات آگے چلائیں ۔

کافی اچھے لوگ ہیں دادا سائیں کو بھی بہت پسند ہے دیکھو تائشہ زندگی ایک جگہ روکنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا تمہیں اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہیے میں سمجھ سکتا ہوں تمہیں فلحال وقت کی ضرورت ہے لیکن وقت صرف سوچیں اور مشکلیں بڑاتا ہے ۔

وہ اسے سمجھاتے ہوئے آگے بڑھ چکا تھا جبکہ اس کی باتوں نے تائشہ کے زخموں پر نمک کا کام کیا تھا

مقدم سائیں کل دھڑکن کی سالگرہ ہے کیا ہم واپس نہیں جا رہے ابھی۔ وہ اس کے سینے پرسر رکھتے ہوئے پوچھنے لگی ۔

نہیں میری جان ابھی کچھ دن مزید ہم یہاں روکیں گے مقدم اسے لے کر سوات آیا ہوا تھا ۔

جبکہ اپنے پیچھے کسی کی نظریں وہ اب بھی محسوس کر رہا تھا اسے شک نہیں یقین ہو چکا تھا کہ کوئی ہے جو اس پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔

لیکن حور کو یہ ساری باتیں بتا کر وہاں سے پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا وہ خود بھی اس معاملے میں بے فکر تھا اس کا ماننا تھا کہ کوئی بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔

اور حور کو وہ ایک لمحے کے لئے بھی اکیلا نہیں چھوڑتا تھا

کردم نے جب پوچھا کہ سب کچھ ٹھیک ہے تو اس نے کہا سب کچھ بالکل ٹھیک ہے ۔

اور اگر ہمارے پیچھے دھڑکن کی شادی ہوگئی تو حور نے معصومیت سے پوچھا ۔

ہو جائے تو اچھا ہے نہ وہ دونوں بھی ہمیں جوائن کرلیں گے ۔مقدم نے مسکراتے ہوئے کہا

نہیں مقدم سائیں اگر انہوں نے شادی کرلی تو میری ڈریس کا کیا ہوگا

آپ کو یاد ہے آپ نے ریڈ ڈریس مجھے لے کر دیا تھا وہ میں کردم لالا کی شادی پر پہننے والی تھی ۔

حوریہ نے اس کے ساتھ اپنا سنگین ترین مسئلہ شیئر کیا تھا ۔

یہ تو سوچنے والی بات ہے تم ایسا کرنا کہ وہ ڈریس پھر کبھی پہن لینا مقدم نے آئیڈیا دیا

بالکل نہیں میں نے وہ لالا کی شادی پر ہی پہننا ہے میں۔لالہ کی شادی مس نہیں کرنا چاہتی

وہ معصومیت سے بولی

تم کچھ بھی مس نہیں کرو گی بے فکرر ہو وہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے بولا ۔

اب جلدی سے سونے کی تیاری پکڑو کیوں کے اگر اب تم نے میری نیند خراب کی تم نے تمہیں ساری رات نہیں سونے دونگا اس نے دھمکی دی ۔

جیسے سننتے ہی حوریہ نے اپنا سر کے سینے پر رکھ دیا ۔نیند کی وادیوں میں گم ہوتے ہوئے اس نے مقدم کی انگلیوں کو اپنے بالوں میں نرمی سے چلتے ہوئے محسوس کیا تھا