Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 77)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 77)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
جیندنے بھی بہت کوشش کی کہ مقدم کی طرح وہ بھی حوریہ کو نظر انداز کر دے لیکن نہیں کرپایا اس نے حوریہ کو صرف اپنی بہن کہا ہی نہیں بلکہ دل سے مانا بھی تھا
حوریہ کسی مصیبت میں ہو سکتی تھی کسی پریشانی میں ہو سکتی تھی اب تو مقدم کے ساتھ ساتھ کردم بھی اپنی روٹین میں واپس جاتا جا رہا تھا جیسے اسےبھی اب اپنی بہن کی پروا نہ ہو لیکن جنید اس طرح سے آنکھیں بند نہیں کر سکتا تھا اسے کسی بھی طرح حوریہ کا پتہ کروانا تھا
اسی لئے اب کردم اور مقدم دونوں کو نظر انداز کر کے وہ اکیلے حوریہ کو ڈھونڈ رہا تھا
احمد شاہ کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی اسی لئے انہیں ہسپتال میں شفٹ کر دیا گیا تھا جبکہ یہ بات دھڑکن نہیں جانتی تھی اس وقت انہیں اپنی بیٹیوں کی ضرورت تھی
دھڑکن اس بارے میں کچھ جانتی نہیں تھی اور سویرا کو اب صرف مقدم کی پڑی تھی دادا سائیں نے خود اس سے کہا تھا کہ وہ دن کے وقت اسپتال میں جایا کرے
جس پر سویرا نے کہا کہ اسے مقدم کے دل میں اپنی جگہ بنانی ہے اسی لئے فی الحال وہ کہیں جانے کا ارادہ نہیں رکھتی ۔
کردم کے علاوہ مقدم بھی دو تین بار ہسپتال ہو کے آیا تھا دادا سائیں وہاں آئے تو وہ خود پریشان لگے
دادا سائیں نے بہت سمجھایا کہ ہمہیں دھڑکن کو اس بارے میں سب کچھ بتا دینا چاہیے اور لندن میں ان کا علاج ہو سکتا ہے تو انہیں لندن چلے جانا چاہیے
جبکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ سویرہ کو اپنے ساتھ لے کے جائیں گے اور سویرا جانے سے صاف انکار کر چکی تھی اس نے کہا تھا کہ یہاں اس کا شوہر ہے گھر ہے سسرال ہے وہ یہ سب کچھ چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔ اور ویسے بھی اب مقدم سے اس کا نکاح ہو چکا تھا اسے احمد شاہ کی ضرورت نہیں تھی دادا سائیں کے بہت سمجھانے کے بعد احمد شاہ اپنے علاج کروانے کے لیے لندن جانےپر تیار ہو گئے تھے
لیکن وہ دھڑکن سے ملے بغیر جانا چاہتے تھے کیونکہ انہیں لگتا تھا کے دھڑکن ان کے چہرے سے ہی ان کی بیماری پکڑ لے گی ۔
وہ اس معاملے میں دادا سائیں بہت ضد کرکے بھی اپنی بات منوا نہیں پائے تھے
سویرا شام سے مقدم کا انتظار کر رہی تھی رات کے دو بج چکے تھے اور مقدم کا کہیں کوئی اتا پتا نہیں تھا ۔
آج خاض اس کے لئے اس کی پسند کے کلیر کی نائیٹی پہنے اپنا سراپا حسن بکھیرے بیٹھی تھی اور جس کے لیے یہ سب کچھ کیا تھا وہ تو بے خبر نہ جانے کہاں تھا ۔
انتظار کرتے کرتے وہ نیند سے بے حال ہوگئی پہلے شام کو اس کی پسند کا کھانا بناتے ہوئے ہی کافی تھک چکی تھی۔
ہار کر وہ سونے کے لئے لیٹ گئی تو مقدم کے گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی دی
اب آئیں ہیں جب آدھی رات گزر چکی ہے وہ غصے سے بربڑاتے ہوئے باہر نکلی جب مقدم کو دروازے سے اس کے دوست اپنے کندھوں پر ڈالے آ رہے تھے
بھابی سائیں کو کمرے تک پہنچانا ہے آج ضرورت سے زیادہ ہی پی لی ہے
اس کا دوست اسے دیکھ کر مسکرایا اور پھر اسے لے کر وہ کمرے میں گئے
سویرہ ڈارلنگ آئی ریلی مس یو میں نے بہت مسں کیا پورا دن بہت مس کیا بےبی تمہاری آنکھیں اس کے دوست ابھی اسے بیڈ پر لٹا ہی رہے تھے کہ جب بولنا شروع ہوا سویرا ان کے سامنے شرمندہ ہو کر رہ گئی
ہمیں لگتا ہے ہمیں چلنا چاہیے دونوں لڑکوں نے ایک دوسرے کی طرف اشارہ کیا اور وہ باہر جانے لگے تو سویرا اس کے قریب آ کر رکی
تمہاری آنکھیں حقیقت کا آئینہ ہیں وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے کھینچ کر خود پر گرانے لگا
تم بہت خوبصورت ہو ۔
اسےسختی سے خود میں بھیجتے ہوئے سرگوشیانہ انداز میں بولا
مقدم سائیں آپ مجھے ہرٹ کر رہے ہیں چھوڑیں مجھے اس کی باہوں میں وہ تڑپ کر رہ گئی ۔
پر میں تو صرف تمہیں پیار کر رہا ہوں وہ بدحواس ہوئے بولا
یہ کون سا طریقہ ہے پیار کرنے کا میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ میں نشے میں آپ میرے قریب نہیں آئو گے اچھے سے جانتی ہوں میں مرد نشے میں انسان سے حیوان بن جاتا ہے ۔
وہ اسے خود سے دور کرتی کمرے سے باہر جانے لگی جب مقدم نے بیڈ سے اٹھ کر اسے پکڑ کے ایک بار پھر سے اپنی طرف کھینچا
میں انسان ہوں یا حیوان تم میرے نکاح میں ہو تمہارا فرض بنتا ہے مجھے برداشت کرو اگلے ہی لمحے وہ اسے بیڈ پر دھکا دیتے ہوئے بولا
معاف کیجیے گا مقدم سائیں لیکن میں سویرہ ہوں حوریہ نہیں ہوں جس پر آپ کی یہ زور زبردستی اور بے دردی چلے گی وہ اسے دھکا دیتے ہوئے بیڈ سے اٹھے اور اپنا دوپٹہ اٹھاتے کمرے سے باہر نکل گئی اس وقت اس کے قریب رکنا سویرا کو مناسب نہ لگا ۔
وہ کافی دیر انتظار کرتی رہی شاید وہ اس کے پیچھے آئے گا ۔لیکن وہ نہ آیا سو گئے ہوں گے سویرا خود سے کہتی بیڈ پر آ بیٹھی
جبکہ مقدم کا اندازہ آج اسے بالکل اچھا نہ لگا تھا ۔لیکن جو بھی تھا اسے اس طرح سے مقدم کو خود سے دور نہیں کرنا چاہیے تھا کہیں وہ اس بات پر اس سے ناراض نہ ہو جائے
یہ کیا ہو رہا ہے وہ تھوڑی دیر پہلے ہی کالج کے واپس آئی تھی اور کام ختم ہونے کی وجہ سے آج کردم بھی جلدی کر واپس آ گیا تھا
پڑھائی کر رہی ہوں ہماری ٹیچرریحانہ بہت سخت ہیں اب تو وہ مجھے اسپیشل بھی نہیں سمجھتی مجھے بھی ڈانٹتی ہیں دھڑکن نے جب اسے آکر یہ بتایا تھا کہ سب لوگ اسے اسپیشل ٹریٹ کرتے ہیں اور اسے اچھا نہیں لگتا تو کردم خود اس کے کالج گیا تھا اور وہاں کی ٹیچر سے بات کی تھی کہ دھڑکن بھی ان کا اسٹوڈنٹ ہے
اور دھڑکن ساتھ بھی نارمل رہا کریں
اب وہ بھی ایک عام اسٹوڈنٹ کی طرح کالج میں رہ رہی تھی اور اب اس کی بہت ساری دوست بھی بن چکی تھی ۔
پر اب عام اسٹوڈنٹس کی طرح اسے بھی بہت ڈانٹ پڑ رہی تھیں خاص کر اردو کے پریڈ میں بس آج کل وہ اردو پڑھنے میں کچھ زیادہ ہی مصروف تھی
لیکن دھڑکن کل تو سنڈے ہے نا سنڈے کو چھٹی ہوتی ہے تم یہ سب کچھ کل کر لینا پھر الحال مجھے وقت دو وہ اس کی کتابیں بند کرتا ہوا اس کا ہاتھ کھینچ کر اپنی طرف لے آیا
کردم سائیں باقی بکس کل پڑھوں گی آج اردو پڑھنے دیں وہ پھر سے کتاب کھولنے لگی جب کردم نے ایک دفعہ پھر سے اپنی طرف کھینچا
تھوڑا سا ترس کھاؤ دھڑکن سائیں تم اچھی سٹوڈنٹ بننے کے چکر میں اپنے شوہر پر بالکل دھیان نہیں دے رہی ہو اور اگر تم نے ایسا کیا تو میں بالکل اچھا ہسبینڈ نہیں رہوں گا ۔
وہ اس کی بکس بند کرتے ہوئے اسے کرسی سے اٹھا کر باہر لے آیا ۔
لیکن کردم سائیں میں نے تو آپ کو اچھے ہزبینڈ کا سرٹیفیکیٹ دیا ہی نہیں تو آپ نے اپنے پاس سے کیسے اندازہ لگا لیا کہ آپ اچھے ہسبنڈ ہیں یانہیں وہ اس کے گردن میں باہیں ڈالتی اس کے سینے پر اپنا سر رکھ گئی جبکہ اس کی کیٙٹی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ان کے پیچھے آرہی تھی ۔
یار دھڑکن تم نے اسے کتنی بری عادت ڈال دی ہے ہمارے پیچھے چلنے کی وہ اسے دیکھ کر بولا
ایسا مت کہیں میری کیٹی کو کوئی گندی عادت نہیں ہے وہ بہت سویٹ ہے دھڑکن منہ بسور کر بولی
ویسے ہم کہاں جا رہے ہیں اسے دروازے کی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ نیچے اترنے کی کوشش کرنے لگی
ڈیٹ پے کردم نے سرگوشی نما آواز میں کہا تو وہ مسکرائی
مطلب آپ مجھے ڈیرے پر لے کے جا رہے ہیں وہ جب سے یہاں آئے تھے تب سے ہی دھڑکن نے دیکھنے کا شوق پال رکھا تھا اور کردم نے اسے یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کہ وہ ایک دن اسے ڈیٹ پرڈیرے پر لےکے جائے گا اس کے چہکنے پر وہ مسکرایا
ہاں میری جان ہم ڈیرے پر جا رہے ہیں ۔
پہلے مجھے نیچے اتریں میں چل کے جاؤ ں گی باہر گاؤں والے کیا کہیں گے
کہیں گے کردم سائیں اپنی پٹاکا سائیں سے بہت پیار کرتا ہے اس کے پاؤں گندے نہ ہوجائیں اسی لئے اسے اٹھا کے لے کر چل رہا ہے ۔
کردم نے شرارتی انداز میں آنکھ دبائی
بالکل بھی نہیں میں اپنے پیروں پر چلوں گی وہ تیز تیز ہاتھ پیر ہلاتی اگلے ہی پل نیچے تھی
اور اپنا دوپٹہ سر پہ سجا تی ہوئی گھر سے باہر نکلی ۔
اور کردم نے جب کیٹی کی طرف اشارہ کیا تو وہ اسے بھی اپنی باہوں میں اٹھاتی اس کے آگے آگے چل دی پھراسے احساس ہوا کہ اسے تو ڈیرے کا راستہ ہی نہیں آتا خیر کردم کے پیچھے چلنا اس نے زیادہ بہتر سمجھا ۔
مقدم باہر آیا تو سویرا اسے سامنے سے آتے دکھائی دی اس پر ایک ناگوار سی نظر ڈالتا وہ سیڑھیاں اترنے لگا
مقدم سائیں آپ مجھ سے خفا ہیں وہ تقریبا بھاگ کر اس کے قریب آئی تھی
کیا مجھے نہیں ہونا چاہیے الٹا اس سے سوال کرنے لگا
بلکل ہونا چاہیے میں نے حرکت ہی ایسی کی ہے پلیز مجھے معاف کر دیں میرا وہ ہرگز مطلب نہیں تھا
تمہارا کیا مطلب تھا اور کیا نہیں مجھے بس یہ پتا ہے کہ تم نے مجھے دوھکارا رہا ہے ۔میرے قریب آنے پر تو مجھ سے دور رہتی ہو
کل رات تم اپنی مرضی سے میرے کمرے سے آئی تھی اب میرے کمرے میں واپس مت آنا کیوں کہ جو مقدم کو ایک بار انکار کرتا ہے مقدم شاہ اسے پلٹ کر کبھی نہیں دیکھتا
لیکن تمہاری آنکھیں ۔وہ جاتے جاتے اس کے پاس پلٹ آیا
میں تمہیں آخری موقع دے رہا ہوں صرف تمہاری آنکھوں کی وجہ سے ۔
اب جاؤ موڈ ٹھیک کرو اور رات کو میرا موڈ ٹھیک کرنا وہ اس کا گال تھپتھپتا بنا کسی سے کچھ کہیں حویلی سے باہر نکل گیا
