267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 33)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

کردم نے پہلے سوچا کہ وہ ملازمہ کو بیچ کر دھڑکن کو بلا لے گا پھر دھڑکن کی ناراضگی کا سوچتے ہوئے وہ خود ہی اسے لینے کے لیے آگیا ۔

اس لگا تھا کہ شاید دھڑکن اس کے بلانے پر نہ آئے اور اس کا پلان دھرا کا دھرا رہ جائے ۔

کمرے میں داخل ہوا تو دھڑکن زمین پر بیٹھی زمین پر ہی سکیچ بک رکھے اس میں کچھ بنانے میں مصروف تھی

قریب آ کر دیکھا تو وہ دادا سائیں کی تصویر بنا رہی تھی ۔

وہ واقع ہی بہت ٹیلنٹڈ تھی۔

وہ کسی ماہر پینٹر کی طرح نہیں بلکہ کسی معصوم بچے کی طرح سکیچ بک زمین پر رکھے اس پر جھکی ہوئی تھی ۔

اور ساتھ ہی دادا سائیں کی ایک تصویر پڑی تھی اور بالکل سیم ٹو سیم سکیچنگ دھڑکن نے کی تھی۔

کردم نے دل ہی دل میں اسے داد دی جبکہ سے دیکھ کر دھڑکن کا موڈ آف ہو چکا تھا ۔

یہ دروازہ یہاں اس لیے لگایا گیا ہے تاکہ اسے کھٹکھٹا کر اجازت مانگ کر اندر آیا جائے وہ اسے یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ ‏مینرز نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے شوہر تھا عزت تو کرنی ہی تھی ۔

ہاں بالکل یہ دروازہ اسی لیے لگایا گیا ہے تاکہ اجازت مانگ کراندر آیا جا سکے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اپنی بیوی کے کمرے میں نے کے لئے مجھے اجازت کی ضرورت ہے ۔

چلو اٹھو میں تمہیں لینے آیا ہوں چلو باہر چلتے ہیں کردم اپنی طبیعت کے برخلاف مسکرا کر بولا تھا ۔

اپنی چہیتی تائشہ کو لے کے جائیں بلکہ تائشہ نہیں آپ تو پیار سے انہیں تاشی کہتے ہوں گے ۔ویسے بھی تو انکی غلطیاں آپ کو کہیں سے نظر نہیں آتی بلکہ ان کی غلطیوں پر آپ دوسروں کو ڈانٹتے ہیں ۔

دھڑکن کے لہجے میں جلن ہی جلن تھی ۔

اس کے خالص بیویوں والے انداز پر وہ بے اختیار مسکرایا تھا ۔

ارے یہ خیال مجھے پہلے کیوں نہیں آیا میں بیکار میں یہاں آگیا مجھے تو تائشہ نہیں بلکہ تاشی کےکمرے میں جانا چاہیے تھا وہ اس کے قریب سے اٹھتے ہوئے بولا جبکہ اس کی بات سن کر دھڑکن کا منہ کھل چکا تھا

ایسے کیسے اس کے کمرے میں جانا چاہیے تھا ۔باہر بیویوں کے ساتھ جایا جاتا ہے اور وہ آپ کی بیوی نہیں ہے دھڑکن نے یاد دلانے والے انداز میں کہا ۔

اسے لگا تھا کہ وہ اس اسے راضی کرنے کے لیے محبت سے سمجھائے گا لیکن یہ تو الٹا اس کے کمرے میں جا رہا تھا ۔

ہاں تو تم نے ہی تو کہا کہ تائشہ کے کمرے میں جاؤ ویسے بھی اگر بیوی اجازت دے رہی ہو تو رکنا نہیں چاہیے یہ موقعے کم ہی زندگی میں نصیب ہوتے ہیں کردم نے قدم آگے کی طرف برائے جب دھڑکن اس کے سامنے آکر رکی

بس بہت ہوگیا ۔

بہت شوق ہے نہ آپ کو ان کے ساتھ جانے کا ابھی دادوسائیں کو بتاتی ہوں ۔

وہ خود ہی آپ کا فیصلہ کریں گے بلکہ آج فیصلہ ہو کر رہے گا ۔

جب ان کو پتہ چلے گا نا کہ آپ نے بغیر کسی غلطی کے مجھے اتنا زیادہ ڈانٹا پھر پتہ چلے گا آپ کو ۔

بائی دا وے میں آپ کو بتا دوں کہ اب آپ کا پتا کٹ چکا ہے اور دادو سائیں کی لاڈلی میں ہوں دھڑکن نے اتراتے ہوئے بتایا ۔

گڈ لیکن اس وقت تم دادا سائیں کو کچھ نہیں بتا سکتی کیونکہ وہ سب لوگ شادی پر گئے ہیں لیکن فی الحال تم میرے ساتھ باہر چل سکتی ہو

میں نے تمہیں منانے کے لیے ایک اسپیشل سرپرائز پلان کیا ہے کردم نے مسکراتے ہوئے کہا ۔اس وقت وہ اسے مزید تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا اسی لیے پیار سے بولا

آپ نے پلان کیا ہے اس نے سوالیہ انداز میں پوچھا

ہاں بالکل کردم مسکرایا تھا

لائک سیریسلی آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کی اس بات پر یقین کروں گی مقدم لالہ کا آئیڈیا ہوگا دھڑکن نے اس کے ارادوں پر پانی پھیرتے ہوئے کہا ۔

اسے یہ تو پتہ تھا کہ وہ اسے ان رومانٹک سمجھتی ہے بلکہ تھی ۔

مگر یہ نہیں پتا تھا کہ وہ اسے اس حد تک بورنگ بھی سمجھتی ہے کہ اس سے اس طرح کی کوئی امید بھی نہیں تھی۔

تمہارا لالہ کوئی توپ نہیں ہے جو اس کی ہر بات مانوں گا یہ میری اپنی بھی پلاننگ ہے نہ جانے کیوں کردم اسے صفائیاں پیش کر رہا تھا۔شاید وہ اس کی ساری امیدوں پر کھڑا اترنا چاہتا تھا

چلو اب بہت ہوگیا چلو میرے ساتھ اس بار کردم نے حکم دیا تھا وہ اتنا بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا

کوئی زبردستی ہے کیا نہیں چلوں گی کیا کر لیں گے ۔

اگر نہیں چلوگی تو اٹھا کے لے جاؤں گا ۔کردم سختی سے بولا تھا ۔

بڑے آئے اٹھا کر لے جانے والے دھڑکن اسے اگنور کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھتی ہوئی بولی

جب اچانک کردم نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈال دیا ۔

دھڑکن میری برداشت کی ایک انتہا ہے ۔مجھ سے تمہارے بچوں والے نخرے نہیں اٹھائے جاتے وہ تیزی سے سیڑیاں اترتا اسے بول رہا تھا جبکہ دھڑکن اپنے آپ کو چھڑوانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی

مقدم اسے بالکل تنہائی میں لے کے آیا تھا یہاں پر ان دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ایک بہت ہی خوبصورت سے جھولے کو پھولوں سے سجایا گیا تھا

حوریہ بے اختیار مسکراتے ہوئے اس کی طرف آئی تھی۔

مقدم سائیں یہ کتنا پیارا ہے یہ آپ نے کیا ہے ۔وہ اسے دیکھ کرخوشی سے چہکتے ہوئے پوچھنے لگی تو مقدم نے ہاں میں سر ہلایا

میرے لیے ۔۔۔۔۔؟اس نے بے یقینی سے پوچھا تھا

نہیں ہوٹل کی روم سروسز کے لیے ۔

افکورس تمہارے لئے تمہارے علاوہ ہے کوئی جس کے لیے میں یہ کروں گا ۔

مقدم اس کے قریب آ کر بیٹھا ۔

تھینک یو مقدم سائیں آپ کو پتہ ہے مجھے بچپن سے اس طرح کے جھولے پر بیٹھے کا شوق تھا ۔

مجھے تمہارے بارے میں سب کچھ پتہ ہے حور مقدم شاہ کو تمہارے لفظوں کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے وہ تمہاری آنکھوں میں تمہاری خواہش پڑھ سکتا ہے ۔مقدم نے محبت سے اس کی دونوں آنکھوں کو چُوما تھا

مقدم نے آہستہ سے جھولے کو موو کیا تو وہ بے اختیار اس کے قریب آئی۔

تائشہ تو بچپن سے سہیلیوں کے ساتھ باغ میں جایا کرتی تھی اسے بھی بہت شوق تھا باغ میں جاکر جھولے پر بیٹھنے کا لیکن ملک کی وجہ سے دادا سائیں اسے کبھی حویلی سے باہر جانے کی اجازت نہ دیتے اگر وہ کسی کے ساتھ جا بھی سکتی تھی تو صرف اور صرف کردم کے ساتھ ۔

اور کردم کے سامنے اس طرح کی ننھی ننھی خواہشوں کا اظہار اس نے کبھی کیا ہی نہ تھا اگر کرتی تو شاید وہ اسے منع بھی نہ کرتا ۔وہ تو ہمیشہ سے اس کا بہت خیال رکھتا تھا

لیکن وہ اپنی وجہ سے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دیتی تھی ۔

اسے بالکل اندازہ نہ تھا کہ مقدم شاہ اس کے لئے کچھ ایسا کرنے والا ہے ۔

جھولے کو خوبصورت پھولوں کی تازہ لڑیوں کے ساتھ سجایا گیا تھا ۔حور ان تازہ پھولوں پے ہاتھ پھیرتی مقدم کے سینے میں سر رکھ گئی ۔

آپ مجھ سے ہمیشہ اسی طرح سے پیار کریں گے مقدم سائیں ۔ ۔۔۔وہ اس کے سینے پر سر رکھے آہستہ سے بولی

نہیں ۔ مقدم نے ایک لفظی جواب دیا توحوریہ اس کے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی ۔

وقت کے ساتھ میری محبت بڑھتی چلی جائے گی ۔کہتے ہیں محبتوں کا سلسلہ کبھی رکتا نہیں ۔لوگ کہتے ہیں کہ جس چیز کو ہم چاہنے لگے اور وہ ہمیں حاصل ہوجائے تو ہماری شدت میں کمی آجاتی ہے لیکن تمہارے معاملے میں لوگوں کی یہ بات غلط ثابت ہو رہی ہے حور

تمہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر دن تم میں میں ایک نئی حوریہ کو دیکھتا ہوں جس سے ہر روز مجھے محبت ہو جاتی ہے ۔

میں گرنٹی دے سکتا ہوں محبت بھر جائے گی حوریہ لیکن کم کبھی نہیں ہوگی ۔

اللہ کے سوائے دنیا کی اور کوئی طاقت ہمیں الگ نہیں کر پائے گی تم میری پہلی اور آخری چاہت ہو تمہارے بعد تو زندگی کی خواہش بھی نہیں رہی ۔

مقدم سائیں پلیز اس طرح کی باتیں نہ کریں ۔

کیوں مرنا تو ہے ایک دن سبھی مریں گے بات کرنے میں کیا حرج ہے مقدم اس کے انداز پر مسکراتے ہوئے بولا

ابھی تو زندگی شروع ہوئی ہے میں نہیں چاہتی کہ ہم مرنے مرانے کی باتیں کرکے اس کی ناشکری کریں۔

ابھی مجھے آپ کے ساتھ بہت ساری خوشیاں دیکھنی ہے ۔

جیسے کے۔ ۔۔۔۔۔؟ مقدم اس کے گرد باہیں پھیلائے آہستہ سے جھولے کو ہلانے لگا ۔

وہ تو ہمیشہ سے فرصت سے بیٹھ کر اس سے باتیں کرنا چاہتا تھا اس کی خواہش جاننا چاہتا تھا اس کی پسند ناپسند کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا لیکن وہ کم گو سی لڑکی کچھ بولتی نہیں تھی آج وہ بولنے پر آئی تو مقدم نے اسے روکا نہیں ۔وہ اس کی ہر بات میں ایک نئی بات نکال رہا تھا

جیسے کے ہم یہاں سے جائیں گے تو کردم لالہ کی شادی کی خوشی ۔پھر تائشہ دیدہ کی شادی بھی تو ہوگی ۔

ویسے مجھے تائشہ دیدہ کے لیے بہت برا لگا کہ ان کی شادی کردم لالا سے نہیں ہوگی اور وہ ہمیشہ کے لئے یہاں نہیں رہ سکیں گی لیکن دھڑکن کے لیے اچھا بھی لگ رہا ہے اب وہ ہمیشہ ہمارے پاس رہے گی حوریہ نے خوشی سے کہا۔

اور پھر کردم لالا کے بچے میں ان سے بہت پیار کروں گی ۔۔۔وہ ایکسائٹڈ سی بتانے لگی

اور ہمارے بچے ۔۔۔۔۔؟مقدم نے آہستہ سے ان کے کان میں سرگوشی کی ۔

جبکہ حوریہ اس بار نظر اٹھا کر بھی اسے نہ دیکھ پائی

یہ چیٹنگ ہے حوریہ اپنے بھائی کے بچوں کو کس طرح سے محبت سے یاد کر رہی ہو اور میرے بچے ۔خبردار جو تم نے میرے بچوں میں محبت کی کمی کی تو۔

ویسے تو تم بہت پیاری ہو مجھے نہیں لگتا بھی تم ظلم ٹائپ ماں ثابت ہو گی ۔

لیکن پھر بھی میں تمہیں وارن کر رہا ہوں ۔مجھے اپنے بچوں کے لئے ایک پیاری سی ماں چاہیے ۔

اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے شرارت سے بولا

حوریہ کو بالکل بھی امید نہ تھی کہ وہ اس سے اس طرح سے بات کرے گا ۔

وہ تو بس اپنی خوشیوں گنے جا رہی تھی اپنے بچوں کے بارے میں تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا ۔

اچھا بتاؤ نہ کہ کب تک خوشخبری ملے گی ۔اس کا شرمایا ہوا روپ دیکھ کر مقدم نے پھر سے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی ۔

مجھے کیسے پتہ ہوگا وہ شرما کے اس کے سینے میں منہ چھپا گئی ۔

تو پھر کسے پتہ ہوگا بتاؤ میں اسی سے پوچھ آتا ہوں ۔

مقدم نے مسکراتے ہوئے اس کی تھوڑی کو اونچا کیا ۔

آپ بہت بے شرم ہیں ۔وہ اس کا ہاتھ ہٹاتی اس کے سینے میں منہ چھپا گئی جب مقدم مسکرایا ۔

شادی کے تیرویں دن بھی وہ پہلی رات کی طرح شرما رہی تھی ۔

شاید یہی چیزمقدم کو اس کا مزید دیوانہ کرتی تھی ۔

ہاں یار کیا کروں مجھے اپنے بچوں کی بہت جلدی ہے اب ان کا باپ اتنا ذمہ دار ہو گیا ہے ۔تو بچوں کو جلدی آنا چاہیے نا ویسے بھی میں نے سنا ہے کہ بچوں کے بعد پیار بڑھ جاتا ہے میں تو دن رات اپنا پیار بڑھنا چاہتا ہوں ۔

اسے اپنے سینے سے لگائے آہستہ آہستہ بولتے ہوئے مقدم کو ایک بار پھر سے اپنے پیچھے کسی کا سایہ محسوس ہوا ۔

نجانے سے کیوں لگ رہا تھا کہ کوئی اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے ہے ۔

مقدم نے غیر محسوس انداز میں ہر طرف دیکھا تھا وہ حوریہ کو خوفزدہ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔

مقدم سائیں موسم خراب ہورہا ہے چلے اندر چلتے ہیں ۔حوریہ اسے دیکھتے ہوئے بولی ۔

ہاں چلو اندر چلتے ہیں تھوڑی دیر میں بارش ہونے والی ہے کمرے میں چل کر اس بھیگی بارش کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔

مطلب ہم بارش میں بھیگے گے حوریہ نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا

اس کے بچکانہ انداز میں مقدم بےاختیار مسکرایا ۔

ہاں بالکل اس موسمی بارش کے ساتھ ساتھ اپنے پیار کی بارش میں بھی ۔

مقدم ذومعنی انداز میں کہتا اسے ایک بار پھر سے شرمانے پر مجبور کر گیا تھا

وہ اس سے حویلی کے پیچھے لے آیا تھا ۔یہ تو شکر ہے کہ اس کو آتے ہوئے گھر کے ملازموں نے نہیں دیکھا تھا ۔ورنہ کردم شاہ کا یہ روپ دے کر یقینا بے ہوش ہو جاتے ۔لیکن یہاں سے دھڑکن کے کمرے میں جاتے ہوئے کردم میں سب نوکروں چھٹی دیتی تھی سوائے جنید کے

چھوڑیں مجھے یہ کیا طریقہ ہے ہر بات میں زبردستی اور دھونس نہیں چلے گی وہ ا سے دھکا دے کر اس سے دور ہوئی تھی

اس کی یہ حرکت دھڑکن کو ہرگز پسند نہ آئی تھی ۔

دیکھو دھڑکن میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا تمہارے نخرے ایک حد تک برداشت کروں گا میں ۔

سو حد سے زیادہ میرے بس میں نہیں ہے دیکھو یہ سب کچھ دو گھنٹے کی محنت سے کیا ہے اس نے بڑے سے درخت کے ایک سرے سے جھولے کو دکھاتے ہوئے کہا جیسے پھولوں کی لڑیوں سے سجایا گیا تھا ۔

لکڑی کے بڑے سے ٹکڑے کو نرم گدوں سے خوبصورت کرسی کا روپ دیا گیا تھا ۔

دھڑکن جھولا دیکھ کر کردم کو دیکھنے لگی ۔

جو مسکرا کر اس ایکسپریشنز دیکھ رہا تھا شاید نہیں یقینا سے یہ سرپرائز بہت پسند آیا تھا ۔

آپ نے مجھے بے وقوف سمجھا ہوا ہے ۔کیا لگتا ہے آپ کو کہ اگر آپ یہ کہیں گے کہ یہ سب کچھ آپ نے کہا ہے میں یقین کرلوں گی ۔

کردم سائیں میں چھوٹی ضرور ہوں بے وقوف نہیں ۔

ایک نظر خود کو شیشے میں دیکھ کر سوچیں کیا آپ یہ کر سکتے ہیں ۔وہ اسے گھورتے ہوئے یقین سے کہہ رہی تھی کہ یہ سب کچھ اس نے نہیں کیا ۔

تبھی دوڑتا ہوا جنید آیا اور کردم کا موبائل اس کے ہاتھ میں دیا

شاہ سائیں آپ کا فون ۔۔۔جنید اس طرح سے کبھی نہ آتا اگر اس کے فون پر چودھری کا فون نہ آرہا ہوتا ۔

کردم نے اس کے ہاتھ سے فون لیا اور ایک طرف ہو گیا جبکہ جنیددھڑکن کے قریب سرجھکائیں ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔

سنو یہ سب کچھ کردم سائیں نے کیا ہے کیا ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جبکہ کردم کے تیز کانوں نے اس کی آواز سن لی تھی ۔

مطلب اس لڑکی کو اپنے شوہر پر یقین نہیں تھا لیکن نوکر پر یقین تھا ۔

جی بی بی جی یہ کردم سائیں ہی دو گھنٹے سے کر رہے تھے ۔

تھوڑی دیر چوہدری سے بات کر کے کردم دوبارہ اس کے قریب آگیا ۔

اب اگر کوئی بھی ڈسٹرب کرے تو خود ہی ہنیڈل کر لینا مجھے مت دینا اس نے جنید کو واڑن کرنے والے انداز میں کہا اور وہ اس کے ہاتھ سے فون لے کر وہاں سے چلا گیا ۔

کرلی تشویش آگیا یقین کہ یہ سب کچھ میں نے کیا ہے ۔۔

وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جھولے پر بیٹھا رہا تھا ۔

ہاں آگیا یقین کا یہ سب کچھ آپ نے کیا ہے لیکن یہ کس کا آئیڈیا ہے یہ بتائیں کیونکہ یہ آپ خود نہیں کر سکتے ۔

آپ دنیا کے بورنگ ترین انسان ہیں پتا ہے مجھے یہ آپ نے نہیں کیا بتائیں کس نے کیا ہے وہ جھولا ہلاتے ہوئے بولی ۔

کردم نے ایک نظر اس کے چہرے پر دیکھا پھر بے اختیار مسکرا دیا ۔

ہاں یہ میرا آئیڈیا نہیں ہے تمہارے لالہ کا ہے لیکن وعدہ کرتا ہوں کے آگے زندگی میں اپنے آئیڈیاسے مناؤں گا تمہیں کردم نے ہار مانتے ہوئے اس کے جھولے کو ہلایا ۔

دھڑکن کھلکھلاتے ہوئے جھولا جھولنے لگی ۔

دیکھا میں نے بتایا تھا نہیں آپ نے نہیں کیا ۔دھڑکن مسکراتے ہوئے بولی۔

اچھا لگا مجھے کہ تمہیں پتا چل گیا کہ یہ میں نہیں کر سکتا لیکن میں یہی چاہتا ہوں کہ تم آگے زندگی میں بھی مجھے اسی طرح سے سمجھو تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ میں کیا کرسکتا ہوں اور کیا نہیں ۔

تمہیں میرے بارے میں سب کچھ جننا ہوگا ۔

میں جانتا ہوں تمھیں اس بات کا بہت دکھ ہے کہ میں نے تائشہ کی وجہ سے تمہیں ڈانٹا ۔

لیکن اس کے پیچھے بھی ایک وجہ تھی دھڑکن میں حویلی میں کوئی تماشہ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔

تمہیں ڈانٹ پھٹکار کے میں تمہیں منع تو کر سکتا تھا لیکن اگر تائشہ کو ڈاٹتا تو یہ بات بڑوں جاتی ۔

اور فی الحال دادا سائیں لڑکیوں کے سکول کی وجہ سے پہلے ہی بہت پریشان ہیں میں انہیں اس طرح سے پریشان نہیں دیکھنا چاہتا وہ ہماری شادی سے بہت زیادہ خوش ہیں

میں نہیں چاہتا کہ ان ذرا ذرا سے باتوں کی وجہ سے ان کے چہرے پر اداسی آئیں اور مجھے یقین ہے کہ تم بھی ایسا نہیں چاتی ۔

بس پانچ چھ دن کی بات ہے پھر تم ہمیشہ کے لئے میرے پاس آ جاؤگی ۔

وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ بھی تمہیں غلط بات پر نہیں ڈانٹوں گا دھڑکن میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی غلطیوں کو قبول کرنے سے ڈرتے ہیں لیکن تم بھی اپنی غلطیوں پر ڈانٹ کھانے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا ۔

کردم نے اس بار اس کے جھولے کو روکتے ہوئے کہا تھا ۔

کردی نہ ہٹلر والی بات دکھا دیا نا اپنا آپ

یہ میری غلطی ہے جو میں نے سوچ لیا کہ قاسم شاہ سائیں کا پوتا رومینٹک ہوگیا ہے ۔

ہائے کہاں قسمت پھوٹی ہے میری ۔چلے اب شروع ہو جائے وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی

کیا شروع ہو جاؤں کردم کنفیوز ہوا ۔اس کی یہ بے فضول سی دہائیاں اسے بالکل سمجھ نہیں آرہی تھی

وہی سب جو جو آج کل کے مرد اپنی بیویوں سے کہتے ہیں میرے کھانے کا خیال رکھنا میرے جوتوں کا خیال رکھنا میرے موزوں کا خیال رکھنا مجھے کسی چیز کی شکایت نہیں ملنی چاہیے اگر میں تمہیں کوئی ڈانٹے تو سکون سے اس کی ڈانٹ سننا ۔

اگر کوئی مارے تو ڈنڈا خود اس کو اٹھا کر دینا ۔

اگر ساس باتیں سنئں اف سوری ساس ہی نہیں ساس کا رول تو آپ پلے کر رہے ہیں

۔طنے آپ ماریں گے ۔اور رہی بات میری نند کی تووہ اللہ کا شکر ہے کہ ہے ہی اچھی ۔ویسے اگر دیکھا جائے تو سویرا دیدہ بھی میری نند ہوئی نا اور تائشہ دیدہ بھی تائشہ کا نام لیتے ہوئے اس کی آواز کم ہوگئی تھی لیکن قہقہ بہت زور کا بلند ہوا تھا ۔

اس کے اس طرح سے ہنسنے پر وہ بھی مسکرایا ۔

اب اسے یہ کہہ کہ تم ہنستے ہوئے پیاری لگتی وہ مزید اسے سر پر نہیں چڑا سکتا تھا پہلے ہی اس کے بہت نخرے اٹھا چکا تھا ۔

تم بہت فضول بولتی ہو دھڑکن تمہاری باتوں کا نہ سرہے نہ پیر اس نے تعریف کرنا ضروری سمجھا جو دھڑکن نے سر کو خم دے کر قبول کی

آپ ایسے کیا دیکھ رہے ہیں جھولا جھولائے مجھے اگر رومینٹک ہونے کی تھوڑی کوشش کر ہی لئے تو مکمل طریقے سے کریں دھڑکن نے اس کے دونوں ہاتھ رسیوں پر رکھتے ہوئے کہا ۔

تو کردم نے مسکراتے ہوئے اس کے جھولے کو دھکا دیا اور اس کے ساتھ ہی وہ کھلکھلائی تھی ۔

مقدم سائیں بارش کا موسم تو بنا ہوا ہے لیکن بارش ہونے کا نام نہیں لے رہی حور بالکنی میں کبھی ادھر تو کبھی ادھر ٹہل رہی تھی ۔

لیکن بارش تھی جو ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔

لگتا ہے یہ بارش نہیں ہوگی پھر ہم اپنی بارش برساتے ہیں مقدم نے کھینچ کر اسے اپنے قریب کیا ۔

بالکل نہیں جب تک بارش نہیں ہوتی تب تک آپ میرے پاس نہیں آ سکتے ۔

حوریہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس سے دور کیا جبکہ وہ اس کی ننھی سی فرمائش پر عمل کرتے ہوئے ذرا دور ہوا پانچ نہیں تو دس منٹ میں بارش ویسے بھی سٹارٹ ہونے ہی والی تھی ۔اتنا صبر تو وہ کر ہی سکتا تھا ۔

وہ اپنا لمباسا دوپٹہ ہوا میں لہراتی ادھر سے ادھر کہ رہی تھی جب اچانک بارش کا ایک ننھا سا قطرہ اس کے چہرے پہ آگیا ۔

اس سے پہلے کہ حوریہ اسے محسوس کرتی مقدم اسے کھینچ کر اپنے قریب کر چکا تھا ۔

ہوگئی شروع بارش اب پابندی ختم وہ اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے محبت سے بولا

ابھی ٹھیک سے شروع نہیں ہوئی وہ بے بسی سے بولی لیکن اس کے کہنے کی دیر تھی کے بارش نے زور پکڑتے ہوئے ان دونوں کو بھیگو ڈالا ۔

اب تو کوئی اعتراض نہیں ۔

وہ مسکراتے ہوئے اس کے چہرے پر جھکا جبکہ حوریہ اس کی باہوں میں سمٹتی برستی بارش کے ساتھ اس کی محبت کی بارش میں بھیگتی چلی جا رہی تھی

مبارک ہو کردم سائیں ہو گیا ستیانہ آپ کے آئیڈیا کا اگر کچھ کرنا ہی تھا تو اس موسم میں کرنا ضروری تھا ابھی دھڑکن کے ساتھ مشکل سے تھوڑا سا وقت ہوا تھا کہ بارش شروع ہوگئی

مقدم سائیں کا کوئی آئیڈیا میرے کام آ جائے ایسا تو ممکن ہی نہیں وہ بدمزہ ہوکر بولا تھا ۔

دھڑکن جھولے سے اترتی حویلی کے اندر جانے لگی کہ کردم نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچا تھا ۔

دھڑکن میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں

وہ اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے بولا اسے اپنی اس قدر قریب سنجیدہ دیکھ کر دھڑکن ایک پل کے لئے کنفیوز ہو گئی۔

کیا ۔۔ ۔۔۔؟

اس کی بدلتی نظروں کو دیکھ کر دھڑکن فوراً ہی وہاں سے جانا چاہتی تھی ۔

جھولے کا آئیڈیا ضرور مقدم شاہ کا تھا اور بارش اللہ میاں نے دی ہے ۔لیکن اس بارش میں بھیگنے کا آئیڈیا میرا ہو سکتا ہے ۔

وہ مسکراتے ہوئے بولا ۔

ہم آپ کے آئیڈیا دینے سے پہلے ہی بھیگ چکے ہیں ۔اس نے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا جب کرد م نے اس کا ہاتھ چھوڑ کروہی ہاتھ اسکی کمر میں ڈال کر اسے مزید اپنے قریب کیا ۔

مزید بھیگتے ہیں ۔میں نہیں چاہتا کہ اسی سال بعد تم مجھ سے یہ کہو کہ نکاح کے بعد پہلی بارش میں آپ نے مجھے بھیگنے نہیں دیا ۔

کردم نے نرمی سے اس کے گالوں کو اپنے لبوں سے چھوا دھڑکن خود میں سمیٹتی اس سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی ۔

تو بولو نا اسی سال کے بعد بھی تم میرے ساتھ اسی طرح بارش میں بھیگو گی ۔

آپ میرے ساتھ زندگی کے اسی سال گزارنا چاہتے ہیں دھڑکن کو جب سب راہ فرار بند دکھی تو وہ اسی کی سینے میں منہ چھپاگئی ۔

ہاں اسی سال گزارنا چاہتا ہوں تمہارے ساتھ بس یہ پانچ دن گزر جائے گا۔کردم نے اسے اپنے سینے میں چھپاتے ہوئے شرارت سے کہا تو وہ کھلکھلائی ۔

مجھے نہیں پتا تھا آپ اتنے بے صبر ےہیں۔

اپنے بالوں میں اس کے ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے ہوئے دھڑکن آہستہ سے بولی ۔

کرلیتا میں صبر یار اگر اس رات میرے اتنے قریب آکر تم مجھ سے دور نہ جاتی ۔

اب ایک بار میرے قریب آؤ پھر تمہیں بتاؤں گا کہ میں کتنا رومینٹک ہوں اس دن بھی ٹھیک سے نہیں بتا پایا ۔

کردم شرارتی انداز میں بولا ۔

ویسے آج کے اس سرپرائز کے بعد تم یہ تو کہہ ہی سکتی ہو کہ میں بورنگ نہیں ہوں ۔

ہاں اور آپ کے بارش میں بھیگنے والے آئیڈیا کے بعد یہ بھی نہیں کہہ سکتی ہوں کہ آپ رومنٹک نہیں ہیں ۔وہ اس سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی جب کردم نے اسے مزید اپنے قریب کیا ۔

اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے کردم نے نرمی سے اس کی آنکھوں کو چھوا تھا ۔

دھڑکن تم بہت عزیز ہوتی جارہی ہو یار اس طرح سے تو میرا گزارہ اور بھی مشکل ہو جائے گا وہ اس کے نرم گالوں کو اپنے لبوں سے چومتا اس کے ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے چھو رہا تھا ۔

وہ دونوں ایک دوسرے میں کھوئے برستی بارش میں اس حسین وقت کو انجوائے کر رہے تھے ۔

جب اس خوبصورت ماحول میں ایک آواز گونجی ۔

اور اگلے یہ لمحے کردم سائیں نے اسے خود سے دور کیا