Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 41)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 41)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
اسے آہستہ سے اٹھا کر باہر لایا یہ وہی جگہ تھی جہاں اس نے دھڑکن کے لئے جھولا لگایا تھا ۔
دھڑکن کے جاگنےکا سوچ کر اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آئی تھی اس کا ارادہ دھڑکن کو جگا کر پہلے خود یہاں سے غائب ہو جانے کا تھا لیکن بعد میں سوچا کہ اس طرح سے یہ بہادر شیرنی ڈر جائیں گی۔
کیونکہ اس کی بہادری کا نظارہ اس نے آج صبح ہی دیکھا تھا ۔
جب اس نے دادا سائیں کوبازو سے پکڑتے ہوئے ان کے کمرے میں دیوار سے چپکی ہوئی چھپکلی کی طرف اشارہ کیا تھا ۔یہ شرارتیں یہ مستیاں دھڑکن کی طبیعت کا حصہ تھی ۔
جبکہ کردم ان سب چیزوں سے بہت الگ تھا لیکن دھڑکن کے اس کی زندگی میں آنے کے بعد وہ بہت بدل چکا تھا
وہ اتنا کیسے بدلا تھا یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا ۔
اسے کچھ پتہ تھا تو بس اتنا اب وہ پہلے جیسا نہیں رہا وہ اپنے آپ کو تنہا محسوس نہیں کرتا اب اسے یقین ہے کہ کوئی ہے جو اس کے دکھ میں دکھی ہوگا اور اس کی مسکراہٹ پر مسکرائے گا ۔
اس نے مسکراتے ہوئے دھڑکن کو زمین پر کھڑا کیا اور کندھوں سے پکڑ کر ایک جھٹکا دے کر جگایا ۔
اپنے آپ کو اس سنسان ویران جگہ پر دیکھ کر اس سے پہلے کہ وہ چیختی کردم نے اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کی چیخ کا گلا گھونٹ دیا ۔
دھڑکن سائیں اتنی بھی کیا چیخنے کی جلدی ہے ۔ابھی تو تم نے میرا سرپرائز دیکھ کر بے ہوش ہونا ہے ۔
اس کے منہ پر ہاتھ رکھے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا تو دھڑکن نے نظریں گھما کر اس کی طرف دیکھا ۔
ہیپی برتھ ڈے میرا پٹاکا سائیں ۔وہ بھی تمہارے برتھڈے سے 20 منٹ پہلے ۔وہ مسکراتے ہوئے بولا
حویلی کی بس تھوڑی سی روشنی اس طرف آ رہی تھی شاید ہی وہ اسے اس طرح سے مسکراتے ہوئے دیکھ پائی تھی
پھر اس نے دبی دبی آواز میں اس کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹانے کے لئے کہا ۔
جو کر دم نے فورا ہی ہٹا دیا ۔
یہ کیا طریقہ ہے اور میں یہاں کیسے آئی اس طرح سے کوئی ڈراتا ہے کیا ۔کون سا سرپرائز پلان کیا ہے آپ نے میرا لیے اس اندھیرے میں جیسے دیکھ کر میں بہت خوش ہو جاؤں گی ۔
حد ہوتی ہے کردم سائیں آپ کے آئیڈیاز بھی آپ کی طرح بورنگ ہی ہوتے ہیں ۔اب اس اندھیرے میں آپ کو کچھ نظر آرہا ہے جسے دیکھ کرمیں خوش ۔۔۔۔ ابھی اس کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ اچانک لائٹس جل اٹھی ۔
چھوٹی چھوٹی رنگ برنگی لائٹوں سے پورا جھولا سجایا گیا تھا
صرف جھولا ہی نہیں بلکہ آم کا یہ بڑا درخت بھی مکمل سجا ہوا تھا ۔
ہر طرف روشنیوں کی لڑیاں لہرا رہی تھی
وہ جھولا جو اس دن کردم نے اسے دکھایا تھا یہ جھولا اس جھولے سے بالکل ہی الگ تھا ۔
بلکہ اس بار اس جھولے میں ایک جالے نما جھولہ لگایا تھا ۔اس بار زمین پر بھی مٹی کا نہیں بلکہ پھولوں کا فرش تھا ۔اس خوبصورت نظارے کو دیکھتے ہوئے دھڑکن کی زبان اچانک ہی رک چکی تھی وہ کیا بولنے جارہی تھی اسے خود بھی یاد نہ تھا
تمہارا گفٹ وہاں ہے اس نے جھولے پہ پڑی ہوئی ٹوکری کی طرف اشارہ کیا ۔
دھڑکن کو اندازہ تھا کہ شاید اگر کردم نے اسے تحفہ دیا بھی کوئی بریسلیٹ کوئی لاکٹ دے گا لیکن وہ اسے ٹوکری دے رہا تھا کہ اس میں آخر کیا ہو گا فروٹس۔
دھڑکن نے اس رومانٹک ماحول میں ایک نظر کردم کو دیکھا جو پھر سے بورنگ ہونے کا ثبوت دے رہا تھا ۔
پہلے میں نے سوچا میں تمہارے لئے بہت خوبصورت سابریسلیٹ خریدتا ہوں ۔
پھر سوچا تم اس کا کیا کروگی تم میں تو لڑکیوں والی عادتیں کم ہی ہیں کام تو تمہارے کاکیوں والے ہیں ۔اسی لیے یہ تمہاری طبیعت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے تمہارے لیے یہ گفٹ لیا ہے۔
کردم وہ ٹوکری اٹھا کر اس کے قریب لایا جبکہ دھڑکن ابھی بھی اسے گھور رہی تھی ۔
دھڑکن میں تمہارا ہی ہوں مجھے جتنا مرضی دیکھ لینا لیکن ایک نظر کرم اس معصوم کی طرح بھی اس نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر اسے جھولے پر بٹھایا اور ٹوکری کی گود میں رکھی ۔
دھڑکن کو محسوس ہوا کہ اس ٹوکری میں کچھ ہل رہا ہے ۔
کردم سائیں اس میں کیا ہے اس نے سرگوشی کے انداز میں پوچھا تھا
جب کردم نے مسکراتے ہوئے خود ہی وہ ٹوکری کھول کر اس کے سامنے کردی ۔
بے حد کیوٹ سفید نرم ملائم بالوں والی ایک چھوٹی سی بلی کو دیکھتے ہی دھڑکن کی سچ مچ میں چیخ نکل گئی
یہ کتنی پیاری ہے کردم سائیں تھینک یو تھینک یو تھینک یو سو مچ ۔
اگلے ہی لمحے وہ جھولے سے اٹھ کر اس کے سینے سے لگ چکی تھی ۔
آپ کو پتا ہے میں نے بابا کو بہت بار بولا کہ مجھے کیٹی چاہیے وہ کبھی بھی میری بات نہیں مانتے تھے ایک بار صدیق انکل کو بول کر میں نےکیوٹ سی کیٹی منگوائی ۔
لیکن وہ بابا کو پسند نہیں تھی ۔ پھر وہ کہیں غائب ہو گئی اور مجھے کبھی واپس نہیں ملی ۔
مجھے لگا تھا کہ اسے بابا نے کہیں چھپا دیا ہے لیکن بابا نے میری قسم کھائی کہ وہ ان کے پاس نہیں ہیں ۔
پھر میں نے بابا کو بولا کہ وہ دوبارہ مجھے کیٹی لاکر دیں تو انہوں نے کہا کہ اب تم ہی کیٹی وہ لا کر دیے گا جو تم سے سب سے زیادہ پیار کرے گا
اس کے سینے سے لگی اپنی باتیں بتاتی نہ جانے کیوں رونے لگی ۔
دھڑکن تم رو کیوں رہی ہو اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر محبت سے پوچھنے لگا ۔
تھینکیو کردم سائیں مجھے اتنا سارا پیار کرنے کے لیے وہ معصومیت سے کہتی ایک بار پھر سے اس کے سینے پر اپنا سررکھ گئی ۔
جبکہ وہ مسکراتے ہوئے اس کی باتیں سے انداز لگا رہا تھا کہ یہ گفٹ تو اسے بہت پسند آیا ہے ۔
تھنک سویرا ۔اس نے دل ہی دل میں سویرہ کا شکریہ ادا کیا تھا جس نے اسے یہ بتایا تھا کہ دھڑکن کو سب سے زیادہ بلی پسند ہے
کردم کا گفٹ لے کر وہ بہت زیادہ خوش تھی کردم اس کے چہرے کی خوشی دیکھ کر اندازہ لگا چکا تھا کہ اس کی محنت بےکار نہیں گئی ۔
سویرہ نے اس کے لئے اس کی بہت مدد کی تھی اس کے لیے وہ اسے بعد میں تھینک یو بولنے کا ارادہ بھی رکھتا تھا ۔
دھڑکن نےاس سے نہیں پوچھا کہ اسے کیسے پتہ چلا کہ دھڑکن کو بلی پسند آئے گی ۔
وہ تو بس اسے پاکر کردم کو بھی تقریباً بھلا چکی تھی ۔
جبکہ وہ اس کے چہرے کی معصومیت اور بلی کے ساتھ اسے کھیلتا پاکر کافی پرسکون انداز میں اسے دیکھ رہا تھا ۔
جب اس نے ایک غیر اداری طور نظر اپنے ہاتھ میں باندھی گھڑی کی طرف دیکھا جس میں بارہ ہونے میں صرف ایک منٹ باقی تھا ۔
دھڑکن جلدی سے اٹھو یہاں سے اور فوراً اپنے کمرے میں جاؤ اور اس سرپرائز کا ذکر کسی کے سامنے مت کرنا دادا سائیں اور احمد چاچو سائیں تمہارے کمرے کی طرف تمہیں تمہیں برتھ ڈے وش کرنے آ رہے ہوں گے جلدی سے جاؤ ۔
اور دیکھو تم کسی کو مت بتانا کہ میں نے آدھی رات کو تمہیں یہاں پر کوئی سرپرائز دیا ہے ۔تم میری بات سمجھ رہی ہو نہ
وہ اسے بھاگانے والے انداز میں بولا ۔
جبکہ اس کی تیز افراتفری کی وجہ سے دھڑکن کوجتنی بھی اس کی بات سمجھ آئی وہ بلی اٹھا کر اندر کی طرف بھاگ گئی ۔
جبکہ کردم نے جنید کو فون کرکے یہاں سے یہ ساری چیزیں اتارنے کے لئے کہا تھا ۔
وہ دھڑکن اور اپنا یہ مومنٹ اسپیشل بنانا چاہتا تھا اور یہی چاہتا تھا کہ اس بارے میں کسی کو بھی پتہ چلے اور نہ ہی وہ یہ کسی کو کہنا چاہتا تھا کہ وہ اپنے بیوی کی بچوں جیسی خواہشیں پوری کرکے سکون محسوس کرتا ہے ۔
دھڑکن سب سے نظر چھپا کر بھاگ کر کمرے میں آئی لیکن اس کے باوجود بھی تائشہ کی تیز نظریں سے دیکھ چکی ہیں ۔
گھرمیں سب کا ارادہ اسے سرپرائز کرنے کا تھا جبکہ تائشہ کا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا اس لئے وہ سر جھکتی اپنے کمرے میں جا کر سو گئی
کردم کی بات مانتے ہوئے اس نے فورا سے اپنی کیٹی کو چھپایا اور سونے کی ایکٹنگ کرنے لگی ۔
اور ایک ہی منٹ کے بعد اچانک اس کے کمرے میں شور ہوا ۔
دادا سائیں بابا سائیں سویرا یہاں تک کہ تائی امی بھی اسے برتھڈے وش کرنے آئی تھی ۔
وہ ہمیشہ سے اپنا برتھڈے اپنے اپنوں کے ساتھ سیلیبریٹ کرنا چاہتی تھی ۔بابا تو وہاں ہمیشہ کام میں بیزی ہوتے اورسویرہ کو اپنے فرینڈ سے فرصت نہیں تھی
لیکن پھر بھی اس کے برتھ ڈے والے دن وہ دونوں اسے برتھ ڈے وش کرتے تھے ۔اور سارا دن اس کے ساتھ گزار تے اور سویرا اپنے ہاتھوں اس کے لیے کیک بتاتی
وہ بہت خوش تھی۔
سویرا نے خود اس کے لئے اپنے ہاتھوں سے ہمیشہ کی طرح کے کیک بنایا تھا ۔
جسے کاٹتے ہوئے اس نے ایک نظر کردم کو تلاش کیا ۔لیکن وہ اسے یہاں نہیں نظر آیا تھا
جب سویرانے اس کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کی ۔
کردم لالا تمہیں گفٹ دیں چکے ہیں اور جس کو تم بھی دیکھ چکی ہو اب اپنی نظروں کو ذرا ہم سب پر فوکس کرو ۔
اور ہمارے گفٹ پر بھی نظرثانی کرو ۔
سویرا نے سے اپنی طرف متوجہ کیا ۔
آپ کو کیسے پتا ۔۔۔؟دھڑکن نے سرگوشانہ انداز میں پوچھا ۔
یہ میرا اور کردم لالا کا سیکرٹ ہے تمہیں کیوں بتاؤں ۔سویرا نے شرارت سے کہا ۔
مطلب کے آپ نے انہیں بتایا ہے کیٹی کے بارے میں دھڑکن نے حیرانگی سے پوچھا تو وہ مسکرا دی
جبکہ اگلے ہی لمحے دھرکن اٹھ کر آئی لو یو کہتے اس سے چپک چکی تھی ۔
ارے سرپرائز ہم نے پلان کیا اور میڈم ان کے گلے لگ رہی ہے ہماری تو کوئی ویلیو ہی نہیں ہے دادا سائیں نے ناراضگی کہا۔
اوہو دادو سائیں آپ تو میرے فیورٹ ہیں وہ ان کا گال چوم کر بولی تو داداسائیں نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا لیا ۔جب انہیں باہر گاڑی رکنے کی آواز سنائی دی
حوریہ دیدہ مقدم لالہ آگئے دھڑکن نیچے کی طرف بھاگ گئی تھی ۔
جبکہ حوریہ کا نام سن کر دادا سائیں کے دل میں ٹھنڈک سی اتری تھی ۔
وہ بھی جلد سے جلد اپنی نواسی کو اپنے سینے سے لگانا چاہتے تھے
