267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 79)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

آپ یہاں کیا کر رہے ہیں انہیں اپنے گھر دیکھ کر حیدر کو غصہ آ رہا تھا ان کی شکل نہ دیکھنی پڑےصرف اسی لئے تو وہ تائشہ سے ملنے ان کے گھر تک نہیں گیا

ورنہ اس سے پہلے وہ جب بھی پاکستان آیا تھا تائشہ سے ملنے ان کے گھر ضرور جاتا تھا

تم سے ملنے آئی ہوں حیدر تم پاکستان آئے ہوئے ہیں اور اپنی ماں سے نہیں ملے۔

کون سی ماں کس کی ماں وہ جو بیس سال پہلے دولت کے لیے مجھے چھوڑ کر چلی گئی ۔

یا وہ ماں جو دولت کے لیے اپنی بیٹی کو دن رات مارتی ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا کیا آخر آپ کا پلان فیل کیسے ہو گیا وہ تو خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میری بہن کو جنید پسند آ گیا اور اس نے شادی کرلی ورنہ تو آپ میری بہن کا بھی استعمال کرتی اس دولت کی لالچ میں

ایسا نہیں ہے حیدر میں تو صرف تمہیں اور تائشہ کو ایک بہترین زندگی دینا چاہتی تھی میں نے یہ سب کچھ تم دونوں لئے کیااور میں بہت جلدی تائشہ کو اس جیند سے طلاق دلوا کر واپس حویلی لاؤں گی اور اس کی شادی کردم سے کرواؤں گی ۔رضوانہ نے صفائی پیش کرنے والے انداز میں کہا

خدا کے لئے اماں اسائیں اپنے لالچ کو ہماری بہتری کا نام دے دیں ۔

اور جینے دیں ہمیں تائشہ کے ساتھ اب کچھ غلط مت کیجئے گا وہ جنید کے ساتھ بہت خوش ہے ۔اور پلیز اسے خوش رہنے دیجئے اور جہاں تک میرا سوال ہے تونہیں میرے پاس میرے باپ کی چھوڑی ہوئی بہت دولت ہے مجھے کسی دوسرے کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی ضرورت نہیں

چلیں جائیں یہاں سے میں آپ کا چہرہ بھی نہیں دیکھنا چاہتا کم ازکم اس وقت تو نہیں ۔

وہ کہتے ہوئے وہیں سے اندر چلا گیا اور اپنے آپ کو لاک کر دیا 20 سال سے وہ اس در واپس نہیں آئیں تھیں ۔

آج اپنے بیٹے کی چاہت انہیں یہاں کھینچ لائی لیکن وہ پھر بھی اندر نہ گئیں ۔کیونکہ ان کا ارادہ تائشہ کے پاس جانے کا تھا

وہ ابھی گھر واپس آیا تھا اور گھر آتے ہی تائشہ کوحوریہ کے واپس ملنے کی خوشخبری سنائی

کیاوہ کردم سائیں کے پاس تھی کردم سائیں نے یہ بات سب سے کیوں چھپائی جنید نے سب کچھ بتایا تو وہ پوچھنے لگی

کیوں کہ اس کی جان کو خطرہ ہے کوئی اسے جان سے مار دینا چاہتا ہے اور ہمہیں سویرا پہ شک ہے کہ وہ اس شخص کو جانتی ہے جو حوریہ کو مارنا چاہتا ہے اور کردم سائیں وجہ جاننا چاہتے تھے کہ اس شخص کی حوریہ کے ساتھ کیا دشمنی ہے

وہ تو کبھی اکیلے گھر سے باہر بھی نہیں نکلی تو اس شخص کو حوریہ اس سے ایسی کیا دشمینی ہے کہ وہ سے اس کی جان لے لینا چاہتا ہے حوریہ کے غائب ہونے کے دوران دو تین بار ملک پر اٹیک ہوئے ہیں سب کو لگتا ہے کہ وہ صرف حوریہ کا نہیں بلکہ ملک کا بھی دشمن ہے ۔

ویسے خوشبو میری پیاری آ رہی ہے کیا بنایا ہے اسے پریشان دیکھ کر جنید اس کا دھیان بٹانے لگا تو وہ مسکرائی

میں نے اچار گوشت بنانا ہےابھی روٹیاں ڈالتی ہوں مل کے کھائیں گے تائشہ مسکرا کر اٹھی جب جنید نے اس کا ہاتھ تھام کے اپنی طرف کھینچا ۔

آج میں نے تمہیں بتایا نہیں تم کتنی پیاری لگ رہی ہو اس کے چہرے سے بال ہٹاتا اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے شرارتی انداز میں بولا ۔

جیند کی نظر اس کے آنکھوں سے ہوتے ہوئے چھوٹی سی ناک ٹھہری اور پھر لبوں سے ہوتے ہوئے اپنے دشمن اس قاتلانہ تل پر ۔

اس سے پہلے کہ وہ اس تل کو اپنی ظلم کا نشانہ بناتا کوئی بنا اجازت اندر داخل ہوا ۔

پل میں تائشہ کا سرخ رنگ بدلتے زرد پڑنےلگا ۔

مجھے میری بیٹی سے اکیلے میں بات کرنی ہے تم ذرا باہر جاؤ رضوانہ اسے حکم دیتے ہوئے انداز میں بولی تو وہ احتراماً مسکرا کر اٹھا

ٹھیک ہے آپ دونوں باتیں کریں میں آپ کے لئے چائے لے کے آتا ہوں ۔

ضرورت نہیں ہے میں بس اپنی بیٹی سے بات کرنا چاہتی ہوں تم اپنی شکل دفع کرو یہاں سے ۔وہ غصے سے بولیں ان کے انداز پر غصہ تو جنید کو بھی بہت آیا تھا ۔ لیکن ان کا احترام کرنا اس پر فرض تھا کیونکہ وہ اس کے لیے ماں کا مقام رکھتیں تھیں

اندر چلو انہوں نے تائشہ کو اشارہ کیا جب تائشہ نے ڈرتے ہوئے اندر کی طرف قدم بڑھائے اور اس کے ساتھ ہی اس کا سر گھوم کر رہ گیا اس سے پہلے کہ وہ گرتی باہر کی طرف جاتے جنید نے فورا سے تھام لیا

تائشہ کیا ہوا ہے اسے ۔۔۔؟

اس کا سارا بدن ٹھنڈا پڑ چکا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بدحواس ہو گئی

کیاکیا ہے تم نے میری بیٹی کے ساتھ کیا ہوا ہے اچانک رضوانہ دھاڑتی ہوئی بولی

معاف کیجیے گا بی بی جی مہربانی فرما کر اس وقت آپ جائیں میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہتا ہوں ۔

وہ بھی بنا لحاظ کےبولا اور تائشہ کے وجود کو اپنے باہوں میں بھرتا اٹھ کر باہر نکل گیا

اکبر جب میں بی بی چلی جائیں تو میرے گھر کو تالا لگادینا جنید کہتے ہوئے آگے نکل گیا اس کا ارادہ ڈیرے پر جا کر وہاں سے گاڑی نکالنے کا تھا تاکہ وہ اسے ہسپتال لے کے جا سکے

داداسائیں حوریہ کا ہاتھ تھام کر اسے اندر لائے تھے سویرہ جو ادھر سے ادھر ٹہل کر مقدم کا انتظار کر رہی تھی اسے دیکھ کر شاکڈ رہ گئی

بابا سائیں یہ یہاں کیا کر رہی ہے یہ توسے چلی گئی تھی نہ گھر چھوڑ کے نازیہ کو حوریہ کو دیکھتے ہی غصہ آگیا

اسے ہم لائے ہیں نازیہ بہو یہ ہمارے گھر کی بہو ہے ہماری بیٹی ہے خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ صحیح سلامت ہے اور واپس آ گئی ہے اخر ہم نے اسے ڈھونڈ نکالا ۔

اور اب سے یہی پر رہے گی اور کوئی بھی اس سے کوئی سوال نہیں کرے گا

لیکن مقدم سائیں۔۔۔۔۔ سویرا نے کچھ کہنا چاہا جب دادا سائیں نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کروا دیا

ہماری نواسی کا مقدم سائیں سے کوئی تعلق نہیں اور خبردار جو مقدم سائیں اس کے قریب بھی بھٹکے

مرا نہیں جا رہا میں آپ کی نواسی کیلئے اور نہ ہی میرا اس سے کوئی تعلق ہے یہ تو میں آپ کو بہت پہلے ہی بتا چکا ہوں ۔مقدم نےدروازے سے اندر داخل ہوتے ہی سویرا کو خوش کردیا

میں اپنی بیوی کے ساتھ بہت خوش ہوں اور مجھے آپ کی نواسی کی ہرگز بھی کوئی ضرورت نہیں ہے مقدم ان کے سامنے آکر رکا

اور نہ ہی مجھے آپ کی وہ کہہ کر اپنے روم کی طرف جانے لگی کمرے کی طرف قدم بڑھائے ہوئےحوریہ کے کانوں میں آواز آئی

مبارک ہو مقدم سائیں آپ باپ بننے والے ہیں پھوپوسائیں جو کہیں باہر گئی تھی اندر داخل ہو کر مسکراتے ہوئے اس کی طرف آئیں

اور اسے مبارکباد دینے لگی

جبکہ مقدم شاکڈ ساان تینوں عورتوں کو دیکھ رہا تھا سویرا نظر جھکائے اپنی شکل پر اداسی سجائے زمین کو گھور رہی تھی ۔

خیر مبارک آپ کو بھی مبارک یہ تو بہت خوشی کی بات ہے وہ سویرا کی طرف آیا اور مسکرا کر بولا جب کہ سویرا آنسوؤں سے بھری ایک نظر اس پر ڈالتے اندر کمرے کی طرف بھاگ گئی

جب مقدم نے پیلر کے پیچھے دو غصے سے بھرپور نظروں کو خود کو گھورتے پایا ۔چہرے پر اپنے آپ تبسم کھلا تھا

نہیں کردم سائیں ابھی چلیں نہ حوری دیدہ سے ملتے ہیں کردم جب سے آیا تھا دھڑکن اس کی منتیں کیے جارہی تھی

اس کی خوشی کا تو آج کوئی ٹھکانا ہی نہ تھا آخر اس کی دعائیں رنگ لائیں تھیں اس کی حوری دیدہ بالکل ٹھیک تھی اور گھر واپس آ چکی تھی

ہم کل صبح چلیں گے میری جان میں دادا سائیں کو بتا کے آیا ہوں کردم نے اسے بہلاتے ہوئے کہا

میں نہیں بولتی آپ سے آپ کبھی بھی میری بات نہیں مانتے وہ غصے سے پاؤں پٹختی اندر چلی گئی

موسم خراب ہو رہا تھا اور حویلی یہاں سے کافی دور تھی وہ جاتے تو واپسی پر مشکل ہوتی اسی لئے وہ اسے بہلانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ اب اس سے ناراض ہو کر بیٹھ گئی تھی

ڈیرے پر چلیں وہ کمرے میں آیا اور اسے بہلانے کی خاطر بولا

ایک شرط پہ چلوں گی آپ مجھے سب کچھ بتاؤ گے دھڑکن نے شرط رکھی ۔اس کی ایک عادت جو کردم کو بہت پسند تھی وہ جتنی جلدی روٹھتی تھی اتنی جلدی مان بھی جاتی تھی کردم کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی تھی

کیا بتاؤں گا دھڑکن ایسا کچھ ہے یا نہیں بتانے لائق کردم اسے پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے بولا

آپ مجھے سب کچھ بتائیں گے کہ تایا سائیں کے ساتھ کیا ہوا اور ملک اہانہ پھوپو سائیں کا دشمن کیسے بنا ۔

اور حوری دیدہ ملک کی بیٹی ہیں تو وہ ہمارے گھر میں کیسے آئیں ۔۔ ۔ اس کا انداز تجسس سے بھرپور تھا

ٹھیک ہے چلو میں تمہیں سب کچھ بتاوں گا کردم نے مسکرا کر کہا

شاید وقت آگیا تھا اپنے درد کو ہلکا کرنے کا اپنا غم کسی کے ساتھ بانٹنے کا دھڑکن نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا جو اس نے فورا تھام لیا ۔

اب ان دونوں کا ارادہ ڈیرے پر جانے کا تھا ۔

یہ کیا کر دیا ہے آپ نے میری پریگنینسی کا بتانے سے پہلے ایک بار مجھ سے پوچھ لیتی ۔سویرا ان کے کمرے میں آئی اور غصے سے بولی وہ کب سے اپنے کمرے میں مقدم کا انتظار کر رہی تھی

لیکن باہر آنے پر اسے پتہ چلا تھا کہ مقدم کو کوئی ضروری کام تھا جس کی وجہ سے وہ واپس چلا گیا ہے مقدم کو گھر پر نہ پا کر وہ فورا ان کے کمرے میں آئی کیونکہ مقدم کے سامنے تو اداس ہونے کا ڈرامہ کرنا تھا

سویرا تم نے ہی تو کہا تھا جب بھی حوریہ واپس آئے جن بھی حالات میں واپس آئے میں تمہاری پریگننسی کی جھوٹی خبر پھیلا دوں تاکہ مقدم کو تمہاری طرف متوجہ کرنے میں آسانی رہے

او ہو یہ کیا کر دیا آپ نے یہ کرنے سے پہلے مجھے ایک پر بتا تو دیتیں آج رات ہی تومقدم سائیں میرے پاس آنے والے تھے میں انہیں اپنا بنانے والی تھی اور آپ نے سب کچھ بگاڑ دیا اب ان کے سامنے مجھے پھر سے اداسی کا ناٹک کرنا ہوگا ۔

لیکن کوئی بات نہیں آج رات تو میں انہیں حاصل کر کے رہوں گی ۔

سویرا اپنا ارادہ مضبوط کرتی دوبارہ انہیں گھورتے ہوئے کمرے سے نکل گئی

جبکہ نازیہ وہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر اس لڑکی کے دماغ میں چل رہا ہے

سویرا کمرے میں واپس آئی تو مقدم بھی اسی وقت واپس آیا ۔

اور اسے مسکرا کر دیکھا

مجھے معاف کردو سویرا میں تمہارے جذبات سمجھے بغیر تمہیں یہ رشتہ نبھانے پر فورس کر رہا تھا ۔

میں نے ایک بار تمہارا احساس نہیں کیا کہ یہ سب کچھ تمہارے لیے کتنا مشکل ہے ایک نئی زندگی کی شروعات کرنا تمہارے لئے کتنا مشکل ہے میں سمجھ سکتا ہوں شاید میں ضرورت سے زیادہ جلد بازی کر رہا ہوں شاید حوریہ کو بلانے کے لئے میں تمہارا سہارا چاہتا تھا

لیکن اب ایسا نہیں ہوگا شاید میں مطلبی ہو گیا تھا وہ سویرا مجھے معاف کردو کاش میں تمہارا احساس کرتا تو اس طرح تمہاری نظروں میں نہ گرتا

میں نے کیسے سوچ لیا کہ اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد تم میرے ساتھ ایک نارمل زندگی گزار سکتی ہو لیکن تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے سویرا اس بچے کو میں اپنا نام دوں گا ۔

اور جب تک تم نہیں چاہوگی میں تمہارے قریب نہیں آؤں گا ۔۔ تم میرے لیے بہت خاص ہو اور ہمیشہ رہو گی

وہ آہستہ آہستہ بولتا قدم اٹھاتے بالکل اس کے پاس آکر کا

ایسی بات نہیں ہے مقدم سائیں میں اس رشتے کے لئے تیار ہوں اور میں بھی آپ کے ساتھ اپنی زندگی کی شروعات کرنا چاہتی ہوں

سویرانے سمجھانا چاہا

نہیں سویرا تمہیں میرے لیے اتنا کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں تمہارے جذبات سمجھ سکتا ہوں اس وقت تمہارے لئے یہ سب کچھ بہت مشکل ہے اور میں تب تک تمہارے ساتھ یہ رشتہ قائم نہیں کرسکتا جب تک تم پورے دل سے راضی نہ ہو

اور تمہیں آرام کی ضرورت ہے تم اس طرح سے کھڑی کیوں ہو آؤ یہاں بیٹھو وہ اس کا ہاتھ تھام کر زبردستی بیڈ پر بیٹھ گیا

تم یہاں آرام کرو باہر میرے کمبخت دوست آئے ہوئے ہیں مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے کے جانا چاہتے ہیں لیکن میں کوشش کروں گا کہ میں جلدی واپس آ جاؤں تم اپنا بہت سارا خیال رکھنا ۔

مسکرا کر اس کا گال تھپتھپا تا وہ کمرے سے باہر نکل گیا

سویرا کافی دیر بیٹھ کر خود پر لعنت بھیجتی رہی ۔

پھر اٹھ کر باہر جانے لگی جب اسے احساس ہوا کہ دروازہ تو لاک ہے اس نے بہت کوشش کی یہاں تک کافی دیر دروازہ کھٹکھٹاتے رہی لیکن باہر شاید کوئی بھی موجود نہ تھا

یہ دروازہ اٹک کیسے گیا وہ خود سے کہتی ہوئی واپس آکر بیڈ پر لیٹ گئی آج کا دن نہی منہوس ہے ایک تو میں اپنا فون کمرے میں چھوڑ کے آ گئی اور دوسری وہ حوریہ گھر واپس آ گئی یہ تو شکر ہے کہ حوریہ اور مقدم سائیں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں رہے گا ورنہ یہ سب کچھ کتنا مشکل ہو جاتا ۔لیکن اب مقدم سائیں صرف میرے ہیں آج نہیں تو کل سہی

سویرا سوچتے ہوئے آہستہ سے آنکھیں موند کر اپنے آنے والے زندگی کے حسیں خواب دیکھنے لگی