267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 28)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

دھڑکن اپنے کمرے میں جا رہی تھی جب پیچھے سے ملازمہ کی آواز آئی

دھڑکن بی بی اسے کردم سائیں کے کمرے میں دے آئیں

ابھی ان کا خاص ملازم دے کر گیا ہے اس نے کہا ہے کہ یہ فائل کردم سائیں کو دینی ہے۔

اس وقت اگر میں ان کے کمرے میں جاؤنگی تو غصہ ہو جائیں گے لیکن آپ سے نہیں ہونگے تو یہ فائل آپ ہمیں دے آئیں ۔

ملازمہ نے فائل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جبکہ آج کے واقعے کی وجہ سے اس کا دل بالکل بھی کردم کو دیکھنے کو نہیں کر رہا تھا ۔

وہ اس سے خفا تھی اس لیے اس واقعے کے بعد اس کو دیکھا تک نہیں چاہتی تھی اس کے بعد وہ گھر پر رہا لیکن دھڑکن نے اسے بالکل بھی اہمیت نہ دی

ڈنر ٹیبل پر اس سے بالکل بھی بات نہ کی ۔

لیکن اب یہ سچ تھا کہ اس وقت کردم کے کمرے میں ملازماؤں میں سے کوئی گیا تو وہ بہت غصہ ہوگا ۔اس نے ملازمہ کے ہاتھ سے فائل پکڑی اور اوپر کی طرف جانے لگی ۔

دروازہ کھٹکھٹانے کی زحمت نہیں کرنی پڑی کیونکہ دروازہ پہلے ہی پورا کھلا تھا ۔

وہ بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کر رہا تھا ۔۔

اسے آتے دیکھ کر لیپ ٹاپ ایک سائیڈ پر رکھنے لگا جبکہ وہ فائل بیڈ پر رکھتی وہی سے پلٹ گئی ۔

دھڑکن میری بات سنو ۔مجھے لگتا ہے آج جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے اور شاید میں بھی کچھ زیادہ ہی اوور ری ایکٹ کر گیا مجھے لگتا ہے ہمیں اس بارے میں بات کرنی چاہیے ۔

کردم نے اسے اس طرح سے وہ بنا کر کھڑے دیکھ کر کہا

جبکہ وہ اس کی بات کو اہمیت دئے بغیر وہاں سے جانے لگی دھڑکن میں تم سے بات کر رہا ہوں اور یہاں پر تم مجھے نخرے دکھا رہی ہو کردم کو اب اس پر غصہ آ رہا تھا پہلے جو کچھ بھی ہوا یقیناً دھڑکن کی غلطی نہیں تھی لیکن اب تو وہ سب جان بوجھ کر رہی تھی ۔

اس وقت میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی

دھڑکن واپس جانے لگی جب نظر اسٹڈی کی ٹیبل کے ساتھ رکھی کرسی پر پڑی ۔

اور کرسی کے کونے کے ساتھ پیلے رنگ کے ٹسیل پر یقینا یہ تائشہ کا تھا ۔

تائشہ نے کافی ہوشیاری سے کام کیا تھا لیکن پھر بھی چور اپنی کوئی نشانی چھوڑ کے جاتا ہے اس نے وہ ٹیسل کرسی سے اتارا ۔آج صبح تائشہ نے اسی رنگ کپڑے پہنے تھے اور اس کے دوپٹے کے چاروں کونوں کے ساتھ یہ ٹیسلز تھے

اس نے ٹیسل کردم کو دکھاتے ہوئے اپنی مٹھی میں رکھا ۔

اس کا ارادہ کردم کے کمرے میں رک کر اسے صفائی دینے کا نہیں بلکہ تائشہ سے وجہ پوچھنے کا تھا ۔

•••••••••••••

وہ تائشہ کے کمرے میں آئی وہ یہ تو جانتی تھی کہ اس کی کردم کے ساتھ شادی اسے ہرگز پسند نہیں آئی لیکن وہ اتنا گر سکتی ہے یہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا ۔

اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا ۔

دھڑکن تم یہاں کیا کر رہی ہو تائشہ سونے کی تیاری کر رہی تھی جب اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر پریشان ہوئی

وہ تائشہ دیدہ جب آپ نے اسٹڈی ٹیبل پرچائے گر ائی تب آپ کاٹیسل کرسی سے اٹک گیا تھا آئندہ ایسا کچھ بھی کرتے ہوئے یاد رکھیے گا کہ اس طرح کی کوئی چیز نہ پہنیں جو آپ کی غلطی کا ثبوت چھوڑ جائے ۔

خیر اب وجہ بتانا پسند کریں گی آپ ۔دھڑکن اتنی دلیر نہیں تھی کہ کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے اس کی غلطی کی وجہ پوچھ پاتی لیکن نہ جانے کیا بات تھی کہ کردم کی نظروں میں خود کو غلط دیکھ کر وہ یہاں تک آ چکی تھی ۔

شاید بابا کی باتوں کا اثر تھا

دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا ۔مجھے کیا پتا یہ ان کے کمرے میں کیسے پہنچا میں تو آج سارا دن ان کے کمرے میں گئی ہی نہیں ۔اور میں ویسے بھی ان کے کمرے میں نہیں جاتی تم مجھ پر الزام لگا رہی ہو تائشہ نے بڑک کر کہا ۔

اپنی چوری پکڑے جانے پر تائشہ کورونہ آنے لگا اب یہ رونا چوری پکڑے جانے پر تھا یا کسی اور وجہ سے دھڑکن نہیں سمجھی لیکن اس کے رونے کی وجہ سے اسے مزید غصہ آ رہا تھا

اپنے یہ ڈرامے کردم سائیں کے سامنے کریں یا پھر اس کے سامنے کریں جیسے آپ کے ان ڈرموں پر یقین ہو بتائیں مجھے کہ آپ نے کردم سائیں کی فائل پر وہ چائے کیوں گرائی ۔

بس دھڑکن بہت ہوگیا حد ہوتی ہے بدتمیزی کی ۔اپنا نہ سہی اس کا ہی خیال کر لو وہ عمر میں تم سے بڑی ہے دھڑکن کو احساس بھی نہ ہوا تھا کہ کردم کب اس کے پیچھے آیا ۔

مجھے تم کبھی بھی اتنی بدتمیز نہیں لگی تھی معافی مانگو تائشہ سے فوراً وہ غصے سے دھارتے ہوئے بولا ۔

میری کوئی غلطی نہیں ہے کردم سائیں وہ چائے تائشہ دیدہ گرائی تھی ۔

اور اب انہوں نے مجھ پر الزام لگایا ہے اس کی بات پر تائشہ کے رونے میں شدت آگئی جس کا مطلب صاف تھا کہ وہ پہلے ہی کردم کو کمرے میں دیکھ چکی تھی تبھی اس نے یہ رونے دھونے والا ڈرامہ کیا تھا ۔

بس کرو دھڑکن بہت ہوگئی بدتمیزی ابھی کے ابھی معافی مانگو تائشہ سے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔کردم کے غصے کو دیکھ کر دھڑ کن ایک پل کے لئے سہم سی گئی لیکن وہ کیوں ڈرتی وہ غلط تو نہیں تھی

بلکہ اسے زبردستی غلط ثابت کیا جا رہا تھا ۔

ٹھیک ہے تائشہ کردم سے محبت کرتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ اس کی زندگی برباد کرنے کی کوشش کرے اور ان دونوں میں غلط فہمیاں پیدا کرے وہ بھی تک جب ان کا رشتہ پوری طرح سے شروع بھی نہیں ہوا ۔

دھڑکن تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا میں نے کہا ابھی کے ابھی تائشہ سے معافی مانگو وہ ایک ایک لفظ چھپا چھپا کر بولا ۔

ایم سوری۔۔ اپنی غلطی نہ ہوتے ہوئے بھی معافی مانگ کا دھڑکن کو رونا آنے لگا لیکن اس شخص کے سامنے وہ بالکل نہیں رونا چاہتی تھی ۔

اسی لئے فوراً ہی اس کمرے سے باہر نکل آئی

بس تائشہ رونا بند کرو جو بھی ہوا بھول جاؤیہ بات ہم لوگوں میں رہنی چاہیے بڑوں تک نہیں پہنچنی چاہیے ۔

تم آرام کرو میں چلتا ہوں وہ تائشہ کو دیکھتے ہوئے بولا اور کمرے سے باہر ہوگیا ۔

جبکہ ان دونوں کے رشتے میں پہلی دراڑ ڈال کرتا تائشہ بہت پرسکون تھی

•••••••••••••

کل جو کچھ بھی ہوا کردم نہیں چاہتا تھا کہ یہ بات بڑوں میں جائے ۔

وہ اتنے چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں دادا سائیں یا چاچا سائیں کو شامل نہیں کرنا چاہتا تھا ۔

اس نے تائشہ کو تو منع کردیا تھا لیکن اسے یقین تھا کہ دھڑکن اپنے چھوٹے دماغ کا استعمال ضرور کرے گی ۔

اسی لیے صبح صبح ہی اسے منع کرنے اس کے کمرے میں آیا تھا لیکن بدقسمتی سے وہ اس وقت اپنے کمرے میں نہیں بلکہ کچن میں تھی

اسے لگا تھا کہ شاید صبح صبح اسے بھوک لگی ہوگی لیکن ملازمہ نے اسے یہ بتایا کہ وہ تو صبح صبح شاید آپ کے لئے ناشتہ بنا رہی ہے ۔

کردم نے توجیسے شاید لفظ سنا ہی نہیں تھا ۔وہ ناشتہ بنا رہی تھی اس کے لیے اسے تو یقین تھا کہ وہ اس سے ناراض ہوگی ۔

لیکن یہاں تو وہ اس کے لئے ناشتہ بنا رہی تھی کردم خوشگوار موڈ میں ناشتے کی میزپر آیا ۔

مقدم نہیں آیا ابھی تک ناشتے کی ٹیبل پر مقدم کو نہ پا کر اس نے پہلا سوال یہی پوچھا تھا ۔

نہیں آج وہ دونوں جا رہے ہیں نہ مقدم سامان گاڑی میں رکھوا رہا ہے دادا سائیں نے بتایا

اور ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگئے ۔

جب کہ کردم اپنی بیوی کے ہاتھ کا ناشتہ کرنے کے لئے اس کا انتظار کر رہا تھا

رک جائیں دادو سائیں آپ یہ نہیں کھا سکتے یہاں دیکھیں میں نے اپنے ہاتھوں سے آپ کے لئے ناشتہ بنایا ہے ۔

دھڑکن بھاگتے ہوئے آئی اور ٹیبل پر نقشے نما پراٹھا رکھتے ہوئے بولی ۔

دادو سائیں نے ایک نظر پراٹھے کو دیکھا پھر بے اختیار مسکرا دیے وہ جانتے تھے کہ صبح چھ بجے کے بعد سے وہ کچن میں گھسی ہوئی ہے ۔

اور انہیں یقین تھا اتنی دیر میں اس نے یہی پراٹھا ہی بنایا تھا ۔

بابا سائیں آپ بھی یہ ناشتہ مت کیجئے گا میں نے آپ کے لیے بھی اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بنایا ہے ۔

احمد شاہ کا ناشتے کی طرف جاتا ہاتھ اچانک رک گیا ۔

رضوانہ اور ناز یہ دونوں ہی اسے دیکھ رہی تھی ۔

باقی سب لوگ کھا سکتے ہیں ۔اس نے باقی سب لوگ کہتے ہوئے کردم کو خاص دھیان میں رکھا تھا ۔

یعنی کہ اب وہ اس کے لئے اسپیشل نہیں تھا ۔

بابا سائیں میں آپ کے لئے چائے لے کر آتی ہوں وہ بھی میں نے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے اس نے “چائے ” پر زور دیتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو ہوا میں لہراتے ہوئے بتایا ۔

یہ تو آج انقلاب ہوگیا احمد شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو دادا سائیں بول اٹھے خبردار جو ہماری پوتی کے خلاف ایک لفظ بھی کہا ۔

اتنی محنت سے اس نے ناشتہ بنایا ہے یہی کھاؤ ۔

ارےکردم سائیں آپ کیوں روکے ہیں آپ بھی کھائے نہ ۔کردم کو اس طرح سے خاموش بیٹھا دیکھ کر دادا سائیں بولے ۔

جی داداسائیں میں کر رہا ہوں وہ بد مزا ہوکر روز مرہ کا ناشتہ دیکھنے لگا ۔

جو ہر لحاظ سے پرفیکٹ تھا لیکن آج اسے اپنی بیوی کا تیڑا میڑا پراٹھا چاہیے تھا اپنی پلیٹ میں پراٹھا رکھتے ہوئے اس کا دھیان داداسائیں کی پلیٹ پر نقشے نما پراٹھے پر گیا تھا ۔

کاش یہ ساری محنت اس کے لئے کی جاتی ۔

اس سے پہلے کہ وہ ناشتہ شروع کرتا تائشہ نے اس کی پلیٹ میں ناشتہ رکھنا چاہا ۔

ضرورت نہیں ہے تائشہ میں کر لوں گا نا چاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ تلخ تھا ۔

جس پر تائشہ شرمندہ سے ہوکر پیچھے ہوئی ۔

آج حوریہ نہیں نکلی اپنے کمرے سے رضوانہ پھوپھو نے بتانا ضروری سمجھا کیونکہ وہ روزہی کردم کا ناشتہ اپنے ہاتھ سے لگاتی تھی ۔

حوریہ کی ضرورت نہیں ہے میری اپنی بیوی ہے یہ سب کام کرنے کے لئے ۔اس نے دروازے سے اندر آتی دھڑکن کو کچھ جتلاتی نظروں سے دیکھا تھا

شاید اسے بتانا چاہتا تھا کہ یہ جو ناشتہ اس نے بابا سائیں اور دادو سائیں کے لئے بنایا ہے اس کے لیے بھی بنانا تھا ۔

نہ جانے کیسے لیکن دادو سائیں اس کے اندر کی جلن کو محسوس کرچکے تھے ۔

دھڑکن بیٹا اس کے لیے بھی ناشتہ لگاؤ ۔وہ مسکراتے ہوئے دھڑکن سے بولے جس کا موڈ آف ہونے لگا تھا ۔

لگاؤ نہیں بناؤ ۔کردم نے حکم دیا ۔

میں تھک گئی ہوں ۔یہی کھالیں ۔وہ اس کے لئے ناشتہ نکالتے ہوئے ایک سائیڈ ہوگئی ۔

کردم نےگھور کر دیکھا ۔

فی الحال مجھے بھوک نہیں ہے ۔ شام تک اپنی تھکن اتار لینا اور میرے لیے کچھ بنا دینا ۔

وہ اسے گھورتے ہوئے اٹھ کر باہر نکل گیا ۔

جبکہ اپنی پیٹھ پر اس کے نظروں کی تبش بھی محسوس کر چکا تھا

باہر آنے کے بعد دیر تک سوچتا رہا کہ وہ یہ بچکانا حرکت کرکے کیوں آ رہا ہے ۔

سب گھر والوں نے نوٹ کرلیا تھا کہ وہ کہ دھڑکن کے ہاتھ کا ناشتہ بنا کرنا چاہتا تھا ۔دھڑکن نے کتنی صفائی سے اسے اس بات کا یقین دلایا تھا کہ وہ اس کے لئے خاص نہیں ہے ۔

وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اتنی ذرا سی بات پر اتنا غصہ کیوں آرہا ہے ۔

لیکن دھڑکن کو اس طرح سے خود سے لاپروا ہوتے دیکھ کر اسے بہت غصہ آرہا تھا

••••••••••••••••

مقدم سائیں اتنا سارا سامان آپ تو بس 15 دنوں کے لیے جارہے ہیں اور آپ نے شہر والا بنگلا کیوں کھووانے کے لیے کہا ہے ۔ملازم بتا رہے تھے کہ آپ وہاں شفٹ ہونے کی بات کر رہے ہیں وہ ناشتے کی ٹیبل پر آیا تو دادا سائیں پوچھنے لگے ۔

بالکل ٹھیک سنا ہے آپ نے دادا سائیں میں حوریہ کو لے کر شہر والے بنگلے میں شفٹ ہو رہا ہوں اس نے میز پر موجود سب کے سروں پر دھماکہ کیا تھا ۔

وجہ جان سکتے ہیں ہم دادا سائیں کو غصہ تو بہت آیا لیکن اس کے معاملے میں وہ ہمیشہ ٹھنڈے دماغ سے سوچتے تھے ۔اس کی ضد کے آگے ان کا غصہ اور طاقت ہمیشہ دب کر رہ جاتے ۔

کردم جتنا سنجیدہ مزاج تھا مقدم کا مزاج اتنا ہی ضدی تھا ضد اس کی ذات کا حصہ تھی ۔اسی لیے وہ اس پر غصہ کر کے اسے کسی قسم کی ضد نہیں دلوانا چاہتے تھے ۔

وجہ بہت معمولی سی ہے دادا سائیں ۔کہ یہاں میری بیوی کو میری بیوی ہونے کی اہمیت نہیں مل رہی ۔

آپ لوگوں نے حوریہ کو اب بھی صرف ملک کی بیٹی سمجھا ہوا ہے نہ کہ مقدم شاہ کی بیوی ۔

چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے لیکن وہ ملک کی بیٹی ہی رہے گی آپ سب کی نظروں میں ۔

اور میں اپنی بیوی کو بات بات پر ذلیل ہوتے نہیں دیکھ سکتا ۔اس لڑکی کی آنکھوں میں آنسو آتے ہیں نا تو میرا دل کانپنے لگتا ہے وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شدت سے بولا ۔

مجھے لگتا تھا میں اس سے محبت کرتا ہوں دادا سائیں ۔لیکن یہ معاملہ محبت کی حدود سے بہت آگے نکل چکا ہے ۔اپنی محبت کو بیان کرنے کے لیے عشق سے بڑا کوئی لفظ نہیں ہوتا نہ اگر ہوتا تو وہ بھی میرے حوریہ کے لئے جذبات بیان کرنے کے لئے چھوٹا ہوتا ۔

آپ لوگوں کو میری بیوی پسند نہیں ہے ۔کسی کے لیے وہ ملک کی بیٹی ہے تو کسی کے لئے منہوس ۔اور آپ کے لیے اماں سائیں وہ رک کر اپنی ماں کو دیکھنے لگا ۔

آپ کے لیے تو وہ ایک آوارہ لڑکی ہے جس نے آپ کے بیٹے کو پھسا لیا ۔ آئندہ میری بیوی کے لئے ایسے لفظ استعمال مت کیجئے گا ۔آپ کی شاید وہ کچھ نہ لگے لیکن میری عزت ہے ۔

آج سے پندرہ دن کے بعد جب میں واپس آؤں گا میں شہر والے بنگلے میں رہوں گا اپنی بیوی کے ساتھ ۔

کیونکہ اس حویلی میں اب میں واپس تبھی آؤں گا جب میری بیوی کو میری بیوی ہونے کی حیثیت ملے گی ۔

ایک ہی رات میں تمہارے کان بھر دیے اس نے مقدم سائیں رضوانہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔

فکر نہ کریں پھپھو سائیں اس نے مجھے کچھ نہیں بتایا ۔وہ تو کہہ رہی تھی کہ آپ کی تلخ باتوں سننے کی اس کو عادت ہے افسوس تو مجھے کسی اور پر ہے اس نے اماں سائیں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔

اس کے نظروں کے حصار میں خود کو محسوس کرتے ہوئے نازیہ کاسر مزید جھک گیا ۔

آپ نے کہا تھا نہ آپ کی ہر چیز سے بڑھ کر میری خواہش ہے اماں سائیں ۔ لیکن میری خواہش تو آپ کی سوچ کا مقابلہ بھی نہ کر سکی۔

تم یہ گھر نہیں چھوڑ سکتے مقدم سائیں تم جانتے ہوکہ ہمارے لئے کتنے اہم ہو تم جو چاہو گے وہ ہی ہوگا ۔آج سے بلکہ ابھی سے حوریہ کو اس گھر میں تمہاری بیوی کی حیثیت سے قبول کیا جائے گا ۔

شاید ہم کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگئے تھے ۔اپنے پوتے کو خود سے دور کرنے کا سوچتے ہوئے بھی دادا سائیں پریشان ہوگئے تھے

کردم مقدم اور اب دھڑکن تینوں میں انکی جان تھی وہ ان تینوں کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے ۔

یہ ساری باتیں مجھے نہیں آپ کو حوریہ کو بتانی ہوں گی وہ کہتے ہوئے ٹیبل سے اٹھ کھڑا ہوا ۔

مطلب کے صاف لفظوں میں وہ ان کو حوریہ سے بات کرنے کے لئے کہہ رہا تھا ۔

••••••••••••••