Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 81)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 81)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
حوریہ کے اٹھنے سے پہلے ہی مقدم کمرے سے نکل چکا تھا
لیکن اپنے کمرے کا دروازہ کھلا دیکھ کر سوچنے لگا کہ سویرہ کو کس نے انلاک کر دیا
جبکہ اماں سائیں کو اس کی چوٹ کی پریشانی کھائی جا رہی تھی اس لئے اس کے آتے ہی سب سے پہلے انہوں نے اس کے ماتھے کی چوٹ کے بارے میں پھر سے پوچھا
میں ٹھیک ہوں اماں سائیں ذرا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا وہ انہیں مطمئن کر کے اپنے کمرے میں جانے لگا جب اماں سائیں نے بتایا کہ یہ کمرہ رات کو لاک ہو گیا تھا اور سویرہ اندر تھی اگر وہ نہیں آتی تو ساری رات بیچاری اندر ہی رہتی پتا نہیں کس نے لاک کس نے کیا تھا اماں سائیں نے پریشانی سے پوچھا
وہ دراصل اماں سائیں مجھے کمرے میں اکیلے رہنے کی عادت ہوگئی تھی نا اس لیے یاد نہیں رہا مجھے کہ سویرہ اندر ہے شاید میں نی ہی لاک کر دیا ہوگا مقدم نے دل ہی دل میں اپنی ماں کے کارنامے کو داد دی اور اپنے کمرے میں داخل ہوا جہاں سویرا بڑے مزے سے اس کے بیڈ پر سو رہی تھی
اسے یہاں سے نکال کر سب سے پہلے یہ بیڈچینج کروں گا وہ خود سے بربڑاتا فریش ہونے چلا گیا
سویرہ ڈالنگ آج میرا ناشتہ تم بنا دو میرا پراٹھا کھانے کا دل کر رہا ہے مقدم نے ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے سویرا کو مخاطب کیا
لیکن مجھے تو پراٹھا بنانا نہیں آتا سویرا نے پریشانی سے کہا ابھی تو وہ مقدم کے لیے کھانا بنانا سیکھ رہی تھی تو ابھی سے اس کے لئے پراٹھاکیسے بناتی
اچھا تم رہنے دو ویسے بھی تمہاری طبیعت کے لیے اچھا نہیں ہے تم پریگننٹ ہونا حوریہ میرے لیے پراٹھا بناؤ اس نے سویرا کو کہتے ہوئے حوریہ کو حکم دیا
ہماری نواسی تمہارے لئے کچھ نہیں بنائی گی یہ ہمارے کہنے پر گھر واپس آئی ہے اور خبردار جو تم نے سے کوئی بھی حکم دیا اگر اتنا ہی دل کر رہا ہے تو کسی نوکر کو بول دو یا خود بنا لو دادا سائیں نے دیکھا نہ تاؤ دیکھا اس پر چڑھ دوڑیں
کوئی بات نہیں ناناسائیں میں بنا دیتی ہوں مقدم نے ایک نظر اپنی محبت کے دشمن داداسائیں کی طرف دیکھا اور حوریہ کی طرف دیکھ کر منہ بنا لیا جس پر اپنی ہنسی چھپاتی حوریہ نے فورا اپنی خدمات پیش کی تھی
کوئی ضرورت نہیں حوریہ بیٹا تمہیں اس کا کوئی بھی کام کرنے کی اپنی بیوی سے کہے جس سے نکاح کرکے آیا ہے دادا سائیں نے حوریہ کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
جب نازیہ اٹھ گئی میں بنا کے لاتی ہوں ناز یہ کہتے ہوئے کچن کی طرف جانے لگیں
آپ کی مامی سنائیں آپ کی طبیعت ویسے بھی ٹھیک نہیں ہے میں بنا لیتی ہوں حوریہ انہیں زبردستی بٹھا کر خود پراٹھا بنانے چلی گئی
ایک مہینہ گھر سے باہر کیا رہ کے آئی ہے اس کے تیور ہی آسمان کو چھونے لگے ہیں رضوانہ اسے جاتے دیکھ کر بولی
جبکہ نازیہ نے ایک نظر سویرا کی طرف دیکھا جو اس کے بیٹے کی خواہش کا احترام نہ کر سکی وہ جھوٹ موٹ کی پریگنیٹ تھی وہ سچ میں پریگنیٹ تھوڑی تھی جو اپنے شوہر کی خواہش پوری نہ کر سکے
ابھی اس نے روٹی ڈال کر گھی ڈالا ہی تھا کہ اس کا دل خراب ہونے لگا ۔طبیعت تو اس کی صبح سے ہی گڑبڑ تھی لیکن اب اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کہ وہ زیادہ دیر کھڑے بھی نہیں رہ سکتی اسے اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
اور سر بھی بری طرح سے چکرا رہا تھا
کیا ہوا حوریہ بی بی آپ ٹھیک تو ہیں ملازمہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے گرنے سے روکا ۔
آپ پلیز پراٹھا دیکھیں جلن نہ جائے حوریہ نے ملازمہ کو پراٹھے کی طرف لگاتے ہوئے اپنے آپ کو ہاتھوں سے پنکھا جلانے لگے
آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہوتی ہوئی لگ رہی ہے حوریہ بے سکینہ زرا دیکھیں ان کو ملازمہ نے عمر رسیدہ ملازمہ سے کہا
آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہے کرتے ہوئے اس کی پیٹ سہلانے لگی کہیں کوئی خوشخبری تو نہیں عمر رسیدہ ملازمہ نے اس کی طرف دیکھ کر مسکرا کر کہا
جبکہ وہ اس کی بات کا جواب نہ دے سکی۔ اس سے پہلے ہی وہ واش بیسن میں جھک کر ووٹنگ کرنے لگی
مبارک ہو حوریہ بی بی اب تو مجھے پکا یقین ہے خوشخبری ہے میں مقدم سائیں کو خوشخبری سناتے آتی ہے ملازمہ نے باہر کی طرف دوڑ لگائی
جبکہ حوریہ تو اسے روکتی ہی رہ گئی
مقدم سائنس کوریا بی بی کی طبیعت بہت خراب ہے چکر بھی آرہے ہیں اور الٹی بھی ہو رہی ہیں ۔میرا تجربہ تو یہی کہتا ہے کہ گھر میں خوشخبری آنے والی ہے ۔ڈاکٹر کو گھر پر بلائیں۔ملازمہ نے خوشی خوشی اکرم قدم کے سر پر دھماکا کیا
ماشااللہ سکینہ یہ تو تم نے بہت بڑی خوشخبری سنائی ہے اس سے پہلے کہ مقدم کچھ بولتا اماں سائیں بول اٹھیں۔
اور تمہارا تجربہ تو کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتا مقدم کے وقت پر بھی تو تمہیں سب سے پہلے یہ خوشخبری سب گھر والوں کو بتائی تھی مقدم میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو بخشش نکالو ۔سکینہ نے سب سے پہلے یہ خوشخبری سنائی ہے انہیں کچھ دو ۔وہ تو کچن کے دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا اماں سائیں پر پلٹا اور اپنا ووٹ ان کے ہاتھ میں رکھتا تھا کچن میں جا گھسا ۔
جب کہ سویرہ یہ سب کچھ دیکھ کر پریشان ہو چکی تھی مطلب اگر حوریہ پریگنٹ ہے تو مقدم اس کا ساتھ دے گا ۔
یا اللہ یہ خبر جھوٹی ہو صرف غلط فہمی ہو اور کچھ نہ ہو سویرا پریشانی سے اپنا سر پکڑ کے وہیں بیٹھ گئی کیونکہ اماں سائیں کی خوشی کا کوئی ٹھکانا ہی نہ تھا وہ تو سب نوکروں کو پاس بلا کر انہیں بخشش دیے جا رہی تھی آخر اس خاندان کا اصل وارث پیدا ہونے جا رہا تھا
بھابھی یہ سب کچھ آپ کیا کر رہے ہیں سویرا کے بچے کے وقت تو آپ نے یہ سارا کچھ نہیں کیا تھا رضوانہ نے یاد کروانا چاھا
رضوانہ سویرا کی خبر جھوٹ ہے لیکن حوریہ سچ میں ماں بننے جارہی ہے ہائے میرے مقدم کا بچہ یہاں آنے والا ہے ہمارے گھر کے رونقیں بھرنے والی ہیں اس خاندان کا وارث آنے والا ہے میں ذرا اپنی بہو کو دیکھ کے آؤں نازیہ نے اسے پرے ہٹا تے ہوئے کچن کی راہ لی انہیں دیکھ کر تو ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ حوریہ سے کبھی نفرت کرتی نہ تھیں۔
نازیہ مسکراتے ہوئے کچن میں آئیں جہاں مقدم بنا کچھ کہیں حوریہ کو اپنے سینے سے لگایا ہوئے تھا اور وہ بیچاری شرمائے جا رہی تھی
پرے ہٹو مقدم مجھے بھی میری بہوسے ملنے دو ماشاءاللہ اتنی بڑی خوشخبری سنائی ہے میری بہو نے وہ اس کا ماتھا چومتی سے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بولی شاید ہی اس سے پہلے نازیہ نے کبھی اسے اتنی محبت سے مخاطب کیا تھا بہانہ جو بھی تھا نازیہ کو وہ کسی بہانے تو اچھی لگی جبکہ حوریہ گھبرائے اپنا دوپٹہ منہ میں ڈالے کھینچ رہی تھی جب مقدم نے اس کا دوپٹہ اس کے منہ سے نکالا ۔
اس کی جھکی نظر اور گھبراہٹ دیکھ کر مقدم کو اس پر بہت پیار آ رہا تھا ۔
بابا سائیں واک پڑ گئے ہیں تھوڑی دیر میں واپس آتے ہوں گے تم چلو کمرے میں آرام کرو ڈاکٹر بھی آتی ہوگی فون کروایا ہے میں نے اماں سائیں اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے کمرے میں لے جانے لگی
مقدم سائیں اس کا بہت خیال رکھنا ہر وقت اس کے ساتھ رہنا ایک تو یہ ہے ہی اتنی کمزور اسے ہر وقت آپ کء ساتھ کی ضرورت ہے ۔
ڈاکٹرجب سے بتا کر گئی تھی کہ حوریہ پریگنٹ ہے اماں سائیں کے تو پاؤں زمین پر ہی نہیں رک رہے تھے
اور مقدم ان کی ہر ہدایت کو بہت غور سے سن رہا تھا دادا سائیں کو یہ خبر ملی تو انہوں نے پورے گاؤں میں مٹھائیاں تقسم کی کردم کو یہ خبر فون پر ملی تو وہ دھڑکن کو لے کر حویلی آنے کی تیاریاں کرنے لگا
کل رات دھڑکن کو گھر چھوڑنے کے بعد احمدچاچو سائیں کو چھوڑنے ایئرپورٹ گیا تھا وہ جانتا تھا دھڑکن کو یہ بات تکلیف پہنچائے گی اسی لیے وہ کل شام اسے واپس گھر لے کر نہیں گیا وہ کچھ دنوں بعد اسے بتا دینا چاہتا تھا
اسے یقین کا چاچا سائیں کا علاج ممکن ہے وہ بالکل ٹھیک ہوجائیں گے اور دھڑکن کو نہ بتانے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا لیکن اب دھڑکن کو حویلی لے کے جا رہا تھا تو یہ یہ بات کھل جانی تھی کہ احمد چاچو سائیں واپس جا چکے ہیں
لیکن پھر بھی جو بھی تھا دھڑکن کو بُرا تو ضرور لگنا تھا اس کے لیے کردم تیار تھا
آو جنید سائیں ہم کب سے تمہارا انتظار کر رہے تھے جنید کو دروازے سے اندر آتے دیکھ کر داداسائیں نے مسکراتے ہوئے اسے ویلکم کیا
جی آپ بتائیں آپ میرا انتظار کیوں کر رہے تھے پھر آپ کو خوشخبری سناتا ہوں جنید نے مسکراتے ہوئے مٹھائی کا ڈبہ سامنے رکھا
مطلب خوشخبری تم تک بھی پہنچ گئی داداسائیں نے مٹھائی کا ڈبہ دیکھتے ہوئے کہا
نہیں یہ تو میں اپنی خوشی میں لایا ہوں آپ مجھے سنائیں میں منتظر ہوں سننے کے لیے جنید نے مسکراتے ہوئے کہا
تم پھوپھا بننے والے ہو مقدم سائیں باپ بننے والا ہے ہمارے خاندان میں وارث آنے والا ہے دادا سائیں کے انداز سے ان کی خوشی کا اندازہ لگانا بہت آسان تھا
ہم دادا سائیں سے پرداداسائیں بننے والے ہیں دادا نےقہقہ لگاتے ہوئے بتایا
بہت بہت مبارک ہو یہ تو واقعی بہت خوشی کی بات ہے لیکن آپ صرف اپر دادا ہی نہیں بلکہ پر نانا بھی بننے والے ہیں اسی خوشی میں مٹھائی لایا تھا ۔
جنید نے مسکراتے ہوئے کہا تو دادا سائیں نے اٹھ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا
ہماری ساری خواہشیں پوری ہونے جارہی ہیں ہمارا گھر ہرا بھرا ہونے جا رہا ہے یہاں رونق ہی رونق ہو گئی ایک بار پھر سے داداسائیں سے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بولے
ان شاءاللہ جنید نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ ابھی ابھی باہر آتی رضوانہ کے کان ابھی تک ساں ساں کر رہے تھے ۔
مطلب تائشہ اس ان کے خلاف جا کر نہ صرف جنید کے ساتھ رشتہ بنا چکی تھی بلکہ اس کے بچے کو دنیا میں لانے والی تھی
کبھی نہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا تائشہ تم اتنی آسانی سے مجھ سے میرے خواب نہیں چھین سکتی میں تمہیں یہاں کی رانی بنتے دیکھنا چاہتی تھی اور تم ایک نوکر کے ساتھ تمہیں اس کی سزا ضرور ملے گی اماں سائیں سوچتے ہوئے اپنے کمرے میں چلیں گئیں
دھڑکن جب سے حویلی آئی تھی اداس اداس سی تھی
دھڑکن سائیں ہم بتا تو رہے ہیں اس کا سارا کاروبار ڈوبتا جا رہا تھا اگر وہ واپس نہ جاتا تو بہت مسائل ہو جاتے ہیں اس نے کہا ہے کہ وہ جلدی واپس آ جائے گا اسے اچانک جانا پڑا ۔داداسائیں کب سے اسے سمجھائے جا رہے تھے
ہو تو دادو سائیں ملنے میں کتنا وقت لگتا ہے صرف پانچ منٹ مجھے اپنا چہرہ تو دیکھا کے جاتے دھڑکن اداسی سے بولی
کیا ہو گیا ہے تمہیں گھر میں اتنا خوشیوں کا ماحول ہے اور تم داس ہو کر بیٹھی ہو
خاندان میں دو دو خوشخبریاں ہیں انجوائے کرو اور جہاں تک چاچو سائیں کی بات ہے تو تم انہیں فون کرکے خوب سارا ڈانٹوناراض ہوبات نہ کرو لیکن اس وقت تو خوش ہو جاؤ کردم نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
دو دو نہیں بلکہ تین تین خوشیاں ہیں سویرا دیدہ بھی تو ماں بننے والی ہیں دھڑکن نے خوشی سے چہک کرتے ہوئے سویرا کو گلے لگایا
جبکہ اس بات پر حویلی کے لوگوں کی خوشیاں ذرا مند پر گئی تھی
ہاں بالکل یہ تو خوش خبری ہے لیکن یہاں کسی کو ہوش ہی نہیں رضوانہ پھوپوسائیں کی بربراہٹ سب نے سنی تھی
لیکن کوئی کچھ بھی نہیں بولا
شام کے سائے گہرے ہوئے تو کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تائشہ جو کب سے جنید کا انتظار کر رہی تھی فوراً دروازے کی طرف آئی لیکن دروازہ کھول کر سامنے جنید کی جگہ اماں سائیں کو دیکھ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے
اماں سائیں نے آتے ہیں ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا
کیا کہا تھا میں نے تجھے جنید کو اس کی اوقات میں رکھنا اور تو اس کا بچہ پیدا کرنے جارہی ہے
چٹاخ۔ ایک اور تھپڑ مارتے ہوئے وہ گھر کے اندر داخل ہو گئیں
میں نے تجھے کیا سمجھایا تھا اور تو یہاں کیا کر رہی ہے توجنید کا بچہ پیدا کرے گی میرے خوابوں کو بے مول کرے گی
چٹاخ ۔میں تجھے رانی بنانا چاہتی ہوں تو نوکرانی بننا چاہتی ہے
میں نے تیرے لئے کیا نہیں کیا ساری زندگی اپنا گھر چھوڑ کر اپنے باپ کے در پڑی رہی تاکہ تو اس گاؤں کی مالکن بن سکے اور تو جیند کے بچے کی ما بننے جارہی ہے
چٹاخ۔ کان کھول کر سن لیتا تائشہ جلد سے جلد یہ بچہ گرا دے ورنہ میں تیری جان لے لوں گی۔
خبردار جو تو نے اس نوکر کا بچہ پیدا کیا اماں سائیں غصے سے چلاتے ہوئے بولیں ۔
نہیں اماں سائیں آپ جو کہیں گے میں کروں گی لیکن خدا کے لئے مجھ سے میرا بچہ نہ چھینے آپ نے آج تک جو کہا وہ میں نے کیا لیکن اب میں مزید آپ کی کوئی بات نہیں مان سکتی میں جنید کے ساتھ بہت خوش ہوں آپ نے جو کہا میں نے کیا ساری زندگی آپ کے ہر حکم کی تکمیل کی کردم سائیںکو نا چاہتے ہوئے بھی ہر ممکن کوشش سے اسے اپنی طرف راغب کرنا چاہا
سچ تو یہ ہے کردم سائیں کبھی میرے دل کے مکین نہ تھے میں جنید سے محبت کرتی ہوں خدا کے لیے مجھے اس کے ساتھ رہنے دے ۔
بے غیرت لڑکی تائشہ روتے یوئے بول رہی تھی جو اماں سائیں کا ہاتھ ہے ایک بار پھر سے اٹھا لیکن فضا میں ہی رک گیا ۔
اپنے قریب کھڑے جنید کو دیکھ کر بوکھلا کر رہ گئیں ان کا ہاتھ جنید کے ہاتھ میں تھا جسے پھینکنے والے انداز میں خود سے دور کیا
اگر آپ میری بیوی کی ماں نہیں ہوتی تو ان تھپڑوں کا بدلا میں آپ سے تھپڑ سے لیتا اس سے پہلے کہ میں اپنا آپا کھو دوں نکل جائے میرے گھر سے ۔اس نے غصے میں کہتے ہوئے قریب کھڑی تائشہ کو دیکھا جو بری طرح سے رو رہی تھی جنید نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے سینے میں بھیج لیا
آپ یہاں سے جا رہی ہیں یا میں دھکے مار کے نکالا لوں انہیں اسی طرح حیرت کی مورتی بنے دیکھ کر جنید چلایا تھا
جب کہ وہ بنا کچھ بولے اتنی بےعزتی پر گھر سے فورا باہر نکل گئیں
کردم کو کسی کا فون آیا تھا ۔جیسے سنتے ہی وہ پریشانی سے کھڑا ہو گیا ۔
کیا ہوا کردم سائیں آپ اتنے پریشان کیوں ہیں سب کے ساتھ بیٹھے کردم کو اچانک اٹھ کر باہر جاتا دیکھ کر مقدم نے فورا سے روکا
کردم گاؤں میں ایک سولہ سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور جس نے زیادتی کی ہے گاؤں والوں نے اسے پتھر مار مار کے مار ڈالا ہے اور اس وقت اس کی لاش چورائے پر پڑی ہے میں وہی جا رہا ہوں
کل صبح پنچانت میں فیصلہ ہوگا کردم پریشانی سے کہتا گھر سے نکل گیا ۔
جبکہ ایک سولہ سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کا سن کر دو مقدم کادلبھی کانپ اٹھا تھا ۔
اس کی نظر میں گاؤں والوں نے جو کیا وہ بالکل سہی تھا ایسے انسان کی یہی سزا تھی
ایسے درندوں کو جینے کا کوئی حق نہیں وہ غصے سے اپنی مٹھیاں بیھجتا دادا سائیں کے کمرے میں چلا گیا ۔
دادا سائیں شرمندگی سے سر جھکائے پنچایت میں بیٹھے ہوئے تھے ۔اس لڑکی کو دیکھتے ہوئے ان کا دل کانپ رہا تھا جو اپنے حواس مکمل کھو چکی تھی ۔
اپنی گڑیا کو ہاتھ میں پکڑے بس اسے گھورے جا رہی تھی
اب بتائیے شاہ سائیں میری بچی کے سر پر کون ہاتھ رکھے گا میری معصوم بچی نےکسی کا کیا بگاڑا تھا اب تو یہ گڑیا سے کھیلتی تھی اور اس پر اتنی بڑی قیامت ٹوٹ پڑی اپنی سہیلی کے گھر کھیلنے گئی تھی ۔
انصاف تو یہ تھا کہ جس نے زیادتی کی ہے اس بچی کی شادی اسی کے ساتھ کر دی جائے لیکن گاؤں والوں نے جذباتی فیصلہ کرتے ہوئے اسی کو پتھر مار کر قتل کر دیا جس سے اس بچی کی زندگی اور مشکل ہو چکی تھی ۔
اس کی حالت پاگلوں جیسی تھی لیکن اسے اس حالت میں پاگل خانے بھی نہیں بھجوایا جا سکتا تھا اخر وہ بھی کسی کی بیٹی تھی جس پر اتنی قیامت گزری تھی اور شاہ سائیں اس پر مزید ظلم نہیں کر سکتے تھے
شاہ سائیں کون تھامیں میری بچی کا ہاتھ میری بچی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی کیا بگاڑا تھا میری معصوم بچی نے کسی کا میری معصوم بچی کے خواب چھین لیے مجاہد سرپیٹتا ہوا وہیں بیٹھا رو رہا تھا جبکہ شاہ سائیں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا
میں کروں گا آپ کی بیٹی سے شادی میں تھاموں گا اس کا ہاتھ لیکن کیا گرنٹی ہے جو آج ہوا ہے وہ دوبارہ نہیں ہوگا حیدر کے الفاظ شاہ سائیں نےسر اٹھا کر سامنے سے حیدرشاہ کو آتے دیکھا
میں تھاموں گا آپ کی بیٹی کا ہاتھ چاچا میں کروں گا اس کے ساتھ شادی میں دوں گا اسے عزت کی زندگی وہ انہیں زمین سے اٹھاتے ہوئے اپنے برابر کھڑا کرنے لگا
لیکن یہ سوچیں کہ کب تک ہماری بچیاں اسی طرح سے ظلموں کا شکار ہوتی رہیں گی مجھے نہیں پتہ شاہ سائیں اس کا کیا فیصلہ کرنے والے ہیں اور مجھے یہ بھی نہیں پتا کہ شاہ سائیں کی نظروں میں گاؤں والوں نے جو کیا وہ صحیح ہے یا غلط لیکن میری نظروں میں بالکل صحیح ہے ایسے انسان کو انسان نہیں بلکہ درندہ کہوں گا جس نے ایک معصوم لڑکی کی آبرو لوٹی میری نظر میں اس کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے بالکل صحیح ہے اور ایسے انسان کو جینے کا حق نہیں مجھے نہیں پتا آپ کیا فیصلہ کرنے والے ہیں لیکن میں آپ سے نوری کا ہاتھ مانگتا ہوں ۔
نوری کا ساتھ چاہتا ہوں میں اسے عزت کی زندگی دینا چاہتا ہوں اگر آپ کی اجازت ہو تو میں ابھی اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں لیکن خدا کے لئے اس کی زندگی کو کوئی سخت فیصلہ مت کیجئے گا وہ اس وقت مینٹلی ٹھیک نہیں ہیں وہ اپنے حواس کھو چکی ہے ایسے میں اگر آپ کوئی سخت فیصلہ سنائیں گے تو وہ بالکل ٹوٹ جائے گی ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے کچھ تو بولیے کیا آپ اسے پاگل خانے بھیجنا چاہتے ہیں
حیدر ان کے سامنے کھڑے جواب مانگ رہا تھا
جب دادا سائیں نے اٹھ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا ہمیں فخر ہے تم پر حیدر ہمیں فخر ہے یہ کہتے ہوئے کہ تم ہمارے نوا سے ہو ۔
نکاح کا انتظام کرو دادا سائیں نے حکم دیتے ہوئے کہا جب مجاہد نے حیدر کے قدموں میں اپنی چادر رکھ کر رونے لگا
میں آپ کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا حیدر سائیں
احسان کیسا چاچا احسان تو آپ کا ہے مجھ پہ کہ آپ اپنی معصوم سے بیٹی کی ذمہ داری مجھے دے رہے ہیں تو یقین کریں میں یہ ذمہ داری نبھانے کی مکمل کوشش کروں گا وہ حوصلہ دیتے ہوئے بولا
کیا بکواس کر رہی ہو تم میرا حیدر کبھی کیسی لڑکی سے نکاح نہیں کرے گا پھوپھو سائیں بڑک اھی ّّ
نہیں بی بی جی حیدر سائیں نے پورے گاؤں کے سامنے اعلان کیا ہے اور نوری سے نکاح بھی کیا ہے اور کل دھوم دھام سے بارات لے کے آئیں گے اور نوری کو اپنے ساتھ رخصت کروا کے لے جائیں گے میں وہی پنچایت میں موجود تھی
تو باباسائیں نے کچھ نہیں کہا بابا سائیں نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی رضوانہ نےپوچھا
نہیں بی بی جی شاہ سائیں تو بہت خوش تھے اور کہہ رہے تھے کہ انہیں بہت فخر ہے اس بات پر کہ ان کا نواسہ نوری کا ہاتھ تھام رہا ہے ّّ
ملازمہ نے تفصیل سے بتایا
کیا ہوگیا ہے میری دونوں اولادوں کو ایک نوکر کے بچے کی ماں بننے جارہی ہے اور دوسرا گاؤں کی دو کوڑی کی لڑکی سے شادی کر رہا ہے جس کے پاس اپنی عزت تک نہیں رضوانہ نے پریشانی سے اپنا سر پکڑ لیا
وہ بچپن سے مجھے ایسےہی مارتی آئی ہیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس سب کچھ سے ان کی اولاد پر کیا گزرتی ہے
وہ حیدر بھائی کے ساتھ بھی یہی سب کچھ کرتی لیکن وہ پہلے ہی دادا دادی کے پاس چلے گئے
لیکن مجھے کہیں نہ جانے دیا کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتی اماں سائیں کی سازشوں سے محفوظ رہتی
جیند سب کچھ ہو چکا تھا اماں سائیں کے یہ الفاظ کے یہ سب کچھ انہوں نے دولت کے لیے کیا ہے اس بات سے جنید کو تکلیف پہنچائی تھی
کیا دولت کے لئے انسان اپنا سب کچھ چھوڑ دیتا ہے
جیبد نے اسے اپنے سینے سے لگایا جو بہت بری طرح سے رو رہی تھی
بھول جاو جو کچھ بھی ہوا بھول جاؤ تم اسے جتنا زیادہ اپنے سر پر سوار کروگی اتنی پریشانی زیادہ بڑھے گی
مجھے دکھ ہوا تمہاری ماں تمہارے ساتھ اس طرح سے کیسے کر سکتی ہے میں تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ تم پہ ہاتھ اٹھا سکتی ہیں اور یہاں بچپن سے تم ان کے ظلم کا شکار ہوتی آئی ہویہ سب کچھ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا اور تمہارے نام سے سازشیں کرتی رہیں اور تم خاموش رہی اگر تم یہ سب کچھ مجھے پہلے دن بتا دیتی ہماری زندگی اتنی ڈسٹرب کبھی نہیں ہوتی
تو اسے اپنے سینے سے لگائے آہستہ آہستہ سمجھارہا تھا
جنید میں اپنی ماں سے بہت پیارکرتی ہوں مجھے لگا کہ میرے درد سے میری تکلیف سے انہیں تکلیف ہوگی لیکن شاید دولت کا لالچ ہر چیز پر حاوی ہوتا ہے شاید ماں کی ممتا پر بھی
کاش میری ماں مجھے سمجھتی کاش میری تکلیف سے انہیں تکلیف ہوتی تائشہ روتے ہوئے اس کے سینے پر اپنا سر رکھ گی
تائشہ رونا بند کرو ہرماں تمہاری ماں جیسی نہیں ہوتی اپنی اولاد کو ماں سے کوئی محبت کوئی نہیں کرتا اس بات کو تم ہماری اولاد کو بہت سارا پیار دے کر ثابت کر دینا لیکن رونا بند کرو رونے سے ہمارے بی بی کی صحت پر بھی برا اثر پڑے گا
وہ سمجھاتے ہوئے بولا اور اس کے آنسو صاف کرنے لگا ۔
آج کے بعد میں تمہیں اس عورت کے بارے میں سوچتے اور پریشان ہوتے نہ دیکھوں چلوان پیاری سی سمائل دو مجھے رو رو کر میری بیوی کی معصوم آنکھوں کا کیا حال کر لیا ہے تم نے وہ اس کی آنکھوں کو چومتے ہوئے بولا تو تائشہ بے اختیار مسکرا دی
ہاں ایسے ہی ہمیشہ مسکراتی رہا کرو وہ اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتا اسے اپنے سینے سے لگا گیا
