Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 51)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 51)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
کھیت سب کے سب جل چکے تھے کردم اورمقدم دونوں ہی بہت پریشان تھے گھر سے دادا سائیں کو تو وہ بے فکر کرکے نکلے تھے۔کہ وہ سب کچھ سنبھال لیں گے لیکن یہاں کا حال دیکھ کر وہ ٹھیک ٹھاک پریشان ہو چکے تھے ۔
یہ سارے کھیت گاؤں والوں کی سال بھر کی محنت تھی اس سال انہیں یہی اناج سارا سال کھانا تھا ہر کھیت میں کسان کی محنت نظر آتی تھی ۔لیکن اس وقت سارے کے سارے کھیت صرف راگ کا ڈھیر بنے ہوئے تھے ۔
کچھ لوگ تو باقاعدہ رو کر اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے تھے کچھ تو چودھری کو جان سے مار دینا چاہتے تھے کچھ لوگ کردم اور مقدم کی طرح ہی پریشان حالات کا سامنا کر رہے تھے ۔اور کچھ لوگ وہی اپنے آنے والے وقت کا سوچ رہے تھے ۔
اس بار اناج کی رقم سے جو پیسے ملنے والے تھے میں اس سے اپنی بیٹی کی شادی کرنے والا تھا سب کچھ طے پا چکا تھا کردم سائیں میں تو اسی امید پہ بیٹھا تھا کہ جو اناج بنے گا اسے بیچ کر اپنی بیٹی کو عزت سے رخصت کروں گا اور یہاں کیا ہوگیا ایک آدمی نے روتے ہوئے کہا ۔
کردم سائیں میں نے اپنے بیٹے کو باہر ملک بھیجا ہوا ہے اس کی فیس کے لیے مجھے پیسوں کی ضرورت ہے میں یہ تیارشدہ اناج بیچ کر اسے پیسے بھیجنے والا تھا دوسرے آدمی نے اپنی پریشانی کردم کو بتائی۔
کردم سائیں میں تو کہتا ہوں ابھی چلیں چوہدری کی حویلی اسے جان سے مار ڈالیں گے اس کی ہمت کیسے ہوئی ہمارے بچوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کی ۔ایک جذباتی نوجوان نے آگے آتے ہوئے کہا
۔
چودھری اپنا آپ دکھا کر گاؤں چھوڑ کر کسی دوسرے ملک بھاگ گیا ہے ہمارے آدمیوں نے آخری بار اسے ایئرپورٹ پر دیکھا ہے ۔ویسے بھی اس کے پاس اپنی جان بچانے کا آخری طریقہ تھا اگر یہی رکتا تو ہم اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے جنید نے غصے سے کہا ۔
کردم سائیں اب کیا ہوگا ہمارا سہارا تو آپ ہی ہیں بچیوں کے سکول والی زمین پر موجود ہر چیز نقصان کردی گئی ہے وہاں پر موجود ہر چیز چوہدری کے آدمی برباد کر چکے ہیں کردم سائیں اب کیا ہوگا ۔ہمارے ساتھ ہی یہ سب کچھ کیوں ہوا ہم نے کسی کا کیا بگاڑا ہے ۔
گاؤں کے ہر فرد کی زبان پر صرف کردم کا نام تھا مقدم تو ایسے معاملوں میں کبھی پڑھتا ہی نہ تھا لیکن آج گاؤں والوں کی امید بھری نظروں نے اسے یہ بات سمجھا دی تھی کہ کردم ان سب کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے وہ ان سب کے لئے امید کا آخری دیا ہے ۔
کردم سائیں اب کیاہوگا گاوں والے تو سبھی آپ سے امید لگا کر بیٹھے ہیں جیسے یہ سب کچھ آپ ٹھیک کر دیں گے ۔
اور اب آپ اس سے پیچھےنہیں ہٹ سکتے آپ کو کچھ تو کرنا ہی ہوگا آخر آپ اس گاؤں کے اگلے سرپنچ ہیں مقدم نے پریشانی سے کہا جبکہ اس کی بات سن کر اتنی پریشانی میں بھی اسے ہنسی آ گئی
۔
دادا سائیں گاؤں کا اگلاسرپنچ چھننے کے لیے ان کا آپس میں مقابلہ کروا رہے تھے اور یہاں مقدم صاف لفظوں میں کہہ رہا تھا کردم ہی اگلا سرپنچ بنے گا اسے اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی اور نہ ہی اس معاملے میں وہ اس سے مقابلے پر اترتا تھا ۔
اور گاؤں والوں نے کردم سے ساری امیدیں جوڑی تھی مقدم کو یقین تھا گاؤں والوں کے لیے اگلا سرپنچ کردم ہی بہتر رہے گا ۔
گھبراؤ نہیں مقدم شاہ اگر اللہ ایک راستہ بند کرتا ہے تو دوسرا کھول دیتا ہے ۔ یقین کرو اللہ نے یہ راستہ بند کرنے سے پہلے دوسرا کھولا ہوگا کردم نے بے فکری سے کہا ۔
مطلب کہ آپ کو اس بات سے کوئی ٹینشن نہیں ہے ان پریشان حالات میں بھی مقدم اس کا بے فکر انداز دیکھ کر وہ کافی متاثر ہوا تھا ۔
کردم اس وقت صرف اپنی آنے والی اگلی صبح کے بارے میں سوچ رہا تھا جب اس کا دیہان مقدم کے سینے پر سرخ نشان پر پڑا ۔
جو کبھی مقدم کے سینوں کے بیچوں بیچ آتا اور کبھی
مقدم کے ہلنے پر ادھر ادھر ہو جاتا ۔
سیکنڈ سے بھی کم وقت لگا تھا کردم کو اس نشان کی وجہ جاننے میں جب کردم نے ایک زور دار دھماکا مقدم کو دیا اور لڑکھڑاتے ہوئے اس کی جگہ پر آگیا ۔
اور بندوق کی گولی اس کے سینے کے آر پار ہو چکی تھی ۔
کردم شاہ پر کسی نے گولی چلائی یہ بات گاؤں میں آگ کی طرح پھیلی تھی کردم شاہ گاؤں والوں کا آخری سہارا تھا وہ ابھی تک سر پنچ تو نہیں بنا تھا لیکن گاؤں والے اسے ہی اپنا اگلا سرپنچ بنانا چاہتے تھے ۔
حویلی پہنچنے سے پہلے ہی یہ خبر پورے گاؤں میں پھیل چکی تھی ۔چوہدری نے اپنی دھمکی پر عمل کر دکھایا اور کردم پر گولی چلا دی ۔
گولی کردم کی سینے کے بیچوں بیچ لگی تھی مقدم نے پہلی بار ہوش سے کام لیتے ہوئے اسے پندرہ منٹ سے بھی کم وقت میں ہسپتال پہنچایا تھا ۔
جبکہ گاوں سے شہر پہنچنے کے سفر میں کردم نےغنودگی کی حالت میں مقدم سے بس اتنا ہی کہا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو تم گاؤں والوں کا سہارا بننا ۔گاؤں والوں کو ہم سے بہت امید ہیں۔ نجانےکتنے ہی سالوں سے یہ گاؤں بسائے ہوئے ہیں ۔
جبکہ مقدم کو صرف اور صرف اس کی جان کی فکر تھی کوئی کچھ بھی کہیں لیکن مقدم سمجھ چکا تھا کہ گولی کردم پر نہیں بلکہ مقدم پر چلائی گئی تھی وہ جو کوئی بھی تھا کردم کا نہیں بلکہ مقدم کا دشمن تھا ۔
کردم نے اس کے لیے اپنی جان پر کھیل دیا۔ وہ اس کا بھائی تھا اس کا سہارا تھا اس کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا ۔لیکن وہ اس کے لیے اپنی جان دے سکتا تھا یہ تو مقدم نے کبھی نہیں سوچا تھا نہ ہی کبھی چاہا تھا ۔
مقدم نے آندھی کی سپیڈ سے گاڑی چلاتے ہوئے اسے ہسپتال پہنچایا ۔ہسپتال کے تقریبا سبھی لوگ شاہ سائیں کو جانتے تھے جس کی وجہ سے قانون اور پولیس وغیرہ کو شامل کئے بغیر ہی کردم کو آپریشن تھیٹر میں شیفٹ کر دیا گیا تھا ۔
دادا سائیں کو جیسے ہی خبر ملی تھی وہ احمد شاہ کے ساتھ فوراً شہر کے لیے روانہ ہو چکے تھے ۔
جبکہ نازیہ پریشانی سے ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی کردم کی حالت کا سوچ کر تائشہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔
جبکہ حوریہ جائے نماز پر بیٹھی اپنے بھائی کی زندگی کے لئے دعائیں مانگ رہی تھی۔دھڑکن مسلسل مقدم کو فون کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔لیکن نہ جانے کیوں اس کا فون نہیں لگ رہا تھا
جب پھوپو سائیں وہاں آئیں ۔
دیکھ لی اپنی کالی قسمت پہلے تمہارا نکاح کیا اپنے بھتیجے کے ساتھ تو وہ بیچارا پورے گاؤں میں بد نام ہو کر رہ گیا ۔اور اب تجھے بہا کر اس کے کمرے میں لے کر آئے تو منہوس تو اس کی جان پر بن گئی
ان کی باتوں نے دھڑکن کی روح تک ہلا دی تھی وہ اس سے اس طرح سے بات کیسے کر سکتی تھی۔اگر کردم ان کا بھتیجا تھا تو دھڑکن کا شوہر تھا ۔ان کی باتیں سن کر دھڑکن کورونا آنے لگا وقت تو ایسا تھا کہ سب کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے اور پھوپھو سائیں تھیں اس کی قسمت کو کالا اور اسے منہوس کہہ رہی تھی
یہ تیری شکل کتنی معصوم ہے نا اتنا ہی کالا نصیب ہے تیرا آج تو میرے بھتیجے کے ساتھ جوڑ گئی تو تیرا یہ نصیب میرے بھتیجے کو کبھی سکون کا سانس نہیں لینے دے گا ۔
کان کھول کر سن لے دھڑکن اگر میرے بھتیجے کو کچھ بھی ہوا تو میں تیری جان لے لوں گی یہ جو کچھ بھی ہوا ہے تیری وجہ سے ہوا ہے تیرے کالی قسمت کی وجہ سے ہوا ہے
پہلے یہاں آکر میری بچی کا نصیب کھا گئی اور اب کردم تیری منحوسیت میرے کردم کی زندگی پر آ بنی ہے ۔
پھوپو سائیں یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں سویرا نے کمرے سے نکلتے ہوئے ان کی بات سنی تو غصےسے بولی ۔
کون سے زمانے کی عورت ہیں آپ کون سے زمانے کی باتیں کر رہی ہیں آپ آج کے زمانے میں یہ منہوست کالی قسمت کچھ نہیں ہوتا ہر انسان صرف اپنا نصیب جیتا ہے اسے کسی دوسرے کے نصیب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔
اور دھڑکن سے کس طرح سے بات کر رہی تھی آپ دھرکن بیوی ہے کردم لالا کی اور میری بہن منہوس نہیں ہے اور کچھ نہیں ہوگا کردم لالہ کو دھڑکن کی وجہ سے ہاں لیکن آپ کی ان باتوں سے البتہ تکلیف ضرور ہوگی انہیں
سویرا نےروتی ہوئی دھڑکن کو اپنے ساتھ لگایا اور اسے اپنے کمرے میں لے گئی
