267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 30)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

وہ رات گھر واپس آیا تو دھڑکن اسے کہیں نظر نہ آئی۔ اس کے بعد ڈنر ٹیبل پر بھی وہ اسے کہیں نظر نہ آئی۔ کھانا بھی روز کی طرح آج بھی ملازموں کے ہاتھ کا بنا ہوا تھا ۔

یعنی کہ اس کے کہنے کے باوجود بھی دھڑکن نے اس کے لئے کچھ بھی نہیں بنایا تھا ۔

تائشہ نے سب کو چائے پلائی وہ بھی کچھ بھی بولے بنا چائے پی گیا ۔

شاید وہ دھڑکن کے ساتھ کچھ زیادہ ہی زیادتی کر چکا تھا ۔

شاید وہ تائشہ سے معافی مانگنے کی وجہ سے اس سے زیادہ خفا تھی ۔اپنی غلطی نہ ہونے کے باوجود معافی مانگنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے وہ سمجھ سکتا تھا

لیکن وہ یہ بات کبھی نہیں سمجھ سکتی تھی کہ کردم نے ایسا کیوں کیا ۔

اس نے حوریہ کے علاوہ کبھی کسی کو نہیں روکا ٹوکا تھا وہ کسی پر بھی اپنا حق نہیں سمجھتا تھا ۔

یا شاید دھڑکن پر ضرورت سے زیادہ حق جمانے لگا تھا ۔

کھانا کھا کے وہ روم میں آیا اور یہی سب سوچنے لگا ۔

اس کی ماں کہا کرتی تھی اپنے سے بڑے انسان سے کبھی بدتمیزی مت کرنا یہ تمہاری تربیت کو دو کوڑی کا کردے گی ۔

شاید وہ یہی بات دھڑکن کو سمجھانا چاہتا تھا ۔وہ اس کے علاوہ بھی دھڑکن کو بہت ساری باتیں سمجھانا چاہتا تھا وہ اسے اپنی مکمل بیوی کے روپ میں دیکھنا چاہتا تھا وہ جانتا تھا کہ دھڑکن ان میچیور ہے لیکن کل کواسے یہ گاؤں سنبھالنا تھا اس گاؤں کا سرپنچ بننا تھا تو دھڑکن پر ناجانے کتنی ذمداریاں تھی جو وقت رہتے اسے سمجھنے اور سیکھنی تھی لیکن شاید وہ اس سے کچھ زیادہ ہی امید لگا بیٹھا تھا ۔

••••••••

مقدم ہوٹل چیکنگ کروا کر واپس آیا تو حوریہ گہری نیند سو رہی تھی شاید سفر سے بہت تھک گئی تھی ۔

اسے اس طرح سے گہری نیند سوتا دیکھ کر مقدم بےاختیار مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا ۔

غیر محسوس انداز میں اس کے ماتھے کو چومتا ہوا وہ اٹھ کھڑا ہوا اس کا آرام کرنے کا بالکل بھی کوئی ارادہ نہ تھا ۔

بلکہ وہ تو اپنی حوریہ کو خوابوں کی دنیا میں لایا تھا ۔

وہ اس ہنیمون کا ہر لمحہ یادگار بنانا چاہتا تھا ۔

مقدم نہیں چاہتا تھا کہ حوریہ کے لبوں سے مسکراہٹ ایک سیکنڈ کے لئے غائب ہو ۔

اس وقت بھی سوتے ہوئے ایک خوبصورت سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر تھی ۔

تو میرا سوہنا ماہی بی ریڈی ایک خوبصورت سا سرپرائز تمہارا انتظار کر رہا ہے ۔

وہ مسکراتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا ۔

•••••••••••••••

کیا مطلب آج پھر کوئی شادی ہے ۔دھڑکن جو ابھی اپنے کمرے میں آئی تھی احمد شاہ اس کے پیچھے آکر اسے شادی کے بارے میں بتانے لگے ۔

ان کو لگ رہا تھا کہ کردم نے جو کل دھڑکن کو ڈانٹا تھا وہ مسئلہ حل ہو چکا ہے کیونکہ اس کے بعد اس بات کابلکل بھی ذکر نہ کیا گیا

ہاں آج بھی ایک شادی ہے گاؤں ہے کوئی نہ کوئی شادی ہوتی رہتی ہے ۔

آپ کے داداسائیں نے کہا ہے کہ آپ جلدی سے تیار ہو جائے ہم سب لوگ جا رہے ہیں ۔سوائے کردم سائیں کے احمد شاہ نے مسکراتے ہوئے بتایا

کردم سائیں کیوں نہیں جا رہے ۔کردم کو یاد کرتے ہوئے دھڑکن کےلب مسکرائے

اسے تنگ کرکے دھڑکن کو بہت مزہ آیا تھا ۔

وہ بھیر بھاڑ میں جانا زیادہ پسند نہیں کرتے کہیں جانا ضروری ہو تو بیشک چلے جاتے ہیں ۔احمد شاہ نے بتایا

ٹھیک ہے میں جلدی سے تیار ہوتی ہوں ۔اسے بول کر وہ بابا سائیں کے کمرے کی طرف چل کے آئے کچھ دنوں سے ان دونوں کے تعلقات بہت خوشگوار ہوگئے تھے ۔

دھڑکن نے سب کچھ ٹھیک کر دیا تھا ۔

احمد شاہ کو بس ایک بات کا افسوس تھا کہ گزرا ہوا وقت وہ واپس نہیں لا سکتے تھے ۔

اپنے بھائیوں کو واپس ہنستے کھیلتے دیکھ سکتے تھے اور نہ ہی اپنی لاڈلی بہن اہانہ کے سر پہ ہاتھ پھیر سکتے تھے ۔

ماں کی ممتا روٹھے ہوئے تو نجانے کتنے برس بیت چکے تھے ۔

لیکن وہ باپ کا سایا کھونا نہیں چاہتے تھے ۔

جب سے دھڑکن اور کردم کا نکاح ہوا تھا دادا صاحب بہت خوش رہنے لگے تھے ۔اور اب انہیں خوشیوں میں وہ احمد شاہ کو بھی مکمل شامل رکھتے

••••••••••••••

ہاں بھئی دھڑکن تیار ہو ۔ تائشہ سویرا اور گھر کے باقی سب لوگ جانے کے لیے تیار تھے ۔

جب دھڑکن کو محسوس نہ کر کے دادا سائیں نے پکارا ۔

کردم ابھی ابھی گھر واپس لوٹ کے آیا تھا ۔

سب کو اس طرح سے تیار دیکھ کر وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ سب لوگ شادی پر جا رہے ہیں ۔

دھڑکن بھی آگئی۔احمد شا ہ نے اسے سیڑھیوں سے اترتے دیکھ کر کہا کردم کی نظر بے اختیار اس پر اٹھی تھی

سفید انارکلی فراک میں سرپر خوبصورتی سے دوپٹہ سجائے وہ کسی اور ہی دنیا کی خوبصورت ترین پری لگ رہی تھی ۔کردم کی نظر اس پر رک سی گئی ۔

ماشاءاللہ میری شہزادی تو بہت خوبصورت لگ رہی ہیں دادا سائیں سے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کہا تو وہ بے اختیار شرما دی۔

دھڑکن ایک کپ چائے بنا کر میرے کمرے میں لے آؤ ۔کردم اس پر سے نظریں ہٹا تا اپنے کمرے کی طرف جانے لگا ۔

میں شادی پہ جا رہی ہوں ۔دھڑکن جانتی تھی کہ کردم جانتا ہے کہ وہ شادی پر جانے کے لیے تیار ہوئی ہے پھر بھی اس طرح سے آرڈر جھاڑرہا ہے وہ بھی جب کہ وہ جا رہی ہے ۔

اسی لیے دھڑکن نے اسے بتانا ضروری سمجھا کہ فی الحال وہ اس کے لئے چائے تو ہرگز نہیں بنا سکتی اور ویسے بھی اس دن کی عزت افزائی کے بعد دھڑکن نے قسم کھالی تھی کہ اب اُس کا کوئی کام نہیں کرے گی ۔

دھڑکن شاید تم نے سنا نہیں کہ میں نے کیا کہا میں نے کہا چائے بنا کر میرے کمرے میں لاؤ ۔ اس بار کردم ذرا سختی سے بولا ۔

دھڑکن نے دادا سائیں کی طرف دیکھا

دادا سائیں نے ایک نظر دھرکن کی طرف اور پھر کردم کی طرف دیکھا پھر دھڑکن کو دیکھتے ہوئے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولے

بیٹا جاو اپنے شوہر کو چائے بنا کر دو ۔

تم کل ولیمے پر چلی جانا ۔اب تم لوگ میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو چلو گاڑی میں بیٹھو وہ دھڑکن کو بات کرنے کا موقع دیے بغیر آگے بڑھ گئے ۔

جبکہ کردم اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا ۔

دھڑکن کا موڈ بری طرح سے آف ہوچکا تھا

•••••••••••

بہت شوق ہے نہ میرے ہاتھ کی چائے پینے کا آج ایسی چائے پلاؤں گی ساری زندگی یاد رکھیں گے ۔

وہ غصے سے کچن کی طرف آئی ۔

اورغصے سے چیزیں پٹکتی برتن ادھراُدھر کر رہی تھی ۔

چینی اور نمک کے ڈبے سامنے رکھتے ہوئے اس کے شرارتی دماغ میں کچھ کلک ہوا ۔

آئی ایم سوری کردم سائیں مجھے پتہ نہیں چلا نمک کون سا تھا اور چینی کونسی تھی ۔اس کو تو لونگ بولتے ہیں نا وہ شرارت سے کہتی ایک ڈبا اٹھانے لگی چائے کی پتی بھی تو کچھ اسی کی طرح دیکھتی ہے اس نے لانگ کا چمچا بھرتے ہوئے چائے کے پانی میں انڈیل دیا ۔

اور پھر نمک کے تین بڑے سائز کے چمچے اپنی شاندار چائے کا حصہ بنانے لگی ۔

نمک کے نام پر چینی کی بس ایک چٹکی ہی ڈالی تھی ۔کیونکہ دونوں ایک جیسی ہونے کی وجہ سے وہ دونوں میں فرق نہیں کر پائی غلطی سے نمک کی جگہ چینی اور پتی کی جگہ لونگ ڈال دیئے ۔

کردم سائیں آپ کی شاندار جائے تیار ہے ۔

چائے کوکپ میں ڈالتی وہ اس کے کمرے کی طرف جانے لگی بے شک آج اس کے ہاتھوں جو ڈش تیار ہوئی تھی وہ چائے کے علاوہ کچھ بھی کہلاسکتی تھی

•••••••••••••••••