Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 74)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 74)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
کردم ابھی ابھی گھر واپس آیا تھا حوریہ کو سارا دن ڈھونڈنے کے بعد بھی وہ کہیں نہ ملی نہ جانے کہاں چلی گئی تھی
سب لوگ بہت پریشان تھے مقدم کی حالت اس سے دیکھی نہیں جا رہی تھی آج تین دن سے وہ بنا کچھ کھایا مسلسل اپنی حوریہ کو تلاش کر رہا تھا
حوریہ کے کہیں نہ ملنے پر وہ مردہ خانوں اور ہسپتالوں تک میں جا پہنچا
گاؤں کا ایک ایک کونہ ڈھونڈ نے کے بعد بھی حوریہ کہیں نہ ملی
اسی پریشان سی صورت دیکھ کر دھڑکن سمجھ گئی کہ آج بھی حوریہ نہیں ملی
وہ پریشانی سے آکر اندر بیٹھا تو دھڑکن اس کے لئے پانی لانے لگی
کردم سائیں ان شاءاللہ کل صبح حوریہ دیدہ مل جائے گی وہ امید سے پانی پلاتے ہوئے بولی
ان شاءاللہ اس کے علاوہ کردم اور کچھ نہیں کہہ سکتا تھا
جنید گھر واپس آیا تو تائشہ نے اس کے سامنے کھانا رکھا
حویلی میں جو کچھ ہو رہا تھا اس کی وجہ سے وہ بھی بہت پریشان تھا حوریہ صرف کردم کے لیے ہی نہیں بلکہ اس کی بھی کے لئے عزیز تھی
تائشہ ہر روز اسے امید دلا کے گھر سے بھجتی لیکن نجانے وہ معصوم لڑکی کہاں چلی گئی تھی شاید شوہر کی بے وفائی کے روگ کو وہ برداشت نہیں کر سکی
اسی لئے چلی گئی تھی لیکن کہاں کچھ بتا کے تو جاتی
شاید بتا کے جاتی تو مقدم اسے کبھی نہ جانے دیتا اسی لیے رات کی تنہائی کہیں نکل گئی
وہ نہ تو کردم کے پاس گئی تھی اور نہ ہی ملک کے پاس آخر کہاں جا سکتی تھی وہ تائشہ سوچ سوچ کے پاگل ہو چکی تھی
وہ تو کبھی کسی سہیلی کے گھر بھی نہیں جاتی تھی کہ وہ یہ سوچتے کہ شاید کسی سہیلی کے گھر میں اور وہاں پتہ کرواتے
مقدم سائیں کی حالت بہت بری ہے وہ تین دن سے کھانا نہیں کھا رہے کھانا تو دور کی بات انہوں نے پانی تک نہیں پیا
اور ضد لگا کے بیٹھے ہیں کہ جب تک حوریہ بھابی واپس نہیں آجاتیں تب تک وہ کچھ نہیں کھائیں گے جیند نے دو نوالے لیتے ہوئے کھانا چھوڑ دیا
کیسے کھائیں وہ کھا نا وہ تو بچپن سے ہی حوریہ سے محبت کرتے ہیں تائشہ کی زبان سے بے اختیار نکالا تو جنید اسے دیکھنے لگا
تمہیں کیسے پتہ کہ وہ بچپن سے اس سے محبت کرتے ہیں
جنید نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ اس کے قریب ہی بیٹھ گئی
میں تیرہ سال کی تھی جب میں ایک دن لالا کے کمرے میں گانوں کی کچھ سی ڈیز لینے گی
وہ بھی ان کی اجازت کے بغیر چھپ کر
اور جب میں نے وہاں ان کی الماری کھولی تو پتہ ہے میں نے کیا دیکھا حوریہ کے چھوٹے چھوٹے کپڑے جووہ غریبوں کو دے دیتی تھیں ۔
ہماری بہت سی گڑیا ہوا کرتی تھی نہ میں اور حوریہ ان سے کھیلا کرتے تھے تو اکثر ان کے بال ٹوٹ جاتے تھے ہم وہ گڑیا پھینک دیتی تھی لیکن آپ کو پتہ ہے جنید سائیں میں نے ان کی الماری میں وہی بنا بالوں والی گڑیا تو کبھی بنا ہاتھ پیر والی گڑیا دیکھیں اور صرف گڑیا ہی نہیں
حوریہ جو کہ کنڈز کھاتی تھی نا میں نے اب کنڈر کے ریپڑز ان کی الماری میں دیکھیں
حوریہ کی پرانی جوتیاں ٹوٹ جاتی تھی حوریہ کے سکول کی پرانی کاپیاں جو ختم ہو چکی تھی جو چیزیں وہ پھینکتی تھی مقدم لالا وہ چیزیں بھی اپنے پاس رکھتے تھے کیونکہ حوریہ نے ان چیزوں کو چھوا ہوتا تھا
جب مقدم لالا نے مجھے ان سب چیزوں کے ساتھ دیکھا تو بہت ڈانٹا اور کمرے سے باہر بھیج دیا
اور پھر مانگنی والی رات میں نے چھت پر مقدم لالا اور کردم سائیں کی باتیں سنیں جہاں مقدم لالانے کردم سائیں کو یہ بتایا کہ وہ حوریہ سے محبت کرتے ہیں وہ بھی آج سے نہیں بچپن سے اگر مقدم لالانے سویرا سے نکاح کیا ہے تو یقین کریں اس کے پیچھے بہت بڑی وجہ ہے ورنہ مقدم شاہ حوریہ کے ساتھ بے وفائی کرے یہ ممکن ہی نہیں ۔
لیکن حوریہ کو یہ قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا ایک بار تو مقدم لالا کے بارے میں سوچتی تائشہ غصے سے کہتی برتن اٹھاتے اندر جا چکی تھی جبکہ مقدم کی محبت کا سوچتے ہوئے جنید نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ حوریہ کو واپس ضرور لائیے گا
خدا کے لئے مقدم سائیں کچھ کھا لیں تین دن ہو چکے ہیں تم نے کچھ نہیں کھایا اپنی حالت دیکھو چہرہ مرجھا گیا ہے اماں سائیں اس کے قریب بیٹھی اس کی منتیں کر رہی تھی جب کہ اسے تو جیسے دنیا سے کوئی مطلب ہی نہ تھا اسے بس اس کی حوریہ واپس چاہیے تھی
آپ میری حوریہ مجھے واپس لا دیں آپ جو کہیں گی میں کھاؤں گا وہ ضدی لہجے میں بولا
مجھے نہیں پتا وہ حوریہ کہاں گئی ہے بھول جاؤ اسے چلی گئی ہے وہ تمہیں چھوڑ کر نجانے کس کنوےمیں پڑی ہو گی اس کی لاش ۔۔۔۔۔
خبردار کچھ نہیں ہو گا میری حوریہ کو آپ ایسے کیسے کہہ سکتی ہیں آپ کو ترس آیا مجھ پہ وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے غصے اور صدمے سے بولا
جب کہ کھانے کو پیچھے دھکیل کر وہاں سے اٹھ کر باہر آگیا
سوکھے لب لال آنکھیں وہ کہیں سے بھی مقدم شاہ نہیں لگ رہا تھا مقدم کردم اوجیند اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکے تھے کوئی جگہ نہ چھوڑیں یہاں تک کہ ہسپتال اورمردہ خانے بھی لیکن وہ چلی گئی تھی مقدم سے دور سب سے دور اپنے مقدم کو تڑپتا چھوڑ کے
مقدم کب تک چلے گا یہ سب کچھ اپنی حالت دیکھو میرے بچے
خدا کے لئے سمجھنے کی کوشش کرو یہ تم نے کیا حالت بنا رکھی ہے اپنی
ہم لوگ حوریہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں ان شاءاللہ وہ مل جائے گی
کب ملے گی داداسائیں جب مقدم شاہ مر جائے گا جب اس کی سانسیں ختم ہو جائیں گی یا جب یہ دل دھڑکنا بند ہو جائے گا
دادا سائیں اسے کہیں کہ جب تک مقدم شاہ زندہ ہے تب تک وہ واپس آجائے ۔میری محبت کا اور امتحان نہ لے۔ اس کا مقدم مر جائے گا۔ دادا سائیں نے آج زندگی میں پہلی بار مقدم کو اس طرح سے بکھرتے دیکھا تھا۔
جو قدم حوریہ نے اٹھایا تھا اس پر دادا سائیں کو بہت غصہ تھا جو بھی تھا حوریہ کو گھر نہیں چھوڑنا چاہے تھا۔
داداسائیں اسے ہمیشہ سے بہت سمجھدار سمجھتے تھے وہ اس سے احمقانہ حرکت کی امید نہیں رکھتے تھے ۔
آج تین دن سے وہ لوگ حوریہ کو تلاش کر کر کے تھک چکے تھے ۔
ایک تو حوریہ کی ٹینشن انہیں کھائے جا رہی تھی اوپر سے مقدم کی حالت اسے اس طرح سے تڑپتا ہوا نہیں دیکھ پا رہے تھے ۔
مقدم کچھ تو کھا لو بیٹا دیکھو اپنے دادا کو اس طرح سے نہ ستاؤ تمہارے آگے ہاتھ
دادا سائیں یہ آپ کیا کر رہے ہیں وہ ان کے بندھے ہوئے ہاتھوں کو تھام کے لئے بولا ۔
کھانا کھا لو ہم تمہیں ایسے نہیں دیکھ سکتے دادا سائیں نے منت بھرے لہجے میں کہا کہ وہ انکار نہیں
دن گزرتے جا رہے تھے اور حوریہ کا کہیں کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا آج اسے گھر سے غائب ہوئے بیس دن ہو چکے تھے
کہیں نہ ملنے کے بعد امید ختم ہوگئی
شاید نہیں یقینا وہ اس سے اتنی دور جا چکی تھی کہ وہ کبھی اس سے واپس ڈھونڈنا پائے
پولیس اس کا کوئی پتہ نہیں لگا پائی تھی۔مقدم شاہ اب بھی دیوانوں کی طرح ہر طرف اس کی تلاش جاری رکھے ہوئے تھا
کردم مقدم کو تلاش کر رہا تھا نہ جانے وہ کہاں چلا گیا تھا پچھلے کچھ دنوں سے تو ایک بار پھر سے شراب خانے جانا شروع کر چکا تھا شادی کے بعد تو اس نے شراب پینا بالکل ہی ترک کر دیا تھا
لیکن اب ایک بار پھر سے وہی سب کچھ کرنے لگا تھا جو شادی سے پہلے کرتا تھا
اس کی سوجی آنکھیں اس بات کی گواہی تھی کہ وہ شب بھر حوریہ کی یاد میں ان کا حشر کرتا ہے ۔
ہر جگہ تلاش کرنے کے بعد وہ اسے ندی کے قریب بیٹھا نظر آیا
مقدم سائیں آپ یہاں کیا کر رہے ہیں میں پاگلوں کی طرح صبح سے ڈھونڈ رہا ہوں آپ کو
حوریہ کے واپسی کی خبر لائے ہیں آپ مقدم نے نامیدی سے دیکھتے ہوئے کہا تووہ نظرچڑا گیا
نہیں لیکن ہم ڈھونڈ رہے ہیں مقدم سائیں کردم نے اب بھی امید سے کہا
کردم سائیں اگر اسے ملنا ہوتا تو کب کی مل چکی ہوتی میری غلطی اتنی بڑی تو نہ تھی کہ جس کی مجھے اتنی بڑی سزا ملتی کیا اس نے ایک بار نہیں سوچا ہی میں اس کے بغیر کیسے جیوں گا
آنکھوں کی سرخ لکیر پھر سے بھیگنے لگی مقدم نے شاید کبھی حوریہ کے بغیر جینے کا سوچا بھی نہ تھا ۔
کردم سے اس کی حالت نہ دیکھی تو وہ اسے اپنے سینے میں بھیج گیا
ہم آپ سے ڈھونڈ لیں گے مقدم سائیں یقین کریں میں اسے ڈھونڈ نکالوں گا وہ اسے اپنے سینے سے لگائیں کسی بچے کی طرح بہلا رہا تھا
