267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 27)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

شاہ سائیں کمرے کی طرف واپس جا رہے تھے تصویروں والا البم مل چکا تھا لیکن دروازے پر قدم رکھتے ہی جب انہوں نے حوریہ کو آنسوبہاتے دیکھا تو غصے سے ان کے ماتھے کی رگیں باہر آنے لگیں ۔

یہ وقت وہ اپنی بیٹی کے ساتھ تنہا گزارنا چاہتے تھے یہ وہ وقت تھا جب وہ حوریہ کی شکل ہرگز نہیں دیکھنا چاہتے تھے

اس وقت غصے کے باعث ان کا پورا بدن کانپ رہا تھا ۔

وہ غصے سے آگے بڑھیں

••••••••••••••

یہ تم نے کیا کیا بےوقوفی لڑکی کردم نے پیپرز اس کے سامنے ٹیبل پر پھینکے تھے ۔

یہ کیا ہے کردم سائیں اور میں نے کیا کیا ہے دھڑکن نے انجان نظروں سے پیپرز کو دیکھتے ہوئے پوچھا جواب زمین اب پڑے تھے ۔

یہ بھی تمہیں میں بتاؤں کہ تم نے کیا کیا ہے ۔۔۔۔

دیکھودھڑکن اگر غلطی ہو جائے تو مجھے بتا دو ۔کم ازکم اس طرح سے وہاں سے بھاگنے کا کیا مطلب تھا ۔

تم مجھے بتا سکتی تھی نہ ۔

غلطی سے گر گئی چائے کوئی بات نہیں لیکن مجھے بتائے تمہارا یہاں غلطی ہے ۔

اس طرح سے جھوٹ بولنا غلط ہے ۔

میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا کردم سائیں اس طرح سب کے سامنے اپنی انسلٹ ہوتے دیکھ کر وہ چپ نہیں رہی ۔

سچ چھپانا جھوٹ ہی ہوتا ہے دھڑکن تم سے غلطی ہوئی ہے اسے ایکسیپٹ کرو ۔

مجھ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی کردم سائیں میں نے چائے آپ کے بیڈ کی سائیڈ والی ٹیبل پر رکھی تھی وہاں کوئی پیپرز نہیں تھے میں کوئی بے وقوف یا چھوٹی بچی نہیں ہوں کہ ایسی چیزوں کی سمجھ نہ ہو ۔

دھڑکن اگر غلطی ہو جائے تو اسے قبول کرلینا چاہیے کونسا کردم سائیں تمہیں کچھ کہیں گے جو تم اس طرح سے جھوٹ بول رہی ہو

تائشہ نے آگے بڑھتے ہوئے کہا

تائشہ دیدہ آپ خاموش رہیں یہ ہمارا پرسنل میٹر ہے

تائشہ کی مخالفت نے دھڑکن کو مزید غصہ دلایا تھا ۔

جس دن سے تائشہ نے اس کے ہاتھ جلائے تھے اسے لگ رہا تھا کہ تاِئشہ نے یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا ہے اس کی نفرت زدا نگاہوں کو بھی وہ خود پر نوٹ کر چکی تھی ۔

اور اب اس سب کی وجہ بھی سمجھنے لگی تھی ۔

وہ اپنی خود تک محدود رہنے والی نیچر کی وجہ سے کسی کو کچھ نہیں کہتی تھی لیکن آج تائشہ کا اس کے اور کردم کے بیچ میں بولنا اسے زہر لگا تھا ۔

اگر میں غلطی کروں گی تو اسے ایکسیپٹ کروں گی اتنا حوصلہ ہے مجھ میں ۔میں نے کچھ نہیں کیا میں نے چائے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور وہاں کوئی پیپرز نہیں تھے۔

نجانے کیوں اپنی سچائی کا یقین دلاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔

بابا تو کہتے تھے کہ کردم اس کا سائباں ہے زندگی کے ہر معاملے میں اس کا ساتھ دے گا ۔یہاں وہ خود کھڑا اس پر جھوٹا الزام لگا رہا تھا

اس کے آنسو دیکھ کر کردم کا غصہ تھوڑا کم ہو چکا تھا ۔

اس سے پہلےکہ اس سے وہ کچھ کہتا بابا سائیں کی بلند آواز نے سب کو اپنی طرف متوجہ کرلیا

••••••••••••

میں پوچھتا ہوں ہمت کیسے ہوئی تمہاری اس کمرے میں قدم رکھنے کی وہ غصے سے دھاڑے ۔

ناناسائیں وہ ۔۔۔وہ میں دراصل ۔۔۔۔حوریہ نے کچھ کہنا چاہا جب شاہ سائیں نے تصویر ہاتھ سے کھینچ نکالی

دفع ہو جاؤ یہاں سے اور آج کے بعد اس کمرے میں قدم رکھنے کی جرات کبھی مت کرنا ۔

یہ میری بیٹی کا کمرا ہے جس کا قتل تمہارے باپ نے کیا ہے وہ غصے سے اپنے آپے سے باہر ہو چکے تھے ۔

آپ کی بیٹی میری بھی کچھ لگتی ہے نا نا سائیں وہ آنسو بھرے چہرے سے بولی شاید انہیں احساس دلانا چاہتی تھی کہ ان کی بیٹی کا اس کے ساتھ بھی ایک مضبوط رشتہ ہے ۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی گھر کے سارے ہی لوگ اس کمرے میں پہنچ چکے تھے ۔

بکواس بند کرو کچھ نہیں لگتی ہماری بیٹی تمہاری تمہارا باپ ہمارے خاندان کا قاتل ہے ۔

تمہارے باپ نے میرے جوان بیٹوں کو مار ڈالا ایک بیٹی کو بیوہ کردیا تو دوسری بیٹی کی جان لے لی ۔

دادا سائیں ۔کردم نے آگے بڑھتے ہوئے ان کے کندھے تھامے۔

نہیں ہو تم ہمارے خاندان کا خون دشمن کی بیٹی ہو تم وہ دھارتے ہوئے بولے یہ جانے بغیر کے ان کے الفاظ سامنے والےکیا اثر رہےہیں ۔

چھوڑیں بابا سائیں آپ کس کے سامنے یہ ساری باتیں کر رہے ہیں ۔پیدا ہوتے ہی اپنی ماں کو کھا گئی اور اپنی منحوسیت ہمارے گھر لے آئی ۔

گھٹیا باپ گھٹیا بیٹی رضوانہ نے زہر اگلولتے ہوئے کہا

۔بس پھوپو سائیں کردم دھیمی آواز میں بولا ۔ادب اور لہٰذاسے کچھ بھی سخت نہ بولنے پر مجبور کر گیا تھا

اور اب اس کی منحوسیت میرے بیٹے کی زندگی خراب کرے گی نجانے کون سی ادائیں دکھا دکھا کر اس نے میرے بیٹے کو پھسایا ہے آج پہلی بار اس گھر میں نازیہ کے منہ سےاپنے لئے اس نے کچھ سنا تھا

اس کا دل چاہا کہ وہ ڈوب مرے یا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے ۔

اسے یقین تھا کہ نازیہ مامی سائیں اس سے محبت نہیں کرتی لیکن اتنی شدید نفرت

حوریہ سے مزید برداشت کرنا مشکل ہوگیا وہ بھاگتے ہوئے اس کمرے سے نکلتی چلی گئی ۔

کتنی آسانی سے یہ سب لوگ اسے قاتل کی بیٹی کہہ رہے تھے کوئی نہیں کہہ رہا تھا جس کا قتل ہوا ہے وہ اس کی ماں ہے ۔

اپنے کمرے میں آکر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔

جب اگلے ہی لمحے اس کمرے میں دھڑکن داخل ہوئی ۔ اور اسے اپنے سینے سے لگایا ۔

اور اسے سنبھالنے لگی

•••••••••••••••

شام تک گھرکاماحول بہتر ہو چکا تھا دادا سائیں کا غصہ اتر چکا تھا ۔

اس وقت انہیں اپنے لفظوں کا احساس بھی تھا ۔وہ غصے میں حوریہ کیلئے بہت غلط الفاظ استعمال کر چکے تھے وہ اس معصوم کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتے تھے لیکن وہ کبھی یہ بات بھی نہیں بھلا سکتے تھے کہ وہ ملک کی بیٹی ہے

دھڑکن نے حوریہ کو چپ کروایا جبکہ اس کی اداسی ابھی بھی بہت کچھ بیان کر رہی تھی۔

مقدم شاہ آج دوسرے گاؤں گیا ہوا تھا ۔اسے تو خبر ہی نہ تھی کہ آج اس کے گھر میں کیا کیا ہوا ہے ۔

حوریہ ابھی تک کمرے سے نہ نکلی آج اسے اپنے ہی وجود سے نفرت ہوگئی ۔

وہ اپنے اندر ایسی گھٹن محسوس کر رہی تھی کے موت کی خواہش بھی شدت سے کر بیٹھی ۔

•••••••••••••

کل مقدم شاہ اور حوریہ کو حویلی سے نکلنا تھا ۔

اسی لئے آج وہ اپنے سارے کام نپٹا دینا چاہتا تھا سارے کام نپٹاتے نپٹاتے اسے رات کے ساڑھے گیارہ بج گئے ۔

دادا سائیں سے ملنے گیا تو وہ آرام کر رہے تھے وہ انہیں ڈسٹرب کئے بغیر ہی واپس اپنے کمرے کی طرف چلا آیا ۔

کمرے میں آیا تو حوریہ بھی شاید سو رہی تھی ویسے وہ اس طرح سے کبھی سوتی نہیں تھی اس کا انتظار کرتی تھی لیکن آج ضرورت سے زیادہ لیٹ ہو گیا تھا جس دن سے اس کی شادی ہوئی تھی وہ اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانے لگا تھا ۔

داداسائیں بھی اس سے بہت خوش تھے ۔

وہ حوریہ کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اسے فلحال بہت بھوک لگی تھی ۔اور ملازمہ کا ہاتھ کا کھانا وہ کبھی پسند نہیں کرتا تھا ۔

جب سے اس کی شادی ہوئی تھی اماں سائیں کافی بے فکر رہنے لگی تھی ۔انہوں نے تو اپنی ساری ذمہ داریاں حوریہ کے حوالے کردی تھی ۔

اس کے لئے مقدم نے ہی ان سے کہا تھا کہ۔اب آپ بے فکر ہو جائے اور اپنی صحت کا خیال رکھا کریں میرا خیال رکھنے کے لیے میری بیوی آگئی ہے ۔

ابھی مقدم سوچ ہی رہا تھا کہ وہ حوریہ کو جگائے یا نہ جگائے کہ حوریہ کی آنکھ کھل گئی ۔

آپ آ گئے میں آپ ہی کا انتظار کر رہی تھی ۔وہ بیٹھتے ہوئے بولی تو مقدم مسکرایا

مجھے اندازہ تھا کہ تم میرا انتظار کیے بغیر نہیں سو سکتی اب جلدی سے کھانا لگاو بہت بھوک لگی ہے ۔وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا

اس وقت گھر کے زیادہ لوگ سوتے نہیں تھے بس اپنے اپنے کمرے میں چلے جاتے تھے ۔

حوریہ اس کے قریب سے اٹھنے لگی

جب اس کی آنکھوں پر نظر گئی ۔

اس سے پہلے کہ وہ اٹھتی مقدم نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔

تم روئی ہو ۔۔۔؟

کیوں روئی ہو تم ۔۔۔؟

کسی نے کچھ کہا ہے تم سے ۔۔۔؟

کس نے کہا ہے پھپو سائیں۔ ۔۔؟

مجھے پہلے ہی اندازہ تھا کہ وہ باز نہیں آئیں گی ان سے تمہیں خود بات کرتا ہوں وہ اس سے کہتا بیڈ سے اٹھا

مقدم سائیں مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا ۔

اور میں نہیں روئی ہوں ۔۔اس نے خوفزدہ ہوکر فوراً کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی لیکن مقدم کے روکنے کا کوئی ارادہ نہ تھا ۔

مقدم سائیں میں کہہ رہی ہوں نہ مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا ۔اور اگر خالا سائیں کچھ کہہ بھی دیں تو کیا فرق پڑتا ہے ان کی باتیں سننے کی عادت ہے مجھے ۔وہ سمجھانے والے انداز میں بولی

اس کا مطلب ہے کسی اور نے کچھ کہا ہے ۔۔کس نے کہا ہے بتاؤ مجھے ۔اس بار وہ اس کا چہرہ تھام کر نرمی سے بولا ۔

مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا مقدم سائیں آپ کو غلط فہمی ہو رہی ہے ۔

تو اگر کسی نے کچھ نہیں کہا تو یہ آنکھیں سرخ کیوں ہیں ۔بتاؤ مجھے اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔

اس وقت کون ہو سکتا ہے یہ سوچتے ہوئے مقدم نے دروازہ کھولا ۔

مقدم لالہ ابھی تھوڑی دیر پہلے بابا سائیں میرے کمرے میں آئے تھے وہ کہہ رہے تھے۔

کہ دودھ پینے سے طبیعت جلدی ٹھیک ہوتی ہے ۔ سر میں بھی آرام آجاتا ہے یہ لیں حوریہ دیدہ میں آپ کے لیے دودھ لے کر آئی ہوں یہ جلدی سے پی لیں تاکہ آپ کے سر کا درد ٹھیک ہوجائے ۔

دھڑکن نے دودھ کا گلاس اس کے ہاتھ میں تھما دیا اور مقدم کی طرف متوجہ ہوئی

آپ کو پتہ ہے آج دادا سائیں اور بڑی امی اور پھپھو سائیں نے ان کو اتنا ڈانٹا بیچاری اتنی روئی ہیں

وہ مقدم کو دیکھ کر بتانے لگی ۔جبکہ مقدم کا دھیان اس کی باتوں پر ضرور تھا لیکن وہ دیکھ حوریہ کو رہا تھا ۔

اماں سائیں نے تمہیں کچھ کہا ہے وہ بےیقینی سے پوچھ رہا تھا

ہاں مقدم لالا انہوں نے ہی کہا ہے

وہ کہہ رہی تھی کہ یہ دیدہ نے آپ کو پھنسا کر آپ سے شادی کرلی ہے اب آپ کی زندگی خراب کر دی گئی

بس کرو دھڑکن جاؤ یہاں سے ۔اس سے پہلے کے دھڑکن اور کچھ کہتی حوریہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی ۔

دیدہ میں تو بس اسے اس طرح سے غصہ ہوتے دیکھ کر دھڑکن پریشان ہوگئی

دھڑکن گڑیا تم اپنے کمرے میں جاؤ ۔

اس سے پہلے کہ حوریہ کچھ جواب دیتی مقدم نے کہا ۔

اوکے گڈ نائٹ

دھڑکن کو اب وہاں اپنا رکنا بےمقصد لگا حوریہ نے اسے دن میں بھی یہ سب کچھ مقدم کو بتانے سے منع کیا تھا لیکن اس نے خود ہی سوچا تھا کہ وہ مقدم کو ضرور بتائے گی آخراسے بھی تو پتہ چلے کہ اس کے پیچھے وہ دن رات طعنے سہتی ہے ۔

شاید حوریہ کے غصے کی بھی یہی وجہ تھی لیکن دھڑکن کو فرق نہیں پڑتا تھا ۔کیونکہ جو کچھ اس کے ساتھ ہو رہا تھا وہ غلط تھا ۔

تم نے مجھے یہ سب کچھ کیوں نہیں بتایا حور وہ غصے سے بولا ۔

میں نہیں بتانا چاہتی تھی ۔اور پلیز اس وقت میرے سر میں بہت درد ہے آپ مجھ سے بالکل بھی کچھ نہیں پوچھیں گے ۔اس سے نظر ملاتے ہوئے اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو گرنے لگے ۔

مقدم نے اگلے ہی پل کھینچ کر اسے اپنے سینے سے لگایا ۔

میں بہت بری ہوں مقدم سائیں جب سے اس حویلی میں آئی ہوں سب کی زندگی حرام کر رکھی ہے میں نے ۔وہ اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

تم نے میری زندگی جنت بنادی حور وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا بولا

گھٹیا باپ کی گھٹیا بیٹی ہوں۔ اس بار حوریہ کے رونے میں شدت آگئی

نہیں ہو تم اس کی بیٹی صرف میری ہو میری بیوی ہو تم ۔

اسے اپنے ساتھ لگائے اسے رونے دے رہا تھا ۔

آپ کی زندگی میں شامل ہو کر میں نے آپ کی زندگی خراب کردی ۔وہ پھر سے روتے ہوئے بولی تو مقدم بےاختیار مسکرایا وہ اسے کبھی نہیں بتا سکتا تھا کہ اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کے بعد وہ آسمانوں میں اڑ رہا ہے ۔اپنی زندگی کو ایک خواب تصور کرنے لگا ہے ۔ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ۔

اپنی محبت کو حاصل کرکے وہ سب کچھ حاصل کر چکا ہے ۔وہ اسے یہ سب کچھ بتانا نہیں چاہتا تھا وہ اسے احساس دلانا چاہتا تھا اپنی محبت کا ۔

لیکن اس سب کے لئے سب سے ضروری یہ تھا کہ مقدم اس گھر میں حور کو ایک پہچان دے ۔اور اس نے یہ کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا ۔

••••••••••••