Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 46)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 46)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
وہ دونوں تقریبا رات کے 2 بجے گھر واپس آئے ہیں ۔سارا کام ختم ہو چکا تھا اب وہ دونوں ہی بے فکر تھے ۔
کھانا ان دونوں نے راستے میں ہوٹل سے کھایا تھا اور اب کردم کو ہمیشہ کی طرح چائے کی طلب ہورہی تھی
گھر آتے ہی اس نے سب سے پہلے چائے پینی ہوتی تھی اس نے کیچن کی طرف دیکھا کوئی ملازم موجود نہ تھا ۔
میں نے تم کہا تھا ہوٹل سے چائے پی لو لیکن تب تم نے کہا کہ ہوٹل کی چائے تمہیں پسند نہیں اور اب گھر پہنچتے ہوئے ہمیں اتنا وقت لگ چکاہے کہ اب کوئی بھی نہیں جاگ رہا ۔
اسی لئے آج رات آپ کو بغیر چائے کہ ہی سونا ہوگا لیکن بغیر چائے کے آپ کو نیند کیسے آئے کی اس نے متجسس انداز میں پوچھا تھا
کیوں کہ اس نے کبھی بھی کردم کو بغیر چائے پیئے سوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا
اب اسے یقین تھا کردم ساری رات نہیں سوئے گا
نہ جانے وہ کون سے لوگ ہیں جو چائے پی لیں تو انہیں ساری رات نیند نہیں آتی تھی اور ایک کردم سائیں تھے جو بغیر چائے کے نہیں سو پاتے تھے ۔
کوئی بات نہیں ایک دن چائے نہیں ملی تو کیا ہوگیا ایسے بھی آج کافی تھکاوٹ ہو چکی ہے جلدی نیند آ جائے گی کردم اسے بے فکری سے کرتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
جبکہ اس کے بےفکر انداز پر مقدم بھی اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ اگر کردم چائے کے لئے تھوڑی بےچینی دکھاتا تو وہ حوریہ کو جگا کر کے لئے چائے ضرور بنواتا ۔
کیونکہ ہر انسان کے اندر ایک نہ ایک نشہ ضرور ہوتا ہے مقدم کے اندر سگریٹ کا نشہ تھا اور اسی طرح سے کردم کے اندر چائے کانشہ تھا۔
مقدم نے کمرے میں قدم رکھا تو ایک خوبصورت منظر نے اس کا استقبال کیا ۔
وہ اس کے تکیے کو باہوں میں بھرے اپنے سینے سے لگائے گہری نیند سو رہی تھی ۔
یہ منظر جتنا خوبصورت تھا مقدم کو اتنا ہی چھبتا ہوا لگا وہ تیزی سے آگے آیا اور تکیہ کھینچ کر اس کے باہوں سے نکال کر دور پھینکا ۔
اس کو گوارا نہ تھا کہ اس کی جگہ ایک بے جان تکیہ لے حوریہ کی باہوں میں صرف مقدم شاہ کی جگہ تھی
ابھی بھی تکیہ کو اتنے غصے سے گھور رہا تھا جیسے وہ کوئی بے جان روئی کا گدا نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا وجود ہے ۔
وہ قدم اٹھاتا اس تکیے کے قریب آیا اور ایک زوردار لات مار کے اسے مزید خود سے دور کردیا ۔
پھر ایک نظر حوریہ کے سوئے ہوئے وجود پر ڈالی جو اس کی حرکت کے بعد ذرا کسمکسا کر دوبارہ سے سوگئی تھی
تم بہت نادان ہو میرا سوہنا ماہی ۔لیکن اس نادانی کی سزا تمیں ضرور ملے گی ۔
اس کے کانوں میں ہلکی سی سرگوشی کرتا اس کے لمبے گھنے بالوں کو اپنی مٹھی میں پکڑ چکا تھا لیکن اس کی گرفت اتنی بھی سخت نہ تھی کہ حوریہ کو تکلیف ہوتی لیکن اتنی نرم بھی نہ تھی کہ اس کی نیند نہ ٹوٹتی ۔
مجھے بے وفا لوگوں پر بہت غصہ آتا ہے ۔میرے ساتھ بے وفائی مت کرنا ورنہ اس کا انجام تمہاری سوچ سے بھی زیادہ برا ہوگا ۔
مقد۔ ۔ مقدم سائیں ۔اس کے انداز نے حوریہ کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا تھا ۔اسے ہوا کیا تھا حوریہ کے لئے سمجھنا بہت مشکل تھا ۔
وہ مقدم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے اپنے بال چھڑوا نے کی کوشش کر رہی تھی جب مقدم نے اس کے بال چھوڑے اور اس کے قریب سے اٹھ کر واپس اس تکیہ کے پاس آیا ۔
جیب سے سگریٹ کے ڈبی نکالی ماچس کی ایک تیلی سے پہلے اپنا سگریٹ سلگایا اور وہی جلتی ہوئی آگ کا شولا تکیے پر پھینک دیا ۔
اس کے اس جنونی انداز پر حوریہ فوراً سے اٹھ کر اس کے پاس آئی
مقدم سائیں آپ کا تکیہ جل رہا ہے یہ آپ کیوں کر رہے ہیں آخر ہوا کیا ہے کس بات کا غصہ نکال رہے ہیں اس بے جان پر ۔
حوریہ نے آگ سے جلتے اس تکیے کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
یہ میری جگہ پہ تھا مسز حوریہ مقدم شاہ ۔اورمقدم شاہ اپنی جگہ اپنے سائے کو بھی نہیں لینے دے گا ۔
تمہاری ان باہوں میں میرے علاوہ کسی کی جگہ نہیں ہونی چاہیے سنا تم نے وہ اس کے دونوں بازو پکڑے شدت سے بولا تھا ۔
مجھے ہر اس چیز سے نفرت ہوتی ہے جو تمہارے اور میرے بیچ میں آتی ہے ہر چیز سے وہ اس کے بالوں میں چہرے چھپا تے بے خود سا ہونے لگا جبکہ اس کے انداز نے حوریہ کو ڈرا دیا تھا ۔
میں تمہیں کسی کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتا حوریہ ۔جابجا اس کے چہرے پر اپنی محبت کی مہر چھوڑتا اس سے اپنی محبت کا احساس دے رہا تھا ۔
اور اسے روکنا تو ویسے بھی حوریہ کے بس سے باہر تھا خاموشی سے اس کے سینے پر سر رکھے اس جلتے ہوئے تکیے کو دیکھ رہی تھی ۔
جبکہ بس ایک ہی سوچ اس کے ذہن پر سوار تھی۔ کیا وہ بھی مقدم کے لیے اس حد تک پاگل ہے ۔
اور دل کے ہر کونے نے کہا تھا
نہیں
۔ وہ مقدم کے لیے جنون کی اس حد تک نہیں جا سکتی ہاں لیکن مقدم کو شیئر کرنا تو حوریہ کے بس میں نہ تھا
پانچ منٹ 10 منٹ 15 منٹ آدھاگھنٹہ اور کردم شاہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا
نیند کی ہر ممکن کوشش کرنے کے باوجود بھی نیند کی دیوی اس پر مہربان نہ ہوئی ۔
بہت بری عادت لگ گئی ہے چائے کی۔ اس وقت گھر میں کوئی بھی ملازمہ موجود نہ تھی۔
پھوپو سائیں کو جگاتا ہوں وہ سوچتے ہوئے باہر آیا ۔
نہیں پھوپو سائیں کی نیند اس وقت خراب کرنا صحیح نہیں ۔
پہلے تو حوریہ تھی جو دیر تک اس کا انتظار کرتی خود بھی چائے پیتی تھی اور اسے بھی پلاتی تھی لیکن اب اس کی ذمداریاں بدل چکی تھی اس بات کا احساس کردم کو بھی تھا ۔
اسی لئے اب وہ حوریہ کو اپنے کام کہنا چھوڑ چکا تھا ۔
تھوڑی دیر باہر چہل قدمی کرنے کے بعد بھی اس کی طلب پوری نہ ہوئی ۔
میری ہونے والی دلہن اب تم ہی میرا سہارا ہو ویسے تو تم اپنی چائے کے ایسے شکار پلاتی ہو کہ مردہ بھی قبر سے زندہ ہوکر کہے کہ یہ چائے دوبارہ نہیں پینی۔
لیکن وہ کیا ہے نہ تو تمہیں چائے بنانا تو ویسے بھی سیکھنا پڑے گا ۔اور یہاں مجھے نیند نہیں آرہی اور تم کیسے گھوڑے بیچ کے سو رہی ہو ۔
بہت غلط بات ہے دھڑکن سائیں تمہیں اپنے شوہر کا خیال کرنا چاہیے خود ہی اپنی بات پر مسکراتا وہ دھڑکن کے کمرے کی طرف چل دیا تھا ۔
اگر رات کے اس پہر کردم کو کوئی دھڑکن کے کمرے میں جاتا دیکھ لیتا تو نہ جانے کیا مطلب نکالتا اسی لئے اس نے کافی احتیاط سے دھڑکن کے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا
دھڑکن دھڑکن اٹھاؤ مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے کردم اس کے سر پر کھڑا اسے جگا رہا تھا جب کہ وہ گہری نیند میں ہونے کے باوجود بھی اس کو اس طرح سے اپنے کمرے میں پاکر فورا اٹھ گئی تھی ۔
کیا بات ہے کردم سائیں سب کچھ ٹھیک تو ہے آپ یہاں کیا کر رہے ہیں دادا سائیں تو ٹھیک ہے وہ فکرمندی سے اٹھ کر بیٹھ چکی تھی ۔
جبکہ اس کے فکر مندانہ انداز پر وہ بے ساختہ مسکرایا تھا سب کچھ ٹھیک ہے دادا سائیں بھی بالکل ٹھیک ہیں کردم نے اسے مطمئن کرتے ہوئے کہا
تو پھر آپ رات کے اس وقت یہاں کیا کر رہے ہیں دھڑکن کنفیوز سی اسے دیکھ کر پوچھنے لگی
مجھے چائے پینی ہے کردم نے بے بسی سے کہا تھا ۔
کیا یہ مذاق تھا ۔۔۔۔۔؟دھڑکن نے بے یقینی سے پوچھا
رات کے ڈھائی بجے وہ اسے جگا کر چائے کا بتانے آیا تھا۔
نہیں دھڑکن یہ مذاق نہیں ہے میں بہت بری حالت میں ہوں مجھے نیند نہیں آ رہی اور آج تک میں چائے کے بغیر کبھی بھی نہیں سویا مجھے بچپن سے عادت ہے چائے پینے کی ۔
ویسے تو میں خود چائے بنا لیتا لیکن میری چاہے اتنی بُری بنتی ہے کہ میں خود بھی نہیں پی پاتا ۔
اس نے اس طرح سے اپنی بات کا اظہار کیا کہ دھڑکن کو ہنسی آگئی مطلب دنیا میں کچھ تو ہے جو کردم سائیں نہیں کرسکتا تھا
کردم سائیں آپ نے مجھے اس وقت کیوں جگایا ہے یہ بتائیں دھڑکن اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے بات کے تہہ تک پہنچنا چاہتی تھی کہیں وہ رات کے ڈھائی بجے اس سے تو چائے نہیں بنوا کر پینے والا ۔
دھڑکن کیا ہے نہ کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تم مجھ سے بھی بُری چائے بناتی ہو لیکن تمہارے ہاتھ کی بنی چائے میں یہ سمجھ کر پی لیتا ہوں کہ یہ میں نے نہیں بنائی ۔تو مجھے تھوڑی تسلی ہو جاتی ہے
یقین کرو یہ سوچ کر مجھے تمہارے ہاتھ کی چائے اچھی لگتی ہے چلو اب وقت ضائع مت کرو دیکھو بہت وقت ہوگیا ہے مجھے بھی سونا ہے صبح ہماری شادی ہے ۔
جاو جلدی سے چائے بنا کے لاو قسم سے بہت طلب ہو رہی ہے مجھے نیند تک نہیں آرہی ۔
کردم نے کہا تو دھڑکن کو تو جیسے موقع ہی مل گیا
آپ کو پتہ ہے اس وقت آپ کو چائے کی اتنی طلب ہے جتنی ایک نشائی کو نشے کی ہوتی ہے میری بات ذرا غور سے سنیے گا ۔
اگر آپ کو میرے ہاتھ کی چائے پینی ہے تو آپ کو میری ایک شرط ماننی پڑے گی دھڑکن نے شرط رکھتے ہوئے کہا ۔
مجھے منظور ہے دھڑکن اب جلدی جاؤ اور چائے بناؤ کردم نے آرڈر دیا ۔
پکا منظور ہے بعد میں بدل تو نہیں جائیں گے
ہاں بابا منظور ہے اب جلدی جاؤ کردم نے سے بیجتے ہوئے کہا تو وہ شرارتی انداز میں مسکراتی اٹھ کر چلی گئی ۔
پھر دروازے سے مڑی ۔
کل ہماری شادی ہے کردم سائیں اور آج کی رات آپ میرے ہاتھ کی آخری چائے پی رہے ہیں اس کے بعد جب میرا دل چاہے گا میں آپ کے لئے چائے بناؤں گی آپ کبھی بھی مجھے آرڈر نہیں دے سکتے اور یہی میری شرط ہے دروازہ بند کر تیزی سے بول کر باہر نکل چکی تھی ۔
جبکہ کردم نے اس کی بات سننا ضروری نہ سمجھا ۔
شرط لگانا حرام ہوتا ہے دھڑکن سائیں اور میں کوئی حرام کام نہیں کرتا یہاں تک کہ نشہ بھی حرام نہیں کرتا کردم مسکراتے ہوئے اسی کے بیڈپر لیٹ گیا تھا
