Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 63)
No Download Link
Rate this Novel
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 63)
Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah
جنید کی آنکھ کھلی تو تائشہ اسے کہیں نظر نہ آئی وہ فریش ہو کر باہر آیا اور مین گیٹ کی طرف دیکھا جو اندر سے لاک تھا مطلب کے وہ گھر کے اندر ہی تھی لیکن کہاں ۔۔۔۔۔؟
نا بیڈروم میں تھی اور نہ ہی کچن میں ۔
کچن میں آیا تو کھانا تیار تھا ۔اسے دیکھ کرخوشی ہوئی پھر باہر آکر اسے تلاش کرنے لگا ۔
جب دیکھا کہ تائشہ گھر کے دوسرے بیڈروم میں خود کولاک کیے بیٹھی ہے ۔
میری معصوم بیوی یقیناً یہ چالاکی تم نے آج رات مجھ سے بچنے کے لئے کی ہوگی ۔لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اپنا حق تو میں تم سے وصول کے رہوں گا
اس نے تائشہ کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تائشہ باہر آکر کھانا کھالو اس نے حکم دیا تھا
میں کھا چکی ہوں اور یہ تمہاری غلط فہمی ہے کہ میں کھانے پر تمہارا انتظار کر رہی ہوں گی جاؤ جا کر کھانا کھا کر سو جاؤ انتہائی بدتمیز انداز میں کہتی اس نے ایک بار دروازے کا لاک دیکھا تھا کہیں وہ اندر ہی نہ آجائے ۔
بہت اچھی بات ہے ویسے بھی بھوکے پیٹ ساری رات کیسے جاگوگی وہ شرارتی انداز میں کہتا کچن میں آیا اور اپنے لئے کھانا گرم کرنے لگا ۔
جبکہ اس کے بات پر اندر ہی اندر گھبراتی تائشہ کوئی دسویں بار اپنے کمرے کا لاک چیک کرچکی تھی
وہ شہر گیا ہوا تھا جنید نے اسے فون پر بتایا تھا کہ مقدم سائیں نے تائشہ کی ساری باتیں سن لی ہیں اور اس کا رابطہ ملک سے رہا ہے اور غصے میں اپنے گھر جا چکا ہے کردم کو ڈر تھا کہ کہیں وہ غصے میں کچھ الٹا سیدھا نہ کردے اسی لیے جب اس نے حویلی فون کیا تو پتہ چلا کہ وہ مقدم گھر آ چکا ہے
جس کے بعد وہ تھوڑا بے فکر ہوکر خود ہی شہر آگیا۔
اسے یہ جان کر بہت حیرانگی ہوئی تھی کہ اس پر حملہ کروانے والوں میں تائشہ بھی شامل تھی لیکن پھر وہ اپنی عزت پررسک لے سکتی تھی تو یہ کیا چیز تھی
کام ختم کرکے جب وہ شہر سے واپس گاؤں کے لیے روانہ ہونے لگا تو اس کی نظرایک گفٹ شاپ پر گئی وہ جب بھی شہر آتا تھا حوریہ کے لیے کوئی نہ کوئی تحفہ ضرور خریدتا تھا
اور اس بار بھی اس نے اسے گفٹ دینے کے لیے ایک بہت خوبصورت گولڈ پین خریدا تھا ۔
پھر پازیب کے جوڑے پر نظر پڑتے ہی اسے دھڑکن کی یاد آئی تھی ۔
دھڑکن سائیں ایک گفٹ تمہارے لئے بھی اس نے مسکراتے ہوئے وہ پازیب کا جوڑا پیک کروایا تھا ۔
دھڑکن بس بہت ہوگیا تم کوئی چھوٹی بچی نہیں ہو جو اس طرح سے صبح سے خود کو کمرے میں لاک کر کے بیٹھی ہو باہر نکلو بیٹا یہ نادانی مت کرو
احمد شاہ کمرے کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے بولے وہ اسے منانا نہیں بلکہ اسے سمجھانا چاہتے تھے کہ دھڑکن کو اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہیے
لیکن شاید ان کے واپس جانے کے اچانک فیصلے نے دھڑکن کو بہت اداس کر دیا تھا
آپ کو کیا فرق پڑتا ہے میں کیا کروں آپ تو جا رہے ہو نہ تو پھر یہاں کیوں آرہے ہیں جائیں یہاں سے ۔میں رہ لوں گی آپ کے بغیر ۔لیکن مسٹر بابا سائیں اپنا گھر چھوڑ کے کوئی نہیں جاتا سمجھے ۔وہ ہتھیلی سے اپنے گال رگڑتے ہوئے بولی۔
کردم ابھی ابھی واپس آیا ہے اور اپنے کمرے کے باہر احمد شاہ کو کھڑے دیکھ کر اور اندر سے آتی دھڑکن کی آواز نے وہ ایک ہی پل میں سمجھ چکا تھا کہ آخر ماجرا کیا ہے
کردم سائیں اب تمہیں سمجھاو اسے میری تو کوئی بات نہیں سن رہی صبح سے خود کو کمرے میں لاک کر رکھا ہے
یہاں تک کے صبح سے کچھ کھا بھی نہیں رہی تھی وہ تو شکر ہے کہ تھوڑی دیر پہلے ملازمہ کھانا دینے آئی تو اس نے لے لیا ۔۔ مطلب کے ناراضگی صرف احمد شاہ سے تھی کھانے سے نہیں وہ ان کی بات پے مسکرایا
چاچو سائیں آپ جائیں آرام کریں میں اسے سمجھاتا ہوں کردم نےانہیں حوصلہ دیتے ہوئے بھیجا ۔
دھڑکن دروازہ کھولو کردم نے دروازہ کھٹکٹھا تے ہوئے کہا
مسٹر بابا سائیں آپ کے پاس ہیں تومیں دروازہ نہیں کھول رہی اونچی آواز میں احمد شاہ کو سنانے والے انداز میں بولی
ناراضگی میں باباسائیں اکثر مسٹر باباسائیں ہو جایا کرتے تھے ۔
نہیں دھڑکن مسٹر بابا سائیں یہاں سے جا چکے ہیں اس وقت صرف آپ کے مسٹرہسبینڈ سائیں یہاں کھڑے ہیں
کردم نے اسی کے انداز میں کہا تو وہ اٹھ کر دروازہ کھول چکی تھی
ہاتھ میں کیٹی کو پکڑے ہوئے سرخ آنکھیں یقینا وہ بہت روئی تھی
کیا بات ہے دھڑکن تم اتنی اداس کیوں ہو آج نہیں تو کل تمہارے بابا کو جانا ہی تھا نہ اور وہ کونسا ہمیشہ کے لئے جا رہے ہیں تم روز ان سے باتیں کرنا ۔اور پھر گاؤں کے مسائل حل ہو جائیں میں تمہیں خود ان کے پاس لے کے چلوں گا
کردم نےوعدہ کرنے والے انداز میں کہتے ہوئے اسے بیڈ پر بٹھایا
لیکن بابا نہیں ہوگے تو میرا خیال کون رکھے گا مجھ سے پیارکون کرے گا دھڑکن نے معصومیت سے کہا مطلب ہر لڑکی کی طرح اسے بھی ایک نخرے اٹھانے والا انسان چاہیے تھا جو باپ کے علاوہ اور کوئی نہیں اٹھا سکتا تھا ۔بیٹیوں کو شہزادیاں بنا کر ان سے محبت صرف باپ ہی کرتا ہے
میں تمہیں پیار کروں گا میں تمہارا خیال رکھوں گا اور جب تم اپنی بے وقوفانہ حرکتیں کرو گی تب تمہیں بہت ڈانٹوں گا اور ایک آدھ لگابھی دیا کروں گا وہ شرارتی لہجے میں بولا
پھر سے بتادیا نہ کردم شاہ سائیں کے آپ دنیا کے سب سے بورنگ ترین انسان ہیں
اگربیوی اداس ہوتو اسے پیار سے مناتے ہیں نہ کہ ڈراتے ہیں دھڑکن نے ناراضگی کے اصول بتائے ۔
ہاں لیکن اگر تم مجھ سے ناراض ہوتی تو میں تمہیں پیار سے مناتا لیکن تم تو اپنے بابا سائیں میرا مطلب ہے مسٹر بابا سائیں سے ناراض ہو۔
لیکن میں تم سے وعدہ کرتا ہوں دھڑکن کے بہت جلد میں تمہاری زندگی میں تمہارے ہر پیارے کی جگہ لے لوں گا میری محبت کے آگے تمہیں دنیا کی ہر محبت کم لگے گی
تم ہر دم صرف کردم شاہ کو چاہو گی صرف کردم شاہ کو سوچو گی کردم شاہ تمہارے حواسوں پے اس حد تک چھا جائے گا کہ تم سانس لو گی تو وہ تمہارے سینے میں دل بن کر دھڑکنے لگے گا ۔اور تم اسے اپنی ہر اک سانس میں محسوس کرو گی تمہاری خوشبو کو اپنی خوشبو بنا کر وہ سحر انگیز انداز میں کہتا اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کر کے وہ اسے کسی اور ہی دنیا کا باسی بنانے لگا
وہ ہوش کی دنیا میں تب آئی جب اپنے دوپٹے کو خود سے دور جاتا محسوس کیا ۔
کردم اسے اپنی باہوں میں اٹھائے بیڈ پر لے آیا تو کیا خیال ہے سارے پردے گرا دیے جائیں تو کیا پھر تم کردم شاہ کو اپنی زندگی میں ویلکم کرنے کے لیے تیار ہو وہ دلکشی سے مسکراتے ہوئے اجازت مانگنے لگا ۔
ہاں کر دو دھڑکن ایک ہی رات میں ثابت کردوں گا کہ مجھ سے زیادہ تمہارا اور کوئی خیال نہیں رکھ سکتا مجھ سے زیادہ تمہیں اور کوئی پیار نہیں کر سکتا ۔
وہ اس کی نظروں میں جھانکتے ہوئے بولا جبکہ اپنے دل کی غیر ہوتی حالت پر وہ اس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپا گئے ۔
آج بھی شرماتی رہوگی تو کیسے چلے گا اس طرح سے شرما کر تم مجھے مزید مد ہوش کر رہی ہو وہ اس کے ایک ایک نقش کو چومتا اس کا چہرہ گل نار کرگیا ۔
جب اچانک ایک آواز ان دونوں کو ہوش کی دنیا میں لے آئی
میاوں ۔۔کیٹی کی آواز نے ان دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا
ناٹ اگین آج میں ہمارے بیچ کسی کو نہیں آنے دوں گا کردم نے اس کی گردن سے چہرا نکالتے ہوئے ایک نظر کیٹی کو دیکھا اور پھر اس کے چہرے کو ۔
آہستہ سے قریب سے اٹھ کر اس نے کیٹی کو اٹھایا جاتا
آپ اسے کہاں لے کے جا رہے ہیں اسے دروازے کی طرف جاتا دیکھ کر دھڑکن کو فورا اپنی کیٹی کی فکر ہونے لگی
پٹاکا سائیں کمرے سے نہیں نکال رہا بس اس کے گھر میں ڈال رہا ہوں ۔ویسے تمہیں اسے یہاں نہیں لانا چاہیے تھا وہ اسے اس کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے بولا
بلکہ اسے دوسرے جانوروں کے ساتھ رکھنا چاہیے ۔
کردم کو یہ جانور اپنے کمرے میں دیکھ کر بالکل اچھا نہیں لگا تھا دو دن پہلے تک تو یہ دھڑکن کے پرانے کمرے پر قبضہ کیے ہوئے تھی اور آج اس کے کمرے میں موجود تھی۔
وہ کیا ہے سویرہ دیدہ بیمار ہیں اسی لئے آج اسے میں لےآئی ورنہ وہ رات کو اس کا بہت خیال رکھتی ہیں اسے اپنے پاس سولا لیتی ہیں لیکن اب تو اس کا خیال مجھے رکھنا ہوگا دیدہ بھی تو جا رہی ہیں وہ ایک بار پھر سے اداس ہوئی ۔
جبکہ کردم اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے واش روم کی طرف لے کر گیا اور وہاں واش بیسن میں اپنے اور اس کے ہاتھ دھلوانے لگا
تمہیں چاہیے کہ اس ببلی سے زیادہ تم اپنے شوہر پر دھیان دو اور ہاں جب بھی اسے ہاتھ لگاؤ تو اپنے ہاتھ ضرور واش کرو وہ اسے واپس کمرے میں لے کے آیا اور ٹاؤل سے خود ہی اس کے ہاتھ صاف کرنے لگا ۔
اور پھر ٹاول ایک طرف رکھ کر دوبارہ اس کے پاس آیا
تو کہاں تھے ہم اس کا دوپٹا دوبارہ سے اس کے کندھے پر جھولتا ہوا دیکھ کر وہ شرارتی انداز میں بولا ۔
ہاں میں کہہ رہی تھی کہ آپ کافی تھکے ہوئے ہیں تو آرام کر لیں دھڑکن نے دامن بچانے کی ایک ناکام کوشش کی
تو دو نہ سکون مجھے میرا آرام تو تم ہو وہ اس کی کمر کے گرد ہاتھ ڈالتا اسے اپنے بالکل قریب لے آیا اور بنا اس کی پروا کیے اس کے خوبصورت لبوں پے اپنے ہونٹ رکھے ۔
اس کے لبوں سے گردن کی حدود پار کرتے ہوئے کردم اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں جکڑتا وہ اس کی شہ رگ پے اپنے لب رکھ گیا دھڑکن کانپ کر رہ گئی۔
کردم سائیں مجھے ڈر لگ رہا ہے اس کی مزید بڑھتی ہوئی جسارتوں نے دھڑکن کو مزاحمت پر مجبور کر دیا ۔
جب کردم نے اس کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اپنے قریب کیا محبت سے اس کے ماتھے پے اپنے لب رکھے ۔
یہ ڈر یہ خوف آج رات کے لئے میرے حوالے کر دو آئی پرامس میں تمہاراسارا ڈر سارا خوف خود میں سمیٹ لوں گا ۔
وہ اس کے لبوں پر محبت کی مہر لگاتا سارے پردے گرانے لگا ۔جبکہ اس کی باہوں میں دھڑکن کبھی شرما کے سیمٹتی تو کھی گھبرا کر سمیٹتی اور کردم اس کی شرم و حیا کو خود میں قید کیے اسے خود میں سمیٹتا چلا گیا اس کے ہرایک انداز نے دھڑکن پر واضح کردیا تھا کہ اس سے زیادہ دھڑکن سے اور کوئی محبت نہیں کر سکتا ۔وہ اس کی محبت کو پا کر خود پہ ناز کرنے لگی تھی ۔۔ جبکہ کردم نےاسے اپنے ہر انداز میں بتایا تھا کہ وہ اس کے لیے کتنی اہم ہے ۔باہر چاند کی خوبصورت چاندنی نے اپنے چاند کو اپنا دیوانہ کر دیا تھا اندر ایک دل اپنی دھڑکن پر محبت کے جھنڈے گاڑے اپنی فتح کا جشن منا رہا تھا
