267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 22)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

ولیمہ کے دوران کردم کا دھیان بار بار اس چھوٹی سی پٹاکا پر جا رہا تھا ۔

جو اس سے بے نیاز اپنے حسن کے جلوے ہر طرف بکھیر رہی تھی

دو تین بار تو اس کا دل چاہا کہ دادا سائیں سے بات کر لے لیکن پھر اپنا ہی بنایا گیا اصول وہ توڑ نہیں سکتا تھا ۔

گلابی رنگ کے سوٹ میں وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ کردم کا دل بار بار اس کی طرف کھنچتا جارہا تھا ۔

پھر بہت مشکل سے اپنے آپ پر جبر کرتا وہ خود کو کنٹرول کر چکا تھا ۔

لیکن ہر تھوڑی دیر کے بعد جب اسے دھڑکن ادھر سے ادھر ٹہلتی نظر آتی تو ایک بار پھر سے اس کا دل بے قابو ہوجاتا ۔

کبھی کسی عورت کی خواہش کے دل میں جاگی نہ ہی تھی تائشہ ہمیشہ سے اس کے نزدیک آنا چاہتی تھی اس کے آس پاس رہنا چاہتی تھی اس کے کام اپنے ہاتھوں سے کرنا چاہتی تھی لیکن اس نے تائشہ کو کبھی اپنے دل کے اختیارات نہ دیے ۔

اور اب نہ جانے کب دھڑکن پوری طرح سے اس کے دل کے ساتھ ساتھ پورے وجود پر قبضہ کر چکی تھی۔

اس کا دل چاہ رہا تھا کہ آج وہ دھڑکن کو بتائے کہ وہ اس رنگ میں وہ کتنی پیاری لگ رہی ہے لیکن پھر یہ سترہ دن بیچ میں آ جاتے جو گزرنے کا نام تک نہیں لے رہے تھے ۔

بے دھیانی میں بس ایک نظر ہی کردم کی طرف دھڑکن نے دیکھا تھا

جو اسے کب سے نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا ۔

اپنے اوپر کسی کی نظریں تو وہ کب سے محسوس کر رہی تھی لیکن آگے پیچھے دیکھنے کا اسے وقت ہی نہیں مل رہا تھا کبھی ایک آکر اس سے ملتا تو کبھی دوسرا کردم شاہ گاؤں والوں کے لیے ایک مسیحا تھا ۔

اور وہ صرف اس حویلی کی نہیں بلکہ پورے گاؤں کے چہیتی بہو بن چکی تھی ۔

ہر تھوڑی دیر میں کوئی نہ کوئی آجاتا جس کی وجہ سے وہ کافی زیادہ گھبرائی ہوئی تھی اور اب خود کو کردم کی نظروں کے حصار میں پاکر وہ مزید گھبرا رہی تھی ۔

اس نے ایک نظر کردم کی طرف دیکھا جو لو دیتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا

وہ نظروں سے اس کے حسن کو سراہا رہا تھا ۔

اسے اس طرح سے اپنے آپ کو شدت سے دیکھتے ہوئے وہ بے اختیار نظریں جھکا گئی ۔

اور پھر ہر تھوڑی دیر کے بعد وہ کردم کو دیکھتی تو خود کو ایسے دیکھتا پا کر شرماتی ۔

اس نے ایک نظر تائشہ کی طرف دیکھا پھر اپنے آپ کو وہ تائشہ جتنی خوبصورت تو نہ تھی ۔

لیکن پھر بھی کردم اس کے نصیب کا ستارہ تھا

••••••••••••••••

مقدم شاہ کو کسی کی پروا نہ کی ولیمے کے درمیان بھی اس نے حوریہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر رکھا ہے دو تین بار حوریہ نے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا تو مقدم نے گھور کر اسے دیکھا ۔

جیسے نظروں ہی نظروں میں وارن کر رہا ہوکہ یہ تمہارے بس کی بات نہیں ۔

حوریہ شرمندہ سی اپنی نظریں جھکا گئی کیونکہ اس شخص کا وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔

وہ اس کے معاملے میں ہر چیز میں شدت پسند تھا ۔

اس کا اندازہ وہ شادی سے پہلے سے ہی لگا چکی تھی ۔

مقدم سائیں سب دیکھ رہے ہیں ہاتھ چھوڑیں میرا اس نے منت بھرے لہجے میں کہا ۔

سب دیکھ رہے تھے تو کیا گرل فرینڈ ہو ۔۔۔۔۔؟

میری بیوی ہو ہاتھ پکڑوں یا اٹھا کر کمرے میں لے جاؤں کسی کے باپ میں اتنی ہمت نہیں کہ مجھے کچھ کہہ سکے ۔

اسے دیکھتے اس کے چہرے پہ آئی بالوں کی لٹ کو پیچھے کیا تو وہ ذرا سا پیچھے ہٹی ۔

وہ واقع ہی آگے پیچھے کسی انسان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اس کے پیچھے ہٹنے پر مقدم نے ایک نظراسے گھور کر دیکھا اور پھر ہاتھ بڑھا کر اس کی بالوں کی لٹ کو پیچھے کیا ۔

کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر مقدم کا بار بار حوریہ کی طرف دیکھنا اس کے کان میں سرگوشی کرنا سویرا کی نظروں سے چھپا ہوا نہیں تھا ۔

حوریہ کا شرمایا ہوا روپ اسے زہر لگ رہا تھا ۔

اس کا دل چاہا کہ ہر چیز تہس نہس کر دے ۔

لیکن اس کے بس میں کچھ بھی نہ تھا سب سے زیادہ غصہ تو اسے چودھری پر آرہا تھا ۔

جس نے اپنا کام بھی کروا لیا تھا اور ان کے کسی کام بھی نہ آیا وہ تو شکر تھا کہ مقدم نے سب کچھ سنبھال لیا ۔

لیکن اگر کسی کو بھی پتہ چل گیا کہ اس میں سویرا کا ہاتھ ہے تو وہ خود ہی سوچنے لگی ۔

تو کیا میں کیا کسی سے ڈرتی ہوں سویرا خود سے بولی ۔

اورایک نفرت بھری نگاہ حوریہ پر ڈالتی اپنے کمرے میں چلی گئی

••••••••••

حد ہے دھڑکن اب تم اس گھر کی مہمان نہیں بلکہ بہو ہو۔

حد ہوتی ہے کسی بات کی کب سے وہ عورتیں اندر بیٹھی ہیں اور کچھ نہیں تو انہیں چائے پوچھ لو ہماری زمداری ہے یہ اب ان ساری باتیں پر تمہیں غور کرنا چاہیے تاٹشہ اسے ڈانٹتے ہوئے بولی

آج کی دلہن تم نہیں حوریہ ہے اور اُسے ہی رہنے دو تو بہتر ہوگا ۔

یہ سارا گاؤں اس گھر میں کردم سائیں کے نام سے آتا ہے اور تم ہو جو یہاں آگے پیچھے گھوم رہی ہو اب آرام سے کھڑی کیا ہو جاؤ اور کچن سے چائے لے کر آؤ

اور ان عورتوں کو دو کوئی ملازمت تک نہیں ہے اس طرف نجانے کیا سوچ رہی ہوں گی یہ عورت تائشہ اسے ڈانتے ہوئے آگے بڑھ چکی تھی ۔

اس نے ایک نظر اندر بیٹھی چند عورتوں کو دیکھا پھر پریشانی سے سوچنے لگی کہ تائشہ دیدہ کہتی ٹھیک ہیں مجھے خیال رکھنا چاہیے اب میں اس گھر کی مہمان نہیں بلکہ بہوہوں ۔

دھڑکن خود سے باتیں کرتی کچن کی طرف آئی جہاں تائشہ ملازمہ سے چائے بنوا رہی تھی ۔

ولیمہ تو کب کا ختم ہو چکا تھا سب لوگ اپنے اپنے گھر جا چکے تھے بس کچھ ہی مہمان تھے جو حویلی میں تھے اور ان کا خیال رکھنا حویلی والوں کی ذمہ داری ۔

وہاں کھڑی کیا دیکھ رہی ہو او یہ ٹرے اٹھاؤ تائشہ نے لوہے کی ٹرے کی طرف اشارہ کیا ۔

میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو اٹھاو اسے اس کے کہنے پر دھڑکن نے فوراً ٹرے اٹھائی لیکن اس کی گرمائش نے دھڑکن کے ہاتھ جھلسا کے رکھ دیے تھے ۔

دیدہ یہ تو بہت گرم ہے ۔ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے چولہے پر جھلسایا گیا ہے ۔

بہانے بنانا بند کرو دھڑکن ٹائم نہیں ہے اور یہ نازک مزاجی یہاں نہیں چلےگی کردم سائیں کی بیوی ہوتم ذمہ داریاں ہیں تمہاری کچھ ۔

اس سے پہلے کہ دھڑکن ٹرے واپس رکھتی تائشہ اس کے دونوں ہاتھ ٹرےپر دباتے ہوئے بولی ۔

جبکہ گرمائش سے اپنا ہاتھ جلستا محسوس ہوتے ہی دھڑکن کی آنکھیں نم ہونے لگی ۔

تائشہ نے اسے کچن سے باہر تقریباً دھکا دیا تھا

گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا وہ ٹرے وہاں کہیں چھوڑ بھی نہیں سکتی تھی ۔

اس کے پیچھے تائشہ غصے سے آرہی تھی ۔

پھر اچانک اس نے دھڑکن کا بازو تھاما اور تیزی سے چلتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔

اور اسے مہمان والے کمرے میں لاکر کھڑا کیا ۔

اس کے ہاتھ ٹرے سے چپک چکے تھے ۔

گلے میں پھنسا آنسووں کا گولا ہونے کی وجہ سے وہ کچھ بول بھی نہیں پا رہی تھی آنسو تھے جو بس چھلکنے ہی والے تھے ۔

اس نے ہمت کرکے ٹرے باری باری سب عورتوں کے سامنے کی اور پھر دوڑ کرکے کچن میں آکر ٹرے کو وہاں پر پھینک دیا

اور اب اپنے ہاتھوں کو دیکھا جو بری طرح سے سرخ ہو چکے تھے اس وقت کچن میں کوئی نہیں تھا وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

اس بیچ اسے یہ بھی احساس نہ ہوا کہ اس کے جسم پر دوپٹہ موجود نہیں ہے

•••••••••••••••

سب مہمانوں کو عزت کے ساتھ واپس بھیج کر کردم ابھی ابھی واپس آیا تھا جب اس کے پیر میں کوئی چیز الجھی ۔

آج سارا دن وہ اس کی نظروں کے حصار میں رہی تھی اس کے دوپٹے کو وہ کیسے نہ پہنچانتا لیکن حویلی کے بیچوں بیچ اپنی بیوی کا دوپٹہ دیکھ کر اس کے ماتھے کی رگیں تک سامنے آ گئی تھی ۔

یہ لڑکی اتنی لا پرواہی کیسے ہوسکتی ہے غصے سے اس کا دماغ گھومنے لگا تھا ۔

پہلے اسے کمرے میں دیکھا لیکن وہ کمرے میں نہیں تھی اس کا دماغ ٹھکانے لگانے کا فیصلہ تو آج وہ ویسے بھی کر چکا تھا ۔

وہ اسے دوپٹے کی اہمیت بتانا چاہتا تھا ۔

وہ اسے سمجھانا چاہتا تھا کہ وہ صرف دھڑکن کی اپنی ہی نہیں بلکہ کردم کی عزت ہے جس سے وہ اس طرح سے راستے میں نہیں پھینک کر آ سکتی

ملازمہ سے دھڑکن کا پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ کچن میں ہے ۔

وہ کچن میں کیا کر رہی ہے وہ خود سے سوال کرتا کچن کی طرف آیا تھا ۔

کچن میں سوائے دھڑکن کے اور کوئی نہیں تھا وہ دوسری طرف منہ کیے کھڑی تھی ۔

ذرا سا ہوش ہے تمہیں وہ اس پر دوپٹہ پھینکنے والے انداز میں بولا جبکہ اس کی آواز سنتے ہوئے دھڑکن نے فورا اپنے آنسو صاف کیے۔

اور اس کے پھینکے ہوئے دوپٹے میں اپنے دونوں ہاتھ چھپاگئی ۔

میں پوچھ رہا ہوں تمہارا یہ دوپٹہ وہاں ہال میں کیا کر رہا تھا اور تم بنا دوپٹے کے یہاں کچن میں کیا کر رہی ہو ۔

بار بار ملازمین آتے جاتے ہیں پوری حویلی مہمانوں سے بھری ہے اور تم ۔وہ نظریں جھکاۓ اس کے سامنے کھڑی تھی جبکہ اس کی لاپروائی پر کردم کا دل چاہا کہ اس زندہ زمین میں گاڑ دے ۔

میں یہ لاپرواہی برداشت نہیں کروں گا دھڑکن ۔میں اپنی عزت پر حرف ہرگز نہیں آنے دوں گا وہ غصے سے دھارتے ہوئے بولا

نیچے زمین میں کیا گھور رہی ہو اوپر دیکھو کردم نے سختی سے اس کا چہرہ تھام کر اپنی طرف کیا لیکن اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر کھٹکا ۔

تم رو رہی تھی ۔۔۔؟

کردم نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تو اگلے ہی لمحے وہ اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

شاید اسے پتہ تھا کہ اس کا سائبان ہی اس کا اصل ہمدرد ہے

دھڑکن کیا ہوگیا ہے تم اس طرح سے کیوں ہو رہی ہو ۔۔اسے اس طرح سے روتے دیکھ کر کردم پریشانی سے بولا

جب دھڑکن نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سامنے کیے

۔جو بری طرح سے سرخ ہو چکے تھے ان پر چھوٹے چھوٹے دانے واضح ہورہے تھے وہ سمجھ چکا تھا کہ اس کے ہاتھ جل چکے ہیں ۔

کیسے جلے تمہارے ہاتھ وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جبکہ وہ ابھی تک اس کے سینے سے لگی رونے میں مصروف تھی ۔

دھڑکن یہ کیا کیا ہے تم نے بتاؤ مجھے کیسے جلے کردم کا لہجہ اپنے آپ ہی نرم ہو چکا تھا ۔

اس کے ہاتھوں کے زخم دیکھنے کے لئے تائشہ نے جیسے ہی کچن میں قدم رکھا ۔

اس کا سر بری طرح سے گھوما تھا وہ کیا سوچ کر یہاں آئی تھی اور یہاں کیا ہوچکا تھا ۔

دھڑکن میری جان رونا بند کرو چلو آو روم میں چلو میں تمہیں دوائی لگاتا ہوں وہ اسے اپنے ساتھ لگاتے کچن سے باہر لے جانے لگا جب کہ دروازے پر کھڑی تائشہ کو بری طرح سے اگنور کر گیا تھا ۔

جبکہ اسے اپنے قریب سے اس طرح سے گزرتے دیکھ کر تائشہ کی آنکھیں نم ہونے لگی ۔

لیکن اسے چپ کرانے والا کوئی نہ تھا