267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara (Episode 54)

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah

کیا مطلب ہے تم نہیں جانا چاہتی دھڑکن تمہارا شوہر ہسپتال میں پڑا ہے ۔تمہیں اندازہ بھی ہے وہ موت کے منہ سے واپس آیا ہے ایسے حالات میں اسے اس کے اپنوں کی ضرورت ہے اور تم ہمارے ساتھ چلنے سے انکار کر رہی ہو احمد شاہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ۔

ہاں بابا سائیں میں آپ لوگوں کے ساتھ نہیں چل سکتی پلیز سمجھنے کی کوشش کریں۔

پھوپو سائیں کے کڑوے الفاظ اس وقت بھی اس کے دماغ اور دل پر بری طرح سے سوار تھے

کیا وہ واقعی منہوس تھی کیا اس کی وجہ سے کردم کی زندگی میں یہ دن آیا تھا کہ وہ موت اور زندگی سے لڑ رہا تھا اگر ایسی بات ہے تو وہ کبھی کردم کے سامنے نہیں جائے گی ۔

تو کوئی وجہ بھی تو ہونی چاہیے اگر کردم نے تمہارے بارے میں پوچھا تو ہم کیا جواب دیں گے اس کا اس طرح سے بے وجہ حویلی میں اکیلا رکنا انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا ۔

اس کا شوہر ہسپتال میں پڑا تھا اتنی بری کنڈیشن میں اور دھڑکن اسے دیکھنے تک نہیں جانا چاہتی تھی ۔

بابا سائیں اللہ انہیں جلدی ٹھیک کرے گا اگر میرے بارے میں پوچھا تو آپ کچھ بھی کہہ دیجئے گا

دھڑکن یہ کیسی بچوں سی ضد ہے ۔تم جانتی ہو اس وقت تمہارا وہاں ہونا کتنا ضروری ہے تم کردم کی بیوی ہو بیٹا _بابا اسے کردم اور اس کا نازک رشتہ سمجھانے کی ناکام سی کوشش کرنے لگے

وہ تو جانتے بھی نہیں تھی کہ دھڑکن اپنے دل میں کونسی بات رکھے ہوئے ہے ۔

بہت منانے کے بعد بھی جب وہ نہ مانی تو وہ اسے چھوڑ کر خود ہی ہسپتال گئے

دھڑکن کے علاوہ سب ہی اس سے ملنے جا رہے تھے جبکہ دھڑکن کے نہ چلنے کی وجہ سے تائشہ بہت خوش تھی ّّ

کردم کو صبح چھ بجے کے قریب ہوش آیا تھا ۔جنید نے اسی وقت مقدم کو فون کرکے اس کے ہوش میں آنے کے بارے میں بتایا۔

اور مقدم اسی وقت اس سے ملنے آ گیا تھا ۔

اس نے سب سے پہلے دادا سائیں اور دھڑکن کے بارے میں ہی پوچھا تھا ۔

جس پر دادا سائیں کی حالت کے بارے میں سوچ کر دونوں ہی ہنسنے لگے ۔

کتنے بکرےصدقے چڑ چکے ہیں۔۔۔۔کردم نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔

کم از کم اتنے کہ سو سال تک تمہیں کچھ نہیں ہونے والا مقدم نے اسی کے انداز میں جواب دیا تھا ۔

داداسائیں کا بھی کوئی کیا کہے ایک چھینک مار تو صدقہ پہلے دیتے ہیں ۔دادا سا ئیں ویسے کمال ہیں اس سے پہلے کہتے تھے کہ مقدم میرا لاڈلا ہے ۔اور اب جب سے تمہاری حالت پتلی ہوئی ہیں تمہیں سوچے جا رہے ہیں تمہارے لئے ہی دعائیں مانگیں جا رہے ہیں میری تو کسی کو یاد ہی نہیں

آئی فیل جیلس ۔مقدم نے مسکراتے ہوئے اسے بتایا

وہ جانتا تھا دادا سائیں کے دونوں پوتوں میں ان کی جان بسی ہے ۔

اور دھڑکن کیسی ہے کردم کو احساس تھا یہ وقت دھڑکن کے لئے بھی بہت مشکل ہوگا ۔

سوری یار اس سے تو نہیں مل پایا میں ابھی تھوڑی دیر میں وہ لوگ حویلی سے نکلنے والے ہیں ۔

خودہی آجائے گی دیکھ لینا ۔ باقی تم دونوں کو تنہائی میں ملانے کا انتظام میں کردوں گا مقدم نے احسان کرنے والے انداز میں کہا ۔

آپ کے احسان کا بہت بہت شکریہ

ارے میری جان یہ تو کچھ بھی نہیں احسان تو میں تمہارا تم پر اس رات بھی کرنے والا تھا لیکن یہ تمہارا چمچہ ہے نہ کہتا ہے کردم سائیں کے حکم بغیر میں کچھ نہیں کروں گا ۔

اسی لیے تمہیں بلا کر اپنے ساتھ لے کر گیا تھا اگر اس دن میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں لے کے جاتا تو تم یہاں اسپتال میں نہ پڑے ہوتے مقدم کو افسوس تھا

ہاں میری جگہ یہاں پر تم ہوتے ۔وہ جو کوئی بھی تھا تمہیں مارنا چاہتا تھا مقدم مجھے نہیں اور چودھری میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ ہم پر حملہ کروائے یہ کسی اور کا کام ہے کردم نے بھی وہی بات کہی تھی جو مقدم کے دماغ میں چل رہی تھی ۔

فی الحال تو چودھری کے علاوہ ہمارا کسی سے جھگڑا نہیں چل رہا تو پھر کون کرسکتاہے یہ حرکت مقدم نے سوچتے ہوئے کہا جس کردم نےنفی میں ہلائی اس بارے میں وہ بھی کچھ نہیں جانتا تھا۔

تقریبا سبھی لوگ اس سے ملنے آئے تھے پھوپو سائیں اور نازیہ چاچی تو باقاعدہ رو بھی رہیں تھیں تائشہ اور حوریہ کی حالت بھی ان سے الگ نہ تھی سب ہی اس سے ملنے آئے تھے ۔

لیکن نہ آئی تو صرف وہ نہ آئی جس کا اسے انتظار تھا ۔

وجہ پوچھنے پر احمد شاہ نے اسے بتایا کہ اس کی طبیعت خراب ہے

کردم نے دبی آواز میں کہا تھا اسے گولی تو نہیں لگی ہوگی ۔

جبکہ اس کے قریب بیٹھے جنید اور مقدم اس کی بات پر کھل کے ہنسے تھے ۔

سب تھوڑی دیر اس کے پاس رکے کردم کو اب ایک ہفتہ یہیں پر رکنا تھا ۔

وہ تو سب سے کہہ رہا تھا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں مجھے ابھی گھر لے چلو لیکن ڈاکٹر تھا جو ان کی بات ہی نہیں مان رہا

اس نے کردم سے کہا تھا کہ ابھی اسے آرام کی ضرورت ہے وہ چل پھر نہیں سکتا اورکردم کو ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ صدیوں سے اس بستر پر پڑا ہو۔

کل کی طرح جنید آج بھی اس کے پاس رہنے کی ضد کر رہا تھا اور کردم نے کہا تھا اسے کسی کی ضرورت نہیں ہے وہ بالکل ٹھیک ہے وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی وجہ سے کوئی بھی پریشان ہو ہاں اگر دھڑکن ہوتی تو وہ اسے ضرور اپنے پاس روک لیتا ۔

لیکن دھڑکن سے حساب کتاب وہ بعد میں کرنے والا تھا ۔

بہت سمجھانے کے باوجود بھی مقدم اس کے پاس رک گیا ۔

دیدہ کردم سائیں کیسے ہیں سویرہ جب سے یہاں آئی تھی ّوہ سویرا سے کردم کے بارے میں پوچھ رہی تھی لیکن سویرہ اس سے بالکل بات نہیں کر رہی تھی اس نے کردم کی آنکھوں میں دھڑکن کا انتظار دیکھا تھا ۔

تم ٹھیک ہونے کے باوجود بھی ان سے ملنے نہیں گئی تھی ۔

اگر اتنی ہی بے چینی تھی دھڑکن تو چل کر دیکھ لیتی کہ کیسے ہیں وہ انتظار کررہے تھے تمہارا انہیں یقین تھا کہ تم آؤ گی لیکن تم نہیں گئی ۔

تم جانتی ہو دھڑکن اگر انتظار کاصلہ نہ ملے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے ۔

ذرا سوچو سب وہاں تھے سب کے سب تھے وہاں لیکن انہیں تمہارا انتظار تھا جس کے ساتھ ان کا سب سے خاض رشتہ ہے ۔

اور تمہیں کیا لگتا ہے یہ جو تم نے جھوٹا بہانہ کیا ہے طبیعت خراب ہونے کا اس پر سب یقین کر لیں گے

مجھے تو لگتا ہے کہ دادا سائیں بھی تم سے ناراض ہیں انہوں نے کسی سے کہا تو نہیں لیکن ان کے لہجے سے صاف لگ رہا تھا کہ انہیں بھی یہ بات بالکل پسند نہیں آئی کہ تم کردم لالا سے ملنے ہسپتال نہیں گئی ۔

دھڑکن تمہیں اندازہ ہے تمہارا وہاں جانا کتنا ضروری تھا تم بیوی ہو ان کی سب سے گہرا رشتہ ہے تمہارا ہے ان کے ساتھ ۔

ساری زندگی گزارنی ہے تم دونوں نے ایک ساتھ رھڑکن دوسروں کی باتوں میں آکر کیوں تو اپنا اور کردم لالا کا رشتہ خراب کر رہی ہو ۔

اندازہ بھی ہے تمہیں کہ تائشہ کو بس ایک موقع کی تلاش ہے ۔سویرا کے بات سنتے ہوئے دھڑکن نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا تو کیا سویرا بھی جانتی تھی کہ تائشہ اس کا اور کردم کا رشتہ خراب کرنا چاہتی ہے ۔

عورت اپنی پہلی محبت کبھی نہیں بھولتی دھڑکن اور مت بھولو کہ کردم سائیں تائشہ کی پہلی محبت ہیں ۔

سویرا اسے سمجھا سمجھا کر اپنے کمرے میں چلی گئی لیکن دھڑکن اسے یہ نہیں بتا پائی تھی اس کے پھوپو سائیں کی باتیں سچ لگنے لگی ہیں وہ جب سے کردم کی زندگی میں شامل ہوئی تھی کردم کے ساتھ کچھ نہ کچھ برا ہورہا تھا ۔

اور اب جب تک کردم بالکل ٹھیک نہ ہوجائے تب تک وہ اس کے سامنے نہیں جانا چاہتی تھی۔

اور اسے یقین تھا سات دن کے بعد جب کردم یہاں واپس آئے گا تو وہ بالکل ٹھیک ہوگا ۔

کردم کو یقین تھا کہ وہ آج اس سے ملنے آئے گی نہیں تو کل آئے گی یا شاید پرسوں آئے گی یا اس کے بعد لیکن دھڑکن نہیں آئی ۔

باری باری سب اس سے ملنے ہسپتال آچکے تھے ۔

لیکن جس کا انتظار اسے تھا وہ نہیں آئی نجانے کیوں کردم چرچڑا ہوتا جا رہا تھا ۔

چار دن سے بستر پر پڑے اس کی حالت خراب ہو رہی تھی ۔

جبکہ ایک دن اس کے ساتھ مقدم رکتا تو دوسرے دن جنید تائشہ اور حوریہ ہر روز سے ملنے آیا کرتیں تھیں ۔

دادا سائیں بھی روز آتے تھے اور پھوپو سائیں اورچاچی سائیں بھی دوبارآ چکی تھی ۔

لیکن وہ نہ آئی جس کا اسے بے صبری سے انتظار تھا وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لئے پروا دیکھنا چاہتا تھا اپنے لئے جذبات دیکھنا چاہتا تھا اس کے لبوں سے اپنے لیے محبت کے الفاظ سننا چاہتا تھا ۔

لیکن کون سی محبت اسے کون سے کوئی محبت تھی اگر محبت ہوتی تو وہ ایک بار اسے دیکھنے تو آتی ۔

اب وہ کسی غلط فہمی یا خوش فہمی کا شکار نہیں تھا اسے یقین ہو چکا تھا کہ یہ شادی دھڑکن صرف دادا سائیں اور احمد شاہ کے کہنے پر کی ہے ۔

وہ کردم کے لیے کسی قسم کے کوئی جذبات نہیں رکھتی

مقدم لالہ آپ کردم سائیں کے پاس جا رہے ہیں اس نے مقدم کو گھر سے نکلتے دیکھ کر پوچھا

ہاں گڑیا اسے کھانا دینے جا رہا ہوں ۔مقدم نے کہا

جب کہ اس کے جواب میں دھڑکن کچھ بھی نہ بولی ایک بے چینی اس کے اندر اور باہر تھی ۔

وہ کردم کے پاس جانا چاہتی تھی اس کا درد محسوس کرنا چاہتی تھی اس سے باتیں کرنا چاہتی تھی ۔

سب نے گھر آکر بتایا تھا کہ وہ پہلے سے کافی بہتر ہے ۔

دادا سائیں بھی چار دن سے اس سے کافی اکھڑے اکھڑے تھے وجہ وہ جانتی تھی لیکن وہ بے کار سی وجہ دادا سائیں کو بتا نہیں سکتی تھی ۔

تم آنا چاہو گی ساتھ مقدم نے اس کے چہرےپر سوچو کا جال دیکھتے ہوئے پوچھا

میں بس دور سے دیکھ کر واپس آجاؤں گی مقدم لالا ۔ یہ کہتے ہوئے نہ جانے کیوں اس کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے اسے لگاتا شاید مقدم بھی سے منہوس کہے گا ۔

دھڑکن وہ تمہارا شوہر ہے تم اسے قریب سے دیکھنے کا بھی حق رکھتی ہوتم کیوں سے دور سے دیکھ کر واپس آ جاؤ گی چلو گاڑی میں بیٹھو لے چلتا ہوں ۔

نہیں جب تک وہ بالکل ٹھیک نہیں ہو جاتے تب تک میں ان کے سامنے نہیں آوں گی میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا ہے دھڑکن نے نظر چڑا کر کہا جبکہ اس کے بات کا مطلب مقدم کو سمجھ نہیں آیا تھا ۔

اور تم نے اپنے آپ سے ایسا وعدہ کیوں کیا ہے ۔مقدم نے اس کی نئی بات سن کر حیرت زدہ انداز میں کہا تھا

بس ایسے ہی میں نے منت مانگی ہے جب تک وہ بالکل ٹھیک نہیں ہو جاتے تب تک میں ان کے سامنے نہیں آؤں گی دھڑکن نے اسے اپنی عجیب اور غریب منت بتائی تھی

یہ کیسی منت ہے گڑیا مقدم نے مسکراتے ہوئے پوچھا لیکن اس کو اداس دیکھ کر مزید کچھ بھی نہ بولا ۔

ہسپتال پہنچے تو کردم سو رہا تھا ۔اسے سوئے ہوئے تھوڑا ہی وقت ہوا تھا ۔مقدم کمرے کے اندر آیا دھرکن وہی باہر اس کا انتظار کرنے لگی ۔

اسے سوتا دیکھ کر وہ فورا واپس پلٹا تھا اور اسے دھڑکن کو بتایا تھا کہ کردم سو رہا ہے تم سے مل سکتی ہو اندر چل کے ۔

جبکہ اسے کمرے میں بھیجنے کے بعد مقدم اورجنید دونوں ہی کمرے سے باہر نکل آئے تھے ۔

وہ آہستہ آہستہ چلتی اس کے قریب آئی تھی کردم کو اس طرح سے بیڈپر لیٹے دیکھ کر اسے رونا نے لگا لیکن خود پر کنٹرول کرکے وہ اس کے بالکل قریب آکر رکی ۔

لیکن بولی کچھ نہیں اس کے بولنے سے کردم جاگ نہ جائے پھر اس کی منت ادھوری رہ جائے گی اور ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ سے پھر کردم پر کوئی مصیبت آجائے ۔

اس نے نرمی سے بیڈ پر رکھا ہوا اس کا ہاتھ تھاما ۔

آپ ایک بار ٹھیک ہو کے گھر آجائیں پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اس کا ہاتھ نرمی سے اپنے لبوں سے چھوتی

وہ کمرے سے باہر آگئی۔

جبکہ اس کے باہر آنے کے بعد مقدم نے کھانے ڈبہ جنید کے حوالے کیا دھڑکن کو اپنے ساتھ لے کر واپس حویلی آ گیا۔

دھڑکن نے مقدم اور جنید دونوں کو منع کیا تھا کہ وہ اس کے بارے میں کردم کو کچھ بھی نہ بتائیں ۔

میرے سوتے ہوئے یہاں کوئی آیا تھا کیا اس نے کھانا کھاتے ہوئے پوچھا ۔

ہاں سائیں مقدم سائیں تھے کھانا دینے کے لئے اور ان کے ساتھ ۔۔۔۔جنید بتاتے بتاتے رک گیا جب کردم نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا

ان کے ساتھ کون آیا تھا ۔۔۔۔۔۔کردم نے پوچھا

ساتھ کوئی نہیں آیا تھا وہ اکیلے آئے تھے ساتھ کھانالائیں تھے جنید کر دھڑکن کی بات یاد آگئی اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ جنید نے اس کے سامنے جھوٹ بولا تھا ۔

کردم ہاں میں سر ہلاتا اپنا کھانا کھانے میں مصروف ہو چکا تھا ۔

جب کہ سوتے ہوئے اس نے اپنے ہاتھوں پر کسی کے ہاتھوں اور کسی کے لبوں کا لمس محسوس کیا تھا