267.3K
86

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Bheegi Palkon Par Naam Tumhara) Episode 1

پورے گاؤں میں خاموشی کا سماں تھا رنگ برنگی چڑیاں اپنے رب پاک کی ثنا خوانی کرتی ۔اپنی خوبصورت آواز میں حسین صبح کی برکتوں کی نوید سنا رہی تھی ۔
گاؤں کی کچی زمیں پر رات بارش کی وجہ سے بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی اذان شروع ہونے میں تھوڑا وقت تھا گاؤں کی عورتیں اپنے خاندان کی خدمتوں میں بستر سے اٹھتی چہولا چوکی سنبھالنے لگی ۔یہ گاؤں باقی گاؤں کے لحاظ سے کافی حد تک خود مختار تھا
۔کیونکہ یہاں پر شاہ سائیں کی حکومت تھی ۔قاسم شاہ سائیں اس گاؤں کے سرپنچ تھے ۔برسوں سے انہیں کاخاندان اس گاؤں کی دیکھ ریکھ کر رہا تھا
اس وقت صبح کے پانچ بجے تھے حویلی کے سب نوکر شاہ سائیں کے اٹھنے کا انتظار کر رہے تھے ابھی اذان ہونے میں تھوڑا سا وقت باقی تھا شاہ سائیں کوسستی سے نفرت تھی اور اس حویلی کے ملازموں کو شاہ سائیں کے غصے سے خوف آتا تھا ۔
شاہ سائیں کی مرضی کے خلاف اس حویلی میں کچھ نہیں ہوسکتا تھا اس حویلی میں تو کیا اس گاؤں میں بھی شاہ سائیں کے مرضی کے خلاف پتہ تک ہل نہیں سکتا تھا
انصاف کے معاملے میں وہ اپنی اولاد کے ساتھ بھی نرمی سے پیش نہ آتے تھے لوگ انہیں سخت گیر کہتے تھے کیونکہ اپنے دو جوان بیٹوں اور داماد کو دفناتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو تک نہ گرا ۔
اس حویلی میں برسوں سے صرف شاہ سائیں کی ہی چلتی آئی تھی اور آگے بھی نہ جانے کتنے برسوں تک انکی ہی چلنی تھی ان کے اصول ان کا روعب پورے خاندان کے ساتھ پورے گاؤں پر پھیلا ہوا تھا
۔
قتل وغیرت کے معاملوں سے لے کر گاؤں کے گھر گھر کے پانی کا معاملہ تک شاہ سائیں خود سمبھالتے تھے ۔
یہ گاؤں ان کے لیے صرف ایک گاؤں نہیں بلکہ ان کا اپنا گھر تھا ان کا خاندان تھا ۔جس کا خیال رکھنا اپنا فرض سمجھتے تھے
••••••••••••••••
آج سے 18 سال پہلے اس حویلی پر ملکوں کا ایسا قہر ٹوٹا جو ان کا خاندان تباہ کر گیا ان کے گھر کو ریزہ ریزہ کر گیا
ان کی پانچ اولادیں سب سے بڑے عالم شاہ ان کے بعد حالم شاہ ان کے بعد بیٹی رضوانہ شاہ اور پھر احمد شاہ اور ان سب کے بعد ان کی سب سے لاڈلی اور پیاری بیٹی آہانہ جس کا نام لیتے ہوئے بھی اکثر ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے
اس حویلی کے سب ہی لوگ شاہ سائیں کے لیے بہت اہم تھے سوائے حوریہ کے۔ وہ معصوم سی بےقصور لڑکی اس گھر میں ہر کسی کی نفرت کا شکار تھی
اور اس نفرت کی وجہ اس کی ماں اہانہ شاہ نہیں بلکہ باپ احسن ملک تھا۔اس کا باپ جیسے اس نے زندگی میں کبھی دیکھا تک نہ تھا ۔جس کا لمس نے کبھی محسوس ہی نہ کیا تھا اس شخص کی نفرت کی وجہ سے وہ اپنی حویلی کے بیج نفرتوں کا شکار تھی۔
وہ اکثر سوچتی کہ وہ ان سب کی نفرتوں کا شکار کیوں ہے نانا سائیں اس کی طرف دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے
ایک کردم لالا تھے جو اس سے محبت سے پیش آتے محبت سے تو مقدم لالہ بھی پیش آتے تھے لیکن وہ خود کو لالہ نہیں کہنے دیتے ہیں
وہ اسے اپنی نظروں سے بہت کچھ پیغام دیتے تھے یہ نہیں تھا کہ وہ ان کی نظروں کے پیغامات سمجھ نہیں سکتی تھی وہ اتنی بھی بچی نہ تھی۔
وہ کبھی مقدم شاہ کی محبت کی طرف پیش قدمی نہیں کر سکتی تھی شاید وہ اپنی اوقات اس حویلی میں اچھے سے سمجھتی تھی ۔
کردم لالہ اورمقدم لالہ کے علاوہ اگر تائشہ کی بات کی جائے تو اسے صرف اپنے مطلب کے وقت ہی حوریہ کی یاد آتی تھی
اس بے ضروسی لڑکی سے تائشہ کو بھلا کیا مطلب ہو سکتا ہے سوائے کردم شاہ کے وہ اس کے بچپن کا منگیتر تھا اس کا ساتھی تھا ۔اس کے خوابوں کا شہزادہ تھا تائشہ کا ہر جذبات اس کے ساتھ جڑا تھا ۔
لیکن کردم کے خیالات اس سے تھوڑے الگ تھے اس کا کہنا تھا انگوٹھی پہنا دی ہے شادی بھی کر لوں گا لیکن یہ پیار محبت کی میٹھی باتیں کرنا ایک دوسرے کا خیال رکھنا یہ سب کچھ شادی کے بعد ہی سوٹ کرتا ہے شادی سے پہلے یہ سب فضولیات ہیں
منگنی کوئی ایسا مضبوط رشتہ نہیں جس کے بینا پر وہ تائشہ کو خوابوں کی دنیا دکھانا شروع کر دے۔کردم کی نظروں میں منگنی کی کوئی اہمیت نہ تھی
۔اہمیت تھی تو صرف اپنے دادا سائیں کی زبان کی ۔جس کی وجہ سے تائشہ کردم شاہ اس کے نام پر بیھٹی تھی ۔
••••••••••••••••••
رضوانہ خالہ سائیں نے ابھی ابھی کیچن میں قدم رکھا تھا ۔
لیکن ہر روز کی طرح آج بھی پہلے حوریہ کو یہاں دیکھ کر ان کا موڈ خراب ہوگیا
صبح صبح اس منہوس کی شکل دیکھ لی سارا دن ہُرا گزرے گا کتنی بار کہا ہے صبح صبح یہ مشکل مت دکھایا کرو منہوس کہیں کی ۔۔۔۔۔
خالہ سائیں کچن سے باہر نکل گئیں تھیں۔ان کا صبح صبح حوریہ کی شکل دیکھ کر اپنا موڈ مزید خراب کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا حوریہ کو ان سب باتوں کی عادت تھی لیکن ہر روز یہ بات برداشت کرتے کرتے وہ نازک سی لڑکی اندر ہی اندر ختم ہوتی جارہی تھی ۔
اس نے ایک نظر مامی سائیں کی طرف دیکھا جو ہر روز کی طرح سب کچھ سن کر بھی خاموش تھی جیسے یہاں جو کچھ ابھی ابھی ہوا ہے ان سب سے بالکل انجان ہوں
18 سال پہلے ماموں سائیں کے انتقال کے بعد اب تک وہ سوائے مقدم سائیں اور ناناسائیں کےکسی سے بات نہ کرتی
انہیں سوائے اپنے بیٹے کے کسی سے مطلب نہ تھا۔
حویلی میں کیا ہوتا ہے کیوں ہوتا ہے انہیں کسی بات کی پروا نہ تھی اس وقت بھی وہ اپنے بیٹے کے لئے ناشتہ بنا رہیں تھیں۔
ہر روز کی طرح آج بھی وہ خالہ سائیں کی باتیں اگنور کرتے ہوئے حوریہ نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کیے اور ناشتہ اٹھا کر باہر لے آئی۔جبکہ اس کے پیچھے مامی سائیں نے بس ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا تھا
کردم لالا کمرے میں ناشتہ کریں گے خالہ سائیں کی نگاہوں کو آگے پیچھے جاتے دیکھ کر وہ فوراً بولی
کس نے پوچھا ہے تجھ سے ہر بات میں ٹانگ نا اڑایا کر
خالہ سائیں غصے سے کہتی اپنی بیٹی کی طرف دیکھنے لگی ۔
وہ جو کب سے نفرت زدہ نظروں سے اسے گھور رہی تھی اچانک ہی ان کی نظر میں اپنی اپنی بیٹی کے لیے محبت امڑ آئی
جاتائشہ کردم سائیں اوپر ہیں جاکے ناشتہ دے آ۔
اماں سائیں کے کہنے پر تائشہ آگے آئی اور حوریہ کے ہاتھ سے ٹرے لے لی توحوریہ نے شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے ٹرے اس کے حوالے کر دی تھی جس پر وہ شرماتی ہوئی کردم کے کمرے کی طرف چل دی
••••••••••••••
اس نے ہلکی سی دستک دے کر اندر آنے کی اجازت چاہی
اور اجازت ملتے ہی دروازے کی حدود پار کرتی اندر داخل ہوکر اپنے محبوب کا دیدار کرنے لگی ۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔؟
کتنی بار منع کہا ہے تمہیں میرے کمرے میں مت آیا کرو ۔
اسے اپنے کمرے میں دیکھتے ہی کردم کے بے شکن ماتھے پر بل پر چکے تھے ۔
وہ کردم سائیں حوریہ کالج کے لیے لیٹ ہو رہی تھی بیچاری جس دن آپ گھر پے ہوتے ہیں آپ کا ناشتہ بناتے ہوئے لیٹ ہو جاتی ہے
لیکن اماں سائیں نے کہا کہ یہ سارے کام میری ذمہ داری ہیں اور یہ مجھے کرنے چاہیے آج نہیں تو کل حوریہ چلی جائے گی اور آپ کو تو اس کی اتنی عادت ہوگئی ہے کردم سائیں کہ اپنے سارے کام آپ اسی سے کرواتے ہیں ۔
لیکن یہ سب میری ذمہ داری ہے جو مجھے سمجھنا چاہیے اسی لیے میں نے آپ کا ناشتہ بنا دیا وہ نظریں جھکائے جھوٹ بولنے لگی
یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے میں نے تم سے پوچھا کہ میں نے تمہیں اپنے کمرے میں آنے سے منع کیا تھا تو تم کیوں آئی ہو اس کی شرم و حیا کو اگنور کئے بولا
وہ جو اسے دیکھ کر اپنی بے چین نظروں کو سکون دینے آئی تھی نظر اٹھا کر اسے دیکھا بھی نہ پائی
میں پہلے بھی منع کر چکا ہوتا ہے تائشہ اب بھی منع کر رہا ہوں شادی کے بعد تمہیں اسی کمرے میں آنا ہے
اور اس گھر میں ہی نہیں بلکہ اس سے پورے گاؤں میں میری بہت عزت ہے اور تمہارا نام میرے نام کے ساتھ جڑا ہے میں نہیں چاہتا کہ نوکروں کی نظر میں آکر تم بد نام ہو جاؤ کیونکہ اپنے خلاف میں کچھ بھی برداشت کر لوں گا لیکن داداسائیں کی عزت پر حرف ہے تو خود کو ختم کر دوں گا ۔
اس طرح سے نہ کہیں کردم سائیں تائشہ نے تڑپ کر اس کی بات کاٹی
میں نے کہا جاؤ یہاں سے تائشہ کر دم نے اس بار زیادہ سختی سے کہا تو وہ نظر جھکاتی کمرے سے باہر نکل گئی اسے خود پر ترس آ رہا تھا
وہ آج تین دن کے بعد گھر ہے اور اس سنگدل محبوب نے اسے جی بھر کر دیکھنے بھی نہ دیا۔
اسے اپنے پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی
جبکہ کھانے کا پہلا نوالہ لیتے ہی کردم سمجھ چکا تھا کہ کھانا کس نے بنایا ہے۔
اسے تائشہ کی یہ بات بہت بری لگتی تھی کہ وہ اس سے جڑی ہر بات پر جھوٹ بولتی تھی