Bheegi Palkon Par Naam Tumhara By Areej Shah Readelle50340 (Bheegi Palkon Pe Naam Tumhara Hai) Epi 06
No Download Link
Rate this Novel
(Bheegi Palkon Pe Naam Tumhara Hai) Epi 06
••••••••••••••
سویرا ہرممکن کوشش کر چکی تھی لیکن لیکن صدیق نے اسے فون کو ہاتھ لگانے دیا تھا اور نہ ہی گھر سے باہر نکلنے دیا تھا اب وہ لوگ پاکستان جانے کے لئے ایئرپورٹ جارہے تھے
دھڑکن کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی جبکہ سویرا کبھی بھی اس کے اتنے قریب نہ رہی تھی کہ اس کی خوشی سے کوئی واسطہ ہوتا
وہ ہمیشہ سے ہی اس کی ڈرپوک طبیعت سے چڑتی تھی کم لوگوں سے ملنا گھر سے نہ نکلنا اس کے تو فرینڈ بھی صرف بابا سائیں تھے
جبکہ دھڑکن سویرا سے بہت محبت کرتی تھی وہ اس کی پسند ناپسند ہر چیز سے واقف تھی
وہ ہر ممکن طریقے سے اس کے قریب رہنے کی کوشش کرتی لیکن سویرا کو اپنی بہن سے زیادہ اپنے فرینڈ اور آزادی عزیز تھی اور یہ بات وہ کہیں بار اس پر ظاہر بھی کرچکی تھی اسے پتہ تھا کہ بابا سائیں اسے اپنے ساتھ کیوں لے کے جا رہے ہیں لیکن اس نے بھی سوچ لیا تھا کہ وہ سب کے سامنے مقدم شاہ سے شادی کرنے سے انکار کرے گی اور گاؤں کا گوار( باقول سویرا) اپنی انسلٹ کروا کر دوبارہ اس سے شادی کی خواہش نہیں کرے گا
اگر وہ نہ مانا تو اسے بتائے گی کہ وہ ولیم سے محبت کرتی ہے اور ایک غیرت مند مرد کبھی ایک ایسی لڑکی سے شادی نہیں کرتا جس کا کسی اور سے تعلق ہو اور باباسائیں کے مطابق ان کے خاندان کے سب مرد بہت غیرت مند تھے
••••••••••••••
کردم سائیں اگر آپ فری ہیں تو مجھے میری سہیلی کے گھر چھوڑ دینگے اس نے کردم شاہ کوجاتے دیکھ کر پیچھے سے کہا تھا
اگر میں فری ہوتا تو گھر پر رکتا نہ کہ باہر جا رہا ہوتا کردم نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
ڈرائیور چاچا کے ساتھ چلی جاؤ اور اپنی سہیلی کو بولا کرو یہاں آ جایا کرے ملکوں کی نظر ہے ہم پر
اور میں نہیں چاہتا کہ ہمارے خاندان کی عزت پر حرف آئے وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا اور باہر چلا گیا تھا
جبکہ تائشہ ابھی تک اس کی آواز کے سحر میں کھوئی ہوئی تھی
ہائے کردم سائیں آپ کو میری اتنی پرواہ ہے مجھے یقین نہیں آرہا آپ مجھے سے تیری محبت کرتے ہیں کہ آپ نہیں چاہتے کہ میں حویلی سے باہر نکلوں اس نے شرماتے ہوئے سوچا
ٹھیک ہے میرے کردم سائیں آپ کا حکم سر آنکھوں پر رضیہ جاؤ گاؤں سے میری سہیلی کو بُلا لاو اور کہہ دینا کہ میں نہیں آ سکتی کیونکہ کردم سائیں نے مجھے حویلی سے باہر نکلنے سے منع کر دیا ہے
وہ ایک ادا سے کہتی اپنے کمرے کی طرف چل دی اور کمرے میں آکر اپنے آپ کو خوبصورت بنانے کی تمام چیزیں باہر نکالنے لگی
••••••••••••
آپ نے بلایا نانا سائیں حوریہ نے ڈرتے ہوئے کمرے میں قدم رکھا
شاہ سائیں نے ایک نظر اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو ان کی لاڈلی بیٹی کی یاد دلاتا تھا پھر نظریں جھکا گئے کیونکہ وہ یہ نہیں بھول سکتے تھے کہ وہ صرف ان کی بیٹی کی نہیں بلکہ احسن ملک کی بیٹی تھی جس سے وہ نفرت کرتے تھے بلکہ نفرت بھی ان کے جذبات بیان کرنے کے لئے ایک چھوٹا لفظ تھا
آج شام کو کچھ لوگ آپ کو دیکھنے آ رہے تھے لیکن اس سے پہلے میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا آپ شادی کے لیے تیار ہیں نانا سائیں نے اپنا چہرہ دیوار کی طرف موڑ کر کہا
وہ کبھی اس کا چہرا نہیں دیکھتے تھے اور یہ بات وہ بھی جانتی تھی
اس کا دل چاہا کے کہہ دے کہ اسے اپنے نانا سائیں کا ہر فیصلہ منظور ہے لیکن اسے اپنی جان بھی بہت پیاری تھی اور اگر مقدم لالہ اسے شادی سے منع کر رہے تھے تو کوئی نہ کوئی وجہ ضرور تھی
ورنہ وہ کبھی ایسے معاملے میں نہیں پڑتے
نا نا سائیں میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی وہ ٹھہر ٹھہر کر نظریں جھکاکر بالی
شاہ سائیں نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا پھر چہرہ موڑ گے
وہ جو اس کا 18 سال کا ہونے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے کہ اس کی کسی اچھی جگہ شادی کرکے احسن ملک کو ہرا دیں گے
اپنے پوتے کی ضد کے سامنے خود ہار گئے
ٹھیک ہے آپ کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں ہوگی آج جو لوگ آپ کو دیکھنے آ رہے ہیں ہم انہیں منع کر دیں گے شاہ سائیں کی نظریں اب بھی دیوار کی طرف تھی
اب آپ جا سکتی ہیں
اجازت ملتے ہی وہ کمرے سے باہر نکل گئی ابھی سے جلدی سے جلدی مقدم لالہ کے کمرے میں جانا تھا
•••••••••••
مقدم لالا آپ نے جو کہا تھا میں نے کر دیا میں نے رشتے سے انکار کر دیا ہے ۔حوریہ نے کمرے میں قدم رکھتے ہوئے اسے خوشخبری سنائی ۔
بہت اچھا کیا ہے تم نے اب آگے بھی اسی طرح سے میری ساری باتیں مانتی رہنا ۔وہ اپنی جیب سے پستول نکال کرایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے بولا ۔
جسے دیکھ کر ایک بار پھر سے حوریہ کے پسینے چھوٹ گئے ۔
جی جی مقدم لالا آپ جو کہیں گے میں وہی کروں گی ۔وہ گھبرا کر بولی اس کی گھبرآہٹ سے وہ محفوظ ہوا تھا
لیکن اپنی ہنسی دباتا سیریس انداز میں بولا ۔
آج اماں سائیں آئینگی تمہارارشتہ لے کر تمہیں ۔۔۔
جی جی مجھے پتا ہے آپ فکرنا کریں میں انکار کر دوں حوریہ نے اس کی بات کاٹی ۔
کوشش بھی مت کرنا انکار کرنے کی مقدم شاہ نے ایک جھٹکے سے اسے دیوار کے ساتھ لگا کر پستول اٹھائی۔
اگر انکار کیا تو جانتی ہو نہ تمہارا انجام کیا ہوگا اس نے پستول اس کی آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے کہا ۔
آپ سے شادی۔۔؟ لیکن میں تو آپ سے پیار نہیں کرتی وہ معصومیت سے بولی
یہ پیار محبت شادی کے بعد کے چونچلے ہیں پہلے کے نہیں تم بس وہ کرو جو میں کہتا ہوں۔
وہ اسے سختی سے آنکھیں دکھاتے ہوئے بولا تو حوریہ نے ہاں میں گردن ہلائی اب اسے جان تو چھوڑانی تھی ۔
ہاں میں کیا سر ہلا رہی ہو کل اماں سائیں رشتہ لے کے آئیں گی تو ان کے سامنے ہاں کرو گی تم ۔کروگی نہ ہاں وہ اب بھی سختی سے پوچھ رہا تھا ۔
ج۔ ۔جی۔ وہ جلدی سے بولی
اور ہاں یہ مجھے لالا کہہ کر بُلانا چھوڑ دو پہلے بھی بہت بار سمجھا چکا ہوں ۔آگے مشکل ہوگی مقدم نے سمجھاتے ہوئے کہا
اور اسے باہر جانے کا راستہ دیا ۔
اور پھر حوریہ کی سپیڈدیکھنے کے لائق تھی۔اور مقدم شاہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا ۔
شاہد خواہش پوری ہونے کی خوشی
•••••••••••••••
کردم آدھا گھنٹہ پہلے ہی ایئرپورٹ پہنچ گیا تھا تاکہ چچا سائیں کو کوئی پریشانی نہ ہو
اس نے دور سے آتے چاچا سائیں کو دیکھ کر پہچان لیا تھا چاچاسائیں نے اپنے ساتھ آئی لڑکی کو کچھ کہتے ہوئے اس کی طرف اشارہ کیا تو ان سے پہلے بھاگ کر اس کے پاس آئی
السلام علیکم کردم لالا کیسے ہیں آپ۔۔۔؟ آپ نے مجھے نہیں پہچانا ہوگا ارے میں آپ کی کزن دھڑکن وہ اپنے مخصوص انداز میں تیز تیز بول رہی تھی جبکہ اس کے کپڑوں سے لے کر اس کی بات کرنے کا انداز تک کردم سائیں کو پسند نہ آیا تھا
آواز کم رکھو اور بات کرنے کا سلیقہ سیکھو ہمارے خاندان کی لڑکیاں نہ تو اس طرح سے بات کرتی ہیں اور نہ ہی اس طرح کا لباس پہنتی ہے وہ سخت لہجے میں گویا ہوا
جبکہ اس کے اس طرح سے سخت لہجے پر دھڑکن خاموش سی ہوگئی
سویرا کی طرف ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ دوبارہ نہ دیکھ پایا کیونکہ اس کے کپڑے دھڑکن سے بھی زیادہ ناقابل قبول تھے وہ چاچاسائیں سے گلے ملتا ہوا ان کا سامان گاڑی میں رکھوا کر گاڑی حویلی کے رستے ڈال چکا تھا
